🌙 حضرت سلیمانؑ اور ملکہ بلقیس — قرآن کا ایک حیرت انگیز واقعہ (قسط 6) 🌙
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )پچھلی قسط میں ہم نے دیکھا کہ حضرت سلیمانؑ کے حکم پر ملکہ بلقیس کا عظیم تخت پلک جھپکنے سے بھی کم وقت میں ان کے دربار میں پہنچا دیا گیا۔ پھر حضرت سلیمانؑ نے حکم دیا کہ اس تخت میں کچھ تبدیلی کر دی جائے تاکہ ملکہ بلقیس کے علم اور سمجھ کو پرکھا جا سکے۔
اب وہ لمحہ قریب آ چکا تھا جب ملکہ بلقیس حضرت سلیمانؑ کے دربار میں پہنچنے والی تھی۔
جب وہ اپنے درباریوں کے ساتھ حضرت سلیمانؑ کے عظیم الشان محل میں داخل ہوئی تو اس نے وہاں ایک ایسا منظر دیکھا جو اس کے لیے انتہائی حیران کن تھا۔
اس کے سامنے ایک شاندار تخت رکھا ہوا تھا جو بالکل اس کے اپنے تخت جیسا دکھائی دیتا تھا، مگر اس میں کچھ معمولی سی تبدیلیاں بھی کی گئی تھیں۔
حضرت سلیمانؑ نے ملکہ بلقیس سے پوچھا:
قَالَ أَهَكَذَا عَرْشُكِ
(سورۃ النمل: 42)
ترجمہ:
“پوچھا گیا: کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے؟”
ملکہ بلقیس نے جب اس تخت کو غور سے دیکھا تو وہ حیران رہ گئی۔ کیونکہ یہ تخت واقعی اس کے تخت سے بہت زیادہ مشابہت رکھتا تھا۔
مگر اس کی دانشمندی اور عقل مندی یہاں بھی ظاہر ہوئی۔ اس نے جلدی میں قطعی جواب دینے کے بجائے نہایت حکمت سے کہا:
قَالَتْ كَأَنَّهُ هُوَ
(سورۃ النمل: 42)
ترجمہ:
“وہ بولی: گویا یہی ہے۔”
یعنی اس نے صاف الفاظ میں یہ نہیں کہا کہ یہ میرا ہی تخت ہے، بلکہ بڑی سمجھ داری سے کہا کہ یہ اسی جیسا معلوم ہوتا ہے۔
یہ جواب سن کر حضرت سلیمانؑ کے دربار میں موجود لوگ اس کی ذہانت پر حیران رہ گئے۔
قرآن مجید اس موقع پر ایک اور اہم حقیقت بیان کرتا ہے کہ اس سے پہلے ہی اسے علم اور سمجھ کی کچھ روشنی مل چکی تھی۔