شباب کی باتیں ۔۔۔ نذیر غالب خستہ کی طرح لگتے ہو۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔مشتاق شباب

*شباب کی باتیں*

*نذیر غالب خستہ کی طرح لگتے ہو*

تحریر  ۔۔۔۔۔مشتاق شباب

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں ۔۔۔ نذیر غالب خستہ کی طرح لگتے ہو۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔مشتاق شباب)معاشرے اچھی اور مثبت روایات قائم کرنے سے خوبصورت لگتے ہیں، پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن (پیوٹا) اس لحاظ سے بہت عمدہ روایات کی امین رہی ہے اور گزشتہ کئی سال سے جہاں دوسری سرگرمیوں میں مصروف عمل ہے وہاں ہر سال مشاعروں کے انعقاد سے شعر و شاعری کے فروغ  کے لیے بھی کوشاں ہے۔ اس حوالے سے نہ صرف اردو،  پشتو بلکہ کبھی کبھار ہندکو زبان کے شاعروں کو کم از کم سال میں ایک بار بلوا کر طلباء اور طالبات کی ادبی  تربیت میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔  تاہم گزشتہ چند برس سے خدا جانے وہ کیا عوامل رہے ہیں کہ سالانہ مشاعرہ منعقد کرنے کی اس روایت کو صرف پشتو زبان تک محدود کر دیا گیا تھا؟ حالانکہ پہلے اردو اور پشتو دونوں زبانوں کے مشترکہ مشاعرے منعقد کیے جاتے تھے، البتہ بعد میں پھر دونوں زبانوں کو علیحدہ کر دیا گیا تھا جس کا مقصد شاید یہ تھا کہ ہر دو زبانوں کے زیادہ سے زیادہ شعراء کو شرکت کی دعوت دی جا سکے۔  جو اپنی جگہ ایک اچھی اور مثبت سوچ تھی،  مگر تین چار سال سے اچانک اردو، جو قومی زبان ہے، کو ان مشاعروں سے الگ کر دیا گیا اور صرف پشتو مشاعرے منعقد ہونے لگے۔  جس پر ہم جیسے لوگوں کو بہت دکھ ہوا تھا اور راقم نے اس حوالے سے کئی بار اپنے کالم میں اس رویے پر شکایت بھی کی تھی،  بلکہ ہم نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی توجہ بھی اس جانب دلاتے ہوئے ان سے درخواست کی کہ وہ اس مسئلے کی جانب توجہ دیں۔ ساتھ ہی پشاور یونیورسٹی کے چانسلر یعنی صوبائی وزیراعلی’ سے بھی گزارش کی کہ بحیثیت چانسلر، پیوٹا کے ذمہ داران کو اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ اردو کی حیثیت کو بحال کریں۔  کیونکہ اردو کو کسی اور نے نہیں بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح  نے قومی زبان کا درجہ دے رکھا ہے اور مقام شکر ہے کہ اب کی بار پیوٹا کی نئی کابینہ نے اپنی قومی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے نہ صرف اردو مشاعرے کے انعقاد میں دلچسپی لی،  بلکہ ایک اور اچھی روایت بھی قائم کی کہ شعبہء اردو کے سابق سربراہ اور اردو زبان کے ایک طرح دار شاعر اور ہردل عزیز استاد،  مرحوم ڈاکٹر نذیر تبسم کے نام سے یہ مشاعرہ موسوم کر کے ان کی یاد منانے کی بنیاد رکھی۔  یوں جمعرات 22 اکتوبر 2026ء کی شام کو پشاور کے نامی گرامی شعرائے کرام کو مشاعرے میں شرکت کی دعوت دی گئی اور کانوکیشن ہال کو طلباء و طالبات سے بھر کر مشاعروں کی روایت کو برقرار رکھا گیا۔ پیوٹا کے جملہ ذمہ داران پیوٹا کے صدر پروفیسر ڈاکٹر ذاکر اللہ جان اور جنرل سیکرٹری پروفیسر محمد فاروق،  شعرائے کرام کے استقبال کے لیے خود ہال کے باہر موجود تھے اور اپنی ٹیم کو ہدایات دے رہے تھے۔ شعبہء اردو کے پروفیسر ڈاکٹر سہیل احمد ایک ہفتہ پہلے ہی تمام شاعروں کو مدعو کرنے،  ان کے لیے آمدورفت کا اہتمام کرنے اور دیگر معاملات طے کرنے پر بھرپور توجہ دیتے ہوئے نظر آرہے تھے۔  وہ ہمہ وقت سینیئر شعراء کو مشاعرہ گاہ پہنچانے کے حوالے سے رابطے میں تھے اور ان تک ٹرانسپورٹ کی فراہمی کے حوالے سے سرگرم تھے ۔ جبکہ مشاعرے کی نظامت بھی ان کی ذمہ داری تھی۔ کانووکیشن ہال کے سٹیج پر ایک بہت بڑا پینا فلیکس مرحوم ڈاکٹر نذیر تبسم کی تصویر سے مزین لگایا گیا تھا، جس پر انہیں کا ایک بہت ہی خوبصورت شعر، جو حسب حال بھی تھا، لکھوایا گیا تھا ۔

*چلا جاؤں گا دامن جھاڑ کر اک دن اچانک*

*تبسم میں تو ویسے بھی قلندر آدمی ہوں*

حقیقت تو یہ ہے کہ جس طرح نذیر تبسم اچانک دنیا سے رخصت ہو کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے تھے،  یہ شعر ان کی زندگی پر پوری طرح منطبق ہوتا ہے،  وہ اپنے اہل خاندان، دوستوں، یاروں اور سینکڑوں شاگردوں کو اچانک غمزدہ کر کے، ایک مشاعرے ہی کے دوران،  دل کا دورہ پڑنے سے دنیا سے منہ موڑ کر رخصت ہوئے اور اپنی بے پناہ یادیں پیچھے چھوڑ گئے۔

 اپنی نصف بہتر کے اچانک بچھڑ جانے پر انہوں نے کئی شعر کہے تا ہم یہ شعر بہت ہی خوبصورت ہیں

*وہ ایک خوشبو جسے یاسمین کہتے تھے*

 *نظر میں رہتی ہے لیکن نظر نہیں آتی*

*نذیر غالب خستہ کی طرح لگتے ہو*

*تمہیں بھی اب کوئی صورت نظر نہیں آتی*

جہاں تک پیوٹا کے (کم بیک)  کا تعلق ہے اس پر ہمیں بہت خوشی ہوئی،  کیونکہ تقریباً تین یا چار سال بعد اردو مشاعرے کا احیاء ایک اچھا فیصلہ تھا،  حالانکہ اس کے بعد اب پشتو مشاعرہ بھی انعقاد پذیر ہوگا،  مگر اردو کی جانب توجہ دے کر پیوٹا کے ذمہ داروں نے قومی زبان کی پذیرائی کے حوالے سے قابل تحسین اقدام کیا ہے،  جس پر انہیں مبارکباد دینا لازمی ہے۔  اور ہم امید کرتے ہیں کہ انشاءاللہ یہ سلسلہ دوبارہ منقطع نہیں ہوگا۔

ایک بات کی جانب اگرچہ توجہ دلانا ضروری ہے اور اس حوالے سے ہماری کچھ یادیں بھی ہیں،  یعنی ضرورت اس بات کی ہے کہ پشاور یونیورسٹی اور ملحقہ کالجوں کے اندر کم از کم ماہانہ بنیادوں پر وہاں موجود طلباء اور طالبات شعراء کے لیے مشاعروں کے انعقاد پر توجہ دی جائے،  تو اس سے مشاعروں کی روایت مضبوط بھی ہوگی اور اس کے بعد پیوٹا کے مشاعروں میں یہ نوجوان  طلباء غیر ضروری طور پر کئی کئی غزلیں، نظمیں،  سنا سنا کر سینیئر شعراء کے لیے وقت کی تنگی کا باعث نہیں بنیں گے۔ اور ان کے لئے بھی مناسب وقت چھوڑ کر انہیں بھی سننے کا موقع فراہم کریں گے۔ جبکہ ضروری ہے کہ یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات اور اساتذہ کرام کو بھی صرف ایک ایک غزل سنانے تک محدود رکھا جائے۔  ہمیں یاد ہے چند برس پہلے مرحوم سجاد بابر جب ایک مشاعرے کی صدارت کر رہے تھے تو اتنی دیر ہو گئی تھی کہ ان کی باری آنے تک آدھے سے زیادہ ہال خالی ہو چکا تھا اور انہوں نے بطور احتجاج صرف ایک شعر سنا کر روسٹرم چھوڑ دیا تھا۔  ہم نے یہ جو طلباء و طالبات کے لیے ماہانہ بنیاد پر کلاس ہی میں مشاعرے منعقد کرنے کی تجویز دی ہے اس کی وجہ بھی وہی واقعہ تھا۔ امید ہے اسے کسی منفی سوچ پر محمول نہیں کیا جائے گا اور گزشتہ روز بھی آخری تین چار سینیئر شعراء کی باری انے سے پہلے ہال نصف سے زیادہ خالی ہو گیا تھا۔ اگر جونیئر شعراء  صرف ایک ایک غزل تک خود کو محدود رکھتے یا انہیں پہلے ہی سے ایسی ہدایات جاری کر دی جاتیں،  تو تمام شرکا سینیئر شعرا کو بھی تسلی اور سہولت سے سن کر محظوظ ہوتے اور مشاعرہ بھی کامیاب ہوتا۔

*نذیر ظلمت شب کو اجالنے کے لئے*

*ہمیں فراز کی اب بھی بڑی ضرورت ہے*