ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ہم اکثروبیشتر پریشان پریشان سےکیوں رہتے ہیں؟
جہاں تک میں نے مشاہدہ کیا ہے، ہم میں سے بہت سے لوگ زندگی میں پیش آنے والے تلخ حالات اور تجربات سے کہیں زیادہ خود ساختہ سوچوں، وہم و گمان، اندیشوں اور منفی خیالات کے زیرِ اثر پریشان رہتے ہیں۔
یعنی خیالات بھی وہ جن کی فی الحال کوئی حقیقت موجود نہیں ہوتی محض خود ساختہ منفی سوچ کے زیر اثر خود کو خود اذیتی کا شکار کرلیتے ہیں۔
اور پھر بعض اوقات واقعہ ہوتا بھی ہے تو وہ اتنا تکلیف دہ نہیں ہوتا جتنا ہم اس کے بارے میں اپنے ذہن میں بنائی ہوئی کہانیوں سے خود تکلیف دہ بنالیتے ہیں۔
جب کہ یہ ہمارے بس میں ہے کہ ہم کسی درپیش واقعہ کی اذیت کو اپنی مثبت سوچ کے زیر اثر کم سے کم تر کرسکتے ہیں ۔
یہ بھی ممکن ہے ہماری سوچ یا اندازہ صد فی صد درست ہو، لیکن یہ بھی تو ممکن ہے کہ ہم نے صورتِ حال کو سمجھنے میں غلطی کی ہو۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہم اکثر امکان کو حقیقت سمجھ کر اپنے جذبات اور رویّے اسی کے تابع کرکے خود اپنے ہاتھوں اپنی بے سکونی کا ساماں کرلیتے ہیں۔
اور معاملہ یہیں تک نہیں رہتا بلکہ اس امکانی کیفیت کے زیر اثر رہتے ہوئے ہم اس قدر متآثر ہوجاتے ہیں کہ اپنی موجودہ صلاحیتوں اور کوششوں پر توجہ ہی نہیں دے پاتے۔
یعنی محض ایک امکانی واقعہ جو ابھی نہ پیش آیاہے، نہ معلوم کہ کبھی پیش آئے گا بھی یا نہیں کی بنیاد پر خود کو پہلے ہی تکلیف میں مبتلا کر لیتے ہیں۔
میں مانتی ہوں کہ خیالات کا آنا فطری ہے، خدشات کسے درپیش نہیں ہوتے؟
لیکن دانائی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم مسئلے کو درست طور پر پہچانیں اور مثبت سوچ کے ساتھ اس کا حل تلاش کریں، نہ کہ محض اپنے تخمینوں کی بنیاد پر خود کو اذیت میں مبتلا رکھیں یا دوسروں کو قصوروار ٹھہراتے رہیں۔
سوچیں ضرور، مگر ہر خیال کو بلا دلیل سچ نہ مان بیٹھیں۔ کوئی خدشہ ہے تو حقیقت جاننے کی کوشش کریں، کوئی مسئلہ ہے تو اس کا حل تلاش کریں۔ محض اندیشوں کو حقیقت سمجھ کر خود کو پریشان کرتے رہنا آخر کہاں کا انصاف ہے؟