# دجال — فتنۂ آخرالزمان

# دجال — فتنۂ آخرالزمان

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )دجال زمین پر کتنی مدت رہے گا؟ چالیس دن کی وہ حیرت انگیز حقیقت جس میں ایک دن سال کے برابر ہوگا

قسط نمبر: 10

ذرا تصور کیجیے کہ ایک دن ایسا ہو جو ختم ہونے کا نام ہی نہ لے۔ سورج معمول کے مطابق غروب نہ ہو، وقت کی رفتار انسان کے لیے ایک عجیب آزمائش بن جائے، اور لوگوں کو یہ سمجھنا مشکل ہو جائے کہ نماز کے اوقات کیسے متعین کیے جائیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ دجال کے فتنے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسی خبر دی ہے جس میں اس کے زمین پر قیام کے چالیس دنوں کا ذکر ہے، لیکن ان چالیس دنوں میں تین دن عام دنوں جیسے نہیں ہوں گے؟

یہ محض کوئی قصہ نہیں، بلکہ صحیح مسلم میں بیان ہونے والی ایک اہم روایت ہے۔

1۔ چالیس دن — مگر سب ایک جیسے نہیں ہوں گے

حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دجال کے بارے میں فرمایا:

يَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا

ترجمہ: وہ زمین میں چالیس دن رہے گا۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:

یا رسول اللہ! اس کے یہ چالیس دن کیسے ہوں گے؟

آپ ﷺ نے فرمایا:

يَوْمٌ كَسَنَةٍ، وَيَوْمٌ كَشَهْرٍ، وَيَوْمٌ كَجُمُعَةٍ، وَسَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ

ترجمہ: ایک دن سال کے برابر ہوگا، ایک دن مہینے کے برابر، ایک دن ہفتے کے برابر، اور باقی دن تمہارے عام دنوں جیسے ہوں گے۔

(صحیح مسلم، حدیث 2937)

غور کیجیے! یہاں تین غیر معمولی دنوں کا ذکر ہے:

– پہلا دن: ایک سال کے برابر۔

– دوسرا دن: ایک مہینے کے برابر۔

– تیسرا دن: ایک ہفتے کے برابر۔

– باقی سینتیس دن: عام دنوں جیسے۔

یہ وہ تفصیل ہے جو ہمیں رسول اللہ ﷺ نے بتائی۔ اس سے آگے ان دنوں کی سائنسی کیفیت یا وقت کے نظام کے بارے میں اپنی طرف سے قطعی دعوے کرنا درست نہیں۔

 2۔ صحابہؓ کا سوال — نماز کیسے ادا کریں گے؟

اس روایت کا سب سے حیرت انگیز حصہ صرف دنوں کی طوالت نہیں، بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا وہ سوال ہے جو ان کے ایمان اور دینی شعور کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے پوچھا:

يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَذَلِكَ الْيَوْمُ الَّذِي كَسَنَةٍ أَتَكْفِينَا فِيهِ صَلَاةُ يَوْمٍ؟

مفہوم: یا رسول اللہ! جو دن ایک سال کے برابر ہوگا، کیا اس دن ہمارے لیے ایک دن کی نمازیں کافی ہوں گی؟

ذرا اس سوال پر غور کیجیے!

ایک طرف ایسا فتنہ ہوگا جس میں غیر معمولی واقعات پیش آئیں گے، دنوں کی مدت بدلتی محسوس ہوگی، اور لوگوں کے سامنے حیرت انگیز حالات ہوں گے؛ لیکن صحابہ کرامؓ کی فکر یہ تھی کہ نماز کیسے ادا کریں گے؟

یہی ایمان کی حقیقت ہے۔

حالات جیسے بھی ہوں، مسلمان کی پہلی فکر یہ نہیں ہونی چاہیے کہ دنیا میں کیا غیر معمولی ہو رہا ہے، بلکہ یہ ہونی چاہیے کہ اللہ کا حکم کیسے پورا کرنا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا:

لَا، اقْدُرُوا لَهُ قَدْرَهُ

ترجمہ: نہیں، بلکہ اس کے لیے وقت کا اندازہ مقرر کرنا۔

(صحیح مسلم، حدیث 2937)

یعنی اس غیر معمولی دن میں بھی نمازیں معمول کے حساب سے ادا کرنے کے لیے وقت کا اندازہ مقرر کیا جائے گا۔

 3۔ دجال کا فتنہ صرف آنکھوں کا امتحان نہیں، ایمان کا امتحان ہوگا

اس حدیث سے ہمیں ایک اور اہم بات سمجھ آتی ہے۔

دجال کا فتنہ لوگوں کے سامنے ایسے حالات لے کر آئے گا جن سے ان کے معمولات، سوچ اور فیصلے متاثر ہوں گے۔ ایسے وقت میں صرف معلومات کافی نہیں ہوں گی؛ انسان کو اپنے ایمان، عبادت اور دینی اصولوں پر قائم رہنا ہوگا۔

آج بھی ہماری زندگی میں حالات بدلتے ہیں۔ کبھی خوش حالی، کبھی تنگی، کبھی خوف، کبھی امید، کبھی آسانی اور کبھی ایسی آزمائش جس میں انسان کو اپنے اصول چھوڑنے کا خیال آنے لگتا ہے۔

فرق صرف اتنا ہے کہ ہم آج کے معمول کے حالات میں بھی اپنی نماز اور اللہ سے تعلق کو کمزور کر دیتے ہیں، جبکہ صحابہ کرامؓ نے مستقبل کے اس غیر معمولی فتنے کا ذکر سن کر سب سے پہلے نماز کے بارے میں سوال کیا۔

یہ ہمارے لیے ایک آئینہ ہے۔

 4۔ چالیس دن کا ذکر ہمیں کیا سکھاتا ہے؟

یہ حدیث ہمیں دجال کے قیام کی مدت بتاتی ہے، لیکن اس کا مقصد صرف حیرت پیدا کرنا نہیں۔

اس سے ہمیں چند باتیں سیکھنی چاہییں:

اول: دجال کا فتنہ حقیقی اور غیر معمولی ہوگا، اس لیے اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی بیان کردہ خبروں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

دوم: غیر معمولی حالات میں بھی نماز اور اللہ کے احکام کی پابندی ختم نہیں ہوتی۔

سوم: ہر حیرت انگیز واقعے کے سامنے گھبرا جانا ضروری نہیں؛ مومن کا سہارا اللہ کی ہدایت اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات ہیں۔

چہارم ہمیں غیر ثابت شدہ تفصیلات اور سنسنی خیز دعووں کے بجائے صحیح احادیث سے رہنمائی لینی چاہیے۔

آج کا محاسبہ

ہم میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں جو معمولی مصروفیت کی وجہ سے نماز مؤخر کر دیتے ہیں؟ کبھی کاروبار، کبھی موبائل، کبھی ملاقات، کبھی سفر اور کبھی محض سستی۔

لیکن صحابہ کرامؓ نے ایسے دن کے بارے میں سوال کیا جو ایک سال کے برابر ہوگا، تو ان کی فکر نماز کے اوقات تھے۔

یہ واقعہ ہم سے ایک سوال کرتا ہے:

اگر ہمارے معمولات ہی ہمیں نماز سے غافل کر دیتے ہیں، تو ہم کسی بڑے فتنے کے مقابلے میں اپنے ایمان کو کیسے محفوظ رکھیں گے؟

دجال کے آنے کا وقت ہمارے علم میں نہیں، لیکن نماز کا وقت ہمارے سامنے ہے۔ اس لیے تیاری کل سے نہیں، آج سے شروع ہونی چاہیے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ہر ظاہر و پوشیدہ فتنے سے محفوظ رکھے، ہمارے ایمان کو ثابت قدمی عطا فرمائے اور ہمیں رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے والا بنائے۔ آمین۔

اگلی قسط: دجال کی رفتار اور زمین میں اس کی نقل و حرکت کیسی ہوگی؟ ایک ایسی روایت جس میں بادلوں سے چلنے والی ہوا سے اس کی تیزی کی مثال دی گئی ہے۔

جاری ہے۔۔۔