ذکر و اذکار کے بارے میں۔۔۔انتخاب ۔۔۔ محمد جاوید عظیمی

ذکر و اذکار کے بارے میں

انتخاب ۔۔۔ محمد جاوید عظیمی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ انتخاب ۔۔۔ محمد جاوید عظیمی )بے شک اللہ تعالٰی نے ذاکرین کو ہدایت سے نوازا ہے ۔ فرمان حق تعالی ہے :۔ ” اور اُس کا ذکر اس طرح کرو جس طرح کہ اُس نے تمہیں اس کی ہدایت فرمائی ہے۔ “ یعنی جس طرح کہ اُس نے تمہیں مراتب ذکر کی طرف ہدایت فرمائی ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے:۔ ” میرے اور مجھ سے پہلے کے تمام انبیا کے فرمودات میں سب سے افضل فرمان کلمہ توحید

 ” لا إِله إِلَّا الله ” کے ذکر کی تاکید ہے “۔

ہر ظاہری و باطنی مقام کا ایک مخصوص مرتبہ ہے۔ سب سے پہلے ذاکرین کے لئے ذکر زبان کی ہدایت ہے، پھر ذکر نفس کی ، پھر ذکر قلب کی ، پھر ذکر روح کی، پھر ذکر ستر کی ، پھر ذکر خفی کی اور پھر ذکر اخفی ابھی کی ۔ ذکر زبان وہ ہے کہ جس کی بدولت دل اُس ذکر الہی کی تجدید کرتا ہے جسے وہ بھول چکا ہے ۔ ذکر نفس وہ ہے جو حروف و آواز کے بغیر محض بطن کی حس و حرکت سے سنائی دیتا ہے۔ ذکر قلب وہ ہے کہ جس میں قلب اپنے ضمیر میں اللہ تعالیٰ کے جمال و جلال کا مشاہدہ کرتا ہے۔ ذکر روح وہ ہے کہ جس کا نتیجہ صفات الہیہ کے انوار و تجلیات کا مشاہدہ ہے۔ ذکر ستر وہ مراقبہ ہے کہ جس یں اللہ تعالی متوالہ کے اسرار منکشف ہوتے ہیں۔ ذکر خفی وہ ہے کہ جس میں عظیم قدرت والے شہنشاہ کے روبرو مجلس صدق میں بیٹھ کر انوارِ جمالِ ذات احدیت جل جلالہ کا معائنہ کیا جاتا ہے اور ذکر اخفی ابھی وہ ہے کہ جس میں حق الیقین کی آنکھ سے الله تعالیٰ کی اُس حقیقت کو دیکھا جاتا ہے کہ جس سے اللہ تعالی کے سوا کوئی آگاہ نہیں جیسا کہ فرمانِ حق تعالی ہے : ” اللہ تعالیٰ جانتا ہے مخفی بھید کو بلکہ اُس سے بھی زیادہ مخفی اسرار کو یہ ذکر جملہ علوم کی غایت اور جملہ مقاصد کی انتہا ہے۔

جب تو ترقی کر کے اُس روح تک رسائی حاصل کرلے جو تمام ارواح سے لطیف تر ہے تو جان لے کہ یہ وہی طفل معانی ہے جو مختلف انداز سے اللہ تبارک و تعالی کی طرف بلاتا ہے۔ بعض اکابرین نے فرمایا ہے کہ اس روح تک رسائی ہرکسی کے نصیب میں نہیں بلکہ یہ خواص کے لئے مخصوص ہے جیسا کہ فرمانِ حق تعالی ہے :- اللہ تعالٰی اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے عالم امر میں سے روح کا القا فرما دیتا ہے۔ اور یہ وہ روح ہے جو عالم حقیقت میں ہر وقت قدرت الہیہ کے مشاہدہ میں غرق رہتی ہے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے سوا کسی اور چیز کی طرف متوجہ نہیں ہوتی جیسا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا فرمان ہے :۔ ”دنیا حرام ہے اہل آخرت پر ، آخرت حرام ہے اہل دنیا پر اور دنیا و آخرت دونوں حرام ہیں اہل اللہ پر ۔“ اور وہ طفل معانی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اس عطا تک پہنچنے کا طریقہ یہ ہے کہ جسم کو صراط مستقیم پر قائم کر کے رات دن احکام شریعت کی نگہداشت کی جائے اور ظاہر و باطن میں ذکر اللہ پر دوام حاصل کیا جائے کیونکہ طالبانِ مولی پر ہر وقت ذکر اللہ میں غرق رہنا فرض کر دیا گیا ہے جیسا کہ فرمان حق تعالی ہے : اس سال کا ر کر چاہے کم کرنے یا پینے وا لیے ہوا۔ مزید فرمانِ حق تعالی ہے : ۔ ” اور وہ تفکر کرتے رہتے ہیں زمین و آسمانوں کی پیدائش میں ۔

ذکر و اذکار کے بارے میں

فصل نمبر 7

سرالاسرار

حضرت سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ