سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کا ایمان افروز تذکرہ
صدائے توحید اور بھٹکی ہوئی قوم
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا ظہور ایک ایسے معاشرے میں ہوا جو خدائے واحد کو فراموش کر کے بت پرستی میں غرق تھا۔ آپ کے والد آزر کا شمار بھی انھی لوگوں میں ہوتا تھا جو اپنے ہاتھوں سے مورتیاں تراش کر ان کی پوجا کرتے تھے۔ آپ یہ دیکھ کر سخت حیران ہوتے کہ ان کی قوم ایسے بے جان پتھروں سے مرادیں مانگتی ہے جو نہ دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، نہ سننے کی، اور نہ ہی ان کے ہاتھ میں کسی کا نفع یا نقصان ہے۔
چنانچہ آپ نے اس باطل عقیدے کے خلاف بلند آواز میں صدائے حق بلند کی اور سب کو خدائے لاشریک کی بندگی کی دعوت دی۔ آپ نے اپنے پدرِ محترم سے مخاطب ہو کر پوچھا، ابا جان، آپ ایسی چیزوں کی پرستش کیوں کرتے ہیں جو نہ کچھ سنتی ہیں، نہ دیکھتی ہیں اور نہ ہی آپ کی کوئی حاجت روائی کر سکتی ہیں؟ اپنی قوم سے آپ نے سوال کیا، یہ کیسے بت ہیں جن کے آگے تم آسن مارے بیٹھے ہو؟ جواب میں انھوں نے فقط اتنا کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی ڈگر پر چلتے پایا ہے اور ہم انہی کی اندھی تقلید کر رہے ہیں۔
🪓 بتوں کا انجام اور مشرکین کی لاچاری
خلیل اللہ علیہ السلام کی فطرت میں یہ شامل نہ تھا کہ محض رسم و رواج کی خاطر باطل سے سمجھوتہ کر لیں، بلکہ آپ سچائی کے متلاشی اور اس پر ڈٹ جانے والے انسان تھے، خواہ پوری دنیا ہی آپ کی مخالف کیوں نہ ہو جائے۔ آپ نے فیصلہ کیا کہ ان جھوٹے خداؤں کی حقیقت قوم کے سامنے ایسی کھلی دلیل سے واضح کریں کہ وہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں۔ لہٰذا ایک دن جب تمام لوگ کسی میلے کی غرض سے شہر سے باہر گئے، آپ بت خانے میں داخل ہوئے اور تمام مورتیوں کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا، البتہ ان کے سب سے بڑے بت کو یونہی کھڑا چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
جب لوگ واپس لوٹے اور اپنے خداؤں کی یہ درگت بنتے دیکھی تو غیظ و غضب میں آ کر پوچھنے لگے، ہمارے خداؤں کا یہ حال کس نے کیا ہے؟ کسی نے بتایا کہ ہم نے ایک نوجوان کو ان بتوں کی برائی کرتے سنا تھا، جس کا نام ابراہیم ہے۔ وہ فوراً آپ کو پکڑ لائے اور سوال کیا، اے ابراہیم، کیا ہمارے معبودوں کے ساتھ تم نے یہ حرکت کی ہے؟ آپ نے کمالِ دانشمندی سے جواب دیا، بلکہ یہ کارنامہ تو ان کے اس بڑے بت نے انجام دیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو انہی سے دریافت کر لو۔ یہ سننا تھا کہ سب ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے، کچھ دیر کے لیے ان پر یہ حقیقت آشکار ہو گئی کہ جو مورتیاں اپنا دفاع نہیں کر سکتیں وہ کسی کے کیا کام آئیں گی۔ چنانچہ اپنے دلوں میں انھوں نے اعتراف کیا کہ حقیقت میں وہی لوگ ظالم ہیں۔
🔥 آتشِ نمرود، حق و باطل کا معرکہ اور خدائی حفاظت
مگر حق کی یہ روشنی ان کے دلوں پر زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی اور وہ دوبارہ ہٹ دھرمی پر اتر آئے۔ کہنے لگے، اے ابراہیم، تم بخوبی جانتے ہو کہ یہ پتھر بولنے سے قاصر ہیں۔ آپ نے برجستہ فرمایا، افسوس ہے تم پر اور تمہارے ان جھوٹے خداؤں پر جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، کیا تم ذرا بھی عقل سے کام نہیں لیتے؟
جب وہ دلائل کے میدان میں ہار گئے تو انھوں نے ظلم و جبر کا راستہ اپنایا۔ فیصلہ ہوا کہ ابراہیم کو زندہ جلا دو تاکہ تمہارے معبودوں کا انتقام لیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے ایک دہکتی ہوئی اور خوفناک آگ تیار کی گئی جس میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو پھینک دیا گیا۔ ظالموں کا خیال تھا کہ اس الاؤ میں جل کر آپ کی داستان ختم ہو جائے گی، لیکن آپ کا کامل یقین تھا کہ ہر شے کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے اور اس کے حکم کے بغیر کوئی پتہ بھی نہیں ہل سکتا۔
پھر وہ معجزہ رونما ہوا جسے دیکھ کر عقلیں دنگ رہ گئیں۔ پروردگار نے آگ کو حکم دیا، اے آگ، ابراہیم پر ٹھنڈی ہو جا اور ان کے لیے سراپا سلامتی بن جا۔ اس الٰہی فرمان کے بعد آگ نے آپ کا بال بھی بیکا نہ کیا اور اللہ نے اپنے خلیل کو ان کی سازش سے محفوظ رکھا۔ قرآن مجید گواہی دیتا ہے، اور انھوں نے آپ کے خلاف ایک بری تدبیر سوچی تھی، پس ہم نے انھیں ہی سخت نقصان اٹھانے والا بنا دیا۔
اس معجزاتی نجات کے بعد وقت کے مغرور اور جابر بادشاہ نمرود کا آپ سے سامنا ہوا۔ اس نے تکبر سے دعویٰ کیا کہ زندگی اور موت دینا اس کے اختیار میں ہے۔ حضرت ابراہیم نے انتہائی دانائی سے اسے لاجواب کرتے ہوئے فرمایا، بیشک میرا رب سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تو ذرا اسے مغرب سے طلوع کر کے دکھا۔ یہ سن کر اس کافر حکمران کے طوطے اڑ گئے اور وہ مبہوت ہو کر رہ گیا۔
🏜️ راہِ خدا میں ہجرت اور وادیِ مکہ میں آبِ زمزم کا ظہور
اس کے بعد آپ نے توحید کا پیغام پھیلانے کے لیے اپنا سفر جاری رکھا اور بے شمار تکالیف جھیلتے ہوئے راہِ خدا میں ہجرت فرمائی۔ حکمِ الٰہی کی تعمیل کرتے ہوئے آپ نے اپنی زوجہ محترمہ سیدہ ہاجرہ اور شیر خوار بیٹے حضرت اسماعیل کو مکہ کی ایک سنسان اور بے آب و گیاہ وادی میں بسا دیا۔ جب ان کے پاس موجود پانی ختم ہو گیا اور معصوم بچہ پیاس کی شدت سے نڈھال ہونے لگا، تو ایک بے قرار ماں نے صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان پانی کی تلاش میں دوڑ لگائی۔ اسی اثنا میں اللہ کی رحمت جوش میں آئی اور حضرت جبرائیل کے پر مارنے یا ننھے اسماعیل کی ایڑیوں کی رگڑ سے وہ بابرکت چشمہ پھوٹ پڑا جسے آج دنیا آبِ زمزم کے نام سے جانتی ہے، اور جو آج تک کروڑوں پیاسوں کی پیاس بجھا رہا ہے۔
🗡️ تسلیم و رضا کا کٹھن امتحان اور بیت اللہ کی تعمیر
خلیل اللہ کا ایمان محض زبانی دعویٰ نہیں تھا بلکہ ایک ایسی کامل بندگی تھی جو ہر کڑی آزمائش پر پوری اتری۔ آپ کی زندگی کا سب سے بڑا اور کٹھن امتحان اس وقت آیا جب آپ کے لختِ جگر حضرت اسماعیل دوڑنے پھرنے کی عمر کو پہنچے۔ آپ نے خواب میں دیکھا کہ آپ اپنے اسی چہیتے بیٹے کو اللہ کی راہ میں ذبح کر رہے ہیں۔ آپ نے فوراً بیٹے کو بلا کر پوچھا، اے میرے لختِ جگر، میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں، ذرا سوچ کر بتاؤ تمہارا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ سعادت مند بیٹے نے اطاعت گزاری کی لازوال مثال قائم کرتے ہوئے کہا، ابا جان، آپ کو رب کی طرف سے جو حکم ملا ہے اسے پورا کر دیجیے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔
یہ وہ عظیم اور لرزہ خیز منظر تھا جہاں ایک طرف باپ کا غیر متزلزل ایمان تھا اور دوسری جانب بیٹے کی بے مثال فرمانبرداری۔ جونہی ان دونوں نے خود کو رضائے الٰہی کے سپرد کیا اور ابراہیم علیہ السلام نے اپنا خواب سچ کر دکھانے کے لیے عمل شروع کیا، اللہ کی طرف سے ندا آ گئی، اے ابراہیم، تم نے اپنا خواب سچ کر دکھایا ہے۔ پھر ربِ ذوالجلال نے جنت سے ایک عظیم الشان دنبہ بھیج کر اسے حضرت اسماعیل کا فدیہ بنا دیا۔
اس زبردست آزمائش میں سرخرو ہونے کے بعد، باپ بیٹے نے مل کر اللہ کے حکم سے مکہ مکرمہ میں کعبۃ اللہ کی دیواریں استوار کیں، اور رہتی دنیا تک کے انسانوں کو اس مقدس گھر کے حج اور طواف کا بلاوا دیا۔
✨ حیاتِ خلیل اللہ کے روشن اسباق جو ہماری راہنمائی کرتے ہیں
سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی پوری حیاتِ مبارکہ امتحانات، فرمانبرداری، خوفِ خدا، توکل، اور تنگی و آسانی کے مختلف ادوار سے عبارت ہے۔ اصل سبق یہ نہیں کہ آپ کی زندگی کا سفر آسان تھا، بلکہ سیکھنے کی بات یہ ہے کہ جب بھی رب کا کوئی فرمان آیا، آپ نے بلا چوں چراں سر تسلیم خم کیا۔ جب بھی مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹے، آپ کے یقین میں مزید پختگی آئی، اور جب ساری دنیا آپ کی دشمن بن گئی تو اللہ کی ذات آپ کی پشت پناہ تھی۔ قرآن مجید میں آپ کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے، بلا شبہ ابراہیم اپنے آپ میں ایک مکمل امت تھے، اللہ کے مطیع اور یکسو تھے، اور ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے۔
اس ایمان افروز واقعے سے ہمیں یہ اہم اسباق ملتے ہیں:
🔹 حق کے راستے پر چلنے والا انسان دنیاوی لحاظ سے اکیلا ضرور ہو سکتا ہے، مگر جب رب کائنات اس کے ہمراہ ہو تو وہ کبھی تنہا نہیں ہوتا۔
🔹 مشکلات اور آزمائشوں کی سختی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ رب نے اپنے بندے کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔ بسا اوقات جو چیز ہمیں اختتام معلوم ہوتی ہے، درحقیقت وہ کسی بڑی رحمت کا آغاز ہوتی ہے۔
🔹 پروردگار اس بات پر مکمل قدرت رکھتا ہے کہ وہ دہکتے انگاروں کو ٹھنڈی چھاؤں میں بدل دے، اور مایوسیوں کے اندھیرے میں کامیابی کا وہ دروازہ کھول دے جو کبھی ہمارے سان و گمان میں بھی نہ ہو۔
🔹 ہمیں ہمیشہ اللہ کی خوشنودی کو لوگوں کی پسند و ناپسند پر ترجیح دینی چاہیے، اور محض دنیا والوں کے ڈر سے حق بات کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔
🔹 اس بات پر پختہ یقین رکھنا چاہیے کہ جو شخص اللہ کے ساتھ سچا تعلق استوار کر لیتا ہے، خدا اسے کبھی ضائع نہیں کرتا۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے، اور جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کی راہ بنا دیتا ہے، اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا کرتا ہے جہاں سے اسے گمان تک نہیں ہوتا۔
لہٰذا اگر آج آپ کسی کڑے وقت کا سامنا کر رہے ہیں تو یہ مت سمجھیں کہ اللہ آپ کو بھول چکا ہے۔ اگر آپ کو اپنے چاروں طرف بند دروازے دکھائی دیں، تو یاد رکھیے کہ جس ذاتِ بابرکات نے سیدنا ابراہیم کی بدترین حالات میں دستگیری فرمائی، وہ آج بھی آپ کے لیے ایسی جگہ سے راستے نکالنے پر قادر ہے جہاں تک انسانی سوچ بھی نہیں پہنچ سکتی۔
تبصرے کی جگہ پر کوئی ایک لفظ، دعا یا ایسا سبق ضرور تحریر کریں جس نے اس واقعے کو پڑھنے کے بعد آپ کے دل پر گہرا اثر چھوڑا ہو۔