ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )مجھے جبروت کی جیپ مزار کے باہر کھڑی دیکھ کر جو پہلا جھٹکا لگا تھا، میں اسی کے زیرِ اثر تقریباً دوڑتا ہوا مزار کے بیرونی دروازے تک پہنچا ہی تھا کہ اندر سے جبروت کا خاص کارندہ، اکرم، لمبے لمبے قدم اٹھاتا ہوا باہر نکلا۔ وہ مجھ پر ایک غلط نگاہ ڈالتا ہوا جیپ میں سوار ہو گیا، جہاں ڈرائیور سمیت ایک دوسرا محافظ پہلے ہی بیٹھا ہوا تھا۔ جیپ آگے بڑھ گئی۔
سلطان بابا اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھے تسبیح کر رہے تھے۔ میں پھولی ہوئی سانس لیے ان کی جانب بڑھا۔
’’یہ لوگ یہاں کیا کرنے آئے تھے؟ دھمکانے آئے تھے؟ لیکن ڈھکے چھپے لفظوں میں؟ میں مزید الجھ گیا ہوں۔ پوری بات بتائیے!‘‘
سلطان بابا اٹھ کھڑے ہوئے۔
’’جبروت کا پیغام لائے تھے کہ یہاں اسی کا سکہ چلتا ہے، لہٰذا آئندہ کوئی بھی اجتماع کرنے سے پہلے اس سے اجازت ضرور لے لی جائے۔‘‘
میں نے تشویش بھری نظروں سے سلطان بابا کی جانب دیکھا، گویا میرے خدشات ایک ایک کرکے سچ ثابت ہو رہے تھے۔
’’تو آپ نے کیا جواب دیا؟‘‘
’’وہی جو مجھے کہنا چاہیے تھا کہ ہم فقیر لوگ ہیں۔ ہمارا تو گزارہ ہی مانگ کر ہوتا ہے۔‘‘
گویا انہیں سانول کا مجھ سے ملنا جلنا پسند نہیں تھا۔ سلطان بابا کے لہجے سے ظاہر ہو رہا تھا کہ طبلِ جنگ بج چکا ہے اور اب جلد یا بدیر ہماری جبروت سے حتمی ملاقات ہونے والی ہے۔
عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد سلطان بابا کمرے میں آرام کرنے چلے گئے، لیکن میری قسمت میں آرام کہاں! پھر وہی رات، وہی بے خوابی، وہی جاگتی راتوں کی محفل اور وہی میرے ساتھی تارے۔
کہتے ہیں کہ پرانے زمانوں میں کاہن اور جادوگر ان تاروں کی چال سے حال اور مستقبل کی کروٹ کا اندازہ لگایا کرتے تھے۔ میں بھی بہت دیر تک ان شرارتی تاروں میں اپنے مقدر کا تارا کھوجتا رہا، لیکن وہ مجھے کیسے دکھائی دیتا؟ جو گردش میں سدا رہتے ہوں، انہیں تو فلک بھی اپنے دامن میں جگہ نہیں دیتا۔ ایسے ستاروں کا آسمان بھی شاید کوئی دوسرا ہی ہوتا ہوگا۔
اگلے روز مزار کے باہر سانول کی زور زور سے باتیں کرنے کی آواز سن کر میں چونکا۔ جلدی سے اٹھ کر مزار کی منڈیر سے باہر جھانکا تو سانول اپنے باپ کے ساتھ لڑتا جھگڑتا اور بحث کرتا مزار کی جانب بڑھا چلا آ رہا تھا۔
اس کے باپ نے صحن میں داخل ہوتے ہی سلطان بابا کو سلام کیا اور اپنا دکھڑا سنانا شروع کر دیا کہ وہ اپنے لڑکے کے ہاتھوں بے حد پریشان ہے۔ ابھی کل ہی اس کی حالت کچھ سنبھلی ہے اور آج ہی سے اس نے دوبارہ گھر سے نکلنے کی ضد شروع کر دی ہے۔ اب بڑے پیر جی ہی اسے کچھ سمجھائیں کہ اپنے بوڑھے باپ کو اس عمر میں یوں پریشان نہ کرے اور اس کی بات مان کر شہر چلا جائے۔
سانول نے اپنے باپ کو سلطان بابا کے سامنے فریاد سناتے چھوڑا، میرا ہاتھ پکڑا اور مزار کی منڈیر کی طرف چلا آیا۔
میں نے سب سے پہلے اسے جبروت کے رات والے پیغام کی روداد سنائی، جسے سن کر وہ مزید پریشان ہو گیا۔
’’یہ تو بہت فکر کی بات ہے! پھر بڑے پیر صاحب نے انہیں کیا جواب دیا؟‘‘
’’وہی جو نہیں دینا چاہیے تھا۔‘‘
سلطان بابا جس مقصد سے کال گڑھ آئے ہیں، اسے پورا کیے بغیر یہاں سے کوچ نہیں کریں گے۔
سانول نے مجھ سے پھر وہی سوال کیا۔
’’لیکن ایسا کیا مقصد ہے ان کا؟ اس ویران بستی میں ان درندوں سے دشمنی مول لے کر کیا ملے گا انہیں؟‘‘
میں نے ایک لمبی سانس لی۔
’’یہ تو وہی جانیں۔ ویسے بھی میں ان سے زیادہ سوال نہیں کرتا۔ سوچنے اور فیصلہ کرنے کا اختیار صرف انہی کو دے رکھا ہے میں نے۔ لیکن تم اپنے گھر والوں کی بات کیوں نہیں مان لیتے؟ وہ سب تمہاری بھلائی کے لیے ہی تو کہتے ہیں۔ کچھ عرصے کے لیے منظر سے ہٹ جاؤ۔ اس میں تمہارے اپنوں کی خوشی ہے۔‘‘
سانول نے تنک کر سر جھٹکا۔
’’جانتے ہو، میں ایک پل کے لیے بھی اس سے دور نہیں جا سکتا۔ اس کے بغیر تو میری بانسری سے بھی سُر نہیں نکلتے۔‘‘
’’اور اگر تمہاری دھن اور تمہارے من کی تان بھی تم سے یہی التجا کرے، تب؟‘‘
سانول نے چونک کر میری جانب دیکھا۔
’’کیا مطلب؟‘‘
میں نے گزشتہ شام نوری سے ہونے والی ساری بات اسے بتا دی۔
سانول مضطرب ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ دل گیر بھی ہو گیا۔
’’وہ بھی یہی چاہتی ہے کہ میں بستی چھوڑ کر چلا جاؤں۔ وہ، جس کے لیے میں سارے زمانے سے لڑتا پھرتا ہوں، وہ بھی زمانے کے ساتھ مل گئی ہے۔‘‘
میں نے سانول کو ڈانٹا۔
’’بے وقوفی کی باتیں نہ کرو۔ وہ تم سے شدید محبت کرتی ہے، تبھی تو تمہاری فکر میں گھلتی رہتی ہے۔ اب اور ضد نہ کرو۔ پھر تم خود بھی تو یہاں قلعے داروں کی غلامی سے چڑتے ہو۔ تو پھر اپنی نوری کو پانے کے لیے یہ عارضی جدائی تو برداشت کرنی ہی پڑے گی۔ سوچو، وہ بھی تمہاری جدائی میں اتنی ہی پریشان ہوگی جتنے تم، لیکن وہ بے چاری لڑکی ہونے کی وجہ سے اپنا درد بھی کسی سے بیان نہیں کر سکتی۔ تم ہی کچھ احساس کرو۔‘‘
سانول نے بے بسی سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
اس کے باپ کو پہلے تو یقین ہی نہیں آیا کہ سانول شہر جانے کے لیے تیار ہو گیا ہے۔ سلطان بابا مسکرائے اور حیران ہو کر میری جانب دیکھنے لگے۔
’’میں تو کہتا ہوں کہ اس کا نام عبداللہ کے بجائے کچھ اور ہونا چاہیے تھا۔ لگتا ہے تمہارے بیٹے پر بھی اس کا جادو چل گیا ہے۔‘‘
سلطان بابا کی اس شرارت پر مجھ سمیت سانول اور اس کا باپ بھی مسکرا دیے۔
مزار سے نکلتے ہوئے سانول نے دھیرے سے میرے کان میں کہا:
’’لیکن میری بھی ایک شرط ہے۔ میں نوری سے ملاقات کیے بغیر یہاں سے نہیں جاؤں گا، اور یہ ملاقات کل شام ہی ہوگی۔ تمہیں صرف اتنا کرنا ہے کہ کل کسی طرح مجھے گھر سے تنہا نکلنے کی اجازت دلوا دو۔ باقی انتظام میں خود کر لوں گا۔‘‘
میں نے مسکرا کر اس کی پیٹھ تھپتھپائی۔
’’تو تم نے بھی سودے بازی سیکھ لی ہے! ٹھیک ہے، کل عصر کے بعد تیار رہنا۔ میں تمہیں لینے آؤں گا۔‘‘
سانول کے جانے کے کچھ دیر بعد ہی مزار کی بیرونی دیوار کے پار کالے کی مخصوص غراہٹ سنائی دی۔ میں روٹی اور پانی لے کر باہر آیا تو کالے کی پشت پر میں نے اس کے دونوں دوستوں کو بھی ٹیلے پر کھڑے دیکھا۔
میں نے کالے کے لیے روٹی ڈالی اور اس کے دوستوں کو بھی اشارہ کیا کہ وہ آ کر اپنے ساتھی کے ساتھ شریک ہو جائیں، لیکن شاید فی الحال وہ دونوں کچھ شرمیلے تھے۔
میں اندر سے مزید روٹی لے آیا اور پانی میں بھگو کر خود مزار کی دیوار کے پاس چلا گیا۔ مجھے مزار کی طرف بڑھتے دیکھ کر کالے کے دوست بھی ٹیلے سے اتر آئے۔
اگلے روز عصر کے بعد میں سانول کے گھر پہنچا تو وہ پہلے سے تیار بیٹھا تھا۔ سانول کو میرے ساتھ گھر سے باہر نکلتے دیکھ کر اس کے ماں باپ کے دل میں جو تھوڑا بہت تذبذب تھا، وہ بھی ختم ہو گیا۔
میں نے بستی سے باہر نکلتے ہوئے اس سے پوچھا:
’’اب کیا ارادہ ہے؟ کیا سیدھے نوری کے دروازے پر جا بیٹھو گے؟‘‘
سانول زور سے ہنس پڑا۔
’’نہیں! جو سودا میں نے تمہارے ساتھ کیا تھا، وہی نوری کے سامنے بھی رکھا ہے۔ اس کی سہیلی کے ذریعے پیغام بھیج دیا تھا کہ اگر وہ چاہتی ہے کہ میں شہر جا کر محنت مزدوری کروں تو آج شام اسے مجھ سے ملنے کے لیے مزار کے پیچھے والے بڑے ٹیلے پر آنا ہوگا۔‘‘
میں نے حیرت سے سانول کو دیکھا۔
’’تو کیا وہ مان گئی؟ اس نے تمہیں کوئی جواب بھی دیا کہ نہیں؟‘‘
سانول مسکرایا۔
’’نہیں، جواب تو کوئی نہیں آیا اس کی طرف سے، لیکن میں جانتا ہوں کہ وہ ضرور آئے گی۔‘‘
میں نے غور سے سانول کی جانب دیکھا۔
’’تمہیں اتنا یقین کیسے ہے؟‘‘
سانول اپنی ہی دھن میں مگن تھا۔
’’ساری بات ہی یقین کی ہے، چھوٹے پیر جی!‘‘
میں زور سے چونکا۔ میرے ذہن میں سلطان بابا کا جملہ گونج اٹھا:
’’اگر زمین والوں پر اس یقین کا اتنا گہرا اثر ہے تو پھر عرشِ بریں والے کی آمد کا کیا حال ہوگا، جو ہمارے ایک قدم کے بدلے ستر قدم ہماری جانب بڑھاتا چلا آتا ہے۔‘‘
یقین کی صورت میں لہراتے چنوں میں مشغول سانول کو دیکھتے ہوئے میں نے دور سے نوری کو مزار کی جانب آتے دیکھا۔ وہ سر پر اوڑھنی اوڑھے اپنی سہیلی کے ساتھ ٹیلے کے قریب آ کر رک گئی۔ مزار اور ٹیلے کی منڈیر کے درمیان کافی فاصلہ تھا۔ اچانک تیز ہوا نے ریت کے چند بگولوں کو چھیڑ دیا۔ وہ نیند سے جاگ کر صحرا میں ایک دوسرے کے پیچھے لپکنے لگے اور آنکھ مچولی کھیلنے لگے۔
سانول ریت میں پیر دھنساتا ہوا نوری کے قریب پہنچ چکا تھا۔ نوری سر جھکائے کھڑی تھی۔ مجھ سے ریت کے ایک شرارتی بگولے نے کہا:
’’جانتے ہو، وہ آپس میں کیا بات کر رہے ہیں؟‘‘
ہاں، میں جانتا ہوں۔ سبھی بچھڑنے والوں کی بولی ایک جیسی ہوتی ہے۔ کچھ گلے، کچھ شکوے، کچھ دعوے اور کچھ کبھی نہ پورے ہونے والے وعدے۔
سانول بھی نوری سے کچھ اپنے ہی وعدے کر رہا تھا۔ جانے مجھے اتنی دور سے بھی ایسا کیوں محسوس ہوا کہ جیسے نوری رو رہی ہو۔ سانول اسے تسلیاں دے رہا تھا۔
یہ لڑکیاں بھی کتنی عجیب ہوتی ہیں! پہلے تو خود ہی اپنے محبوب کو خود سے دور بھیجنے کے جتن کرتی ہیں اور پھر خود ہی جدائی کا سوچ کر رو پڑتی ہیں۔
اچانک ہی زہرا کی یاد نے میرے وجود کے ہر روئیں پر اپنا قبضہ جما لیا۔ وہ پورا صحرا جیسے زہرا کی یاد کا ایک دریا بن گیا۔
کیا اسے بھی میری یاد آتی ہوگی؟ کیا وہ بھی نوری کی طرح آنسو بہاتی ہوگی؟
زمانہ چاہے صدیوں ہی پر محیط کیوں نہ ہو، محبوب سے ہونے والی ملاقات ہمیں ہمیشہ پل بھر کی ہی لگتی ہے۔ سو نوری اور سانول کی ملاقات کے وہ چند پل بھی پلک جھپکتے بیت گئے۔
نوری اپنی سہیلی کے ساتھ ٹیلے سے اتر کر بستی کی جانب چل پڑی اور جاتے جاتے پلٹ کر ٹیلے پر کھڑے گم صم سانول کو دیکھتی رہی۔ اس کی آنکھوں میں ٹھہرے آنسوؤں کی چمک میں ڈوبتے سورج کی کرنیں جھلک رہی تھیں۔ میں یہاں اتنی دور سے بھی اس کی آنکھوں کی نمی دیکھ سکتا تھا۔ نوری بھی بار بار اپنے پلو سے بھیگی پلکیں پونچھ رہی تھی۔
ایک اور الوداع، ایک اور عذاب، جو سانول اور نوری کی جدائی کی صورت میں میری روح کو جھیلنا پڑ رہا تھا۔
نوری کے جانے کے بعد بھی سانول وہیں ٹیلے پر کھڑا اس جانب دیکھتا رہا، جہاں ریت پر نوری کے قدموں کے نشان باقی رہ گئے تھے۔ میں نے اس کی تنہائی میں دخل دینا مناسب نہیں سمجھا۔ میں جانتا تھا کہ اس وقت صرف اس کا جسم ہی اس ٹیلے پر موجود تھا۔ اس کی روح تو نوری کی آنکھوں سے ٹپکتے آنسو چننے اور ان سے وضو کرنے کے لیے نوری کے ساتھ ہی صحرا پار کر گئی تھی۔
سورج ڈھلنے کے بعد سانول بھی اپنی محبت کے غروب ہوتے آفتاب کی طرح ٹیلے سے نیچے اتر آیا۔ وہ بہت اداس لگ رہا تھا۔ میں نے اسے تسلی دی کہ دائمی وصل کے لیے کبھی کبھی عارضی جدائی ضروری ہوتی ہے۔
سانول کو اگلی صبح روانہ ہونا تھا۔ وہ رات دیر تک میرے ساتھ بیٹھا رہا اور پھر اس کے لاکھ منع کرنے کے باوجود میں اسے گھر تک چھوڑ آیا۔ لیکن اگلی صبح میرے بے حد اصرار کے باوجود اس نے مجھے ریلوے اسٹیشن تک ساتھ چل کر اسے وداع کرنے سے منع کر دیا۔ بقول اس کے، وہ پہلے ہی بہت اداس تھا اور اگر میں اسٹیشن تک ساتھ آیا تو کہیں وہ اپنا ارادہ ہی نہ بدل دے۔
وہ صبح سویرے ہی مزار پہنچ گیا تھا۔ اس کی گاڑی دوپہر کی تھی۔ اسے رخصت کرتے ہوئے میں خود بھی بہت اداس تھا۔ اس کے ساتھ کال گڑھ میں اتنے دن کیسے کٹ گئے، کچھ پتا ہی نہیں چلا۔
جاتے ہوئے مجھ سے گلے مل کر وہ رو پڑا۔ میں نے جلدی سے اس کے آنسو پونچھے۔
’’ارے، یہ کیا! تم مجھے بہت یاد آؤ گے۔‘‘
عبداللہ، میں روز تمہیں ایک خط لکھا کروں گا اور تم جواب میں مجھے اس بستی، اس صحرا اور نوری کی خبر لکھنا۔
میں نے ماحول بدلنے کے لیے اسے چھیڑا:
’’اچھا، تو گویا خط میں بھی اسی کی باتیں ہوں گی؟ میں تو سمجھ بیٹھا تھا کہ تم میرے لیے خط لکھا کرو گے، پر میرے ایسے نصیب کہاں!‘‘
سانول میری بات سن کر مسکرا دیا۔
’’اگر میرا خط اس تک پہنچ پاتا تو یقین کرو، میں اسے ہر خط میں عبداللہ کی باتیں لکھا کرتا۔ میں نے نوری کو پیغام بھجوا دیا ہے کہ تم سے اسے میری خیریت پتا چلتی رہے گی، اور اگر اسے کوئی ضروری پیغام دینا ہو تو وہ بھی تمہارے ذریعے مجھے دے سکتی ہے۔ میں ڈاک بابو سے بھی خاص التجا کر کے آیا ہوں کہ مزار والی ڈاک کا خاص خیال رکھے۔‘‘
میں نے سانول کو اطمینان دلایا کہ وہ فکر نہ کرے۔ میں اس کے ساتھ رابطے میں رہوں گا۔
جانے سے پہلے وہ خصوصی طور پر سلطان بابا کے کمرے میں جا کر ان کی دعائیں بھی وصول کر آیا تھا۔
سانول کے جانے کے بعد ایک دم ہی جیسے ساری فضا اداس ہو گئی تھی اور میری تنہائی و وحشت دوچند ہو گئی تھی۔ صحرا پھر سے ہوکنے لگا تھا۔
کبھی دل سے دھواں اٹھتا ہے
ابھی رہتا ہے اس مکان میں کوئی
اگلے روز سکینہ کے بوڑھے نانا نانی سلطان بابا سے ملنے چلے آئے۔ جانے کیوں انہیں دیکھ کر اب میرا کہیں چھپ جانے کو دل کرتا تھا۔ مجھ سے اب ان کی فریاد برداشت نہیں ہوتی تھی۔
بڑھیا کا آج یہ اصرار تھا کہ اگر سلطان بابا سکینہ کی اوڑھنی اور منی پر تین بار دم کرکے دعا کریں گے تو سکینہ ضرور واپس لوٹ آئے گی۔
سلطان بابا نے شاید اسی کے اطمینان کی خاطر اس سے کہا کہ وہ سکینہ کی پھولوں والی چادر یہیں چھوڑ جائے۔ وہ ضرور سکینہ کی بازیابی کے لیے دعا کریں گے۔
وہ دونوں یوں خوش ہو گئے، جیسے واقعی انہیں سکینہ مل گئی ہو۔
مزار سے نکلتے ہوئے بڑھیا کی نظر مجھ پر پڑ گئی تو اس نے میرے سر پر ہاتھ پھیر کر مجھے دعا دی کہ خدا میری ہر مراد پوری کرے۔ ٹھیک اسی لمحے میرے من کی صرف ایک ہی مراد تھی:
یا خدا! اس لاچار بڑھیا کو اس کی بیٹی سے ملا دے۔
کچھ دیر میں سورج ڈوب گیا۔ آج میں کالے اور اس کے دوستوں کے لیے پہلے ہی پانی اور روٹی باہر رکھ آیا تھا تاکہ اس کے دوست میری وجہ سے کوئی جھجھک محسوس نہ کریں۔
تھوڑی دیر بعد ہی ان کی غراہٹوں کی آواز بھی باہر سے بلند ہونے لگی۔ لیکن خلافِ معمول کالا مزار کے سامنے آ کر بھونکنے لگا۔ اس نے پہلے کبھی ایسا نہیں کیا تھا۔ جانے کیا بات تھی!
جب مسلسل آتی آواز بند نہ ہوئی تو مجبوراً مجھے اٹھ کر مزار سے باہر جانا پڑا۔
وہ مزار کے مرکزی دروازے سے کچھ ہٹ کر کھڑا تھا۔ پہلے تو مجھے کچھ سمجھ ہی نہیں آیا کہ مسئلہ کیا ہے۔ پھر اندھیرے میں اس کے سامنے ریت پر پڑے سفید کپڑے پر میری نظر پڑی تو میں چونک کر آگے بڑھا۔
وہ شاید کہیں سے یہ کپڑا اٹھا لایا تھا اور مجھے ہی دکھانے کے لیے بار بار بھونک کر باہر بلا رہا تھا۔
ارے، یہ تو میرا ہی کرتا تھا، جو دو دن پہلے ریت کے شدید طوفان کی وجہ سے مزار کی چھت سے اڑ کر نہ جانے صحرا میں کہاں کھو گیا تھا! لیکن یہ کالے کو کہاں سے ملا؟
مجھے سانول نے بتایا تھا کہ جبروت کے پالتو کتے انتہائی حد تک سدھائے ہوئے اور اپنی حِسّوں کے معاملے میں کمال درجے کے ہوشیار ہوتے ہیں۔ یقیناً کالے نے گرتے وقت میرے جسم کی بو محسوس کر لی ہوگی، تبھی وہ کرتا یہاں اٹھا لایا تھا۔
کہتے ہیں کہ کتے کی سونگھنے کی حس اس قدر تیز ہوتی ہے کہ وہ سینکڑوں لوگوں میں اپنے مالک کے جسم کی بو پہچان لیتا ہے۔ آج میں نے اس کا عملی مظاہرہ بھی دیکھ لیا تھا۔
پھر اچانک ہی میرے ذہن میں ایک ساتھ بہت سے جھماکے ہوئے اور میں اندر کی جانب دوڑا۔ ایک مبہم سی امید نے میرے اندر جیسے بجلیاں بھر دی تھیں۔
میرے کمرے میں سکینہ کی وہ اوڑھنی پڑی تھی، جو آج اس کی نانی سلطان بابا کے پاس چھوڑ گئی تھی۔ اگر کالا اسے سونگھ کر سکینہ کو کھوج نکالے تو؟
میں وہ اوڑھنی اٹھا کر باہر لے آیا اور کالے کے سامنے رکھ دی۔ پھر اس پھٹی ہوئی چادر کی طرف اشارہ کرکے اسے سمجھانے لگا کہ ہمیں اس اوڑھنی والی کی تلاش ہے۔
کالا اوڑھنی سونگھ کر پھر سے غرّانے لگا۔ شاید اسے میری بات سمجھ نہیں آئی تھی۔ میں نے چادر زمین سے اٹھا کر اس کے قریب کر دی۔ کالا فوراً بھاگا اور چادر کے قریب پہنچ کر اسے سونگھنے لگا۔
اس بار شاید وہ میرا مدعا جان گیا تھا۔ اب وہ زور زور سے بھونک کر چادر کے گرد چکر کاٹتا، پھر صحرا کی جانب دوڑ جاتا اور واپس آ کر دوبارہ بھونکنے لگتا۔
میری رگوں میں خون کی گردش تیز ہونے لگی۔ میری نسوں میں جیسے انگارے بھر گئے۔ میں صحرا میں کالے کے پیچھے لپکا۔
وہ جس طرح سدھائے ہوئے کتوں کی طرح چند قدم چلنے کے بعد رک کر میرا انتظار کرتا اور پھر دوبارہ بھاگنے لگتا، اس سے صاف ظاہر تھا کہ وہ اسی اوڑھنی والی کے بارے میں کچھ جانتا ہے۔
میں اس کے نقشِ قدم پر دوڑتا ہوا صحرا پار کر رہا تھا۔ کالے کا رخ بستی کی جانب تھا۔ کچھ ہی دیر میں ہم نصف شب کے وقت خوابِ خرگوش کے مزے لیتے ہوئے کال گڑھ کی ویران گلیوں میں دھول اڑا رہے تھے۔
کالا مسلسل آگے بڑھتا گیا۔ میرا سانس پھول چکا تھا اور قدم جواب دے رہے تھے۔ پھر بھی میں ایک انجانی قوت کے زیرِ اثر کالے کے پیچھے دوڑتا رہا۔
آخرکار بستی کے آخری سرے پر کالے کے قدم ایک جگہ جم سے گئے اور اس نے بھونک بھونک کر آسمان سر پر اٹھا لیا۔ میں بھی اپنی جگہ ساکت ہو گیا۔
کالا اپنے پنجوں سے جس دیوار کو بار بار کھرچ رہا تھا، وہ جبروت کے قلعے کی چاردیواری تھی۔
مطلب، سکینہ دیوار کے اس پار موجود تھی!
اس وقت میرا دل بھی شدت سے آرزو کرنے لگا کہ کاش میرے ناخن بھی بڑھ جائیں اور میں کالے کے ساتھ مل کر اس پتھر کی دیوار کو کھرچ کھرچ کر گرا دوں، یا اس میں نقب لگا کر قلعے کے اندر گھس جاؤں اور سکینہ کو کہیں سے بھی ڈھونڈ نکالوں۔
لیکن اس وقت ہم دونوں ہی شدید بے بس تھے۔ بلکہ شاید ٹھیک اسی لمحے اس جانور کے اختیار کی حدیں مجھ سے کہیں بڑھ کر تھیں۔
تھکے قدموں سے ہم دونوں صحرا کی طرف لوٹ گئے۔
جب میں مزار کے احاطے میں داخل ہو رہا تھا، تب سلطان بابا تہجد کی نماز ادا کرکے اٹھ ہی رہے تھے۔ میرے ہاتھ میں سکینہ کی چادر دیکھ کر وہ کچھ چونکے۔
’’کیوں میاں؟ کس کھوج میں رہے رات بھر؟‘‘
میں نے انہیں ساری روداد سنا دی۔
پوری بات سن کر انہوں نے گہری سانس لی۔
’’لگتا ہے کوئی بڑا امتحان سر پر ہے۔ یا اللہ! ہمیں ثابت قدمی عطا فرما۔‘‘
انہوں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے۔
میں یہی سوچ سوچ کر پریشان ہوتا رہا کہ اگر سکینہ واقعی جبروت کے قلعے میں کہیں قید ہے تو اسے نکالنے کے لیے پوری فوج درکار ہوگی، کیونکہ اس علاقے میں پتّا ہلانے کے لیے بھی جبروت کی اجازت درکار ہوتی تھی۔
اس سوچ میں خبر ہی نہ ہوئی کہ جانے کب سورج نکل آیا۔ میرا جسم پسینے سے شرابور تھا۔ میں مزار کے صحن میں بچھی ٹاٹ کی چٹائی پر بیٹھا تھا کہ تپتی دھوپ کی شدت نے مجھے بے چین کر دیا۔
میں تب چونکا، جب میرے ماتھے سے پسینہ ٹپ ٹپ گرنے لگا۔ سلطان بابا کے کمرے میں بھی بہت کڑی دھوپ آ رہی تھی۔
کچھ ہی دیر میں نوری کے والد اور ایک دوسرے بزرگ مزار کے احاطے میں داخل ہوئے۔ ان کے چہروں سے پریشانی عیاں تھی اور ماتھوں پر پڑی شکنیں اندر کا حال بتا رہی تھیں۔
کہتے ہیں کہ چہرہ دل کا آئینہ ہوتا ہے، لیکن آج ان سب کے چہروں پر پریشانی کی دھند چھائی ہوئی تھی۔
نوری کا باپ بے حد مضطرب دکھائی دے رہا تھا۔ سلطان بابا کے استفسار پر بمشکل اس کے منہ سے صرف ایک جملہ نکلا:
’’جبروت نے نوری کا رشتہ مانگ لیا ہے۔‘‘
میرے ہاتھ میں اکرم صاحب کو دینے کے لیے پکڑا پانی کا گلاس چھوٹتے چھوٹتے بچا۔
یہ جملہ نہیں تھا، ایک ایسا شدید دھچکا تھا جس نے پل بھر میں پورے صحرا کو تہس نہس کرکے رکھ دیا۔
میں بے ساختہ چیخ اٹھا:
’’لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ساری بستی جانتی ہے کہ نوری سانول کی منگیتر ہے اور سانول صرف اس رشتے کی تکمیل کی خاطر ہی تو کل محنت مزدوری کے لیے شہر گیا ہے!‘‘
میرے یہ الفاظ میرے اندر ہی گھٹ کر رہ گئے۔
نوری کا باپ تو اس قدر روہانسا ہو چکا تھا کہ اس سے جواب میں کچھ کہا ہی نہیں گیا۔ البتہ کچھ لمحوں بعد اکرم صاحب ایک لمبی سانس لے کر بولے:
’’کاش ہم سانول کے ساتھ ہی نوری کو بھی رخصت کرکے شہر بھیج دیتے۔ یہ ٹھیک ہے کہ نوری کو سانول کے گھر والوں نے اس کے لیے مانگ رکھا تھا، لیکن ابھی تک باقاعدہ کوئی رسم تو ادا نہیں کی گئی تھی۔ ان کی منگنی بھی نہیں ہوئی۔ ایسی صورت میں کسی بھی طرف سے لڑکی کے لیے رشتہ آ سکتا ہے۔ ہاں، بستی والے تو اس زبانی رشتے کا بھی ہمیشہ احترام کرتے رہے ہیں، لیکن کسی کی نیت ہی اگر خراب ہو تو پھر اس کا کیا علاج؟‘‘
میں نے چونک کر اکرم صاحب کی طرف دیکھا۔
انہوں نے سلطان بابا کو جو تفصیل بتائی، اس کے مطابق جبروت شاید بہت پہلے سے اس رشتے کی تاک میں تھا اور اس نے مناسب موقع پر یہ تیر چلایا تھا۔
ویسے بھی وہ یہ تکلف صرف نوری کے ماں باپ کے اطمینان کے لیے کر رہا تھا، ورنہ بستی میں جس کسی گھر کی طرف سے قلعے کی جانب رشتہ آیا تھا، اس کے بعد نہ تو کسی کو انکار کی جرأت ہوئی تھی اور نہ ہی کھلی بستی میں کسی دوسرے گھر نے جبروت کے مانگے ہوئے رشتے پر کمند ڈالنے کی ہمت کی تھی۔
اس لیے جب بھی جبروت کی طرف سے بستی کے کسی گھر کی بیٹی کے لیے رشتے کا پیغام آتا، وہاں ماتم اپنے ڈیرے ڈال دیتا تھا۔ پھر ہمیشہ کے لیے اس گھر میں موت کا سناٹا چھا جاتا تھا۔
میں نے جلدی سے اکرم صاحب سے پوچھا:
’’سانول کے باپ کا کیا کہنا ہے؟‘‘
’’وہ بیچارا کیا کہے گا؟ یہ سنتے ہی اس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ غریب کا احتجاج کیا ہوتا ہے؟ صرف بددعا دینا اور کڑھ کڑھ کر اپنے اندر ہی اندر مرنا۔ وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتا۔ ساتھ ہی اسے اپنے بیٹے کی فکر بھی کھائے جا رہی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ سانول یہ سنتے ہی الٹے پاؤں بھاگا چلا آئے گا، لیکن سانول کا باپ کبھی نہیں چاہے گا کہ وہ اپنے جوان بیٹے سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ لہٰذا اس کی پوری کوشش ہوگی کہ یہ خبر سانول تک کبھی نہ پہنچے۔ کیونکہ یہاں جس نے بھی قلعے داروں سے جھگڑا مول لیا، اس کے کندھوں سے سر کا بوجھ ہمیشہ کے لیے اتار دیا گیا۔‘‘
اکرم صاحب کی بات ختم ہوتے ہی مزار میں سناٹا چھا گیا۔ صرف آس پاس چلتی ہوا کی سائیں سائیں اور ریت کے بگولوں کے رقص کا شور فضا میں باقی رہ گیا۔
کچھ باتوں کی سنگینی کا احساس ہمیں یک دم نہیں ہوتا، لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، اعصاب کی گرہیں کھلنے لگتی ہیں اور ہمیں دھیرے دھیرے اپنی بے بسی اور اس حادثے کے مضمرات کا احساس ہوتا ہے۔
ٹھیک یہی حال اس وقت میرا بھی تھا۔
میرے پاس سانول کے رہنے کی جگہ کی کچھ خبر تو تھی، لیکن میں نوری سے اس کا پتا کیسے لے سکتا تھا؟ وہ تو سات پردوں میں چھپی ہوئی تھی۔
میں صرف سانول کے پہلے خط کا انتظار کر سکتا تھا، جس کا اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا۔ لیکن تب تک تو بہت دیر ہو چکی ہوگی۔
جانے نوری کا کیا حال ہوگا! وہ بھی تو کسی بے بس چڑیا کی طرح پھڑپھڑا رہی ہوگی۔
میں اپنی ہی سوچوں میں گم تھا کہ سلطان بابا کی آواز نے مجھے چونکا دیا۔
’’آپ لوگوں نے اب کیا سوچا ہے؟ کیا پوری بستی میں کوئی بھی ایسا نہیں جو اس ظلم اور زیادتی کے خلاف آواز بلند کر سکے؟‘‘
ان تینوں بزرگوں کے سر ندامت سے جھک گئے۔
’’کاش کسی میں اتنی جرأت ہوتی! ہم تو بس آپ سے دعا کی التجا کرنے آئے ہیں۔ آپ دعا کیجیے کہ اللہ ہمیں اس طرح کے ظالم شخص کے قہر سے بچا لے۔‘‘
سلطان بابا کی آواز بلند ہوئی۔ میں نے انہیں اس قدر تیز آواز میں بات کرتے پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔
’’یہ دعا کا نہیں، عمل کا وقت ہے۔ خدا بھی ان لوگوں کی حالت نہیں بدلتا جو خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہیں کرتے۔‘‘
تیسرے بزرگ نے پہلی مرتبہ گفتگو میں دخل دیا۔
’’آپ بجا فرماتے ہیں، لیکن اس بستی کی تیسری نسل تک قرضوں میں جکڑی ہوئی ہے۔ ان کی روحیں تک جبروت کی غلام ہیں۔ ان بوسیدہ جسموں سے آپ ایسی کوئی توقع نہ رکھیں۔ شاید ہم سے زیادہ بے بس کوئی اور نہ ہو۔‘‘
سلطان بابا نے تہی دامن ہو کر ہاتھ جھٹکے اور گرج کر بولے:
’’ٹھیک ہے! اگر ساری بستی کی روح غلام اور جسم بوسیدہ ہو چکے ہیں تو پھر یہ فریضہ بھی اب مجھے ہی سرانجام دینا ہوگا۔ چلو عبداللہ!
مجھے جبروت کے قلعے لے چلو۔ وقت آ گیا ہے کہ اس سے دو بدو بات کر لی جائے۔‘‘
سلطان بابا نے اپنے پاؤں کھڑاؤں میں ڈالے اور جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔