ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )شاہی ایوان میں سناٹا اس وقت ماتم میں بدل گیا جب ایک غریب عورت کے اشارے پر مغل سلطنت کے اکلوتے وارث کا سر قلم ہونے والا تھا!”
قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک روز مغل دربار میں اچانک ایک غریب اور بے بس عورت زار و قطار روتی ہوئی داخل ہوئی۔ اس نے جرات کر کے بادشاہ کے اپنے لاڈلے شہزادے سلیم پر یہ سنسنی خیز الزام عائد کر دیا کہ تفریح کے موڈ میں اس نے ایک غریب انسان کو تیر کا نشانہ بنا کر مار ڈالا ہے۔ دربار میں موجود ہر شخص کا سانس تھم گیا، کیونکہ سب جانتے تھے کہ اکبر سلیم سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ مگر اگلے ہی لمحے شاہی ایوان ایک تاریخی چونکا دینے والے فیصلے سے گونج اٹھا۔ اکبر کا چہرہ غصے سے لال ہوا اور انہوں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے فرمان جاری کر دیا کہ انصاف کے ترازو میں بادشاہ اور عام انسان برابر ہیں، اس لیے اس مظلوم عورت کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ شہزادے سے اپنی مرضی کا قصاص لے یا سلیم کو اسی وقت قتل کر دے۔ پھر جب اکبر نے اپنے ہاتھوں سے اپنے بیٹے کو اس عورت کے قدموں میں ڈالا تو بادشاہ کے اس بے مثال اور خوف نہ کھانے والے انصاف کو دیکھ کر اس عورت کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور اس نے کہا کہ جس ملک کا حکمران اتنا بڑا عادل ہو وہاں کا شہزادہ سزائے موت کا نہیں بلکہ معافی کا حقدار ہے۔
انصاف کے اس چونکا دینے والے واقعے سے ہٹ کر، اکبر کی زندگی کی کہانی میں ایک اور سنسنی خیز اور انوکھا موڑ تب آیا جب انہوں نے راجپوتوں سے دشمنی ختم کرنے کے لیے راجکماری جودھا بائی سے شادی کی۔ اس زمانے کے شدید مذہبی تناؤ کو دیکھتے ہوئے پورے مغل دربار میں ہنگامہ برپا تھا اور سب یہی سوچ رہے تھے کہ راجکماری کو فوراً اسلام قبول کروا کر شاہی حرم کا حصہ بنا دیا جائے گا۔ لیکن اکبر کے ایک قدم نے تمام تاریخ دانوں اور درباریوں کی عقل کو ششدر کر دیا۔ انہوں نے جودھا بائی کا مذہب تبدیل کرنے کے بجائے، مغل محلات کی حدود میں ایک عالی شان ہندو مندر تعمیر کروانے کا حکم دے دیا، اور صرف یہی نہیں بلکہ بادشاہ خود راجکماری کے ساتھ ہولی کے رنگوں اور دیوالی کے دیپ جلاتے ہوئے نظر آنے لگے، جس نے صدیوں کی دشمنی کو راتوں رات ایسی محبت میں بدل دیا کہ راجپوت مغل سلطنت کے سب سے وفادار سپاہی بن گئے۔
حقیقت یہ ہے کہ اکبر کی حکمت، عدل اور شجاعت کی یہ داستانیں مغل تاریخ کا وہ روشن باب ہیں جو صدیوں بعد بھی لوگوں کو حیرت زدہ کر دیتی ہیں
آفرین عاقب
#viralpost
![]()

