جہاں آج تک صبح نہیں ہیں۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)2009 کی صبح دنیا بھر میں لوگ اپنی اسکرینوں کے سامنے بیٹھے تھے۔ NASA ایک خالی راکٹ کو پوری رفتار سے چاند کے جنوبی قطب کے قریب ایک گڑھے میں گرانے والا تھا۔ اندازہ یہ تھا کہ ٹکر سے گرد کا ایسا بادل اٹھے گا جو زمین پر عام شوقیہ دوربینوں سے بھی نظر آ جائے۔

ٹکر ہوئی۔

اسکرین پر کوئی بادل نہیں اٹھا۔ چند منٹ بعد براہِ راست تصویر جھلملائی، اور پھر اسکرین پر صرف جھلملاہٹ رہ گئی۔ اگلے دن خبروں میں مایوسی کا ذکر تھا۔ اور ساتھ ایک سوال جو آج بھی بہت لوگ پوچھتے ہیں: کوئی اپنا ہی راکٹ چاند پر کیوں مارتا ہے؟

اس کہانی کی جڑ ایک پرانے شک میں ہے۔ اپالو کے خلاباز چاند سے جو پتھر لائے، انہیں دہائیوں تک بالکل خشک سمجھا جاتا رہا۔ چاند پر نہ ہوا ہے، نہ بادل۔ دوپہر کے وقت اس کے خطِ استوا کے قریب سطح ابلتے پانی سے بھی زیادہ گرم ہو جاتی ہے۔ کھلی دھوپ میں پڑی برف وہاں کب کی اڑ چکی ہوتی۔

پھر بھی کچھ سائنسدانوں کی نظر چاند کے قطبوں پر تھی۔ وہاں کچھ ایسا ہے جو باقی چاند پر نہیں۔

صبح سویرے کسی تنگ گلی میں کھڑے ہو کر دیکھیں۔ سورج ابھی افق کے قریب ہے۔ مکانوں کی اوپری منزلیں دھوپ میں چمک رہی ہیں، مگر گلی کا فرش ابھی سائے میں ڈوبا ہے۔ دوپہر کو سورج اوپر آئے گا تو یہ سایہ بھی ختم ہو جائے گا۔

اب ایک ایسی جگہ سوچیں جہاں سورج کبھی اوپر آتا ہی نہیں۔ ہمیشہ افق کے کنارے کنارے ہی گھومتا رہتا ہے۔

چاند کے قطب ایسی ہی جگہ ہیں۔ زمین اپنے محور پر تقریباً ساڑھے تئیس ڈگری جھکی ہوئی ہے، اسی لیے ہمارے ہاں موسم بدلتے ہیں اور سورج سال بھر میں کبھی اونچا، کبھی نیچا ہوتا ہے۔ چاند کا جھکاؤ صرف ڈیڑھ ڈگری کے قریب ہے۔ نتیجہ یہ کہ چاند کے قطب پر سورج ہمیشہ افق کے بالکل پاس ہی رہتا ہے۔

وہاں کے گہرے گڑھوں کا حال وہی گلی والا ہے۔ کناروں کی چوٹیوں پر کبھی کبھار دھوپ پڑ جاتی ہے، مگر تہہ تک روشنی کبھی نہیں پہنچتی۔ ایک دن نہیں، ایک صدی نہیں۔ اربوں سال سے۔ گڑھوں کی ایسی تہوں کو مستقل سائے والے علاقے کہتے ہیں۔

جس جگہ اربوں سال سے دھوپ نہ پڑی ہو، وہ کتنی ٹھنڈی ہو گی؟ جس گڑھے کی یہ کہانی ہے، LRO خلائی گاڑی کے آلے Diviner کے مطابق اس کی تہہ تقریباً منفی دو سو تینتیس ڈگری سینٹی گریڈ پر تھی۔ گھر کا ڈیپ فریزر منفی اٹھارہ کے آس پاس چلتا ہے۔ یہ اس سے دو سو پندرہ ڈگری مزید ٹھنڈا ہے۔

یعنی جو برف کبھی وہاں جا پہنچی، وہ وہیں جمی رہ سکتی ہے۔ جیسے فریزر کی سب سے پچھلی دراز میں رکھی چیز، جسے کوئی کبھی باہر نہیں نکالتا۔ دوسرے لفظوں میں، یہ گڑھے چاند کے قدرتی سردخانے ہیں۔

اس شک کو پہلا سہارا 1998 میں ملا۔ NASA کی خلائی گاڑی Lunar Prospector نے مدار سے دیکھا کہ چاند کے دونوں قطبوں پر ہائیڈروجن غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔ ہائیڈروجن پانی کا حصہ ضرور ہے، مگر صرف ہائیڈروجن کا ملنا پانی کا ثبوت نہیں۔ وہ کسی اور شکل میں بھی ہو سکتی تھی۔

تو 31 July 1999 کو Lunar Prospector کو جان بوجھ کر Shoemaker نامی ایک تاریک گڑھے میں گرا دیا گیا۔ اس گاڑی میں ماہرِ ارضیات یوجین شومیکر کی راکھ کا کچھ حصہ بھی رکھا گیا تھا، جن کے نام پر یہ گڑھا ہے۔ امید تھی کہ ٹکر سے پانی کے بخارات اٹھیں گے اور زمین کی دوربینیں انہیں پکڑ لیں گی۔ کامیابی کا اندازہ پہلے ہی دس فیصد سے زیادہ نہیں لگایا گیا تھا۔ اور ہوا بھی یہی۔ دوربینوں کو پانی کا کوئی نشان نہیں ملا۔

ایک منٹ رکیے۔ اصل بات صرف اتنی ہے: چاند کے قطبوں پر کچھ گڑھے ایسے ہیں جن کی تہہ تک سورج کبھی نہیں پہنچا۔ وہاں اتنی سردی ہے کہ برف ہو تو اربوں سال بچی رہ سکتی ہے۔ سوال یہ تھا کہ کیا واقعی ہے؟

دس سال بعد NASA نے دوسری کوشش کی، اس بار پوری تیاری کے ساتھ۔ مشن کا نام LCROSS تھا، اور اس پر تقریباً اناسی ملین ڈالر خرچ ہوئے۔

منصوبہ دو حصوں میں تھا۔ پہلا حصہ Atlas V راکٹ کا خالی اوپری مرحلہ Centaur تھا، جس کا وزن تقریباً تئیس سو کلو تھا۔ یعنی دو عام کاروں جتنا۔ اسے تقریباً نو ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے Cabeus نامی گڑھے میں گرنا تھا۔ یہ مسافر ہوائی جہاز سے دس گنا تیز ہے۔

دوسرا حصہ ایک چھوٹی خلائی گاڑی تھی جو چار منٹ پیچھے آ رہی تھی، اپنے نو آلات کے ساتھ۔ اس کا کام تھا ٹکر کو دیکھنا، اٹھنے والی گرد کے بیچ سے گزرنا، ہر چیز چند سیکنڈ میں زمین پر بھیجنا، اور پھر خود بھی گر جانا۔ اسکرین پر جو آخری جھلملاہٹ آئی تھی، وہ اسی گاڑی کا انجام تھا۔

تو بادل نظر کیوں نہیں آیا؟ بعد میں تصویروں کو صاف کیا گیا تو پتا چلا کہ گرد اٹھی تھی، بس توقع سے کہیں ہلکی۔ ٹکر نے پچیس سے تیس میٹر چوڑا گڑھا بنایا تھا۔ سائنسدانوں کے تجزیے کے مطابق وہاں کی اوپری مٹی بہت ڈھیلی اور ہلکی تھی، اور ٹکرانے والا حصہ کوئی ٹھوس گولا نہیں، اندر سے خالی خول تھا۔

مگر اصل خبر بادل کے سائز میں نہیں، اس گرد کے اندر تھی۔ اور یہیں اُس سوال کا جواب بھی ہے جو شروع میں پوچھا تھا۔

ہم دور بیٹھے کسی چیز کی بناوٹ روشنی سے پڑھتے ہیں۔ دھوپ کسی چیز پر پڑے تو وہ روشنی کے کچھ خاص رنگ اپنے اندر جذب کر لیتی ہے، اور باقی لوٹا دیتی ہے۔ ہر مادے کا یہ انداز الگ ہوتا ہے، بالکل انگلی کے نشان کی طرح۔ پانی کا بھی اپنا نشان ہے۔ روشنی کو رنگوں میں الگ کر کے یہ نشان دیکھنے کو روشنی کو توڑ کر پڑھنا، یا طیف بینی (اسپیکٹروسکوپی) کہتے ہیں۔

اب مسئلہ دیکھیں۔ جو اندھیرا برف کو اربوں سال سے بچا رہا تھا، وہی اندھیرا اسے ہر نظر سے چھپا بھی رہا تھا۔ جہاں دھوپ نہیں، وہاں پڑھنے کو روشنی بھی نہیں۔

راکٹ اسی لیے مارا گیا۔ وہ بم سے زیادہ ایک ہاتھ تھا، جو اندھیرے کی تہہ سے مٹھی بھر مٹی اٹھا کر دھوپ میں اچھال دے۔ حساب کے مطابق گرد کو تقریباً آٹھ سو تینتیس میٹر اوپر جانا تھا، تب جا کر وہ گڑھے کے سائے سے نکل کر سورج کی روشنی میں آتی۔ اور ان چند لمحوں کی دھوپ میں، اربوں سال میں پہلی بار، اس مٹی نے اپنا نشان دکھایا۔

پانی۔

2009 کو NASA کے Ames ریسرچ سینٹر میں مشن کے سربراہ سائنسدان Anthony Colaprete نے پریس کانفرنس میں پانی کی سفید بالٹیاں اٹھا کر دکھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی ملا ہے، اور تھوڑا سا نہیں، اچھی خاصی مقدار میں۔ تقریباً ایک سال بعد جریدے Science میں تفصیلی نتائج چھپے۔ آلات کی نظر کے دائرے میں تقریباً ایک سو پچپن کلو پانی آیا تھا، بخارات اور برف کی شکل میں۔ یہ دفتروں کی ڈسپنسر مشینوں پر لگی پانی کی بڑی بوتلوں میں سے تقریباً آٹھ کے برابر ہے۔ اور اندازہ لگا کہ اُس جگہ کی مٹی کے وزن کا تقریباً ساڑھے پانچ فیصد حصہ برف ہے۔

مجھے اس کہانی میں سب سے عجیب بات یہ لگتی ہے کہ یہ کوئی دور دراز سیارہ نہیں، ہمارا اپنا چاند ہے۔ وہی چاند جو ہر مہینے ہلال سے پورا ہوتا ہے، جسے ہم گرمیوں کی راتوں میں چھت پر لیٹ کر دیکھتے ہیں۔ اس کے قطبوں پر کچھ گڑھے ایسے ہیں جہاں وہ رات آج تک ختم نہیں ہوئی جو اربوں سال پہلے شروع ہوئی تھی، اور اس رات کی تہہ میں برف آج بھی ویسے ہی پڑی ہے۔

ہم نے اسے دیکھا بھی تو بس چند لمحوں کے لیے، جب ایک راکٹ نے اسے اچھال کر دھوپ میں دکھایا، اور پھر وہ مٹی واپس اپنے اندھیرے میں جا گری۔

کبھی سوچا تھا کہ چاند پر بھی کوئی ایسی جگہ ہو سکتی ہے جہاں آج تک صبح نہیں ہوئی؟

اگر آپ کو خلاء اور فلکیات کی ایسی باتیں پسند ہیں جو آسان زبان میں بتائی جائیں تو ستاروں سے آگے کو ابھی فالو کریں۔

ہر روز ایک نئی حیرت آپ کا انتظار کر رہی ہے۔