زمین کے علاوہ بھی آسمانوں میں بارش والے بادل موجود! جیمز ویب نے 7.5 نوری سال دور بھوری بونے ستارے کی بارش دیکھی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کبھی سوچا ہے کہ زمین سے باہر کسی اور دنیا میں بھی بادل چھائے ہوں اور بارش ہوتی ہو؟ سائنس دانوں نے اب پہلی بار کسی دوسری دنیا میں بدلتے ہوئے بادلوں کا براہ راست ثبوت حاصل کر لیا ہے۔ امریکہ کی ایریزونا یونیورسٹی کی ماہر فلکیات برٹنی مائلز اور ان کی ٹیم نے جیمز ویب خلائی دوربین سے ہماری زمین سے صرف 7.5 نوری سال دور واقع "وائز 0855” نامی بھوری بونے ستارے کو 11 گھنٹوں تک مسلسل دیکھا۔ یہ ستارہ اتنا ٹھنڈا ہے کہ اس کا درجہ حرارت منفی 8 ڈگری تک گر جاتا ہے، یعنی انسانوں کے معلوم سب سے سرد ستارے کی سطح پر جمادے والی سردی ہوتی ہے۔
اس طویل مشاہدے کے دوران سائنس دانوں نے حیران کر دینے والی دریافت کی۔ اس ستارے کے ماحول میں موجود پانی کے بادل وقت کے ساتھ ساتھ گھٹتے اور بڑھتے رہے، بالکل ویسے ہی جیسے زمین پر موسم بدلتا ہے۔ فز آرگ کی رپورٹ کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ کسی دوسری دنیا کے آسمان میں بدلتے ہوئے بادلوں کو براہ راست دیکھا گیا ہو۔ یہ تحقیق جو فلکیاتی جرنل میں شائع ہونے والی ہے، اس بات کا ثبوت ہے کہ موسم صرف زمین کی خصوصیت نہیں بلکہ کائنات میں کہیں اور بھی آسمانوں میں بادل بنتے اور بدلتے ہیں۔
منفی 8 ڈگری کے اس برفیلے ستارے پر پانی کے بادلوں کا موجود ہونا سائنس دانوں کے لیے انتہائی حیرت انگیز تھا کیونکہ اتنی سردی میں پانی عام طور پر برف بن جاتا ہے۔ اے آر وائے نیوز کے مطابق یہ دریافت اس سوال کا جواب دینے میں بھی مدد دے گی کہ دوسرے ستاروں کے گرد گھومنے والے سیاروں پر موسم کیسا ہوتا ہے۔ سائنس دان اب اسی تکنیک سے مزید سرد ستاروں اور سیاروں کا مشاہدہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اب سے ہر بار جب آسمان پر بادل چھائیں تو یاد رکھیں، کہیں 7.5 نوری سال دور بھی ایک دنیا ہے جہاں بادل چلتے ہیں، گھنے ہوتے ہیں اور چھٹ جاتے ہیں، بس اس بارش کا نظارہ وہاں دیکھنے والا کوئی نہیں۔