سائیکوپیتھک قہقہے، الہامی استہزاء اور کائناتی مساوات کا حتمی اعلان: سورہ المطففین کا فکری اور عمرانی مطالعہ (حصہ سوم/آخری) – بلال شوکت آزاد

سائیکوپیتھک قہقہے، الہامی استہزاء اور کائناتی مساوات کا حتمی اعلان: سورہ المطففین کا فکری اور عمرانی مطالعہ (حصہ سوم/آخری) – بلال شوکت آزاد

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔تحریر۔۔۔ بلال شوکت آزاد )انسانی نفسیات اور سماجی تاریخ کا جب بھی ایک بے لاگ، غیر جذباتی اور خالصتاً عمرانی مطالعہ کیا جائے، تو یہ تلخ ترین کائناتی سچائی ابھر کر سامنے آتی ہے کہ جب کوئی معاشرہ یا اس کا طاقتور طبقہ معاشی جبر، اخلاقی کرپشن اور فکری بغاوت کی انتہا کو چھو لیتا ہے، تو اس کا سب سے پہلا اور خوفناک ہتھیار دلائل نہیں، بلکہ ‘تمسخر’ (Mockery) ہوتا ہے۔

پچھلی دو نشستوں میں جب ہم نے سورہ المطففین کی ابتدائی آیات کا پوسٹ اینالسز کیا تھا، تو ہم نے دیکھا کہ کس طرح ناپ تول میں کمی کرنے والا، دوہرے معیار کا حامل اور آخرت کا انکار کرنے والا مجرم اپنا اعمال نامہ ‘سجین’ کی تاریکیوں میں قید کروا بیٹھتا ہے، جبکہ دیانت دار انسانوں (ابرار) کا ڈیٹا بیس ‘علیین’ کی وسعتوں میں مقرب فرشتوں کی گواہی کے ساتھ محفوظ کیا جاتا ہے۔

پچھلی نشست کے اختتام پر ہم نے دیکھا تھا کہ کس طرح یہ دیانت دار انسان (ابرار) جنت کے پروقار تختوں پر بیٹھے ہوں گے اور ان کے چہروں پر دائمی سکون اور راحت کی ایک خاص چمک (نضرۃ النعیم) دمک رہی ہوگی۔ لیکن کائنات کے رب کی مہمان نوازی محض اس ظاہری سکون پر ختم نہیں ہوتی، بلکہ اس ابدی سرور کو مکمل کرنے کے لیے اب ان کے سامنے وہ شاہانہ ضیافت پیش کی جاتی ہے جو ان کی روح اور وجود کو ابدی تازگی سے سرشار کر دیتی ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

آیت 25 – "يُسْقَوْنَ مِن رَّحِيقٍ مَّخْتُومٍ”

(ترجمہ: انہیں سر بمہر خالص شرابِ طہور پلائی جائے گی۔)

آیت 26 – "خِتَامُهُ مِسْكٌ ۚ وَفِي ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ”

(ترجمہ: جس کی مہر کستوری کی ہوگی، اور اسی (ابدی کامیابی) کے حصول میں مقابلہ کرنے والوں کو ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کرنی چاہیے۔)

عربی لغت اور قرآنی لسانیات کے زاویے سے دیکھیں تو لفظ ‘رَحِيق’ اس خالص، شفاف اور اعلیٰ ترین مشروب کو کہتے ہیں جس میں کسی قسم کی ملاوٹ، تلخی، کھوٹ یا بدبو کا شائبہ تک نہ ہو، اور جسے پینے سے عقل ماؤف نہ ہوتی ہو۔

امام محمد بن جریر الطبریؒ اپنی تفسیر میں سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ اور سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کے اقوال نقل کرتے ہیں کہ ‘رحیق’ جنت کی وہ خالص ترین شراب ہے جسے ہر قسم کی آلائش سے پاک رکھا گیا ہے (الطبری، جامع البیان، جلد 24، صفحہ 301)۔

اور پھر اس کے ساتھ لفظ ‘مَّخْتُومٍ’ (سر بمہر / Sealed) کا اضافہ اس ضیافت کی شان اور ‘ایکسکلوسیوٹی’ (Exclusivity) کو ظاہر کرتا ہے۔

دنیا میں بھی جب کسی شاہی مہمان کے لیے کوئی خاص تحفہ یا مشروب رکھا جاتا ہے تو اسے باقاعدہ سیل (Seal) کر کے محفوظ کیا جاتا ہے تاکہ اس کی پاکیزگی برقرار رہے اور میزبان کے سوا کوئی دوسرا ہاتھ اس تک نہ پہنچ سکے۔

لیکن دنیا کے برتنوں پر مٹی، موم یا لاکھ کی مہر لگتی ہے، جبکہ جنت کے اس جامِ طہور کے بارے میں فرمایا گیا: ‘خِتَامُهُ مِسْكٌ’۔

مفسرینِ کرام کے اس میں دو جلیل القدر اقوال ہیں؛ علقمہؒ اور مجاہدؒ کے نزدیک اس برتن کی مہر بذاتِ خود خالص کستوری (Musk) کی ہوگی، جبکہ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ یہاں ‘ختام’ سے مراد مشروب کا آخری گھونٹ اور اس کا اختتام ہے، یعنی جب جنتی اس مشروب کو پی چکیں گے تو ان کے منہ اور سانسوں میں کستوری کی مسحور کن مہک رچ بس جائے گی (القرطبی، الجامع لأحكام القرآن، جلد 19، صفحہ 262؛ ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، جلد 8، صفحہ 353)۔

یہاں آیت 26 کا دوسرا ٹکڑا ‘وَفِي ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ’ انسانی نفسیات اور عمرانیات کا ایک عظیم الشان موڑ ہے۔

عربی میں ‘تنافس’ کا مادہ ‘ن-ف-س’ ہے، جہاں سے ‘نفیس’ اور ‘نفائس’ کے الفاظ نکلتے ہیں؛ یعنی کسی ایسی نایاب اور قیمتی چیز کو پانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگانا اور دوسرے سے آگے نکلنے کی تگ و دو کرنا جس کی قدر و قیمت بے مثل ہو۔

غور کیجیے کہ قرآنِ مجید انسان کے اندر رکھی گئی مقابلے اور مسابقت کی جبلت (Competitive Instinct) کو کچلتا نہیں ہے، بلکہ اس کا رخ موڑ دیتا ہے جسے جدید نفسیات میں ‘سبلیمیشن’ (Sublimation) یا توانائی کی مثبت سمت میں منتقلی کہا جاتا ہے۔

سورت کے آغاز میں جن ‘مطففین’ کا ذکر ہوا تھا، وہ بھی دراصل ایک اندھی دوڑ اور مقابلے (Rat Race) ہی میں شریک تھے؛ وہ ترازو میں ڈنڈی مار کر، دوسروں کا حق چھین کر اپنے بینک بیلنس اور دنیاوی سٹیٹس میں دوسروں سے آگے نکلنا چاہتے تھے۔

کلامِ الٰہی اس مادی اور فانی مقابلے کی تحقیر کرتے ہوئے انسان کے ‘ریوارڈ سسٹم’ (Reward System) کو جھنجھوڑتا ہے کہ

اے انسان! اگر تجھے مقابلہ کرنے، ریس لگانے اور بازی لے جانے کا اتنا ہی شوق ہے، تو اس مٹی کے ڈھیر اور چند ٹکوں کی خاطر اپنے ضمیر کا سودا مت کر، بلکہ اس ‘رحیقِ مختوم’ اور ‘علیین’ کی ابدی بادشاہت کے لیے مقابلہ کر جو کبھی فنا نہیں ہوگی۔

اس مقابلے کے اعلیٰ ترین معیار اور درجات کی وضاحت اگلی دو آیات میں مزید لطیف انداز میں کی گئی ہے:

آیت 27 – "وَمِزَاجُهُ مِن تَسْنِيمٍ”

(ترجمہ: اور اس (مشروب) میں ‘تسنیم’ کی آمیزش ہوگی۔)

آیت 28 – "عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُونَ”

(ترجمہ: یہ وہ چشمہ ہے جس سے مقربین (خالص طور پر) سیراب ہوں گے۔)

عربی زبان میں ‘تسنیم’ کا لفظ ‘سنام’ سے مشتق ہے، جس کے معنی اونٹ کے کوہان یا کسی چیز کی سب سے بلند چوٹی کے ہیں۔

مفسرینِ کرام، بالخصوص امام فخر الدین رازیؒ اور حافظ ابن کثیرؒ لکھتے ہیں کہ اس چشمے کو ‘تسنیم’ اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ جنت کا سب سے اعلیٰ اور اشرف مشروب ہے جو عرش کے نیچے بلندیوں سے بہتا ہوا جنت کے محلات اور بالاخانوں میں اترتا ہے (الرازی، مفاتیح الغیب، جلد 31، صفحہ 92؛ ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، جلد 8، صفحہ 354)۔

یہاں کلامِ الٰہی نے روحانی ارتقاء کی دو منزلوں اور دو درجات کا فرق بڑی خوبصورتی سے واضح کیا ہے۔

ایک درجہ ‘ابرار’ (عام نیکوکار اور اصحاب الیمین) کا ہے، جن کی شرابِ طہور میں اس بلند ترین چشمۂ تسنیم کی آمیزش (مزاج) شامل کی جائے گی، اور دوسرا درجہ ‘مقربین’ (السابقون الاولون) کا ہے جو اس چشمے سے بغیر کسی آمیزش کے خالص اور براہِ راست سیراب ہوں گے (الطبری، جامع البیان، جلد 24، صفحہ 305)۔

عربی قواعد کی رو سے ‘يَشْرَبُ بِهَا’ میں حرف ‘ب’ تضمین کے اصول کے تحت ‘يَرْوَى بِهَا’ کا مفہوم دیتا ہے، یعنی وہ محض گھونٹ نہیں بھریں گے بلکہ اس کائناتی معرفت اور قربت کے چشمے سے پوری طرح سرشار اور سیراب ہوں گے۔

یہ اس بات کا اعلان ہے کہ اللہ کی کائنات میں عدل اور فضل کا نظام ہر انسان کی قربانی، اخلاص اور مشقت کے عین مطابق اس کا درجہ متعین کرتا ہے۔

لیکن یہاں ایک انتہائی بنیادی، سماجی اور نفسیاتی سوال پیدا ہوتا ہے۔

وہ دیانت دار، سچے اور اللہ کے ضابطوں پر چلنے والے لوگ (ابرار)، جن کا انجام اتنا شاندار اور کائناتی ہے، وہ اس مادی دنیا میں کس حال میں تھے؟

کیا یہ ظالم اور متکبر معاشرہ انہیں ان کی دیانت داری کا کوئی صلہ دیتا تھا؟

کیا ان کے ایمان کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا؟ کلامِ الٰہی اس سورت کے آخری اور سب سے ہیبت ناک حصے میں انسانی تاریخ کے اس سب سے بڑے، سفاکانہ اور سائیکوپیتھک (Psychopathic) رویے کی منظر کشی کرتا ہے جو مکہ کے سرداروں سے لے کر آج کے کارپوریٹ اور سیکولر معاشروں تک ہر دور کے اہلِ ایمان پر آزمایا گیا ہے۔

یہ وہ ایذا رسانی اور فکری بلیک میلنگ ہے جو مومن کو نفسیاتی طور پر توڑنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے، اور کائنات کا رب ان طعنوں کو ریکارڈ کر کے ان کا جو حتمی اور کائناتی جواب دیتا ہے، وہ انسان کے رونگٹے کھڑے کر دینے کے لیے کافی ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

آیت 29 – "إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا كَانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ”

(ترجمہ: بے شک جو لوگ مجرم تھے، وہ ان لوگوں پر جو ایمان لائے، ہنسا کرتے تھے۔)

آیت 30 – "وَإِذَا مَرُّوا بِهِمْ يَتَغَامَزُونَ”

(ترجمہ: اور جب وہ ان کے پاس سے گزرتے تھے، تو (آنکھوں اور بھنوؤں کے اشارے سے) ایک دوسرے کو طعنہ زنی کرتے تھے۔)

ان آیات میں اس مجرم طبقے کی سماجی نفسیات (Social Psychology) کا جو خاکہ کھینچا گیا ہے، وہ آج کے ہر اسکول، کالج، دفتر اور معاشرے کی زندہ تصویر ہے۔

ذرا ان الفاظ کی فزکس اور باڈی لینگویج (Body Language) پر تدبر کریں۔

‘يَضْحَكُونَ’؛ وہ کھلم کھلا، بے شرمی اور تکبر کے ساتھ ان غریب، بے بس اور دیانت دار مسلمانوں (جیسے بلالؓ، خبابؓ اور صہیبؓ) پر قہقہے لگاتے تھے۔

ان کا ہنسنا کوئی معصومانہ ہنسی نہیں تھی، بلکہ یہ ایک ‘سیڈسٹک’ (Sadistic) اور سائیکوپیتھک قہقہہ تھا جو دوسرے کی غربت اور اس کے عقیدے کی تحقیر کے لیے لگایا جاتا ہے۔

آج کا وہ جدید ملحد اور لبرل جو دین پر عمل کرنے والوں کو ‘پسماندہ’، ‘رجعت پسند’ اور ‘جاہل’ کہہ کر ان پر میمز (Memes) بناتا ہے اور ان کا مذاق اڑاتا ہے، دراصل وہ ابو جہل اور ولید بن مغیرہ کے اسی نفسیاتی قبیلے کا فکری وارث ہے۔

اور پھر اگلی حرکت دیکھیں:

‘يَتَغَامَزُونَ’۔ جب یہ مومن گلیوں یا بازاروں سے گزرتے، تو یہ مجرم آنکھوں اور بھنوؤں کے اشاروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکراتے، جیسے کہہ رہے ہوں کہ

"دیکھو ان بیوقوفوں کو، دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی، ہم نے ڈنڈی مار کر اور سمارٹ بزنس کر کے کتنی دولت کما لی، اور یہ آج بھی حلال اور حرام کی پرانی کہانیوں میں پھنسے ہوئے غریبی کاٹ رہے ہیں” (القرطبی، الجامع لأحكام القرآن، جلد 19، صفحہ 265)۔

یہ آنکھوں کے اشارے دراصل اس خاموش نفسیاتی تشدد (Micro-aggression) کی بدترین شکل ہیں جو انسان کی عزتِ نفس (Self-esteem) کو چھلنی کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

لیکن اس متکبر انسان کی منافقت اور اس کی بیماری صرف بازاروں اور گلیوں تک محدود نہیں تھی۔

وہ جب ان غریب مومنوں کا مذاق اڑا کر رات کو اپنے ڈرائنگ رومز، اپنے پرتعیش کلبوں اور اپنے محلات میں واپس جاتا، تو اس کی کیفیت کیا ہوتی؟

اگلی آیت اس جدید اور قدیم سرمایہ دار کے پرائیویٹ لائف سٹائل اور اس کے ‘انٹرٹینمنٹ ازم’ کی غلاظت کو بے نقاب کرتی ہے۔

آیت 31 – "وَإِذَا انقَلَبُوا إِلَىٰ أَهْلِهِمُ انقَلَبُوا فَكِهِينَ”

(ترجمہ: اور جب وہ اپنے گھر والوں (یا اپنی محفلوں) کی طرف لوٹتے تھے، تو دل لگیاں کرتے (مزے اڑاتے) ہوئے لوٹتے تھے۔)

یہاں لفظ ‘فَكِهِينَ’ پر غور کرنا بہت ضروری ہے۔

عربی لغت میں اس کا مادہ ‘ف-ک-ہ’ ہے، جس کا مطلب ہے مزے لینا، تفریح کرنا، لطیفے سنانا اور کسی کی تحقیر کر کے اس کا لطف اٹھانا۔

جب وہ اپنے گھروں یا اپنے ایلیٹ (Elite) دوستوں کی محفلوں میں واپس جاتے، تو انہیں اپنے کیے پر کوئی شرمندگی یا احساسِ جرم (Guilt) نہیں ہوتا تھا۔

وہ ڈرنکس کے گلاس ہاتھ میں پکڑ کر، صوفوں پر تکیہ لگا کر باقاعدہ فخریہ انداز میں ایک دوسرے کو کہانیاں سناتے کہ

"آج ہم نے فلاں مولوی یا فلاں باریش شخص کی کیسی بولتی بند کی، ہم نے اسے کیسا بے وقوف بنایا اور کیسا اس کا مذاق اڑایا” (ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، جلد 8، صفحہ 355)۔

یہ ان کی تفریح کا سامان تھا۔

یہ ان کی وہ ‘سادیات’ (Sadism) تھی جہاں دوسرے انسان کی تذلیل ان کے لیے ایک سائیکالوجیکل کک (Psychological Kick) اور ڈوپامین (Dopamine) کا کام کرتی تھی۔

اور پھر یہ متکبر طبقہ، جب ان مسلمانوں کے استقامت اور ان کے نظریاتی جمود کو دیکھتا، تو ان پر ایک حتمی، نام نہاد فکری اور فلسفیانہ لیبل (Label) چپکا دیتا، جس کا سامنا آج بھی ہر اس شخص کو کرنا پڑتا ہے جو دین پر سختی سے کاربند ہو۔

آیت 32 – "وَإِذَا رَأَوْهُمْ قَالُوا إِنَّ هَٰؤُلَاءِ لَضَالُّونَ”

(ترجمہ: اور جب وہ انہیں دیکھتے تھے تو کہتے تھے، بے شک یہ لوگ یقیناً گمراہ (اور بیوقوف) ہیں۔)

یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا اور سب سے بھیانک طنز (Irony) ہے۔

وہ لوگ جو خود ناپ تول میں کمی کر رہے تھے، جو دوہرے معیار کے حامل تھے، جن کے اعمال نامے ‘سجین’ کی غلاظت میں قید تھے، وہ ان لوگوں کو ‘ضَالُّونَ’ (گمراہ، بھٹکے ہوئے، اور عقل سے پیدل) کہہ رہے تھے جو کائنات کے سب سے سچے اور خالص راستے پر کھڑے تھے۔

آج کا وہ روشن خیال، جو خود سرمایہ دارانہ نظام کے سود اور کارپوریٹ غلامی میں جکڑا ہوا ہے، وہ ایک نمازی اور پرہیزگار انسان کو دیکھ کر کہتا ہے کہ

"یہ تو گمراہ ہیں، یہ اکیسویں صدی کے تقاضوں سے نابلد ہیں، انہوں نے اپنی زندگیاں ضائع کر دی ہیں”۔

وہ انہیں بیک ورڈ (Backward) اور دنیا کے حقائق سے کٹا ہوا سمجھتے تھے۔

لیکن اللہ تعالیٰ اس مقام پر ان متکبرین کی اس نام نہاد فکری چوکیداری (Gatekeeping) اور ان کے اس ججمنٹل (Judgmental) رویے پر ایک ایسا زبردست الہامی طمانچہ رسید کرتا ہے جو ان کے سارے غرور کو خاک میں ملا دیتا ہے۔

آیت 33 – "وَمَا أُرْسِلُوا عَلَيْهِمْ حَافِظِينَ”

(ترجمہ: حالانکہ وہ ان (مومنوں) پر کوئی نگہبان (یا نگران) بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے۔)

یہ کائنات کے رب کا وہ لاجواب اور جلال سے بھرپور جواب ہے جو ان ظالموں کے منہ پر مارا گیا ہے۔

اللہ فرما رہا ہے کہ تم کون ہوتے ہو ان کے ایمان اور ان کی عقلمندی کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے؟

کیا ہم نے کائنات کا کنٹرول تمہارے ہاتھ میں دے کر تمہیں ان کا داروغہ، نگران یا محافظ بنا کر بھیجا تھا کہ تم یہ فیصلہ کرو کہ کون سیدھے راستے پر ہے اور کون گمراہ؟

تمہاری اوقات کیا ہے کہ تم ان کی زندگیوں کو اپنے مادی پیمانوں پر تولو؟

یہ آیت آج کے دور کے ان تمام فکری ٹھیکیداروں کے لیے ایک کائناتی پیغام ہے جو اپنے محدود علم اور اپنی مادی دولت کے زعم میں دوسروں کے عقیدے اور ان کے طرزِ زندگی کو جج (Judge) کرتے ہیں اور انہیں ناکام قرار دیتے ہیں۔

یہ تو تھا دنیا کا منظر، جہاں ظالم ہنس رہے تھے اور مظلوم اپنے ایمان کی قیمت طعنوں اور تذلیل کی صورت میں چکا رہے تھے۔

لیکن، کائنات کا وہ الاعلٰی رب جو ‘یوم الدین’ (انصاف کے دن) کا مالک ہے، وہ اس دنیا کو ایک نامکمل کہانی کی طرح ادھورا نہیں چھوڑ سکتا۔

قانونِ مکافاتِ عمل اور تھیوری آف جسٹس (Theory of Justice) کا حتمی تقاضا یہ ہے کہ اس تمسخر، اس تذلیل اور اس ظلم کا کائناتی ریورس (Cosmic Reversal) ہو۔

اگلی آیات اس قیامت خیز اور ابدی دن کا وہ شاندار، نفسیاتی اور حتمی فیصلہ سناتی ہیں، جہاں میزیں الٹ دی جائیں گی، مساوات قائم ہوگی، اور ہنسنے والوں کے رونے اور رونے والوں کے ہنسنے کا وہ ابدی دور شروع ہوگا جس کے بعد کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

آیت 34 – "فَالْيَوْمَ الَّذِينَ آمَنُوا مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُونَ”

(ترجمہ: پس آج کے دن (قیامت میں) وہ لوگ جو ایمان لائے، ان کافروں پر ہنس رہے ہوں گے۔)

آیت 35 – "عَلَى الْأَرَائِكِ يَنظُرُونَ”

(ترجمہ: آراستہ تختوں پر بیٹھے (ان کا انجام) دیکھ رہے ہوں گے۔)

یہ ہے وہ حتمی کائناتی مساوات (Cosmic Equality)!

وہ کافر جو دنیا میں گلیوں، بازاروں اور اپنی ایلیٹ محفلوں میں بیٹھ کر ان غریب مسلمانوں پر سائیکوپیتھک قہقہے لگاتے تھے، آج کائنات کے رب نے ان کا وہ سارا تمسخر ایک کائناتی سکرین پر پلے بیک (Playback) کر دیا ہے۔

آج مومن ہنسیں گے۔

لیکن مومنوں کا یہ ہنسنا کوئی سیڈسٹک (Sadistic) قہقہہ نہیں ہوگا، بلکہ یہ اس ابدی سچائی، اس کائناتی انصاف اور اس شاندار فتح کا وہ پرسکون، باوقار اور فاتحانہ تبسم ہوگا جو ایک طویل، تھکا دینے والی اور طعنوں بھری جنگ جیتنے کے بعد انسان کے لبوں پر آتا ہے۔

اور وہ یہ نظارہ کہاں سے کر رہے ہوں گے؟

‘عَلَى الْأَرَائِكِ يَنظُرُونَ’۔

وہ جنت کے ان شاندار اور پروقار تختوں (Couches) پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے (جن کا ذکر اسی سورت کی آیت 23 میں ہو چکا ہے)۔

امام رازیؒ فرماتے ہیں کہ

جن کافروں نے دنیا میں مومنوں کو ذلیل کیا، آج وہ جہنم کی اتھاہ گہرائیوں اور ‘سجین’ کی تاریکیوں میں جل رہے ہوں گے اور موت کی بھیک مانگ رہے ہوں گے، جبکہ مومن جنت کے ان تختوں سے ان کی اس ذلت اور بے بسی کا نظارہ کر رہے ہوں گے اور انہیں بتائیں گے کہ دیکھو، یہ ہے وہ ‘اساطیر الاولین’ (پرانی کہانیاں) اور وہ گمراہی جس کا تم دنیا میں مذاق اڑاتے تھے (الرازی، مفاتیح الغیب، جلد 31، صفحہ 93)۔

یہ وہ حتمی سائیکالوجیکل ریلیف (Psychological Relief) ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے ان استقامت والے بندوں کو عطا کرے گا جنہوں نے دنیا میں صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔

اور پھر اس سورت کا اختتام، اس پورے الہامی مقالے کا وہ آخری، طنزیہ اور جلال سے بھرپور سوال ہے جو انسان کی پوری مادی تاریخ، اس کی ساری فلاسفی اور اس کے کارپوریٹ تکبر کو ایک ہی جملے میں لپیٹ کر رکھ دیتا ہے۔

آیت 36 – "هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ”

(ترجمہ: کیا کافروں کو اس کا پورا پورا بدلہ دے دیا گیا جو وہ (دنیا میں) کیا کرتے تھے؟)

لفظ ‘ثُوِّبَ’ کا مادہ ‘ث-و-ب’ ہے، جس کا مطلب ہے کسی عمل کے بدلے میں اس کا پورا اور برابر کا صلہ یا جزا دینا (اسی سے ثواب کا لفظ نکلا ہے)۔

یہ ایک استفہامِ انکاری اور کائناتی طنز (Cosmic Sarcasm) ہے۔

اللہ تعالیٰ ان متکبروں، ان ناپ تول میں کمی کرنے والوں، اور ان مذاق اڑانے والوں کی طرف اشارہ کر کے، مومنوں سے اور پوری کائنات سے پوچھ رہا ہے کہ:

"بتاؤ! جو کچھ یہ دنیا میں میری آیات، میرے رسولوں اور میرے بندوں کے ساتھ کرتے تھے، کیا آج ہم نے انہیں اس کا پورا پورا اور برابر کا بدلہ چکا دیا ہے یا نہیں؟”

 کائنات کا ہر ذرہ، مقرب فرشتے، اور جنت کے تختوں پر بیٹھے وہ مومن بیک زبان پکار اٹھیں گے کہ بے شک، کائنات کے رب نے ان کا ایک ایک قہقہہ، ایک ایک طعنہ اور ان کی ترازو کی ایک ایک ڈنڈی کا حساب برابر کر دیا ہے۔

سورہ المطففین کی ان 36 آیات کا یہ طویل، فکری، سائنسی اور عمرانی سفر ہمیں جس مقام پر لا کر کھڑا کرتا ہے، وہ ایک عام انسان کی انا اور اس کے مادی تکبر کی مکمل موت کا مقام ہے۔

ترازو میں ایک گرام کی چوری اور وائٹ کالر کرائم سے شروع ہونے والی یہ سورت، انسان کے دماغ پر جمنے والے زنگ (نیوروپلاسٹی سٹی)، اس کے ڈیٹا بیس کی قید (سجین)، اور اس کے سائیکوپیتھک قہقہوں کا نفسیاتی پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے، بالآخر کائنات کے اس عظیم الشان اور ابدی دن پر آ کر ختم ہوتی ہے جہاں ظالموں کے لیے صرف ذلت اور دردناک عذاب ہے، اور صبر کرنے والے دیانت داروں کے لیے وہ تخت، وہ ‘نضرۃ النعیم’ اور وہ حتمی قہقہہ ہے جو ابد تک گونجتا رہے گا۔

یہ سورت ہمیں جھنجھوڑ رہی ہے کہ

"اے جدید انسان! تو وال سٹریٹ کے دفتروں، سوشل میڈیا کی پوسٹوں اور اپنے ایلیٹ کلبوں میں بیٹھ کر جن الہامی ضابطوں اور دین داروں کا مذاق اڑا رہا ہے، اور جس معاشی استحصال کو تو نے اپنا حق سمجھ لیا ہے، یاد رکھ کہ تیرا ہر عمل ‘کتاب مرقوم’ میں ڈیجیٹل کوڈ کی طرح محفوظ ہو رہا ہے۔ یہ تیرا فیصلہ ہے کہ تو دنیا کی چند روزہ تفریح کی خاطر ‘سجین’ کی ان گھٹن زدہ تاریکیوں میں اپنا چہرہ مسخ کروانا چاہتا ہے، یا پھر حق پر کھڑے ہو کر دنیا کے طعنے برداشت کر کے ان تختوں (ارائک) تک پہنچنا چاہتا ہے جہاں کائنات کا رب تیری استقامت کا جشن مقرب فرشتوں کے سامنے منائے گا اور تجھے وہ ابدی ہنسی عطا کرے گا جسے کوئی موت چھین نہیں سکتی۔”

#سنجیدہ_بات

#آزادیات

#بلال #شوکت #آزاد