صرف اہل تحقیق کیلیے

صرف اہل تحقیق کیلیے

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )جب دنیا ختم ہو جائے گی  ہر مذہب ہر مکتبہ فکر کے لوگ اور تمام مخلوقات  اپنے رب کے روبرو پیش ہو جائیں گی

تو اس وقت رب ایسا کون سا سوال کرے گا جو تمام مخلوقات کے لیے اور خاص طور پر تمام انسانوں مسلم اور غیر مسلم سب کے لیے ایک جیسا ہو؟؟

بہتر ہوگا اپ اس سے اگے نہ پڑھیں اور یہیں رک جائیں اور خود سوچیں

کہ وہ پہلا پہلا سوال کون سا ہونا چاہیے جو تمام مخلوقات اور خصوصا انسانوں کے لیے ایک جیسا ہو خواہ وہ مسلمان ہو یا کچھ اور ہوں

لادین اور اور بہت سارے مذاہب نماز نہیں پڑھتے ۔تو پھر سوال یہ ہے کہ ان سے پہلا پہلا سوال کون سا ہوگا ۔؟؟؟

پہلا سوال یقینی طور پر ایسا ہوگا جو سب کے لیے ایک ہو

کیونکہ سب کی پیدائش سے پہلے ایک سوال کیا گیا تھا جو سب کے لیے ایک تھا اور وہی امتحانی پرچہ کویسچن پیپر ابھی تک چل رہا ہے

وہ  ھی سوال ہوگا جو اللہ نے ہماری روحیں بناتے ہی ہم سے کر دیا تھا ؟؟

اور وہ سوال تھا”

"الست بربکم”

کیا میں تمہارا رب نہیں اور ہم سب نے  اس خاص دورانیہ میں  کہا تھا کہ بے شک تو ہمارا رب ہے

عرش عظیم پر جو وقت ہے وہ ہمارے تقریبا”  27 ہزار سال کا ایک سیکنڈ بنتا ہے

کائنات قریب قریب  تیرہ اعشاریہ آٹھ ارب سال پہلے وجود میں ائی تھی

اس دعوے کو تقویت اس حساب سے ملتی ہے چیک کر لیں

چھ دن کے سیکنڈ کاؤنٹ کر لیں

پھر ان سیکنڈزکو 26620

 سے ضرب دے کر دیکھ لیں جواب تیرا اعشاریہ آٹھ ارب آتا ھے۔

معلوم نہیں  یہ سوال سب سے اکٹھا پوچھا گیا تھا یا سب روحوں سے الگ الگ پوچھا گیا تھا

لیکن بہرحال   پہلا پہلا سوال ہم سے کیا گیا تھا کہ کیا میں تمہارا رب ہوں اور جب قیامت برپا ہوگی تو پھر پہلا قران کے مطابق یہی ہوگا

کہ بتاؤ اج بادشاہت کس کی ہے ؟؟

مطلب یہ کہ تمہارا حقیقی رب کون رھا ھے

لمن الملک الیوم

پھر خود ہی فرمائے گا

للہ الواحد القھار

مطلب یہ ہے کہ بتاؤ اج بادشاہت کس کی ہے اور پھر خود ہی کہے گا کہ اللہ واحد قہار کی ہے

ہم جس بھی ملک میں رہتے ہیں وہاں اس ملک یا ریاست کا پہلا پہلا سوال اور مطالبہ اور سب سے کڑی شرط جس پر کوئی کمپرومائز نہیں جس کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس ہوتی ہے وہ  اپنی عوام سے یہ ہوتا  ہے کہ کیا ہماری ریاست کی رٹ تسلیم کرتے ہو ؟؟

ریاست کی رٹ تسلیم کرنے کے بعد پھر واقعی کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں اور کچھ قانون ہوتے ہیں  جو پہلے پہلے نمبر پر اتے ہیں

اپنے شہریوں اپنے اطاعت گزاروں کی جان مال اور عزت کا تحفظ اور زندہ رہنے کے لیے اشیائے ضرورت کی آسان فراہمی

اور اگر اپ کسی گھر کے سربراہ ہیں

عام طور پر والدین اور خاص طور پہ والد گھر کا سربراہ ہوتا ہے تو والدین کا اپنی اولاد سے سب سے پہلا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ ہمیں والدین کے طور پر ہماری اتھارٹی یا احترام کو تسلیم کرو

پھر اس اتھارٹی کو تسلیم کروانے کے بعد  گھر کے قوانین میں سے کسی قانون کو  کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے اس قانون کا خیال رکھنا ہے

چنانچہ روز حشر خالق اور رب کی طرف سے وہ پہلا سوال جو تمام مخلوقات کے لیے یکساں ہو سکتا ہے وہ ھے کہ کیا مجھے رب یا خالق یا بادشاہ تسلیم کیا تھا

اور جب نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم سے سمجھنا چاھا گیا کہ تمام انبیاء علیہم السلام کا دین کیا تھا

تو اپ نے فرمایا ” کان دین

 الا نبیاء ” لا الہ الا اللہ”

تمام انبیاء علیہم السلام کا دین تھا

 لا الہ الا اللہ

 چنانچہ اپ دیکھ سکتے ہیں اور سمجھ سکتے ہیں  کہ تمام انبیاء علیہم السلام کے اپنے اپنے وقت کے سرکش اور بظاہر نہایت زور اور طاقتور  لوگوں کو تبلیغ یا مقابلے

کی بنیاد یہ تھی کہ اللہ تعالی کو اپنا رب مانو اور اس کو یکتا مانو ۔

جب وہ مان لیتے تھے تو پھر سب سے پہلے ان کو کہا جاتا تھا کہ صلاۃ قایم کرو

ویسے بھی اللہ ایک ہے کا مطلب یہ بھی ہے کہ اللہ کا نظام ایک ہے

اللہ کا دین ازل سے اج تک اور قیامت تک ایک ہی رہے گا

ایک نظام بنانا انسان کی گھٹی میں شامل ہے

وہ جب غاروں میں رہتا تھا بکھرا بکھرا رہتا تھا یا قبائلی شکل میں رہتا تھا یا زمانہ زراعت میں رہتا تھا یہ برف کے دور میں رہتا تھا یا کسی بھی دور میں رہتا تھا اس نے بہرحال ایک نظام بنانا چاہا ہے

انسان کے وجود میں انے کے بعد ہزاروں یا لاکھوں سال بعد اقوام متحدہ بنی ھے

جس کے وجود پر سیکولرزم کی باقاعدہ چھاپ ہے

اس سے بہت پہلے حمورابی نے بھی یہی باتیں کی تھی

مگر اقوام متحدہ نے بھی ایک چارٹر بنایا ہے اور وہ پوری دنیا کے مسلمانوں اور غیر مسلموں سب کے لیے ایک ہے

اگر ہم اس چارٹر کو اقوام متحدہ کا دین کہیں

تو اقوام متحدہ جو کہ ایک بڑی این جی او ہے

وہ دنیا کو "ایک دین ” یعنی اپنے چارٹرپر متفق  کرنا چاہ رہی ہے

یہ اس بات کی وضاحت ہے کہ جو ہم کہتے ہیں کہ اللہ ایک ہے کے کئی  مطلب ہیں

ایک مطلب تو یہ ہے کہ اللہ ایک ہے اللہ کے علاوہ کوئی بھی ایک نہیں ہے

اللہ نے فرمایا ہم نے ہر شے جوڑا پیدا کیا ہے

ایک خاص مذہب کا دعوی کرنے والے لوگ تین خداؤں کو مانتے ہیں یعنی تثلیث کا عقیدہ رکھتے

دوسرا خاص مذہب دو خداؤں اہرمن اور یزداں کو مانتا ہے

ہندو تین کروڑ دیوتاؤں کو مانتے ہیں

اتنی بڑی کائنات جس کے محض ایک ستارے میں ہماری کئی ہزار یا لاکھ یا کروڑ یا  اربوں  زمینیں سما جائیں

اور ایک کہکشاں میں ایسے اربوں ستارے ہوں

اور کائنات میں  ایسی کھربوں کہکشائیں ہوں

اور ابھی تو اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں اپنی کائنات کو ہر آن وسیع کرتا جا رہا ہوں

تو ذرا سوچیے کہ اگر تین کروڑ ہندو دیوتا  بھی ہوں تو  اتنی بڑی کائنات کو سنبھال سکتے ہیں؟

 اس کا نظام چلا سکتے ہیں ؟

وہ تو ایک ستارے کی زمین کو اباد بھی نہیں کر سکتے

تو پھر یا تو اتنی بڑی کائنات کو چلانے کے لیے ایک اللہ ہی کافی ہے یا پھر تین کروڑ ہندو دیوتا بھی کم ہیں اور تین عیسائی ایڈمنسٹریٹر خدا بھی کم ہیں

اس لیے ہم کہتے ہیں کہ اللہ ایک ہے کے کئی مطلب ہیں

ایک تو یہ کہ صرف اللہ ایک ہے اللہ کے علاوہ کوئی بھی ایک نہیں

جس ذرے کو سینکڑوں سال تک اپ سب سے چھوٹا اور ایک اور ناقابل تقسیم ذرہ  سمجھتے رہے یعنی ایٹم

وہ بھی ایک نہ رہا بلکہ اس میں بھی زوجین نظر ائے

یعنی مثبت بار اور منفی بار

یعنی الیکٹران اور پروٹان

اور اب تو اور بے شمار ذرات دریافت ہو چکے ہیں

مطلب یہ کہ اللہ کے علاوہ کوئی بھی ایک نہیں

اور اللہ ایک ہے کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ دو نہیں ہے

اللہ تین نہیں ہے تین کروڑ نہیں ہے یا جیسا کہ بعض لوگ کہتے ہیں جو کچھ بھی نظر اتا ہے وہ اللہ ہے یہ بھی ٹھیک نہیں ہے

اور اللہ ایک ہے کا یہ مطلب بھی ہے کہ اللہ کا نظام ایک ہے

اللہ کو اپنے ایک ہونے پر بہت زیادہ اصرار جو ہے تو اس میں ہمارا ہی فائدہ ہے اللہ کا کوئی فائدہ نہیں

اللہ کل عالمین سے غنی ہے ۔

اور ہمارا فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کہتا ہے کہ اس کائنات کو چلانے کا ازل سے ایک نظام ہے اور چند مستقل قوانین ہیں اور وہی اخر تک رہیں گے

وہ قوانین اللہ تعالی نے سورۃ الانعام کی ایت نمبر 151 سے لے کر 153 بلکہ 162 تک بیان کر دیے ہیں اور تورات کے باب استثنی کی ایات نمبر

28 تا 40 میں بیان کر دیے ہیں

اور پچھلے تمام صحیفوں میں

میں بھی یہی مستقل قوانین بیان ہوئے ہیں ھندوں  ویدوں میں بھی یہی قوانین

یکجا تو موجود نہیں لیکن بالکل اج بھی موجود ہے مثلا سورۃ اخلاص کا پورا کا پورا مفہوم وید میں سنسکرت میں موجود ہے

"اکوادتیم’ کسی نہ کدھی پاہ”

سن سکرت  زبان میں  اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ ایک ہے اس کا کوئی ہمسر نہیں

یعنی اپ دیکھ سکتے ہیں کہ سورۃ اخلاص سے کس قدر مشابہت ہے

سو اللہ ایک ہے  کا مطلب یہ بھی ہے کہ اللہ کا نظام ایک ہے اور ازل سے ایک ہے اور ہمیشہ ایک رہے گا

اور یہ کہ انسانیت کو ایک دن اور ایک نظام اختیار کرنا ہوگا اور یہ کہ  ان میں سے سب سے بہتر اللہ کا نظام ھے

وہ نظام کیا ہے اللہ کا وہ دین کیا ہے صراط مستقیم کیا ہے

جس پر تمام اہل حق اور تمام مظلوموں کا تمام باطل اور ظالموں کے ساتھ جھگڑا ہوا ہے وہ دین ہے کیا ؟؟؟

وہ دین درج ذیل ہے غور فرمائیے ۔پھر دہرائے دیتے ہیں کہ یہی دین زمانہ نوح کے صحیفوں میں بھی ہے یہ ویدوں میں بھی ہے یہ عہد نامہ قدیم و جدید میں بھی ہے اور یہی قران میں بھی ہے

اور ماضی اور اج کے بڑے بڑے دانشوروں نے بھی کم و بیش یہی باتیں کی ہیں

یعنی یہ دین ویسے بھی اللہ تعالی کی طرف سے انسان کی گھٹی میں ہے

اور وہ یہ ہے کہ

1.اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو

2.والدین کے ساتھ احسان کرو

اگر اٹھ ارب ابادی میں اپ فرض کر لیں کہ سب کے والدین کے زندہ ہیں اور اوسط”  اٹھ افراد کی ایک فیملی ہے  تو  اس طرح فرض کرنے سے  جو کہ بڑی حد تک درست اندازہ ہے  ، دنیا بھر میں دو ارب تو صرف والدین بن جاتے ہیں

یعنی اللہ کی صرف یہ ایک بات ماننے سے انسان کی  اج 2026  میں  اور 21ویں صدی میں کل ابادی کے چوتھے حصے کو تو  صرف اللہ کی ایک بات مان لینے سے سکون ا جائے گا

اور یہ کہ  انسانیت اج اگر صرف اللہ تعالی کی اتنی بات مان جائے کہ  اولاد والدین کے ساتھ احسان کرنا شروع کر دے تو دنیا میں دو ارب انسانوں کو تو فورا فوری ریلیف مل جائے گا

اولاد کو املاک کے خوف سے قتل نہ کرنے سے ابارشن انڈسٹری اور اس انڈسٹری سے وابستہ دیگر  شیطانی انڈسٹریز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے

یہاں پھر افاقی اور فطری دین دنیا کی بڑی شیطانی وہ توں کے سامنے بہت بڑی رکاوٹ بن کے کھڑا ہے

لہذا اب غور کیجئے بار بار غور کیجئے کہ براہ راست قران کا مطالعہ کرنے کی اتنی زیادہ مخالفت کیوں ہوتی ہے کیونکہ

قران کہتا ہے کہ کیا تم نے خانہ کعبہ میں جھاڑو دینے کو اور حاجیوں کو پانی پلانے کو نیکی سمجھ لیا ہے ؟؟

یعنی بے ضرر باتوں کو نیکی سمجھ لیتے ہو

قران اپ سے نظام تبدیل کرنے کی بات کرتا ہے قران اپ کو  باطل نظام تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتا ہے

اپ کی بہترین اور پسندیدہ چیزوں میں خود اپ کی اپنی زندگی شامل ہے اور پھر وہ کہتا ہے کہ تم نیکی کو چھو بھی نہیں سکتے جب تک اپنی بہترین کو خرچ نہ کر دو ۔مطلب یہ کہ اپنی زندگی اللہ کے دین پر وار نہ دو

اور وار دینے کے ہر مفہوم میں نہ وار دو

اور پھر کہتا ہے کہ اللہ تعالی نے مومنین کے اموال اور جانیں ان سے خرید لی ہیں

اس لیے اپ لوگوں کو بے ضرر نیکیوں اور ان نیکیوں جن کی  قیمت ہوتی ہے  اپ کی جان مال اور عزت ان نیکیوں میں فرق کر کے جینا ہوگا

اور اب صراط مستقیم اور دین قیم کا اگلا حکم اور وہ یہ کہ

دیکھیے اولاد کا پتہ چلنے کے بعد اس کو ابارشن کرنا اور بات ہے جبکہ  اولاد پیدا ہی نہ کرنا بالکل اور بات ہے

یا اپنے وسائل کے مطابق اللہ سے اولاد طلب کرنا

یہ اولاد کے مطابق اللہ تعالی سے وسائل طلب کرنا

یہ ممکنہ صورتیں ہو سکتی ہیں

اور بخاری کی ایک روایت کے مطابق  اولاد اور ضبط تولید کو متوازن رکھنے کے لیے  "عزل”  کرنے

 کی اجازت ہے ۔

اور اس کے بعد ہے

کسی  جان کو ناحق  قتل نہ کرنا

اگر اس پر عمل ہو جائے تو دنیا بھر کی اسلحہ ساز انڈسٹریاں اور وہ اقوام جن کی معیشت کا دارومدار اسلحہ سازی ہے

اپ سوچیے کہ اگر انسان انسانوں کو قتل کرنے سے باز ا جائیں تو اس شیطانی  اسلحہ انڈسٹری جو ہر صورت جنگ چاہتی ہے تاکہ ان کا اسلحہ فروخت ہو

اس کا کیا بنے گا ؟؟

یہاں دین حق اور قران پھر باطل کے خلاف ایک سیسہ پلائی ہوئی اور ناقابل عبور دیوار کے طور پر کھڑا ہے

یہاں تک کہ اپ خود اسے جان بوجھ کر اپنے نیچے روند نہ دیں

یعنی اپ اللہ تعالی کے مستقل قوانین پر غور کیجئے کہ وہ انسانیت کے لیے کتنے دور رس  اور فائدہ مند ہیں

نیز فحاشی ظاہری باطنی  کے قریب بھی نہ جائین

اگر اس حکم پر عمل درامد ہو جائے تو دنیا بھر کی پورن انڈسٹریز

اور شوبز میں تمام منفی رجحانات کا کئی ٹرلین ڈالر کا نقصان ہوگا

یہاں پر ایک بار پھر ذرا رک جائیں اور سوچیں کہ بے ضرر نیکی وہ ہوتی ہے یا چھوٹی نیکی وہ ہوتی ہے جس سے دنیا کے منفی اور شیطانی نظام پر کوئی فرق نہ پڑے یا بہت دووووور جا کر بالواسطہ فرق پڑے

 جبکہ اصل اور حقیقی اور عنداللہ

اقرب نیکی وہ ہوتی ہے جس سے باطل اور شیطانی نظام کو فرق پڑتا ہو یعنی باطل نظام کو زک پہنچتی ہو

 اور  اب دین قیم یا صراط  مستقیم کا

اگلا حکم یتیم اور لا وارثوں کے مال کی حفاظت کرو یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائیں

اگر انسانیت اس پر عمل کرنا شروع کر دے تو دنیا بھر میں ناجائز جائیدادیں ہڑپ کر جانے والے ظلم کی کس قدر روک تھام ہو جائے گی

اور اس طرح کے تمام شیطانی نظاموں اور قبضہ مافیا وغیرہ  کا کتنا نقصان ہوگا

اور انسانیت کو کس قدر قرار ا جائے گا

اور شیطانی قوتوں کو کس قدر نقصان پہنچے گا

اب اس کا اگلا حکم جو جو سابقہ اور مذکورہ دیگر احکامات کی طرح  تورات میں بھی قران میں بھی اور دیگر صحائف میں بھی ایک جیسا ہے

اور وہ ہے ناپ تول  اور میزان کا خیال کرنا  یعنی کوالٹی اور کوانٹٹی کا خیال کرنا

اگر انسانیت اس پر عمل شروع کر دے تو دنیا بھر سے بیماریاں اور مہنگائی کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے

اور انسانی طبیعت میں اعتدال(میزان سے بہت سی  باتیں مراد ہیں

 ناپ تول کا میزان بھی اور طبیعت کا میزان بھی اور زمین اور اسمان کے توازن کو خراب نہ کرنا بھی اور کسی قسم کا فساد نہ پھیلانا بھی میزان ہی ہے  )

 انے کے بعد ویسے ہی پوری دنیا میں سکون اور اطمینان پھیل جائے گا

ویسے سورہ بنی اسرائیل کی ایات نمبر 24 تا 40 میں بھی یہی احکام موجود ہیں

ایک باپ اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے یہی دین قیم بیان کر رہا ہے

اور اس سے اگلا حکم ہے کہ سیدھی بات کہہ دو چاہے اپنا کیوں نہ ہو

اگر انسانیت اس پر عمل کر دے تو دنیا بھر کا عدالتی نظام اور نظام انصاف بالکل درست سمت اختیار کر لے گا

اور اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالی کے عہد پورے کرو

ہم اپس میں ایک دوسرے کے ساتھ جو کمٹمنٹ کرتے ہیں وہ بھی اللہ کا عہد ہے اور جن پر اللہ تعالی نے ہم سے عہد لیا ہوا ہے وہ بھی اللہ کا عہد ہے

ان میں سر فہرست اللہ کو وحدہ لا شریک ماننا ہے

پھر نماز یا صلوہ ھے

زکوۃ ہے روزہ ہے حج ہے

یعنی

حقوق اللہ میں سر فہرست خود اللہ ہے اور قیامت کے دن خود اللہ اپنے بارے میں سوال کرے گا کہ مجھے اللہ مانا تھا مجھے الہ اور سب سے بڑا بادشاہ مانا تھا مجھے رب مانا تھا ؟؟

اور پھر جس جس نے اللہ کو رب مانا ان سے پھر پہلا پہلا سوال یہ کہ کیا صلاۃ قائم کی تھی ۔

اپ انکھیں بند کر کے قران کسی بھی جگہ سے کھولیے

اپ انکھیں بند کر کے عہد نامہ جدید اور قدیم یعنی انجیل  اور تورات کسی بھی جگہ سے کھولیے

اپ کو ان درج بالا 10 احکامات میں سے کسی ایک حکم کا براہ راست یا بالواسطہ ذکر ملے گا لازمی ملے گا

پھر وہ براہ راست ملے یا بالواسطہ ملے لیکن یہ ہو نہیں سکتا کہ تمام الہامی احکام ان دس احکامات کے گرد نہ گھومتے ہوں یہ ہو ہی نہیں سکتا

کیونکہ یہ احکامات دین قیم ہیں اور یہی صراط مستقیم ہیں وہ جو ہم نماز میں اللہ تعالی سے مانگتے ہیں کہ ہمیں صراط مستقیم دکھا تو وہ صراط مستقیم یہی ہے جو اپ پڑھ رہے ہیں

مثلا اپ نے قران کھولا اوراور وہاں اس سورہ میں اپ نے ابراہیم علیہ السلام کا ذکر دیکھا

کہ صراط مستقیم یا دین قیم میں جو اللہ کا فرمان ہے کہ اللہ کے علاوہ کسی کو شریک نہ کرو

تو یہ اسی کی تفصیل ہے

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اس دور کے باطل اور باطل کی بہت بڑی طاقتوں کے ساتھ مقابلہ ہی اللہ تعالی کے وحدہ لا شریک ہونے پر ہو رہا ہے

اور مت بھولیے کہ ہم سب ملت ابراہیمی پر ہیں

یعنی مسلمان اور اہل کتاب سب

نیز اگر اپ نے قران کھولا اور حضرت موسی علیہ السلام کا ذکر نکل ایا تو اس کا ایک ہی مطلب ہے کہ لوگوں کو ناحق قتل کرنا اور مردوں کو قتل کر کے عورتوں کو زندہ رکھنے کی فحش بدنیتی  اور نسل کشی جینو ساییڈ  کرنا  اور اللہ کے ساتھ شریک کرنا

 کے خلاف جنگ ہو رہی ہے

اپ نے قران کھولا وہاں حضرت شعیب علیہ السلام کا ذکر اپ نے موجود پایا

تو اپ دیکھ لیجیے کہ ناپ تول میں کمی کے خلاف اعلان جنگ اور اللہ تعالی کو وحدہ لا شریک  ماننے کے حوالے سے جنگ ہو رہی ہے مقابلے ہو رہے ہیں

اگر سیدنا لوط علیہ السلام کا ذکر ایا ہے تو اپ دیکھ سکتے ہیں کہ فحاشی ظاہری اور باطنی دونوں کے خلاف شدید پیغمبرانہ معیار کی مزاحمت ہو رہی ہے

حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذکر ایا تو خاص طور پر کہا جا رہا ہے کہ وہ صلاۃ قائم کرواتے تھے اور اپنے وعدے کے اپنی کمٹمنٹ کے پکے تھے

غرضے کہ اپ جس بھی مقام سے قران یا اناجیل یا تورات و زبور کا مطالعہ کریں گے

اور کتب احادیث کا مطالعہ کریں گے یا سنت متواترہ کا مطالعہ کریں گے تو اپ کو یہ 10 اخلاق یعنی  10 کمانڈ منٹس

براہ راست یا بالواسطہ نظر ائیں گی

یہی دین ہے

یہی دین ابراہیمی ہے یہی دین محمدی ہے

یہی صداقت ہے یہی عدالت ہے یہی سخاوت ہے یہی شجاعت ہے یہی ہر دور کی بد ہر دور کی خیبر اور ہر دور کی کربلا ہے

یہی کہ اپ کی ہر وہ نیکی حقیقت میں نیکی ہے اور بڑی نیکی ہے جس سے باطل نظام کو فرق پڑتا ہو زک پہنچتی ہو اور

اور اپ کی ہر وہ نیکی ایک بے ضرر نیکی ہے بے شک اللہ تعالی کے ہاں اس کا اجر ہے لیکن وہ ایک

ایسی نیکی ہے جو بس اللہ اور اپ کے درمیان ہے

 اور اسی دین پر اخر کار سب نے اکٹھا ہونا ہے اور اج بھی انسانیت اس دین کی 10 باتوں میں سے کم از کم سات پر اج بھی متفق ہے چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے

 کیونکہ ان باتوں کو نہ ماننے کی صورت میں کسی مسلم اور غیر مسلم کسی کا گزارا ہی نہیں ہوتا

جن باتوں کو نہ مانتے ہوئے انسان کا گزارا نہ ہو وہ لازمی دین ہوتی ہیں

اور ترجیحی دین ہوتی ہے

جن باتوں سے باطل اور شیطانی نظام کو فرق پڑے وہ ترجیحی اور اعلی درجے کی نیکی ہوتی ہے

جب تک اپ مسلمان نہیں ہیں اس وقت تک اپ سے پہلا سوال یہ ہے کہ کیا اللہ کو رب مانتے ہو

جب اپ مسلمان ہو جاتے ہو تو اپ سے سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ کیا اقامت صلوۃ کرتے ہو

یا  جب زندہ تھے اور دنیا میں تھے تو اس کا انتہائی لازمی اہتمام کرتے تھے ؟؟

واللہ اعلم بالصواب

Loading