سائنس دانوں نے ایک سیکنڈ کے انتہائی معمولی حصے کو ناپا ہے، جو صرف 247 زیپٹو سیکنڈ ثابت ہوا ہے۔

سائنس دانوں نے ایک سیکنڈ کے انتہائی معمولی حصے کو ناپا ہے، جو صرف 247 زیپٹو سیکنڈ ثابت ہوا ہے-

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )زیپٹو سیکنڈ (Zeptosecond) وقت کی ایک انتہائی چھوٹی اکائی ہے- ایک زیپٹو سیکنڈ، ایک سیکنڈ کے ایک کھرب کھربویں حصے کے برابر ہوتا ہے یعنی سیکنڈ- سائنس دانوں نے یہ جاننے کے لیے تحقیق کی کہ روشنی ایک ہائیڈروجن مالیکیول کے ساتھ تعامل کرتے ہوئے کتنا وقت لیتی ہے- ہائیڈروجن مالیکیول میں دو پروٹون اور دو الیکٹران ہوتے ہیں- ایکس ریز کی مدد سے انہوں نے اندازہ لگایا کہ روشنی کا ایک ذرّہ، جسے فوٹون کہتے ہیں، اس مالیکیول سے گزرنے میں کتنا وقت لیتا ہے- تحقیق میں تقریباً 247 زیپٹو سیکنڈ کی تاخیر ناپی گئی- اُس وقت اُسے براہِ راست ناپے گئے مختصر ترین وقت کے وقفوں میں شمار کیا گیا- یہ دریافت ظاہر کرتی ہے کہ سائنس دان مادّے میں ہونے والے انتہائی تیز رفتار عمل کو بھی حیرت انگیز درستگی سے جانچ سکتے ہیں- ایک سیکنڈ میں یعنی ایک کھرب کھرب زیپٹو سیکنڈ ہوتے ہیں، اتنے مختصر وقت میں روشنی بھی صرف تقریباً 0.3 نینو میٹر فاصلہ طے کرتی ہے- یہ فاصلہ ایٹموں اور مالیکیولز کے سائز کے قریب ہے- جب ایکس رے کے فوٹون نے ہائیڈروجن مالیکیول کے ساتھ تعامل کیا تو اس کے دونوں الیکٹران مختلف انتہائی مختصر وقفوں سے باہر نکلے- سائنس دانوں نے ان الیکٹرانوں کے نکلنے کے وقت میں معمولی فرق کا تجزیہ کر کے اندازہ لگایا کہ فوٹون کو مالیکیول سے گزرنے میں کتنا وقت لگا- اس قسم کی تحقیق سے سائنس دان سمجھ سکتے ہیں کہ روشنی کی توانائی مالیکیولز کے ساتھ کس طرح تعامل کرتی ہے اور الیکٹران اس توانائی پر کیسے ردِعمل دیتے ہیں- یہ تجربات کوانٹم طبیعیات کی مدد سے مادّے کے ان عملوں کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں، جو عام آلات کے لیے بہت زیادہ تیز ہوتے ہیں- کائنات میں بعض عمل اتنے تیز ہوتے ہیں کہ انہیں سمجھنے کے لیے سیکنڈ نہیں بلکہ سیکنڈ کے کھرب کھربویں حصے کو ناپنا پڑتا ہے-