شباب کی باتیں
سجی ہوئی تھیں دکانیں منافقت کی جہاں
تحریر ۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں۔۔۔ سجی ہوئی تھیں دکانیں منافقت کی جہاں۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب)گویم مشکل ورنہ گویم مشکل۔ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ ابتدا کہاں سے کی جائے؟ ایسی صورتحال میں ہمیشہ مرزا نوشہ ہی کام آتے ہیں، اس لیے انہی سے رجوع کر لیتے ہیں، جو فرماتے ہیں کہ
اے تازہ واردان بساط ہوائے دل!
زنہار! اگر تمہیں ہوس ناؤ نوش ہے
دیکھو مجھے جو دیدہء عبرت نگاہ ہو
میری سنو جو گوش نصیحت نیوش ہے
اگرچہ جس موضوع پر ہم آج لکھنا چاہتے ہیں اس کا اوپر دیے گئے پہلے شعر کے دوسرے مصرعہ سے کوئی تعلق نہیں، تاہم باقی کے تین مصرعے ضرور متعلق لگتے ہیں اور خاص طور پر دوسرے شعر ہی کو خود اپنی ذات پر منطبق کرتے ہوئے بات کو آگے لے جانے کی کوشش کریں گے، اور وہ یوں کہ ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے ہمارا پہلا شعری مجموعہ “گلاب موسم گلاب چہرے” کے نام سے سامنے آیا تو ایک محترم نے اس پر تبصروں کی بوچھاڑ کرتے ہوئے ہمارے واٹس ایپ اکاؤنٹ پر اپنے “خیالات عالیہ” کا اظہار کرنا شروع کردیا۔ حالانکہ تب تک ہم نے انہیں یہ کتاب پیش ہی نہیں کی تھی، مگر ان تک کتاب کیسے پہنچی؟ یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے، جسے مختصراً یوں سمجھ لیں کہ ایک اور صاحب کو جنہیں ہمارے اس مجموعے کے منصہء شہود پر آنے اور اس کی صورت شکل دیکھ کر اس قدر تکلیف پہنچی کہ انہوں نے ہمیں تو دوسرے دوستوں کی مانند مبارکباد دینے کی زحمت گوارا نہیں کی، مگر الٹا یہ مجموعہ اٹھا کر سیدھا ان محترم کے پاس پہنچے اور ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہی ہمارے شعری مجموعہ کو تنقید بلکہ تنقیص کی سان پر رکھتے ہوئے، اعتراضات کی (پوری سیریز) چلا دیں۔ یوں ان محترم کی جانب سے مسلسل تنقیص کو ہم اس لیے برداشت کرتے رہے کہ جب کوئی تخلیق شائع ہوکر سامنے آجائے تو اس کے بعد وہ قاری کی ملکیت ہو جاتی ہے اور وہ جیسا چاہے اس کے ساتھ برتاؤ کرے۔ سو ہم ان کے مسلسل تبصرے پڑھتے بھی رہے اور برداشت بھی کرتے رہے، البتہ ہم نے ان کی چٹکی بھرتے ہوئے اتنا ضرور کہا کہ حضور من! آپ کو تو ابھی تک یہ کتاب ہم نے پیش ہی نہیں کی، پھر آپ کیسے تبصرے فرما رہے ہیں؟ جس پر وہ چپ ہو گئے اور اس کے بعد انہوں نے ہم سے جو (فکری اور فنی) مطالبہ کیا، اس کا بھی ہم نے مسکت جواب دے دیا۔ یہ سب کچھ ہمارے پاس وٹس ایپ اکاؤنٹ میں محفوظ بھی ہے اور ضرورت پڑنے پر سامنے بھی لاسکتے ہیں، بہرحال بات یہیں روکتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں، اور یہ جو ہم نے مرزا غالب کے تین مصرعوں کی بات کی ہے تو اس حوالے سے “نوواردان ادب” سے بصد ادب و احترام گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ اگر آپ نے بھی اپنی تخلیقات کو کتابی صورت دے دی ہے یا اس کے بغیر ہی کسی رسالے، اخبار کے ادبی ایڈیشن میں شائع کردہ ہے، یا پھر جیسا کہ آج کل سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر لوگ اپنی تحریریں لوگ ڈال دیتے ہیں، آپ نے بھی یہی کہا ہے تو ایسی صورت میں کوئی بھی شخص ان تخلیقات پر تبصرہ کرتا ہے تو اسے وسیع القلبی سے برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کریں، اور اگر تبصرہ نگار کے اعتراضات میں کوئی نکتہ قابل غور ہو، تو اسے پلو سے باندھ کر آئندہ ان کمزوریوں سے اجتناب برتنے پر توجہ دیں۔ ہاں اگر ایسے لوگوں کا وتیرہ یہ ہو کہ بقول شاعر
آئینہ دیکھنے والے ترے صدقے جاؤں
خود ہی سنگھار کیا، خود کہے صدقے جاؤں
تو پھر مرضی ہے آپ کی! کیونکہ اس رویے سے آپ ادب کے میدان میں آگے بڑھنے اور اپنا صحیح مقام متعین کروانے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے اور پھر جب آپ کو ایسے دوستوں سے واسطہ پڑے، جو ایک صاحب فکر کے مطابق کہ۔
“لوگ کتابوں کی مانند ہوتے ہیں، کچھ کتاب کے خوبصورت جلد کی مانند آپ کو دھوکہ دیتے ہیں اور کچھ کتاب کے مندرجات کی مانند آپ کو حیرت میں مبتلا کر دیتے ہیں”
اوپر کے سطور میں لفظ حیرت کے بھی دو پہلو ہو سکتے ہیں، جن کی وضاحت پھر کبھی سہی، تاہم آج کل کتابوں کی رونمائی کی تقاریب میں اکثر (ہمیشہ نہیں) آپ کا واسطہ محبوب ظفر کے اس شعر کی مانند لوگوں سے بھی پڑ سکتا ہے کہ
سجی ہوئی تھیں دکانیں منافقت کی جہاں
میں ایسے قریہء بے خواب سے نکل آیا
ابھی چند ہی روز پہلے کچھ ایسی ہی صورتحال سے ادبی حلقوں کے ساتھ تعلق رکھنے والوں کا سامنا رہا، جب حلقہء ارباب ذوق کے فیس بک اکاؤنٹ پر پہلے ایک افسانہ پوسٹ کیا گیا، جس پر ایک قاری نے کچھ اعتراضات کیئے تو افسانہ نگار نے تبصرہ نگار کے خلاف محاذ گرم کر دیا۔ دونوں میں بحث و تکرار سے ادبی فضا خاصی مکدر ہوئی۔ یہ ایک خاصی افسوسناک صورتحال تھی۔ اس سے کچھ عرصہ پہلے اسی قسم کی ایک تحریر کو ہم نے بحیثیت ایڈمن، گروپ سے ہٹا دیا تھا تو متعلقہ لکھاری نے ہمارے خلاف بھی نامناسب رویہ اختیار کیا۔ تاہم بعد میں انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو ان کا رویہ تبدیل ہوکر معذرت خواہانہ شکل اختیار کر گیا۔ یہاں تک کہ دو روز پہلے ایک تقریب میں ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے پھر معذرت کی، جس پر ہم نے ان کی اس فراخدلی پر ممنونیت کا اظہار کیا۔ یقیناً یہ ان کی فراخدلی ہے اور ہم نے بقول جون ایلیا،ان کی خدمت میں عرض بھی کر دیا کہ
یعنی تم وہ ہو! واقعی؟ حد ہے!
میں تو سچ مچ سبھی کو بھول گیا
اتنی لمبی چوڑی تمہید باندھنے کی ضرورت یوں پیش آئی کہ گزشتہ روز ایک کتاب کی تقریب پذیرائی میں ہم بھی حاضر تھے۔ وہاں کتاب پر تبصرے سن کر ہم نے شکر کے کلمے پڑھے، کہ اچھا ہے، ہمیں دعوت سخن نہیں دی گئی، حالانکہ افسانہ نگار نے وٹس ایپ پر ہمیں بھی اظہار خیال کی باقاعدہ دعوت دی تھی، لیکن ہم بوجوہ تقریب میں دیر سے پہنچے۔ اور تب تک اظہار خیال کے لیے ناظم تقریب یعنی کمپیئر نے پریزیڈیم سے رجوع کر لیا تھا۔ اس لیے ہم بچ گئے کیونکہ ہم نے جو بولنا تھا، اس کے بعد خدا جانے ہمارا کیا حال ہونا تھا۔ اس لیے اس مقولے کا اطلاق خود پر دیکھ کر خوشی ہوئی یعنی،
جان بچی سو لاکھوں پائے
خیر سے بدھو گھر کو آئے
![]()

