عائشہ فاروق پہلی خاتون فائٹر پائلٹ

عائشہ فاروق

پہلی خاتون فائٹر پائلٹ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )تین سال کی عمر میں والد کا انتقال ہوگیا۔ ماں نے دو بیٹیوں کی پرورش کی۔ پھر ایک دن بڑی بیٹی نے کہا کہ وہ جنگی طیارہ اڑانا چاہتی ہے۔ ماں کو یہ فیصلہ خطرناک لگا، مگر بیٹی نے ہار نہیں مانی اور 2013 میں پاکستان کی پہلی خاتون فائٹر پائلٹ بن گئی جسے جنگی مشن کے لیے مکمل طور پر اہل قرار دیا گیا!

جون 2013 میں سرگودھا کے مصحف ایئربیس پر ایک نوجوان خاتون اپنے جنگی طیارے کے قریب کھڑی تھیں۔ انہوں نے سبز رنگ کی فضائی وردی پہن رکھی تھی اور ہیلمٹ کے نیچے سے دوپٹے کا کنارہ نظر آرہا تھا۔ ان کے اردگرد دوسرے پائلٹ بھی موجود تھے، مگر اس خاتون کی کامیابی ان سب سے مختلف تھی۔

وہ پاکستان کی پہلی خاتون فائٹر پائلٹ تھیں جنہوں نے جنگی مشن کے لیے درکار تمام تربیتی اور عملی امتحانات مکمل کرلیے تھے۔

اس خاتون کا نام عائشہ فاروق تھا۔

عائشہ کا تعلق جنوبی پنجاب کے شہر بہاولپور سے ہے۔ وہ صرف تین سال کی تھیں جب ان کے والد، جو پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر تھے، انتقال کرگئے۔ ان کی والدہ کے سامنے دو چھوٹی بیٹیوں کی پرورش اور تعلیم کی ذمہ داری آگئی۔

عائشہ نے بعد میں ایک انٹرویو میں بتایا کہ والد کی وفات کے بعد انہوں نے بچپن ہی سے اپنے گھر کے لیے ذمہ داری محسوس کرنا شروع کردی تھی۔ وہ اپنی چھوٹی بہن اور والدہ کا خیال رکھنا چاہتی تھیں اور خود کو خاندان کی حفاظت کرنے والا فرد سمجھتی تھیں۔

یہ احساس وقت کے ساتھ ان کی شخصیت کا حصہ بنتا گیا۔

عائشہ کو شروع سے ہی ایسے کاموں میں دلچسپی تھی جن میں ہمت، نظم و ضبط اور مشکل حالات کا سامنا کرنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ پاکستان فضائیہ میں شامل ہوں گی۔

لیکن گھر میں اس فیصلے کو آسانی سے قبول نہیں کیا گیا۔

ان کی والدہ کو بیٹی کی خواہش پر تشویش تھی۔ جنگی طیارہ اڑانا ایک ایسا پیشہ تھا جس میں سخت تربیت، خطرناک حالات اور غیرمعمولی جسمانی و ذہنی صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس زمانے میں پاکستان میں خواتین کا فائٹر پائلٹ بننا بھی ایک نیا تصور تھا۔

عائشہ نے اپنی والدہ کو قائل کرنے کی کوشش کی۔ انہیں سمجھایا کہ وہ یہ ذمہ داری سنبھالنا چاہتی ہیں اور اس کے لیے محنت کرنے کو تیار ہیں۔

آخرکار وہ فضائیہ میں شامل ہوگئیں۔

ابتدائی تربیت کا مرحلہ انتہائی مشکل تھا۔ پائلٹ بننے کے خواہش مند نوجوانوں کو جسمانی صحت، ذہنی صلاحیت، فضائی تربیت اور کئی طرح کے امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے۔ ہر مرحلے میں کارکردگی کی بنیاد پر امیدوار آگے بڑھتے ہیں، جبکہ بہت سے لوگ مطلوبہ معیار پورا نہ کرسکنے کی وجہ سے اس سفر سے باہر ہوجاتے ہیں۔

عائشہ نے اس دوران مسلسل محنت کی۔

ان کے ایک انٹرویو کے مطابق تربیت شروع کرنے والے تقریباً چالیس ساتھیوں میں سے وقت کے ساتھ صرف نصف باقی رہ گئے تھے۔ خواتین کی تعداد پہلے ہی بہت کم تھی، مگر عائشہ نے اپنی صلاحیت کی بنیاد پر آگے بڑھنا جاری رکھا۔

انہیں فائٹر طیاروں کی تربیت ملی اور بعد میں وہ پاکستان فضائیہ کے ایف سیون پی جی طیارے سے وابستہ ہوئیں۔

جنگی طیارہ اڑانا عام مسافر جہاز سے مختلف ہوتا ہے۔ تیز رفتاری، اچانک سمت بدلنے، شدید دباؤ، محدود وقت میں فیصلے کرنے اور طیارے کے تمام نظاموں پر مکمل توجہ رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پائلٹ کو جسمانی طور پر بھی اتنا مضبوط ہونا چاہیے کہ وہ پرواز کے دوران پیدا ہونے والے غیرمعمولی دباؤ کو برداشت کرسکے۔

عائشہ نے بتایا کہ انہیں اپنی جسمانی ساخت کی وجہ سے بھی اضافی ورزش اور محنت کرنا پڑتی تھی، تاکہ وہ طیارے کو مطلوبہ معیار کے مطابق سنبھال سکیں۔

انہوں نے ان مشکلات کو اپنی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔

جون 2013 میں جب بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ان سے بات کی تو عائشہ کی عمر چھبیس سال تھی۔ اس وقت پاکستان فضائیہ میں دوسری خواتین فائٹر پائلٹ بھی موجود تھیں، مگر عائشہ پہلی خاتون تھیں جنہوں نے جنگی مشن کے لیے اہل ہونے کے آخری امتحانات کامیابی سے مکمل کیے تھے۔

یہ فرق اہم تھا۔

عائشہ پاکستان کی پہلی خاتون پائلٹ نہیں تھیں، بلکہ وہ پہلی خاتون فائٹر پائلٹ تھیں جو مکمل جنگی تیاری کی مطلوبہ اہلیت حاصل کرچکی تھیں۔

اس وقت وہ سرگودھا کے مصحف ایئربیس پر بیسویں اسکواڈرن کے ساتھ خدمات انجام دے رہی تھیں۔ ان کے ساتھی مرد پائلٹ بھی اسی طرح کی تربیت اور ذمہ داریاں نبھاتے تھے۔

عائشہ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ پرواز کے دوران وہ خود کو مرد ساتھیوں سے مختلف نہیں سمجھتیں۔ طیارہ اڑاتے وقت سب کو ایک ہی معیار پر پورا اترنا ہوتا ہے۔

ان کی کامیابی کے بعد پاکستان کی بہت سی لڑکیوں نے فضائیہ میں شمولیت کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔ عائشہ کے مطابق انہیں روزانہ ایسی لڑکیوں کے فون موصول ہوتے تھے جو ان کی طرح پائلٹ بننا چاہتی تھیں۔

یہ وہ تبدیلی تھی جس کا تصور شاید عائشہ نے تربیت شروع کرتے وقت بھی نہیں کیا ہوگا۔

انہوں نے ایک ایسے شعبے میں اپنی جگہ بنائی جسے طویل عرصے تک مردوں کا پیشہ سمجھا جاتا تھا۔ ان کی کامیابی نے دوسری خواتین کے لیے ایک نئی مثال قائم کی۔

عائشہ فاروق کی کہانی کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ تین سال کی عمر میں والد سے محروم ہونے والی بچی نے وقت کے ساتھ اپنی زندگی کی ایک ایسی منزل چنی جس تک پہنچنا آسان نہیں تھا۔ ماں کو اس پیشے کے خطرات پر تشویش تھی، مگر بیٹی نے سخت تربیت اور برسوں کی محنت سے اپنی صلاحیت ثابت کی۔

وہ پاکستان کی پہلی جنگی مشن کے لیے اہل خاتون فائٹر پائلٹ بنیں۔ اس کامیابی سے صرف ایک لڑکی کا خواب پورا نہیں ہوا، بلکہ بہت سی دوسری لڑکیوں کے لیے بھی یہ سوچنا ممکن ہوا کہ وہ اپنی صلاحیت کے مطابق ایسے پیشے اختیار کرسکتی ہیں جن میں پہلے خواتین کی موجودگی غیرمعمولی سمجھی جاتی تھی۔