"وہ شخصیت کو قائدِ اعظم اور قائدِ ملت کی جاں نشین بنی ۔۔۔!! ۔ 22 اکتوبر 1964 یومِ وفات خواجہ ناظم الدین
تحریر : ابصار احمد
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔تحریر۔۔۔ابصار احمد)17 اکتوبر 1951ء کو جب کراچی میں شہیدِ ملت کو سپردِ خاک کیا جا رہا تھا تو ان کے جسدِ خاکی پر سردار عبد الرب نشتر کے ساتھ وہ شخصیت بھی اشکبار تھی جو اس وقت قائدِ اعظم کے جان نشین کے طور پر مملکت پاکستان کی گورنر جنرل کی ذمہ داریاں نبھا رہی تھی۔۔ ریڈیو پاکستان سے زیڈ اے بخاری کے آنکھوں دیکھے حال کے مطابق ان کی آنکھیں آنسوؤں سے تر اور چہرہ تاثرات سے خالی تھا جیسے انھیں بہت بڑا صدمہ لگا ہو ۔۔ واقعی یہ پوری قوم کے لیے بہت بڑا صدمہ ہی تو تھا کہ قائد اعظم کے جاں نشین قائد ملت ایسے وقت میں "شہید ملت” بن چکے تھے جب پاکستان کو ان کی بہت ضرورت تھی۔ اسی دن کابینہ نے اس شخصیت کو پاکستان کا دوسرا وزیر اعظم نامزد کرکے قائد ملت کا جاں نشین بھی مقرر کردیا۔۔۔ یہ تھے خواجہ ناظم الدین جو 22 اکتوبر 1964ء کو مادرِ ملت فاطمہ جناح کی صدارتی انتخاب کی مہم کے دوران اپنے آبائی شہر ڈھاکہ میں وفات پاگئے تھے۔
خواجہ ناظم الدین سے اگر کوئی واقف نہ ہو تو اس پر اکابرینِ و بانیانِ پاکستان کی بابت کم علمی اور غفلت پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے لیکن کراچی میں واقع پاکستان کے پہلے سٹیلائٹ ٹاؤن ناظم آباد سے ہر شخص ہی واقف ہوگا جو انھی کے دور میں قائم ہوا۔۔۔ اور انھی کے نام سے منسوب ہے۔
خواجہ ناظم الدین 19 جولائی 1894ء کو نواب آف ڈھاکہ کے خاندان میں پیدا ہوئے۔ وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے بانی نواب سر سلیم اللہ کے بھانجے بھی تھے۔ اس خاندان نے ڈھاکہ کو جدید ڈھاکہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اسی لیے آج بھی بنگلہ دیش میں ان کو قومی رہنماؤں کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے ۔ خواجہ صاحب نے ابتدائی تعلیم ڈھاکہ سے حاصل کرنے کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کیمبرج سے قانون کی ڈگری بھی حاصل کی۔ وہ سیاست میں داخل ہوئے تو اپنے خاندانی پس منظر کی بناء پر جلد ہی مشرقی بنگال کے عوام کی ہر دلعزیز شخصیت بھی بن گئے۔ غیر منقسم ہندوستان میں انھوں نے وزارت تعلیم کا قلم دان بھی سنبھالا۔ قائد اعظم محمد علی جناح بھی ان پر بے حد اعتماد کرتے تھے۔
1935ء اور 1936ء کے دوران قائد اعظم نے جب بنگال میں مسلم لیگ کی تنظیمِ نو اور مختلف مسلم سیاسی گروہوں کو قریب لانے کی کوششیں شروع ہوئیں تو خواجہ ناظم الدین آل انڈیا مسلم لیگ کی مجلسِ عاملہ کے اہم رکن بنے اور 1937ء سے 1947ء تک آل انڈیا مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی میں بھی شامل رہے۔
1946ء میں خواجہ صاحب کو لیگ کے ٹکٹ پر ضمنی انتخاب میں کامیابی ہوئی اور وہ مرکزی قانون ساز اسمبلی میں پہنچے۔ اس دوران قائد اعظم کی جانب سے انھیں مسلم لیگ کی پارلیمانی جماعت کا نائب صدر بھی مقرر کردیا گیا۔ قیام پاکستان کے وقت جب بنگال کی تقسیم اور مشرقی حصے کو پاکستان میں شامل کرنے کا فیصلہ ہوا تو وہ مشرقی بنگال کے پہلے وزیرِاعلیٰ بھی بنے۔
1948ء میں قائد اعظم کی وفات کے بعد تو ان کی جان نشینی کے لیے خواجہ ناظم الدین ہی کو منتخب کیا گیا جنھوں نے قائد ملت لیاقت علی خاں کے ساتھ مل کر ہر بحران کا جواں مردی سے مقابلہ کیا یہاں تک کہ پاکستان جسے اغیار کچھ عرصے کا قیام سمجھتے تھے اب ایک زندہ حقیقت کے طور پر دنیا کے نقشے میں جگمگا رہا تھا۔۔ جو میں انھیں دونوں رہنماؤں کا کلیدی کردار شامل تھا ۔۔ پھر 16 اکتوبر 1951ء کو وہ دن آیا جب پاکستان کی ترقی اور یہاں بے غرض رہنماؤں کا سلسلہ رکنے لگا۔۔۔!! اس دن خواجہ صاحب کو شہید ملت کی نیابت دی گئی تو ابتداء میں وہ قائد اعظم اور قائد ملت کے مشن کو آگے بڑھانے رہے ۔۔۔!! لیکن۔۔۔ پھر کچھ ایسے لوگ بیوروکریسی اور اقتدار میں آ چکے تھے جنھوں نے اپنی ذاتی انا اور اپنے خاندان کی ترقی کی خاطر ہماری قومی ترقی اور خود داری کو پیچھے کی طرف دھکیلنے کی کوششیں شروع کردیں۔۔۔!!۔۔ اسی دوران ان کی وزارت میں موجود کچھ افراد نے امریکا سے اپنے روابط قائم کیے۔ امریکا پہلے لیاقت علی خاں کو اپنے قانون PL-480 سے پہلے امداد میں گندم دینا چاہ رہا تھا جسے لیاقت علی خاں نے منع کردیا کہ پاکستان خود ایک زرعی ملک ہے جو دنیا بھر میں اپنی اعلی معیار کی گندم برآمد کرے گا۔ اس وقت امریکا نے خاموشی اختیار کی مگر خواجہ صاحب جو انتہائی شریف النفس انسان تھے ان کو ایک بار پھر یہ پیشکش کی جسے خواجہ صاحب نے بھی رد کردیا۔۔۔ بس یہاں سے ایوان میں بیٹھے افراد کا کھیل شروع ہوتا ہے جو زیادہ تر جاگیردار تھے اسی لیے انھوں نے ملک بھر میں گندم کی قلت کا مصنوعی بحران پیدا کردیا تاکہ عوام ان سے بدظن ہو جائیں۔
دوسری جانب اسی بحران کے سبب مہنگائی بھی ہوئی تو ساتھ ساتھ پنجاب میں ختم نبوت جیسا حساس معاملہ بھی اٹھا دیا گیا جس کی وجہ سے پنجاب اسمبلی نے امن و امان کی صورت حال خراب قرار دیتے ہوئے وہاں جزوی طور پر مارشل لاء لگا دیا حالانکہ اس معاملے میں خواجہ صاحب کا ذرا بھی قصور نہ تھا کیونکہ وہ خود ایک دین دار فرد تھے۔ یہی نہیں بلکہ مشرقی پاکستان میں زبان کے نام پر فتنہ بھی کھڑا کروایا گیا جس پر فروری 1953ء میں ڈھاکہ یونیورسٹی میں کچھ طلباء احتجاج کے دوران مارے گئے۔ یہاں بھی معاملہ وفاقی حکومت کی بجائے صوبائی حکومت پر تھا جہاں وزیر اعلی جناب نور الامین حالات پر قابو پانے کی کوشش کرتے رہے۔
ان تمام معاملات کو وجوہات بنا کر 17 اپریل 1953ء کو گورنر جنرل غلام محمد نے خواجہ ناظم الدین کو برطرف کردیا۔۔۔!! کہتے ہیں کہ اس وقت جنرل ایوب خان جن کی ملازمت کے آخری دن تھے انھوں نے سیکریٹری دفاع اسکندر مرزا کے ساتھ مل کر ملکی صورت حال کا بہانہ بناتے ہوئے پورے ملک میں مارشل لاء لگانے کی تیاری کرلی تھی۔۔۔ مگر غلام محمد کی جانب سے اس برطرفی نے اس اقدام کو وقتی طور پر روک دیا۔ بیرسٹر سجاد کے مطابق خواجہ صاحب سے دستور ساز اسمبلی اور مشرقی بنگال کے کئی اراکین نے ان کا ساتھ دینے کے لیے کہا تو خواجہ صاحب نے انھیں اس لیے منع کیا کہ پاکستان کو کسی غیر آئینی حکومت سے بچانا ضروری تھا۔ یوں تحریک پاکستان کی ایک اہم شخصیت کو پاکستان کی قیادت سے دور کردیا گیا۔۔۔ان کے بعد ملک میں جمہوری تماشے اس طرح چلے کہ صرف چار برسوں میں 5 وزرائے اعظم تبدیل ہوئے۔۔!!
برطرفی کے بعد خواجہ ناظم الدین کچھ عرصے کراچی میں مقیم رہے۔ وزارت عظمی کے زمانے میں بھی وہ مالی طور پر مشکلات کا شکار رہتے تھے یہاں تک کہ مہینے کے آخر میں مشرقی پاکستان میں اپنے گھر والوں سے پیسے منگواتے۔۔!!
وہ کراچی کے بعد جب واپس اپنے آبائی شہر ڈھاکہ گئے تو وہاں ان کا پرتپاک استقبال ہوا۔ وہ سیاسی طور پر متحرک رہے۔ وہ 1965ء کی صدارتی انتخابی مہم کے دوران فیلڈ مارشل ایوب خان کے خلاف مادر ملت فاطمہ جناح کا اہم بازو بھی تصور کیے جاتے تھے مگر 22 اکتوبر 1964ء کو ڈھاکہ میں دل کا دورہ پڑنے سے اچانک انتقال فرما گئے۔ اس طرح تحریک پاکستان کا ایک اور درخشاں باب بھی ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
(ابصار احمد)
خواجہ ناظم الدین کی دونوں نایاب و نادر تصاویر جو آپ پہلی بار دیکھ رہے ہیں ریڈیو پاکستان کے جریدے "آہنگ” کے سرورق اور "سول ملٹری گزٹ” میں شائع ہوچکی ہیں۔