تمہید : فلسفۂ اجتماع (سوشیالوجی) کے ماہرین میں اس سوال پر اختلاف آراء پایا جاتا ہے کہ فرد اور جماعت میں کیا رشتہ ہے؟ بعض حکماء کا یہ خیال ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں. اور اسی لیے ایک کی ترقی دوسرے کے تنزل کا باعث ہے. لیکن اقبال اس نظریہ کے مخالف ہیں. اُن کی رائے میں فرد اور جماعت دونوں آپس میں مربوط ہیں، اور ایک کی ترقی دوسرے کی ترقی پر موقوف ہے. چنانچہ انہوں نے اپنی تمہید میں اسی نظریہ کی وضاحت کی ہے.
اُن کی وضاحت کا خلاصہ یہ ہے کہ دونوں میں تضاد نہیں ہے بلکہ کامل ہم آہنگی اور توافق ہے یعنی جماعت کی بہبود، افراد کی بہبود سے جداگانہ کوئی شئے نہیں ہے.
بعض حکماء کا خیال یہ ہے کہ فرد اور جماعت میں تضاد تو نہیں ہے لیکن جماعت کو فرد پر تفوق حاصل ہے. بعض اس کے برعکس فرد کو جماعت پر فضیلت دیتے ہیں. لیکن اقبال کہتے ہیں کہ یہ دونوں نظریے غلط ہیں. حقیقت یہ ہے کہ فرد اور جماعت دونوں ہم پلہ ہیں اور ایک دوسرے کے لیے بمنزلہء آئینہ ہیں.
یہ سچ ہے کہ بعض اوقات چند افراد اپنی جان قوم کی بقا کے لئے قربان کر دیتے ہیں۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ نہیں نکل سکتا کہ قوم اعلیٰ اور افضل ہے۔ کیونکہ بعض اوقات ایسا بھی تو ہوتا ہے کہ پوری قوم ایک فرد کی عزت کے لئے سربکف ہو کر میدانِ جنگ میں کود پڑتی ہے۔
اقبال کا نظریہ یہ ہے کہ ہر فرد کی ذات میں انفرادیت اور اجتماعیت کے عناصر اس طرح پیوستہ ہوتے ہیں کہ اُنہیں جدا نہیں کیا جا سکتا. اسی لئے ہر فرد میں شخصیت کے ان دونوں پہلووں کی طرف طبیعی میلان پایا جاتا ہے، اور اس کی خودی کی تکمیل کے لئے ان دونوں کی آبیاری لازمی ہے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اسرارِ خودی کے بعد رموزِ بیخودی لکھی۔ اول الذکر میں فرد کی شخصیت کے ذاتی یا انفرادی پہلو کی، اور آخر الذکر میں اس کی شخصیت کے اجتماعی یا عمرانی پہلو کی تربیت کا پروگرام قرآن کی روشنی میں پیش کیا ہے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اقبال کی تعلیم یہ ہے کہ :۔
(۱) جماعت کے بغیر فردا اپنی شخصیت کی تکمیل نہیں کر سکتا.
(۲) افراد کے بغیر جماعت کا وجود متحقیق نہیں ہو سکتا۔
(۳) بڑا آدمی وہ نہیں جو جماعت سے الگ رہ کر زندگی بسر کرے۔ بلکہ بڑا آدمی وہ ہے جو اپنی جماعت کے ساتھ ایسی ہم آہنگی اور مطابقت پیدا کر لے کہ
ظاہرش از قوم و پنہانش زقوم
کا مصداق بن جائے۔
اسی لئے اقبال نے خطبات میں اس موضوع پر فلسفیانہ رنگ میں اظہارِ خیالات کیا ہے۔ اور اس ضمن میں لکھا ہے کہ "جماعت کے ساتھ منسلک رہنے سے فرد میں مشاہدہ کی قوت اور جذبات کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے اور ارادہ میں حرکت پیدا ہو جاتی ہے.”
اقبال، پروفیسر میک ڈوگل کے اس خیال سے بھی متفق ہیں کہ سوسائٹی کے بغیر فرد میں آدمیت پیدا نہیں ہو سکتی یہ کیونکہ جماعت ہی اس کے اندر ضبط کا مادہ پیدا کرتی ہے، اور اس کو قانون کا احترام سکھاتی ہے۔
لفظ ملت کا مفہوم :
اقبال نے اس تمہید میں لفظ ملت کو قوم کے معنی میں استعمال کیا ہے. ذیل میں اس لفظ کی مختصر تحقیق درج کرتا ہوں :-
واضح ہو کہ ملت عربی زبان کا قدیم لفظ ہے اور اس کے معنی ہیں، مذہب یا مشربِ دین. قرآن و حدیث اور لغتِ عرب میں یہ لفظ صرف اسی معنی میں مستعمل ہے۔ مثلاً مِلَّةَ اَبِیکُم اِبرَاهِیمَ – تمہارے باپ ابراہیم کا دین۔
دوسری مثال: علامہ شہرستانی کی کتاب کا نام الملل و النحل ہے۔ اس میں ملل (جمع ملت) ادیان و مذاہبِ عالم پر بولا گیا ہے۔
تیسری مثال : اردو میں بھی (آج سے سو سال پہلے) ملت کا لفظ مذہب کے معنی میں مستعمل تھا.
کس کی حالت میں گنوں آپکو بتلا اے شیخ
تو کہے گبر مجھے، گبر مسلماں مجھ کو
لیکن جديد عربی اور فارسی میں ملت کے معنی قوم کے ہو گئے ہیں اور چونکہ جدید فارسی ہندوستان کے موجودہ انگریزی دان طبقہ میں بھی راہ پا گئی ہے اس لیے وہ ملت کے قدیم مفہوم سے بیگانہ ہو گئے اور انہوں نے اس لفظ کو قوم کے معنی میں استعمال کرنا شروع کر دیا.
اقبال نے اس مشہور شعر میں بھی لفظ ملت کو قوم ہی کے معنی میں استعمال کیا ہے.
سرود بر سرِ منبر کہ مِلّت از وطن است
چہ بے خبر ز مقامِ محمدِؐ عربی است
مطلب : یہ تو گویا منبر پر سرود بجانے کے مترادف ہے کہ قوم وطن سے بنتی ہے۔ یہ مقامِ محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کس قدر بے خبری ہے۔