شوقِ سفر اور رکاوٹ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)جو شخص بھی جذبہ و شوق رکھتا ہے کہ وہ اللہ کا قرب حاصل کرے، پیارے آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قرب اور رضا حاصل کرے اس کو رکاوٹ کا سامنا ہمیشہ کرنا پڑے گا. ہم بعض دفعہ سوچتے ہیں کہ اگر ہم حق کی طلب رکھتے ہیں تو ہمیں کیوں رکاوٹ آرہی ہے، ہمیں تو آسانی ہونی چاہیے تھی، نیکی کرنا آسان ہونا چاہیے تھا اور برائی کرنا مشکل ہونا چاہیے…! یہ سوچ ہر مسافر کے ذہن میں آتی ہے.
یہاں بات سمجھنے کی یہ ہے کہ آپ جب نیکی کی طرف بڑھو گے، حق کی طرف سفر کرو گے تو تمام باطل قوتیں آپ کے لیے رکاوٹ بنیں گی، شیطان کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ آپ حق کے قریب ہو، وہ باطل کو سجا کر سنوار کر آپ کے لیے آسان کر کے آپ کے سامنے لائے گا جس سے اس میں پھنسنا آسان ہوجاتا ہے. جب کہ حق کی راہ ہمیشہ سے مشکل ہے، اور مشکل رہے گی کیونکہ آپ نے باطل سے لڑنا ہوتا ہے جو اللہ کی طرف سے آزمائش کے طور پر آپ پر آتی ہے. یہ یاد رکھیں کہ آزمائش کے بغیر سفر میں ترقی نہیں ہوتی ہے. جیسے اگر آپ نے اگلی کلاس میں جانا ہے تو امتحان کے عمل سے گزرنا پڑے گا.
سفر کے ہر قدم پر امتحان ہوتا ہے. ہر امتحان کا نتیجہ اللہ کا قرب ہوتا ہے. اگر آپ پوری کوشش کے باوجود ناکامیاب بھی ہو جاؤ تب بھی آپ کو آپ کی کوشش اور محنت پر انعام ملتا ہے. یعنی اس راہ پر نتیجہ اہم نہیں بلکہ آپ کا خلوصِ دل کے ساتھ کوشش کرنا اور محنت کرنا دیکھا جاتا ہے اور اسی پر اللہ کریم بہترین اجر عطا فرماتا ہے اس لیے کامیابی ہو یا نہ ہو آپ نے کوشش کو جاری رکھنا ہوتا ہے.
جیسے جیسے آپ آگے بڑھتے جاتے ہو رکاوٹ کی شدت میں کمی آتی جاتی ہے. یا یوں کہیں کہ آپ کے اندر ایمانی قوت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ باطل کی شدت محسوس نہیں ہوتی. رحمان کی طاقت سے آپ شیطان کا مقابلہ شروع کر دیتے ہو، باطل کا زور ٹوٹنے لگ جاتا ہے. آپ کو روحانی و ایمانی طاقت حاصل ہونے لگتی ہے. جس کا نتیجہ کامیابی اور قرب ہوتا ہے.
تو رکاوٹ ہمیشہ رہے گی، یہ سفر رکاوٹ سے ہی ہو کر جائے گا، نشیب و فراز کے بعد مستقل مزاجی نصیب ہوتی ہے. پہلے قدم پر استقامت نہیں حاصل ہوتی، استقامت جہدِ مسلسل کا نتیجہ ہوتی ہے. ریاضت کے ثمر کا نام استقامت ہے. آپ کی قبولیت بھی استقامت پر نہیں بلکہ آپ کی مشقت پر ہے. آپ کی کوشش کو دیکھا جاتا ہے نتیجہ کو نہیں.
اس لیے ہمیشہ یقین کے ساتھ بڑھنا ہے. یقین آپ کا واحد سہارا ہوتا ہے اور دعا آپ کا ہتھیار ہوتا ہے جسے آپ نے ہر معاملے میں استعمال کرنا ہوتا ہے. کبھی بھی اپنے قدم ڈگمگانے نہیں دینے…!!
اللہ ہم سب کو حق کی راہ پر چلائے رکھے. آمین
طالبِ دعا : سید عاصم حسین شاہ گردیزی ہجویری
![]()






