خوابوں کی قیمت
حمیراعلیم
کہتے ہیں غریب پیدا ہونا برا نہیں لیکن غریب مرنا آپ کی اپنی چوائس ہوتی ہے۔شاید یہی مقولہ سن کر غرباء اپنے بچوں کو پیٹ کاٹ کر تعلیم دلواتے ہیں اور یہ خواب دیکھتے ہیں کہ ایک دن ان کے بچے آفیسر بن کر ان کی غربت ختم کریں گے۔ایسا ہی کچھ لائبہ کے ساتھ بھی ہوا۔اس کے والد نے اپنی بیٹی کو بہترین تعلیم دلوائی اور اس بچی نے بھی والد کی محنت کی لاج رکھتے ہوئے گولڈ میڈل حاصل کیا۔ لیکن اسے یہ احساس بھی ہوا کہ صرف اعلی تعلیم اس کی غربت کے خاتمے کے لیے کافی نہیں۔چنانچہ اس نے اسی فیصد پاکستانی یوتھ کی طرح آسان شارٹ کٹ اختیار کرنے کا سوچا۔اگر وہ ایک لڑکا ہوتی توڈنکی لگاتی لیکن لڑکی ہونے کے ناطے اس نے قانونی طریقے سے ایز اے اسٹوڈنٹ کسی فارن یونیورسٹی میں داخلے کا سوچا۔مگر بدقسمتی سے بجائے خود گوگل سرچ کر کے اپلائی کرنے کے وہ ایک فراڈ ایجنٹ کے ہتھے چڑھ گئی۔جس نے اسے لاکھوں کا چونا لگایا اور غائب ہو گیا۔لائبہ اپنے والدین کی غربت تو کیا ختم کرتی انہیں پائی پائی کا محتاج کر چکی تھی کیونکہ والد کا پلاٹ اور والدہ کا زیور وہ یہ سوچ کر بیچ چکی تھی کہ ایک بار امریکہ پہنچ گئی تو چند سالوں میں یہ سب دوبارہ خرید لے گی۔چونکہ وہ اپنا مائنڈ سیٹ کر چکی تھی کہ اب سنہرا مستقبل بس چند قدم کے فاصلے پر ہے۔اس لیے دھوکے کا علم ہونے پر وہ یہ صدمہ برداشت نہیں کر پائی اور اپنے تئیں شرمندگی سے بچنے کے لیے خودکشی کر گئی۔اس کی خودکشی کی وجہ صرف شرمندگی نہیں تھی بلکہ یہ یقین بھی تھا کہ اگر وہ اپنے پیسے واپس لینے کے لیے قانونی چارہ جوئی کرے گی تو ساری زندگی عدالتوں کے دھکے کھائے گی، وکلاء کی فیس بھرتی رہے گی اور پولیس کو ہڈی ڈالتی رہے گی مگر انصاف نہیں پائے گی۔کیونکہ یہ صرف ایک ایجنٹ نہیں پورا ریکٹ ہوتا ہے جو ایسے نوجوانوں کواپنے جال میں پھانستا ہے۔پھر کبھی وہ ڈنکی لگاتے کسی دریا میں ڈوب کر مر جاتے ہیں یا کسی چھوٹے یورپی ملک میں پہنچ کر ایسکورٹ بن جاتے ہیں۔
ایسے حادثات کے بارے میں سن کر مجھے یہ مقولہ یاد آ جاتا ہے جب تک لالچی زندہ ہیں ٹھگ بھوکے نہیں مر سکتے۔ہم ہمیشہ شارٹ کٹ کی تلاش میں رہتے ہیں۔ اللہ کے دئیے رزق پر قناعت کی بجائے زیادہ اور فورا کی ہوس میں اپنے ہاتھ میں موجود رزق سے بھی جاتے ہیں اور اکثر جان بھی گنوا دیتے ہیں۔اس لیے سب سے پہلے اپنے اندرصبر، قناعت اور شکر گزاری کی عادات ڈویلپ کیجئے۔جو حاصل ہے اس کا ہر وقت شکر ادا کیجئے کیونکہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے:”اور جب تمہارے رب نے اعلان فرما دیا کہ اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔”
سورۃ ابراہیم 7
میرا ذاتی تجربہ بھی یہی ہے۔میں روزانہ دو نفل پڑھتی ہوں اور سجود میں ہر نعمت کا شکر ادا کرتی ہوں۔کوئی چیز، مال، رزق ملے شکرانے کے دو نفل ادا کرتی ہوں اور مزید پاتی ہوں۔ایسی جگہ سے پاتی ہوں جس کا سوچا بھی نہیں ہوتا۔
اور جب مصائب و رزق کی کمی کا شکار ہوں تو بکثرت استغفار کیجئے نماز کی پابندی کیجئے۔کیونکہ قرآن میں اللہ تعالٰی نے استغفار کے بدلے بخشش، مغفرت، عذاب جہنم سے نجات، رزق، مال، اولاد، بارش کی کثرت کا وعدہ فرمایا ہے۔کوئی مسئلہ حل نہ ہو رہا ہو تو اذان فجر سے چند منٹ پہلے اٹھ کر دو نفل تہجد اداکیجئے سجود میں اللہ تعالٰی سے رازو نیاز کیجئے، دعا مانگیے، اپنی بے بسی بیان کر کے اس کی مدد، اسباب، وسائل مانگیے۔یقین مانیے اس سے آسان حل اور طریقہ کوئی نہیں۔اور چونکہ یہ طریقے اللہ تعالٰی کے خود بتائے ہوئے ہیں اس لیے ان کے ذریعے مانگی دعا کبھی رد نہیں ہوتی۔
اور نوجوان یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ کوئی بھی مسئلہ ہو اس کا حل موجود ہے۔کوئی بھی چیز یا شخص اس قابل نہیں کہ ہم اس کے لیے اپنی جان قربان کر دیں۔جان ہے تو جہان ہے کا مطلب یہی ہے کہ بندہ صحیح سلامت ہو تو کچھ بھی کر کے مسئلے سے نکل سکتا ہے۔خودکشی بظاہر آسان حل لگتی ہے لیکن دنیاوی مسائل سے تو بندہ جان چھڑوا لیتا ہے مگر اخروی عذاب مستقل طور پر مول لے لیتا ہے۔کیونکہ قرآن حدیث بتاتے ہیں کہ خودکشی کرنے والا مستقل عذاب میں رہے گا۔”جس شخص نے جس چیز کے ذریعے خودکشی کی، قیامت کے دن اسی چیز کے ذریعے اسے عذاب دیا جائے گا۔”
صحیح بخاری 6047 صحیح مسلم 110۔
وقتی مسائل سے پریشان ہو کر خودکشی مت کیجئے۔آن لائن کئی این جی اوز ہیں جو آپ کی مدد کر سکتی ہیں۔قانونی کاروائی ہو یا مالی مدد حکومتی ادارے اور این جی اوز مدد کے لیے موجود ہیں۔ وقت گزر ہی جاتا ہے مشکل ہمیشہ نہیں رہتی۔دعا بہترین ہتھیار ہے بکثرت دعا کیجئے۔اللہ تعالٰی سب کے لیے آسانیاں، اسباب وسائل پیدا فرمائے۔