روح اور نفس کی دیوار
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )روح جب اللہ کے پاس موجود تھی تو اللہ تعالی کے دیدار میں مگن تھی لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس روحانی انسان کو اپنی پہچان کے امتحان کے لیے اس دنیا میں بھیجا تو اپنے جلوؤں کے نور اور انسان کے درمیان نفس کی دیوار حائل کر دی
انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ نفسانی خواہشوں کے جال سے نکل کر نفس کے ان حجابوں کو توڑے اور اپنے خالق حقیقی کا دیدار اور پہچان حاصل کرے اللہ تعالی کے جلوؤں کا نور ہی وہ امانت ہے جو انسان کے قلب میں پوشیدہ ہے اور جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
ترجمہ ہم نے اپنی امانت کو آسمانوں اور زمینوں پر پیش کیا سب نے اس کے اٹھانےسے عاجزی ظاہر کر دی لیکن انسان نے اسے اٹھا لیا بے شک وہ اپنے نفس پر ظالم اور اپنی حقیقت سے جاہل ہے
الاحزاب ـ72
سلطان العارفین سلطان الفقر
حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ
![]()






