جھوٹے مدعیانِ نبوت — عروج، فتنہ اور انجام

جھوٹے مدعیانِ نبوت — عروج، فتنہ اور انجام

الاسود العَنْسی — یمن کا وہ شخص جس نے نبوت کا دعویٰ کیا

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )یمن کی سرزمین پر ایک نیا دعویدارعرب کے جنوب میں واقع یمن اپنی قدیم تہذیب، زرخیز زمینوں، تجارتی راستوں اور مضبوط قبائلی نظام کی وجہ سے ہمیشہ اہمیت رکھتا تھا۔ یہاں مختلف قبائل آباد تھے، مقامی سرداروں کا اثر و رسوخ تھا اور بیرونی طاقتیں بھی اپنے مفادات رکھتی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد اسلام یمن تک پہنچ چکا تھا۔ وہاں مختلف علاقوں میں اسلامی دعوت پھیل رہی تھی، قبائل کے وفود مدینہ آ رہے تھے اور کئی مقامی سردار اسلام قبول کر چکے تھے۔ لیکن ہر تبدیلی کے ساتھ کچھ ایسے لوگ بھی پیدا ہوتے ہیں جنہیں نئی صورتِ حال میں اپنا پرانا اقتدار خطرے میں دکھائی دیتا ہے۔ اسی ماحول میں ایک شخص سامنے آیا جسے تاریخ نے *الاسود العَنْسی* کے نام سے یاد رکھا۔

اس کا اصل نام عموماً عَبْہَلَہ بن کعب بیان کیا جاتا ہے، جبکہ بعض تاریخی روایات میں اس کے نسب کی تفصیل مختلف انداز سے ملتی ہے۔ وہ قبیلہ عَنْس سے تعلق رکھتا تھا، جو یمن کے معروف قبائلی گروہوں میں شمار ہوتا تھا۔ اس کی شخصیت کے بارے میں قدیم مؤرخین نے لکھا ہے کہ وہ کاہن تھا اور لوگوں پر اثر ڈالنے کے لیے غیر معمولی دعوے اور کرتب دکھاتا تھا۔ اس کی گفتگو، پراسرار انداز اور لوگوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت نے اسے اپنے علاقے میں پہچان دلائی۔ یہیں سے اس کی کہانی ایک خطرناک موڑ لیتی ہے۔

ذُوالخِمار — پراسرار شخصیت کا تاثر

الاسود کو ایک اور لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے: *ذُوالخِمار*۔ اس لقب کی وجہ کے بارے میں روایات میں اختلاف ہے۔ بعض کے مطابق وہ اپنا چہرہ ڈھانپ کر رکھتا تھا، اس لیے اسے یہ نام دیا گیا۔ بعض روایات میں اس کے حلیے اور لباس کا ذکر ملتا ہے۔ اس کے بارے میں ایک اور عجیب روایت بھی بیان کی گئی ہے کہ اس کے پاس ایک تربیت یافتہ گدھا تھا جسے وہ اپنے حکم پر جھکنے اور بیٹھنے کی مشق کراتا تھا۔ وہ اس عمل کو غیر معمولی انداز میں پیش کرتا اور لوگوں کے سامنے اپنی بڑائی کا تاثر پیدا کرتا تھا۔ یہ تفصیلات بلاذری نے اپنی کتاب **فتوح البلدان** میں نقل کی ہیں۔ تاہم انہیں تاریخی روایات کے طور پر سمجھنا چاہیے، نہ کہ ہر جزئیے کو قطعی ثابت شدہ حقیقت قرار دینا چاہیے۔

دعوائے نبوت — جب اقتدار نے مذہب کا لباس پہن لیا

الاسود نے آخرکار نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ اس نے خود کو عام قبائلی سردار یا سیاسی رہنما تک محدود نہیں رکھا بلکہ لوگوں کے سامنے ایک ایسے شخص کی حیثیت سے پیش کیا جسے غیبی تائید حاصل ہے۔ اس نے اپنے لیے **رحمانِ یمن** کا لقب اختیار کیا۔ یہ انداز اس کے زمانے کے ایک دوسرے مدعی، مسیلمہ، کے طرزِ عمل سے بھی مشابہ تھا جس نے اپنے لیے رحمانِ یمامہ کا لقب اختیار کیا تھا۔ الاسود کا دعویٰ محض ایک مذہبی اختلاف نہیں تھا۔ اس کے ساتھ سیاسی اقتدار حاصل کرنے کی کوشش بھی جڑی ہوئی تھی۔ اس نے قبائلی حمایت جمع کی، لوگوں کو اپنے گرد اکٹھا کیا اور رفتہ رفتہ ایک ایسی طاقت بن گیا جس نے یمن میں قائم اسلامی انتظام کو چیلنج کیا۔ یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: لوگ ایسے شخص کے پیچھے کیوں چل پڑتے ہیں؟ تاریخ بتاتی ہے کہ کسی بھی تحریک کے پیچھے صرف اس کے رہنما کا دعویٰ نہیں ہوتا۔ قبائلی وفاداریاں، سیاسی مفادات، خوف، طاقت کا حصول اور مقامی رقابتیں بھی لوگوں کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ الاسود کی تحریک کو بھی اسی وسیع پس منظر میں سمجھنا ضروری ہے۔

صنعاء پر قبضہ — دعوے سے حکومت تک

اس وقت یمن میں رسول اللہ ﷺ کے مقرر کردہ نمائندے اور انتظامی اہلکار موجود تھے۔ ان میں صنعاء کا عامل بھی شامل تھا۔ الاسود نے اپنی طاقت بڑھائی اور صنعاء پر قبضہ کر لیا۔ قدیم روایات کے مطابق اس نے وہاں موجود اسلامی عامل کو شہر سے نکلنے پر مجبور کیا۔ اس طرح اس کا دعویٰ محض زبان تک محدود نہ رہا بلکہ اس نے ایک علاقے کے سیاسی اور انتظامی اختیار پر بھی قبضہ کر لیا۔ اس نے یمن کے مختلف قبائل اور گروہوں کو اپنے ساتھ ملایا۔ اس کی تحریک میں قبیلہ عَنْس کے افراد کے علاوہ دوسرے لوگ بھی شامل ہوئے۔ اس دور میں یمن کے اندر فارسی النسل خاندان بھی آباد تھے جنہیں تاریخی کتابوں میں **ابناء** کہا جاتا ہے۔ ان کے بزرگ ساسانی دور میں یمن آئے تھے اور وقت کے ساتھ وہاں ایک بااثر طبقہ بن گئے تھے۔ الاسود نے ان لوگوں کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا۔ بلاذری کی روایت کے مطابق اس نے ان کی تذلیل کی، انہیں اپنے تابع رکھنے کی کوشش کی اور ان کے سیاسی اثر کو کمزور کیا۔

اس کی شادی باذان کی بیوہ سے بھی منسوب کی جاتی ہے۔ باذان وہ شخصیت تھا جو یمن میں فارسی اقتدار کے زمانے میں اہم مقام رکھتا تھا اور اسلام قبول کر چکا تھا۔ اس شادی اور اس سے متعلق بعض جزئیات میں تاریخی روایات کا اختلاف موجود ہے۔ الاسود کا صنعاء پر قبضہ اس بات کی علامت تھا کہ اس نے مذہبی دعوے کو سیاسی طاقت میں تبدیل کر دیا تھا۔

مدینہ تک پہنچنے والی خبر

یمن میں رونما ہونے والے یہ واقعات مدینہ منورہ سے پوشیدہ نہ رہے۔ رسول اللہ ﷺ کے مقرر کردہ اہلکاروں اور وہاں موجود مسلمانوں کے ذریعے حالات کی خبریں پہنچ رہی تھیں۔ قدیم مؤرخین کے ہاں اسود کے خلاف کارروائی کے لیے بعض افراد کو بھیجے جانے اور مقامی بااثر لوگوں کو اس کے مقابلے میں منظم کرنے کا ذکر ملتا ہے۔ بلاذری کے بیان میں قیس بن ہبیرہ المکْشُوح المرادی اور فروہ بن مسیک المرادی کا نام آتا ہے۔ بعض روایات میں جریر بن عبداللہ بجلی کے بھیجے جانے کا ذکر بھی ملتا ہے، لیکن اس تفصیل کو تمام راوی یکساں طور پر قبول نہیں کرتے۔

یہاں ایک بات سمجھنا ضروری ہے: اس زمانے میں مدینہ سے یمن تک پیغام پہنچنے اور وہاں حالات کے مطابق کارروائی کرنے میں وقت لگتا تھا۔ اس لیے ہر واقعے کی تاریخ اور ترتیب کو ایک ہی قطعی صورت میں بیان کرنا درست نہیں۔

آخری ایام — جب اندر سے ہی دیوار ٹوٹنے لگی

الاسود کی طاقت بظاہر بڑھ رہی تھی، مگر اس کے اقتدار کے اندر ایسے عناصر بھی موجود تھے جو اس سے خوش نہیں تھے۔ اس کے سخت رویے، مقامی لوگوں کے ساتھ برتاؤ اور ابناء کو دبانے کی پالیسی نے اس کے خلاف مخالفت کو بڑھایا۔ دوسری طرف ان لوگوں میں ایسے افراد بھی موجود تھے جو اسلام قبول کر چکے تھے اور اس کی تحریک کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ ان میں ایک اہم نام *فیروز الدیلمی* کا ہے۔ فیروز ابناء سے تعلق رکھتے تھے اور اسلامی روایات میں ان کا نام الاسود کے خاتمے کے واقعے کے ساتھ نمایاں طور پر آتا ہے۔ بلاذری کے مطابق قیس بن ہبیرہ نے فیروز سے رابطہ قائم کیا اور دوسرے بااثر افراد کو بھی اپنے ساتھ ملایا۔ اس طرح ایک خفیہ منصوبہ تیار ہوا جس کا مقصد الاسود کے اقتدار کا خاتمہ تھا۔ اس منصوبے میں الاسود کی بیوی کا کردار بھی بیان کیا جاتا ہے۔ بعض روایات کے مطابق وہ اس سے ناخوش تھی اور اس نے مخالفین کو اس کے گھر میں داخل ہونے کا راستہ بتایا۔

یہ تفصیل تاریخی کتابوں میں نقل ہوئی ہے، لیکن اسے اسی درجے کی روایت سمجھنا چاہیے جس درجے کی سند اور تاریخی شہادت اس کے لیے موجود ہے۔

ایک رات، ایک خفیہ راستہ اور ایک اقتدار کا خاتمہ

قدیم تاریخی روایات کے مطابق مخالفین رات کے وقت الاسود کے گھر میں داخل ہوئے۔ بعض بیانات میں گھر تک پہنچنے کے لیے ایک خفیہ راستے یا دیوار میں نقب لگانے کا ذکر ہے۔ اس وقت الاسود سو رہا تھا۔ حملہ آوروں نے اس پر حملہ کیا اور اسے قتل کر دیا۔ اس واقعے میں قیس بن ہبیرہ اور فیروز الدیلمی دونوں کے نام آتے ہیں۔ بعض روایات قیس کو اصل قاتل قرار دیتی ہیں، جبکہ بعض کے مطابق فیروز نے اسے قتل کیا اور قیس نے اس کا سر جدا کیا۔ اس لیے کسی ایک شخص کو بلا اختلاف قطعی قاتل قرار دینا مناسب نہیں۔ البتہ یہ بات تاریخی روایات میں مشترک ہے کہ فیروز اور قیس اس سازش اور کارروائی میں بنیادی کردار ادا کرنے والوں میں شامل تھے۔ صبح ہوئی تو الاسود کی موت کی خبر پھیل گئی۔ اس کے پیروکار جمع ہوئے، مگر ان کے سامنے اب وہ شخص موجود نہیں تھا جس کے گرد ان کی تحریک قائم ہوئی تھی۔

بلاذری کے بیان کے مطابق قیس نے اس کا سر لوگوں کے سامنے پیش کیا اور اس کے جھوٹے دعوے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد اس کے بہت سے پیروکار منتشر ہو گئے۔ یوں یمن میں قائم ہونے والی اس کی حکومت اپنے بانی کے ساتھ ہی ختم ہو گئی۔

رسول اللہ ﷺ کو اس کے قتل کی خبر

اس واقعے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ الاسود کے قتل کی خبر رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے آخری ایام سے متعلق بیان کی جاتی ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خواب میں دو سونے کے کنگن دیکھے، پھر آپ ﷺ کو ان پر پھونک مارنے کا حکم دیا گیا اور وہ اڑ گئے۔ آپ ﷺ نے اس خواب کی تعبیر دو جھوٹے مدعیان سے کی، جن میں ایک صنعاء کا عَنْسی اور دوسرا یمامہ کا مسیلمہ تھا۔ صحیح البخاری، کتاب التعبیر، حدیث ٧٠٣٦* (حدیث نمبر مختلف طبعات میں مختلف ہو سکتا ہے۔)

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ الاسود اور مسیلمہ دونوں کے جھوٹے دعوے رسول اللہ ﷺ کے زمانے ہی میں سامنے آ چکے تھے۔ الاسود کے قتل کی خبر کے متعلق بعض تاریخی روایات میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیماری کے دوران اس کے قتل کی اطلاع دی تھی۔ اس خبر کی تفصیلات اور الفاظ مختلف تاریخی مصادر میں نقل ہوئے ہیں، اس لیے اسے صحیح بخاری کی مذکورہ روایت کے برابر درجۂ ثبوت نہیں دینا چاہیے۔

اس کے بعد کیا ہوا؟

الاسود کی موت کے بعد یمن میں اس کے قائم کردہ اقتدار کا خاتمہ تو ہو گیا، لیکن حالات فوراً مکمل طور پر پُرسکون نہیں ہوئے۔ اس کے بعد بھی وہاں سیاسی اختلافات، قبائلی کشمکش اور بعض افراد کے خلاف الزامات سامنے آئے۔ قیس بن ہبیرہ کے بارے میں بھی بعد کے واقعات میں اختلاف اور ایک قتل کے الزام کا ذکر ملتا ہے۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دور میں ان معاملات کی تحقیق کی گئی۔ یہ تفصیلات بتاتی ہیں کہ ایک بڑے فتنے کا خاتمہ صرف اس کے قائد کی موت سے نہیں ہوتا؛ اس کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی اور سماجی مسائل کو بھی حل کرنا پڑتا ہے۔

تاریخ کا ایک سبق

الاسود العَنْسی کی زندگی ہمیں ایک ایسے شخص کی کہانی دکھاتی ہے جس نے مذہبی دعوے کو اپنی سیاسی قوت بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔ اس نے لوگوں کو اپنے گرد جمع کیا، ایک شہر پر قبضہ کیا، مقامی آبادی کے ساتھ سختی کی اور اپنے لیے ایسی حیثیت چاہی جو اللہ کی طرف سے عطا نہیں ہوئی تھی۔ لیکن اس کی تحریک کی بنیاد ایک فرد کی شخصیت اور اس کے اقتدار پر قائم تھی۔ جب وہ شخص ختم ہوا تو اس کے گرد جمع ہونے والی طاقت بھی بکھر گئی۔ اس واقعے کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمیں ایک اصول یاد رکھنا چاہیے: تاریخ میں کسی شخص کی مقبولیت، اس کے پیروکاروں کی کثرت یا اس کی سیاسی کامیابی اس کے دعوے کی سچائی کی دلیل نہیں بن سکتی۔ نبوت اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہے، کسی انسان کا خود ساختہ منصب نہیں۔ الاسود العَنْسی کا نام اسی لیے تاریخ میں ایک ایسے شخص کے طور پر محفوظ ہے جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا، یمن میں اقتدار قائم کیا اور بالآخر اپنے ہی زیرِ اثر علاقے میں ایک خفیہ کارروائی کے نتیجے میں مارا گیا۔

*اگلی قسط: مسیلمہ کذّاب — بنو حنیفہ کا سردار، جس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور جنگِ یمامہ تک تاریخ کا رخ بدل دیا۔*

بنیادی تاریخی مراجع

– البلاذری، *فتوح البلدان*، یمن اور الاسود العَنْسی کے واقعات۔

– الطبری، *تاریخ الرسل والملوک*، حوادثِ اواخر عہدِ نبوی اور ابتدائی عہدِ خلافت۔

– ابن سعد، *الطبقات الکبریٰ*، رسول اللہ ﷺ کے عہد کے واقعات اور متعلقہ شخصیات۔

– صحیح البخاری، *کتاب التعبیر*، حدیث ٧٠٣٦۔