*پاکستانی سفارتخانہ انقرہ میں 27 اکتوبر "یوم سیاہ کشمیر ” کے حوالے سے پروقار تقریب*

*پاکستانی سفارتخانہ انقرہ میں 27 اکتوبر "یوم سیاہ کشمیر ” کے حوالے سے پروقار تقریب*

انقرہ، ترکیے(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ نمائندہ خصوصی۔۔۔سید رضوان حیدر بخاری)پاکستانی سفارتخانہ انقرہ میں ‘یومِ سیاہ کشمیر’ کے حوالے سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔ اس تقریب کا مقصد بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا اور ان کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خود ارادیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرنا تھا۔

تقریب میں سفارتی برادری کے ارکان، ترک معززین، سیاست دانوں، دانشوروں، اور انقرہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے افراد نے شرکت کی۔

پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد پاکستان اور ترکیے کے قومی ترانے بجائے گئے۔ اس موقع پر ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی جس میں ‘یومِ سیاہ کشمیر’ کی تاریخی اہمیت اور کشمیری عوام کی طویل جدوجہد کو اجاگر کیا گیا تھا۔

تقریب سے خطاب کرنے والوں میں ‘جیو پولیٹیکل فورسائٹ انسٹی ٹیوٹ’ (Geopolitical Foresight Institute) کے صدر جناب گورے الپار (Güray Alpar) ‘سعادت پارٹی کے نائب چیئرمین مصطفیٰ کایا ترکیے کے سابق نائب وزیر اعظم اور وزیر صحت پروفیسر ڈاکٹر رجب آقداع اور انقرہ میں پاکستانی سفارت خانے کے ناظم الامور جناب شائق احمد بھٹو شامل تھے۔

اپنے خطاب میں گورے الپار نے کشمیری عوام کی جدوجہد کو انسانی وقار کا معاملہ قرار دیا اور ان کے اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے حق پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ کشمیریوں کی آوازوں کو وہ بین الاقوامی توجہ نہیں ملی جس کی وہ مستحق تھیں، اور ان کے جائز مطالبات کے ساتھ یکجہتی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

مصطفیٰ کایا نے مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین کے درمیان گہرے تعلق کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دیرپا امن کے لیے ان دونوں تنازعات کا حل ناگزیر ہے۔ انہوں نے کشمیر میں بھارت کی جانب سے اپنائی گئی پالیسیوں اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی پالیسیوں کے درمیان مماثلتوں کی جانب بھی توجہ دلائی۔ انہوں نے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر، کشمیری عوام کی جائز جدوجہد کے لیے ترکیے کی حمایت کا اعادہ کیا۔پروفیسر ڈاکٹر رجب اقداع نے دیرینہ تنازعات کے حل میں انصاف، مکالمے اور بین الاقوامی یکجہتی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کشمیری عوام کو حقِ خود ارادیت استعمال کرنے اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔

اپنے اختتامی کلمات میں، جناب شائق احمد بھٹو نے 27 اکتوبر 1947 کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "کسی تنازعے کو محض اس بنیاد پر حل شدہ قرار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ نسلوں تک جاری رہا ہے۔” انہوں نے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق پرامن حل کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ترکیے کی جانب سے مسلسل حمایت پر گہرے تشکر کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے اپریل 2025 میں دریائے سندھ کے پانیوں کے معاہدے (Indus Waters Treaty) کو معطل کرنے کے بھارت کے یکطرفہ فیصلے کی مذمت کی اور اس بات پر زور دیا کہ یہ معاہدہ علاقائی آبی تحفظ اور استحکام کی بنیاد ہے۔ انہوں نے مشترکہ آبی وسائل کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، اور بین الاقوامی قانون نیز موجودہ معاہداتی ذمہ داریوں کے احترام کا مطالبہ کیا۔

تقریب کے اختتام پر پاکستانی اور ترک مہمانوں نے مل کر "پاکستان زندہ باد” اور پاک-ترکیے دوستی زندہ باد کا فلک شگاف نعرہ بھی لگایا گیا۔۔۔