دو لفظ، ایک گہرا فرق
قسط نمبر 4: بغض، کینہ اور نفرت
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کبھی ایسا ہوا ہے کہ کسی شخص نے آپ کو اتنا دکھ دیا ہو کہ اس کا نام سن کر دل میں پرانی تکلیف دوبارہ جاگ جائے؟
وقت گزر جاتا ہے…
واقعہ پرانا ہوجاتا ہے…
لیکن دل میں وہ بات کہیں نہ کہیں باقی رہتی ہے۔
یہیں سے آج کے تین الفاظ کو سمجھنے کی ضرورت پیدا ہوتی ہے:
بغض، کینہ اور نفرت۔
ہم روزمرہ گفتگو میں ان تینوں کو تقریباً ایک ہی معنی میں استعمال کر لیتے ہیں، اور واقعی ان کے مفاہیم میں کافی قربت ہے۔
لیکن باریک فرق سمجھیں تو بات بہت خوبصورت ہوجاتی ہے۔
بغض کسی شخص یا چیز کے لیے دل میں ناپسندیدگی، کراہت یا دشمنی کا جذبہ ہے۔
یعنی دل کسی کی طرف محبت کے بجائے مخالفت اور ناگواری کی طرف مائل ہوجائے۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ
“شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے۔”
(المائدہ: 91)
اب آتے ہیں کینے کی طرف۔
کینہ صرف یہ نہیں کہ کسی سے آپ کو برا لگتا ہے۔
کینہ اس وقت زیادہ واضح ہوتا ہے جب کسی واقعے کی رنجش یا دشمنی دل میں چھپی ہوئی باقی رہے اور انسان اسے چھوڑنے پر آمادہ نہ ہو۔
یعنی بظاہر معاملہ ختم ہوگیا…
لیکن دل نے اسے ختم نہیں کیا۔
وقت گزر گیا…
مگر اندر سے انسان اب بھی اسی شخص کے خلاف رنجش سنبھالے ہوئے ہے۔
اسی لیے بعض اہلِ علم نے کینے کو دل میں چھپی ہوئی دشمنی قرار دیا ہے۔
اور پھر ہے نفرت۔
نفرت ایک وسیع لفظ ہے۔
کسی شخص، چیز یا عمل سے شدید ناپسندیدگی کو نفرت کہا جا سکتا ہے۔
اس لیے ہر نفرت کو لازماً کینہ کہنا درست نہیں۔
مثلاً ایک مسلمان ظلم سے نفرت کر سکتا ہے۔
گناہ سے نفرت کر سکتا ہے۔
برے کردار سے نفرت کر سکتا ہے۔
لیکن اس کے دل میں کسی مظلوم انسان کے لیے کینہ نہ ہو۔
یہ فرق سمجھنا بہت ضروری ہے۔
بغض ایک جذبہ ہے۔
کینہ اسی قسم کی دشمنی یا رنجش کا دل میں جم کر رہ جانا ہوسکتا ہے۔
اور نفرت ایک وسیع کیفیت ہے جو شدید ناپسندیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔
تینوں الفاظ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، مگر ہر جگہ ایک دوسرے کے عین مترادف نہیں۔
قرآن ہمیں صرف دوسروں کے ساتھ اچھا برتاؤ ہی نہیں سکھاتا…
بلکہ دل کی صفائی کی دعا بھی سکھاتا ہے:
وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا
“اور ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے لیے کوئی کینہ نہ رکھ۔”
(الحشر: 10)
ذرا سوچیں…
زبان خاموش ہوسکتی ہے۔
چہرہ مسکرا سکتا ہے۔
رشتے بظاہر معمول پر آسکتے ہیں…
لیکن اگر دل میں پرانی دشمنی محفوظ ہو تو انسان اندر سے آزاد نہیں ہوتا۔
کسی کو معاف کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ظلم کو صحیح مان لیں۔
نہ ہی یہ ضروری ہے کہ آپ دوبارہ اسی شخص پر ویسا ہی اعتماد کریں۔
کبھی معافی کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے:
“میں اس شخص کے کیے ہوئے ظلم کو اپنی باقی زندگی کا بوجھ نہیں بناؤں گا۔”
آپ احتیاط بھی رکھ سکتے ہیں…
فاصلہ بھی رکھ سکتے ہیں…
اپنا حق بھی لے سکتے ہیں…
مگر دل کو بدلے کی آگ میں جلنے سے بچا سکتے ہیں۔
کیونکہ بعض اوقات ہم سمجھتے ہیں کہ ہم دوسرے شخص کو دل میں جگہ نہیں دے رہے…
حالانکہ ہم اسے اپنی سوچ میں روزانہ جگہ دے رہے ہوتے ہیں۔
وہ شخص اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکا ہوتا ہے…
اور ہم اس کے کیے ہوئے ایک واقعے کو اپنے دل میں بار بار دہرا رہے ہوتے ہیں۔
اس لیے آج اپنے دل سے ایک سوال کریں:
“کیا میرے دل میں کسی کے لیے ایسی پرانی رنجش ہے جسے میں برسوں سے اٹھائے پھر رہا ہوں؟”
اگر ہے تو اسے فوراً ختم کرنا آسان نہ ہو تو کم از کم اللہ سے یہ دعا ضرور شروع کردیں:
“یا اللہ! میرے دل کو بغض، کینے اور بے جا نفرت سے پاک فرما، اور مجھے حق کے ساتھ معاف کرنے اور حکمت کے ساتھ معاملہ کرنے کی توفیق عطا فرما۔”
کیونکہ دل کی صفائی کا سفر اکثر ایک دن میں مکمل نہیں ہوتا…
لیکن اس کا آغاز ایک سچی دعا سے ضرور ہوسکتا ہے۔
اگر یہ تحریر آپ کے دل تک پہنچی ہے تو اسے کسی ایسے شخص کے ساتھ شیئر کریں جو شاید اپنے دل میں کوئی پرانی رنجش لیے بیٹھا ہے۔
پیج کو فالو کریں، پوسٹ کو لائک کریں، اسے آگے شیئر کریں، اور کمنٹ میں بتائیں: آپ کے خیال میں دل سے کسی کو معاف کرنے کی سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہوتی ہے؟
اور جاتے جاتے…
کیا آپ نے آج درودِ پاک پڑھا؟
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ﷺ
![]()

