تقریباً 13.8 ارب سال پہلے ہماری کائنات آج کی طرح وسیع نہیں تھی

تقریباً 13.8 ارب سال پہلے ہماری کائنات آج کی طرح وسیع نہیں تھی- اس وقت کائنات انتہائی گرم اور کثیف حالت میں تھی- پھر کائنات نے پھیلنا شروع کیا اور یہ پھیلاؤ آج بھی جاری ہے- بگ بینگ کو کسی عام دھماکے کی طرح سمجھنا درست نہیں کیونکہ یہ خلا کے اندر ہونے والا دھماکا نہیں تھا بلکہ خود خلا پھیل رہا تھا- اس پھیلاؤ کے ساتھ کائنات ٹھنڈی ہوتی گئی اور مادے کی تشکیل کے لیے حالات پیدا ہوتے گئے- ابتدائی دور میں بنیادی ذرات وجود میں آئے، جن سے بعد میں پروٹون اور نیوٹران بنے- پھر ابتدائی چند منٹوں میں ہائیڈروجن اور ہیلیم کے مرکزوں کی تشکیل ہوئی- تقریباً 3 لاکھ 80 ہزار سال بعد کائنات اتنی ٹھنڈی ہو گئی کہ الیکٹران ان مرکزوں کے ساتھ مل کر ایٹم بنا سکے- اس کے نتیجے میں روشنی نسبتاً آزادانہ سفر کرنے لگی- آج ہم اسی قدیم روشنی کو کائناتی مائیکروویو پس منظر (CMB) کی صورت میں مشاہدہ کرتے ہیں- یہ ابتدائی کائنات کی ایک اہم باقیات ہے اور بگ بینگ کے نظریے کے مضبوط ترین شواہد میں شمار ہوتی ہے- اس کے بعد کروڑوں سال کے دوران کششِ ثقل نے مادے کو اکٹھا کرنا شروع کیا- بالآخر پہلے ستارے وجود میں آئے، پھر کہکشائیں بنیں اور وقت کے ساتھ کائنات کی ساخت مزید پیچیدہ ہوتی گئی لیکن ایک اہم سوال اب بھی باقی ہے، بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟ اور کائنات کی ابتدائی حالت کیوں وجود میں آئی؟ سائنس ابھی ان سوالات کے قطعی جواب نہیں دے سکی- بگ بینگ کا نظریہ بنیادی طور پر یہ وضاحت کرتا ہے کہ کائنات ایک انتہائی گرم اور کثیف ابتدائی حالت سے پھیلتے ہوئے اپنی موجودہ شکل تک کیسے پہنچی یعنی ہم کائنات کے ابتدائی ارتقاء کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں لیکن اس کی حتمی ابتدا اور وجود کی بنیادی وجہ اب بھی تحقیق کے اہم سوالات ہیں-