عالمِ پوشیدہ: انسانِ کامل کا نقشہ
خاص علمی و عرفانی نشست
عالمِ مثال اور تعبیرِ رؤیا کی باطنی حقیقت
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایک شخص حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی۔ “میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے ہاتھ میں ایک مہر ہے، جس سے میں لوگوں کے منہ پر مہر لگا رہا ہوں۔”
یہ سن کر مجلس میں بیٹھے لوگ سہم گئے، کیونکہ ظاہری طور پر یہ خواب بہت ناگوار اور بدشگون معلوم ہوتا تھا۔
مگر امام نے مسکرا کر فرمایا: “گھبراؤ نہیں، یہ خواب مبارک ہے۔ رمضان کا مہینہ قریب ہے، اور تم مسجد میں مؤذن بنو گے، اور تمہاری اذانِ سحر سے لوگ کھانے پینے سے رک کر روزہ رکھیں گے، گویا تمہاری آواز ان کے منہ پر ایک مہر کا کام دے گی۔”
سب حیران رہ گئے: جو خواب ظاہر میں اتنا کریہہ لگا، اس کی حقیقت اتنی پاکیزہ نکلی۔ یہی وہ راز ہے جو ہمیں خواب کی دنیا کی حقیقت سمجھنے کی طرف لے جاتا ہے، کہ ظاہری صورت اور باطنی حقیقت میں اکثر زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے، اور جو اس فرق کو پڑھنا جانتا ہے، وہی حقیقی معبر کہلاتا ہے۔
خواب کہاں سے آتے ہیں؟
جب انسان سو جاتا ہے، تو اس کی آنکھ، کان اور دیگر ظاہری حواس اس مادی دنیا سے کچھ دیر کے لیے کٹ جاتے ہیں۔ مگر اس کا باطن، اس کی روح، اس وقت بھی متحرک رہتی ہے، اور ایک اور عالم کی طرف رخ کر لیتی ہے، جسے اہلِ تصوف عالمِ مثال کہتے ہیں۔ یہ وہ برزخی دنیا ہے جو نہ بالکل مادی ہے، نہ بالکل مجرد بلکہ اس کے درمیان کی ایک لطیف کیفیت ہے۔
اس بات کو یوں سمجھیں، مادی دنیا میں ہر چیز کے ساتھ ایک بھاری بھرکم جسم بھی ہوتا ہے۔ عالمِ ارواح میں صرف معنی ہوتے ہیں، بغیر کسی صورت کے، جیسے محبت کا خیال بغیر کسی شکل کے۔
مگر عالمِ مثال ان دونوں کے بیچ کی وہ دنیا ہے جہاں معنی ایک لطیف صورت پہن لیتے ہیں، بغیر اس بھاری مادیت کے۔ خواب میں انسان جو کچھ دیکھتا ہے، دراصل وہی مثالی صورتیں ہوتی ہیں، اس کے اعمال، اس کی نیتیں، اس کے اندر کی کیفیات، سب اسی عالم میں ایک روپ دھار کر سامنے آتی ہیں۔
معنی جب صورت پہنتے ہیں
عارفین نے اس بات کو کئی مثالوں سے سمجھایا ہے کہ کس طرح ایک مجرد حقیقت خواب میں ایک خاص شکل اختیار کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ایک خواب میں دودھ نوش فرمایا، اور اس کی تعبیر علم سے دی، کیونکہ جس طرح دودھ جسم کی فطری غذا ہے، اسی طرح علم روح کی غذا ہے، اور دونوں میں پاکیزگی اور فطری تعلق کی یکسانیت ہے۔
اسی طرح خواب میں کسی مضبوط رسی کو تھامنا اکثر دین پر استقامت کی علامت سمجھا جاتا ہے، کیونکہ قرآن نے خود دین کو “مضبوط رسی” سے تشبیہ دی ہے۔ اور جس طرح آگ جلاتی اور دھواں آنکھوں کو تکلیف دیتا ہے، اسی طرح فتنہ، دشمنی اور گناہ کی باطنی حقیقت بھی اکثر خواب میں آگ، دھواں یا زہریلے جانور کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔
تعبیر کا کام دراصل یہی ہے، اس ظاہری صورت کو الٹ کر اس کی اصل باطنی حقیقت تک پہنچنا، بالکل اسی طرح جیسے کوئی مترجم ایک زبان کے الفاظ کو دوسری زبان کے معنی میں ڈھالتا ہے۔
تین طرح کے خواب
اہلِ تصوف نے خوابوں کو تین قسموں میں تقسیم کیا ہے، اور ہر قسم کا تعلق عالمِ مثال سے مختلف انداز میں ہوتا ہے۔
پہلی قسم رؤیائے صادقہ ہے، یعنی سچے خواب۔ یہ وہ خواب ہیں جن میں روح ہر نفسانی آلائش سے پاک ہو کر ایک حقیقی، غیر آمیزہ مشاہدے تک پہنچ جاتی ہے، اور جو کچھ دیکھتی ہے وہ لوحِ محفوظ سے اترنے والی حقیقتوں کی سیدھی جھلک ہوتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سچا خواب نبوت کے چھیالیسویں حصے کے برابر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صالح اور پاکباز لوگوں کے خواب اکثر حرف بحرف سچے ثابت ہوتے ہیں۔
دوسری قسم نفسانی اور مزاجی خواب ہیں، جنہیں قرآن نے اضغاثِ احلام یعنی پریشان خیالی کہا ہے۔ یہ وہ خواب ہیں جو دن بھر کی سوچوں، خواہشات، یا جسمانی مزاج کی گرمی سردی سے جنم لیتے ہیں۔ ان کی کوئی حقیقی تعبیر نہیں ہوتی، کیونکہ یہ روح کے کسی غیبی مشاہدے سے نہیں بلکہ نفس کی اپنی الجھنوں سے پیدا ہوتے ہیں۔
تیسری قسم شیطانی وسوسے ہیں۔ شیطان چونکہ خود ایک لطیف آتشی وجود رکھتا ہے، اس لیے وہ بھی عالمِ مثال کی کچھ کثیف صورتوں کو استعمال کر کے انسان کو ڈرا سکتا ہے، یا اسے بدگمانی اور پریشانی میں مبتلا کر سکتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے خوابوں سے بچنے کی تعلیم دی کہ ایسا خواب دیکھ کر بائیں طرف تھوک دیا جائے، پناہ مانگی جائے، اور کروٹ بدل لی جائے، اور کسی کو یہ خواب نہ سنایا جائے۔
تعبیر: علم نہیں، بصیرت
یہاں ایک نہایت اہم بات سمجھنے کی ہے۔ تعبیرِ رؤیا کوئی ایسا فن نہیں جو محض کتابوں سے حفظ کر لیا جائے، بلکہ یہ ایک باطنی بصیرت ہے جو اللہ کچھ خاص بندوں کے دل میں رکھ دیتا ہے۔ ایک ہی خواب کی تعبیر دیکھنے والے کے حال کے مطابق بالکل مختلف ہو سکتی ہے۔
حضرت یوسف علیہ السلام کے قصے میں یہی اصول کارفرما نظر آتا ہے۔ قید خانے میں دو قیدیوں نے ایک ساتھ خواب دیکھے، مگر ان کی تعبیر ایک دوسرے سے بالکل الگ نکلی، ایک کی رہائی کی نوید بنی، دوسرے کی سزا کا پیش خیمہ۔
اسی طرح، اگر ایک متقی اور نیک شخص خواب میں اذان دیتا دیکھے، تو اکثر اس کی تعبیر حجِ بیت اللہ کی سعادت سے دی جاتی ہے۔ مگر اگر وہی خواب کوئی بداعمال شخص دیکھے، تو ممکن ہے اس کی تعبیر اس کے کسی چھپے گناہ کے ظاہر ہونے اور رسوائی سے دی جائے۔
یہی وہ نزاکت ہے جو تعبیر کو محض ایک خشک علم نہیں بلکہ ایک زندہ، باطنی فن بنا دیتی ہے، جہاں معبر اپنے قلب اور اپنے سِرّ کے نور سے خواب دیکھنے والے کے باطنی حال کو بھی ساتھ ملا کر تعبیر اخذ کرتا ہے۔
عالمِ مثال دراصل انسان کے اپنے باطن کا وہ آئینہ خانہ ہے جہاں اس کے اعمال، اس کی نیتیں، اور غیب کے کچھ اشارے، سب مجسم ہو کر سامنے آ جاتے ہیں۔ جو سالک اپنے باطن کی صفائی پر محنت کرتا ہے، اس کے خواب محض بےمعنی تصویریں نہیں رہتے، بلکہ وہ آہستہ آہستہ اس کے لیے ہدایت کا ایک ذریعہ بن جاتے ہیں،
بشرطیکہ وہ ان پر مکمل انحصار کرنے کی بجائے، انہیں قرآن و سنت کی روشنی میں پرکھے، اور کسی مستند اہلِ علم سے رجوع کیے بغیر خود سے بڑے دعوے نہ کر بیٹھے۔
اے علیم و خبیر پروردگار ہمارے خوابوں کو نفسانی پریشانیوں اور شیطانی وسوسوں سے محفوظ فرما۔ ہمیں ایسی بصیرت عطا فرما جو ہمیں اپنے باطن کی حقیقت پہچاننے میں مدد دے، اور ہمارے دلوں کو اتنا پاک کر دے کہ ان میں تیری طرف سے حقیقی رہنمائی اتر سکے۔
آمین یا رب العالمین۔
#Khaak_e_rawan
![]()

