-
سوات: (دنیا نیوز) سوات میں تھانہ کبل کے قریب فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خودکش حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد 17 ہوگئی، حملے میں 7 پولیس اہلکار اور 10 شہری شہید جبکہ 23 زخمی ہوئے ہیں، دوسری جانب حملے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ریسکیو ترجمان کے مطابق کبل خودکش دھماکے میں زخمی پولیس کانسٹیبل مکرم خان ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا، مکرم خان زخمی ہونے کے بعد سیدوشریف ہسپتال میں زیر علاج تھا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ خودکش تھا، جبکہ جائے وقوعہ سے حملہ آور کا سر بھی ملا ہے، بم ڈسپوزل سکواڈ دھماکے کی نوعیت اور استعمال ہونے والے بارودی مواد کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ ممکنہ سہولت کاروں کی گرفتاری کیلئے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد حملہ آور کے افغان شہری ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہیں، تاہم حتمی تصدیق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کی جائے گی۔
ڈی پی او سوات محمد عمر خان نے کہا کہ حملے میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کا سراغ لگا کر انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا جبکہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب سوات دھماکے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے، مقدمے میں قتل، اقدام قتل اور دہشت گردی سمیت دیگر دفعات شامل ہیں۔
علاوہ ازیں کبل میں خودکش حملے میں شہید ہونے والے 5 پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی۔
پولیس ٹریننگ سکول سوات میں ہونے والی تقریب میں شہداء کو سلامی پیش کی گئی جبکہ نمازِ جنازہ میں اعلیٰ پولیس حکام، سول انتظامیہ، پاک فوج کے افسران، صوبائی وزیر اور شہداء کے اہل خانہ نے شرکت کی۔
پولیس کے چاق و چوبند دستے نے اے ایس آئی ہاشم خان سمیت پانچوں شہداء کو سلامی پیش کی، ان کی میتوں پر پھولوں کی چادریں چڑھائی گئیں اور ملکی سلامتی کیلئے دی گئی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
نمازِ جنازہ کے بعد شہداء کی میتیں تدفین کیلئے ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئیں جہاں انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا جائے گا۔
![]()
