طاقتور شمسی طوفان
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)یکم ستمبر 1859 کو سورج پر ایک انتہائی طاقتور دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں برقی ذرات اور مقناطیسی توانائی کا ایک بہت بڑا بادل زمین کی طرف روانہ ہوا۔ یہ واقعہ تاریخ میں کیریِنگٹن واقعہ کے نام سے مشہور ہے۔
یہ طوفان اتنا شدید تھا کہ زمین کے مقناطیسی میدان میں زبردست ہلچل پیدا ہوئی۔ اُس وقت ٹیلی گراف کی تاروں میں اچانک خطرناک برقی رو دوڑ گئی، بعض مقامات پر چنگاریاں نکلیں اور آگ بھی لگ گئی۔
اس شمسی طوفان کا ایک حیرت انگیز اثر یہ تھا کہ آسمان پر قطبی روشنیاں معمول سے بہت زیادہ طاقتور ہوگئیں اور بہت دور تک دکھائی دیں۔ بعض علاقوں میں رات کا آسمان اتنا روشن ہوگیا تھا کہ لوگ بغیر چراغ کے بھی اخبار پڑھ سکتے تھے۔
اس طوفان نے زمین کو تباہ نہیں کیا، کیونکہ زمین کا مقناطیسی میدان اور فضائی غلاف ہمیں سورج کے خطرناک ذرات سے بڑی حد تک محفوظ رکھتے ہیں۔ تاہم اگر اسی شدت کا طوفان آج آئے تو بجلی کے نظام، مصنوعی سیاروں، مواصلاتی نظام اور رہنمائی کے نظام کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
1859 کا یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ سورج صرف روشنی اور حرارت کا ذریعہ نہیں بلکہ کبھی کبھار انتہائی طاقتور شمسی طوفان بھی پیدا کر سکتا ہے۔
![]()

