حضرت رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا کے والد کو نبی پاک ﷺ کی بشارت ۔۔۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )حضرت رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا کے والدین کی غربت کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ جس شب رابعہ بصری پیداہوئیں ،آپ کے والدین کے پاس نہ تو دیاجلانے کے لئے تیل تھا اور نہ آپ کو لپیٹنے کے لئے کوئی کپڑا۔ آپ کی والدہ نے اپنے شوہر یعنی آپ کے والد سے درخواست کی کہ پڑوس سے تھوڑا تیل ہی لے آئیں تاکہ دیاجلایاجاسکے لیکن آپ کے والد نے پوری زندگی اپنے خالقِ حقیقی کے علاوہ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلایا تھا، لہٰذا وہ پڑوسی کے دروازے تک تو گئے لیکن خالی ہاتھ واپس آگئے۔
رات کو رابعہ بصری کے والد پریشانی میں سوئے تو انکو خواب میں حضوراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت ہوئی اوراُنہوں نے رابعہ کے والد سے فرمایا کہ ”تمہاری نومولودبیٹی ،خداکی برگزیدہ بندی بنے گی اور مسلمانوں کو صحیح راہ پر لے کر آئے گی۔ تم امیرِ بصرہ کے پاس جاؤ اوراُس کو ہماراپیغام دوکہ تم ہر روز رات کو سو(100)دفعہ اورجمعرات کو چار سو (400) مرتبہ درود کا نذرانہ بھیجتے ہو لیکن پچھلی جمعرات کو تم نے درودشریف نہیں پڑھا،لہذٰااس کے کفارہ کے طورپر چارسو (400) دینار بطور کفارہ یہ پیغام پہنچانے والے کو دےدے۔
سیدہ رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا کے والد اُٹھے اور امیرِ بصرہ کے پاس پہنچے اس حال میں کہ خوشی کے آنسو آپ کی آنکھوں سے جاری تھے۔ جب امیرِ بصرہ کو رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا کے والد کے ذریعے حضوراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کاپیغام ملا تو یہ جان کر انتہائی خوش ہواکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کچھ اہمیت دی ہے۔ اُس کے شکرانے کے طورپر فوراً ایک ہزار (1,000) دینارغرباء میں تقسیم کرائے اور چارسو (400)دینار رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا کے والد کو اداکئے اوراُن سے درخواست کے جب بھی کسی چیز کی ضرورت ہوبلاجھجھک تشریف لائیں ۔
آپ کی پیدائش 95 سے 99ھ کے دوران بصرہ، عراق میں ہوئی۔
حضرت رابعہ بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا اپنے والدین کی چوتھی بیٹی تھیں ،اسی لئے آپ کا نام رابعہ یعنی ”چوتھی“ رکھاگیا۔ وہ ایک انتہائی غریب لیکن معززگھرانے میں پیداہوئیں ۔
رابعہ بصری نے تقریباً اٹھاسی (88) سال کی عمر پائی لیکن آخری سانس تک آپ نے عشق الٰہی کی لذت و سرشاری کو اپنا شعار بنائے رکھا۔ یہاں تک کہ اپنی آخری سانس تک معبودِ حقیقی کی محبت کادم بھرتی رہیں ۔ کیا کرتی تھیں کہ ”میرا محبوب و معبود ہمیشہ سے میرے ساتھ ہے۔”
اللہ عزوجل کی ان پر رحمت ہو اور ان کے طفیل ہماری مغفرت۔ آمین