موضوع: تقلید، اتباعِ وحی اور مفہومِ سنت( تقلید اور اتباع کے درمیان بنیادی فرق)
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )دین میں اصل مرجع: وحی، نہ کہ کسی فرد کی شخصیت:اسلامی تصورِ دین کی اساس یہ ہے کہ انسان کے لیے حق و باطل، حلال و حرام اور ہدایت و ضلالت کا حتمی معیار اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی ہے۔ قرآن مجید انسان کو بارہا غوروفکر، تدبر، تعقل اور اتباعِ وحی کی دعوت دیتا ہے۔ اس تصور میں انسان کی عقل اور فطرت وحی کی حریف نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ وہ صلاحیتیں ہیں جن کے ذریعے انسان وحی کو سمجھتا، اس میں تدبر کرتا اور اس کے مطالب کو اپنی زندگی پر منطبق کرتا ہے۔
اسی لیے دین کا بنیادی مطالبہ یہ نہیں کہ انسان اپنی عقل و فطرت کو معطل کرکے کسی انسانی شخصیت کے اقوال کو غیر مشروط طور پر اپنا دینی معیار بنالے۔ انبیاء علیہم السلام بھی لوگوں کو اپنی ذات کی پرستش یا شخصی وابستگی کی طرف نہیں بلاتے تھے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس کی ہدایت کی پیروی کی دعوت دیتے تھے۔
#قرآن مجید کا اسلوب بھی یہی ہے کہ وہ انسان کو وحی کے سامنے جواب دہ بناتا ہے اور اسے اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ دلیل، بصیرت اور تدبر کے ساتھ حق کو پہچانے۔ چنانچہ قرآن کہتا ہے: "قُلْ هَٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي”۔ سورة یوسف: 108، یعنی: کہہ دیجیے: یہی میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف بصیرت کے ساتھ دعوت دیتا ہوں، میں بھی اور وہ لوگ بھی جو میری پیروی کرتے ہیں۔
یہاں بصیرت کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ دینی اتباع اندھی وابستگی کا نام نہیں بلکہ شعور، معرفت اور دلیل کے ساتھ حق کی پیروی کا نام ہے۔
#تقلید اور اتباع کے درمیان بنیادی فرق:
اس مقام پر تقلید اور اتباع کے درمیان فرق بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ لغوی اعتبار سے اتباع میں کسی راستے پر چلنا، کسی کے پیچھے چلنا اور اس کے طریقے کو اختیار کرنا شامل ہے۔ دینی مفہوم میں اتباعِ رسول ﷺ کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ثابت شدہ ہدایت کو قبول کیا جائے اور اس کے مطابق زندگی گزاری جائے۔
اس کے برخلاف تقلید کی معروف اصولی تعریف یہ ہے کہ کسی کے قول کو اس کی دلیل جانے بغیر اس بنیاد پر اختیار کیا جائے کہ وہ شخص اس معاملے میں متبوع یا صاحبِ اختیار سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے تقلید میں قول کی حجیت اور قائل کی حیثیت کے درمیان ایک ایسا تعلق پیدا ہوجاتا ہے جس میں متبع کے لیے دلیل کی تحقیق بنیادی شرط نہیں رہتی۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ کسی عالم سے مسئلہ پوچھنا اور اس کے جواب پر عمل کرنا بذاتِ خود اس معنی میں تقلید نہیں جس کی یہاں نفی کی جارہی ہے۔ قرآن خود حکم دیتا ہے: فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ۔ سورة النحل: 43
اگر کسی شخص کو کسی مسئلے کا علم نہیں تو اس کے لیے اہلِ علم سے رجوع کرنا عین قرآنی منہج ہے۔ ایک غیر متخصص شخص کا متخصص سے استفادہ کرنا عقل، فطرت اور شریعت تینوں کے مطابق ہے۔
فرق صرف یہ ہے کہ اہلِ علم سے رہنمائی لینا اور کسی عالم کے قول کو بذاتِ خود مستقل حجت سمجھ لینا دو الگ چیزیں ہیں۔
ایک شخص عالم سے اس لیے پوچھتا ہے کہ وہ اسے قرآن و سنت کا مفہوم سمجھا سکے؛ دوسرا شخص عالم کے قول کو اس لیے مانتا ہے کہ وہ قول فلاں امام یا فلاں مکتب سے منسوب ہے۔ پہلے معاملے میں اصل مقصود حق تک رسائی ہے، جبکہ دوسرے میں شخصی قول خود ایک مستقل مرجع بن سکتا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جسے واضح رکھنا ضروری ہے۔
موضوع:
تقلید، اتباعِ وحی اور مفہومِ سنت
(پہلا حصہ : تقلید اور اتباع کے درمیان فرق )
#ڈاکٹر اکرم ندوی
![]()






