عصرِ حاضر کا نوحہ: 2026 میں معصومیت کا قتل اور عالمی ضمیر کا بحران!
تحریر۔۔۔بلال شوکت آزاد
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ عصرِ حاضر کا نوحہ: 2026 میں معصومیت کا قتل اور عالمی ضمیر کا بحران!۔۔۔ تحریر۔۔۔بلال شوکت آزاد۹دنیا اپنے بچوں کو بچانے میں کہاں ناکام ہو رہی ہے؟
یہ وہ بنیادی اور تلخ سوال ہے جو 2026 کی دہلیز پر کھڑے ہر ذی شعور انسان کے ذہن پر ہتھوڑے کی طرح برستا ہے۔
جب ہم انسانی تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو ہر دور میں معصومیت کو کسی نہ کسی شکل میں پامال ہوتے دیکھتے ہیں، لیکن اکیسویں صدی کی تیسری دہائی کے وسط میں پہنچ کر یہ المیہ ایک ایسی منظم، بے رحم اور ہمہ گیر شکل اختیار کر چکا ہے جو نہ صرف ہمارے معاشرتی ڈھانچے کی چولہیں ہلا رہا ہے بلکہ عالمی تہذیب کے ماتھے پر ایک بدنما داغ بن چکا ہے۔
2026 محض ایک ہندسہ نہیں، بلکہ ایک ایسا سال ثابت ہو رہا ہے جس میں گھر کے آنگن سے لے کر ہسپتالوں کے انتہائی نگہداشت کے وارڈز تک، اور گلی کوچوں کی تاریکیوں سے لے کر بین الاقوامی جنگوں کے محاذوں تک، بچے غیر معمولی حد تک غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔
اس صورتحال کو سمجھنے کے لیے ہمیں محض جذباتیت سے گریز کرتے ہوئے ٹھوس حقائق، معتبر اعداد و شمار اور ان سماجی، نفسیاتی، معاشی اور تکنیکی محرکات کا باریک بینی سے تجزیہ کرنا ہوگا جو ایک بچے کو عدم تحفظ کی اس گہری کھائی میں دھکیلتے ہیں۔
کیا واقعی یہ سال تاریخ کا سب سے خونی سال ہے، یا ہم ایک ایسے ڈیجیٹل دور میں جی رہے ہیں جہاں ہر سانحہ، ہر موت اور ہر چیخ پلک جھپکتے ہی ہماری سکرینوں پر نمودار ہو کر ہمارے اجتماعی خوف میں اضافہ کر دیتی ہے؟
اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں ان بکھرے ہوئے واقعات کو ایک وسیع تر فکری اور تجزیاتی کینوس پر جوڑنا ہوگا تاکہ اس خونی تسلسل کی اصل تصویر سامنے آ سکے۔
ہمیں اپنی اس فکری کھوج کا آغاز کسی دور دراز جنگی محاذ کے بجائے ان مقامات سے کرنا ہوگا جنہیں روایتی طور پر دنیا کا سب سے محفوظ قلعہ سمجھا جاتا ہے، یعنی گھر اور خاندان۔
خاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ، معاشی بدحالی اور نفسیاتی الجھنوں نے آج کے انسان کو جس نہج پر پہنچا دیا ہے، اس کا سب سے بھیانک خمیازہ بچے بھگت رہے ہیں۔
سال 2026 کے پہلے ہی دن، یکم جنوری کو بھمبر، آزاد کشمیر میں دو سے سات سال کی عمر کے تین کمسن بچوں کو مبینہ طور پر ان کی سگی ماں سدرا شبیر اور اس کے آشنا نے قتل کر کے ندی کنارے دفن کر دیا، اور پولیس کے مطابق تفتیش میں اس جرم کا اعتراف بھی کیا گیا۔
یہ کوئی اکلوتا واقعہ نہیں تھا جو کسی ایک شخص کی انفرادی درندگی کو ظاہر کرتا ہو۔
محض دو دن بعد، 3 جنوری کو کراچی کے علاقے مائی کولاچی میں 13 سالہ کشوار زہرا، 15 سالہ حسین علی اور 10 سالہ کنعان علی کی لاشیں ان کی والدہ کے ہمراہ ایک خشک مین ہول سے ملیں، جنہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
یہ واقعات ہمیں اس ہولناک حقیقت سے روشناس کراتے ہیں کہ جب گھریلو اکائیاں ٹوٹتی ہیں تو سب سے پہلی قربانی معصومیت کی دی جاتی ہے۔
23 جنوری کو حسن ابدال، ٹیکسلا میں ایک شخص نے سسرالی رنجش کی بھینٹ چڑھاتے ہوئے فائرنگ کر کے اپنے ہی پانچ سالہ بیٹے فلک اور دو سالہ بیٹی کائنات کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور پھر خودکشی کر لی۔
اسی طرح 28 جنوری سے لے کر 24 اپریل تک کے واقعات کا تسلسل دیکھیں تو وزیرآباد میں تین سالہ عائشہ کو اس کی پھوپھی نے مبینہ طور پر اپنے جذباتی تنازعات کی وجہ سے قتل کیا، سرگودھا میں 16 مارچ کو ایک شخص نے ‘غیرت’ کے نام پر اپنی بیوی اور پانچ بچوں کو مار ڈالا، اور 24 اپریل کو لاہور کے پوش علاقے شاہ جمال، اچھرہ میں پانچ سالہ مومنہ بتول، چار سالہ مومن رضا اور ڈیڑھ سالہ اُمّ حبیبہ کو ان کی اپنی ماں ردا نے گلا کاٹ کر زندگی سے محروم کر دیا۔
یہ فہرست یہیں نہیں رکتی؛
5 مئی کو ملتان میں ایک ماں اور اس کے تین بچوں کو قتل کر کے لاشیں لٹکا دی گئیں، 9 مئی کو ٹنڈو محمد خان میں آٹھ سالہ وشال اور سات سالہ آشا کو ان کی ماں شریمتی رتنا نے اپنے ہمراہ نہر میں کود کر ڈبو دیا، 17 جولائی کو صادق آباد میں ایک اور ماں اپنے چار بچوں، علی حسن، ایان، ریان اور طیبہ، جن کی عمریں دو سے دس سال تھیں، کے ہمراہ نہر میں کود گئی، 18 جولائی کو لاہور کے ویلنشیا ٹاؤن میں 16 سالہ ریحان، 11 سالہ عریشہ اور چھ سالہ ارسل کو ان کی ماں علینہ نے مبینہ طور پر زہر دے کر مار ڈالا، اور کوئٹہ کی وحدت کالونی میں 8 جون کو ایک شخص نے پڑوسیوں پر ذہنی اذیت کا الزام عائد کرتے ہوئے ویڈیو پیغام ریکارڈ کیا اور اپنی بیوی سمیت چار بچوں کو فائرنگ کر کے موت کی نیند سلا دیا۔ جون میں ہی فیصل آباد میں واصف اور فاطمہ نامی بہن بھائی کو ان کی والدہ اور سوتیلے والد نے قتل کر کے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی۔
یہ تسلسل، جس میں 30 اپریل کو گوجرانوالہ میں ایک اجرتی قاتل کے ہاتھوں خاتون کے ساتھ اس کی تین سالہ بیٹی دُرِ عدن کا صرف اس لیے قتل ہونا شامل ہے کہ بچی نے قاتل کو دیکھ لیا تھا، اور 24 اپریل کو لاہور میں ایک اور خاتون کا اپنے تین بچوں کو چھری خریدی کر قتل کر دینا، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ معاشرے میں برداشت، معاشی تحفظ اور نفسیاتی صحت کا نظام مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے۔
جب محافظ ہی قاتل بن جائیں تو ریاست اور معاشرے کی ترجیحات پر سنجیدہ سوالات اٹھنا ناگزیر ہو جاتے ہیں۔
اگر گھر کی چار دیواری قتل گاہ بن رہی ہے تو کیا ریاست اور اس کا فراہم کردہ انفراسٹرکچر بچوں کے لیے کوئی جائے پناہ ہے؟
بدقسمتی سے 2026 کے واقعات اس کا جواب نفی میں دیتے ہیں۔
گلی کوچوں، سڑکوں اور بوسیدہ عمارات نے بھی معصومیت کو نگلنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
4 جنوری کو کراچی کے علاقے بلدیہ میں پانچ سالہ برہان طارق تیز رفتار کوچ کی زد میں آیا، 5 جنوری کو جڑانوالہ کی دھند میں دو سالہ دعا عمیر اور چھ سالہ محمد حسن ٹریفک حادثات کا شکار ہوئے، جب کہ 6 جنوری کو مہمند میں 10 سالہ حذیفہ دھند کے باعث اسکول جاتے ہوئے جان گنوا بیٹھا۔
کراچی کے منگھوپیر روڈ پر 5 اور 6 جنوری کو لگاتار دو روز واٹر ٹینکرز کی تیز رفتاری نے پانچ سالہ حسن اور سات سالہ عارف عباس کو کچل دیا، جب کہ مارچ میں اسی علاقے میں ایک اور ٹینکر نے حسن نامی پانچ سالہ بچے کی جان لی۔
یہ اموات محض حادثات نہیں ہیں، بلکہ اس بے حس شہری منصوبہ بندی کا نتیجہ ہیں جہاں انسانوں اور بالخصوص بچوں کی جان کی کوئی قیمت نہیں۔
19 فروری کو لودھراں میں مدرسے جاتی ہوئی تین سالہ کنیز فاطمہ کو آوارہ کتوں کے غول نے بھنبھوڑ کر مار ڈالا، جو ریاستی انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
لودھراں ہی میں ڈھائی سالہ شہباز کھلے گڑھے میں گر کر، بہاولپور میں پانچ سالہ زیشان اور یزمان میں دو سالہ برہان کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوئے، جب کہ ٹنڈلیانوالہ میں چار سالہ ہانیہ 10 مئی کو کھلے مین ہول میں ڈوب گئی جسے مبینہ طور پر جان بوجھ کر دھکا دیا گیا تھا۔
جولائی میں کراچی میں چار سالہ حسبہ یوسف فارم ہاؤس کے پول میں ڈوب کر جان سے گئی۔
بوسیدہ عمارتوں کی بات کریں تو مئی، جون اور جولائی کی بارشوں نے چارسدہ، شانگلہ، سوات، کوہاٹ، ژوب اور لاہور میں قہر برپا کیا۔
چارسدہ میں 12 سالہ سجاول، تین سالہ ابوبکر اور دو سالہ عمیر چھت گرنے سے مارے گئے، شانگلہ میں ایک ہی خاندان کے چھ بچے (14 سالہ نذیرہ، 13 سالہ سمیرا، پانچ سالہ رضوان اللہ، سات سالہ نایاب، پانچ سالہ حیا نور، 12 سالہ عمیرہ) لقمہ اجل بنے، 30 جون کو لاہور کے علاقے کاہنہ میں نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 5 سے 16 سال کی عمر کے 14 بچے موت کے منہ میں چلے گئے، اور باغبانپورہ میں زیرِ تعمیر عمارت کا ملبہ آٹھ سالہ عبداللہ کی جان لے گیا۔
کوہاٹ میں 14 جولائی کو چھ سالہ ارحم سمیت کئی افراد دب کر مرے، جب کہ ژوب اور پنجاب بھر میں بارشوں کے دوران گھروں کی چھتیں گرنے سے درجنوں زندگیاں ختم ہوئیں۔
کیا یہ محض قدرتی آفات ہیں یا ایک ناکام اور بے حس ریاستی ڈھانچے کی وہ خون آشام علامتیں، جن کے سائے میں پروان چڑھنے والی نسل کو بچپن میں ہی کفن پہنا دیا جاتا ہے؟
ریاستی غفلت کی اس سے بھیانک اور دلخراش تصویر کیا ہو سکتی ہے جو آج ہی یعنی 26 اگست 2026 کو اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) میں سامنے آئی۔
یہ ہسپتال، جسے زندگی بچانے کا سب سے بڑا ادارہ سمجھا جاتا ہے، آج کے دن مبینہ و ابلاغی تناظر میں 14 جبکہ متضاد اطلاعات میں 55 نومولود بچوں کے لیے ایک دہکتی ہوئی بھٹی ثابت ہوا۔
صبح تقریباً سات بجے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی تیسری منزل پر واقع انتہائی نگہداشت کے نرسری وارڈ (NICU) میں، جہاں بچے انکیوبیٹرز اور لائف سپورٹ پر تھے، مبینہ طور پر ایئر کنڈیشنر کے دھماکے یا آکسیجن سسٹم میں خرابی کے باعث آگ بھڑک اٹھی۔
رائٹرز، ڈان اور دیگر معتبر عالمی اور مقامی صحافتی اداروں کی تصدیق کے مطابق، وارڈ میں موجود 15 یا 16 (35 سے 50) بچوں میں سے صرف ایک کو بمشکل بچایا جا سکا۔
وارڈ میں موجود آکسیجن نے آگ کو اتنی تیزی سے پھیلایا کہ ریسکیو کے پہنچنے تک سب کچھ راکھ ہو چکا تھا۔
والدین کے وہ دعوے کہ نرسری کا دروازہ بند تھا یا فائر سیفٹی کا نظام کام نہیں کر رہا تھا، محض الزامات نہیں بلکہ اس پورے نظام پر ایک چارج شیٹ ہیں جہاں ایمرجنسی ایگزٹس مسدود تھے اور زندگیاں بچانے والے ادارے موت کے سوداگر بن چکے تھے۔
55 بچوں کی ہلاکت کی اطلاع اگرچہ فلحال غلط ثابت کی جارہیں اور انہیں افواہ کہا جا رہا ہے، لیکن 14 نومولود انسانوں کا جل کر کوئلہ ہو جانا اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ ہم کس تہذیب کا حصہ ہیں جہاں سانسیں بحال کرنے والی مشینیں ہی موت کی چنگاری بن جائیں؟
یہ تو ان اموات کا ذکر تھا جہاں مارنے والا یا تو کوئی اپنا تھا یا پھر نظام کی بے حسی، لیکن معاشرے کا سب سے تاریک اور وحشت ناک پہلو وہ ہے جہاں بچوں کو جنسی ہوس، استحصال اور سفاکانہ درندگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
بچوں کا جنسی استحصال (Child Sexual Abuse) ایک ایسا پیچیدہ، منظم اور گہرا سماجی ناسور ہے جسے محض جذبات کے ذریعے نہیں سمجھا جا سکتا۔
یہاں یہ واضح کرنا انتہائی ضروری ہے کہ علمی اور نفسیاتی اعتبار سے ہر جنسی جرم کو “Pedophilia” قرار دینا درست نہیں۔
پیڈوفیلیا ایک نفسیاتی اور کلینیکل کیفیت ہے جس میں ایک بالغ فرد کی جنسی رغبت بنیادی طور پر نابالغ بچوں کی طرف ہوتی ہے، جب کہ بچوں کا جنسی استحصال ایک مجرمانہ فعل ہے جس میں طاقت، اختیار، بلیک میلنگ، گرومنگ (Grooming) اور لالچ کا استعمال کر کے بچے کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
بہت سے مجرمان نفسیاتی طور پر پیڈوفائل نہیں ہوتے، بلکہ وہ طاقت کے عدم توازن کا فائدہ اٹھا کر کمزور کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں۔
اس استحصال کی جو تصویر ساحل (Sahil) نامی ادارے کی 2026 کی ششماہی رپورٹ میں سامنے آتی ہے، وہ روح فرسا ہے۔
جنوری تا جون کے صرف چھ ماہ میں پاکستان کے اخبارات میں بچوں پر تشدد اور زیادتی کے 1,914 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 1,015 واقعات براہِ راست جنسی زیادتی کے تھے۔
صفر سے پانچ سال کی عمر کے 95 معصوم بچوں کو درندگی کا نشانہ بنایا گیا۔
اس درندگی کی عملی شکلیں وہ نام ہیں جو ہماری اجتماعی بے حسی پر نوحہ کناں ہیں۔
16 جنوری کو کامونکی میں سات سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا؛
23 جنوری کو سانگھڑ میں 15 سالہ شادبانو ملاح کے جسم کو زیادتی کے دوران تیز دھار آلے سے چھلنی کیا گیا؛
5 اپریل کو لکی مروت کے سرکنڈوں کے جنگل میں تین سالہ بچی کی زیادتی زدہ لاش ملی؛
اور جون کے آخری دنوں میں سرگودھا کی دکان میں سات یا آٹھ سالہ منتحہ زہرا کو زیادتی کی کوشش کے دوران قتل کر دیا گیا۔
کراچی کے علاقے قائدآباد میں 24 جون کو تین سالہ کلثوم اپنے ہی گھر کے باہر سے اغوا ہوئی اور بعد ازاں بوری میں بند اس کی لاش ملی، جس کے پوسٹ مارٹم میں شدید اور پرتشدد ریپ (Violent Rape) کی تصدیق ہوئی اور پولیس تفتیش میں اس کے سگے مرد کزن اور چچی ملوث پائے گئے۔
جولائی میں کراچی ہی کے لی مارکیٹ سے چھ سالہ محمد ولی بوری بند لاش کی صورت میں ملا جسے اس کے 20 سالہ پڑوسی حمزہ نے زیادتی کے بعد گلا دبا کر مار دیا تھا۔
اگست کا مہینہ تو جیسے درندگی کی انتہا تھا۔
10 اگست کو ہری پور سے لاپتہ ہونے والی پانچ سالہ آیت نور کی لاش 15 دن بعد ایک کنویں سے ملی۔
اس کی میڈیکل رپورٹ میں ہونے والے انکشافات کسی بھی انسان کا دل چیر دینے کے لیے کافی ہیں؛ زیادتی کے دوران اس کی دونوں رانوں کی ہڈیاں ٹوٹ چکی تھیں اور شدید خون بہنے سے اس کی موت واقع ہوئی۔
عثمان نامی ملزم اور اس کے ساتھیوں کی گرفتاری اور عوامی احتجاج، جس نے #JusticeForAyatNoor کے نام سے پورے ملک کو ہلا دیا، اس بات کی گواہی ہے کہ ہم کس حد تک گر چکے ہیں۔
اور پھر 5 اگست کو کراچی کے علاقے قیوم آباد کی ڈیڑھ سال کی ایزل (Aizal)، جسے اس کے ہی ایک 17 سالہ رشتہ دار منان نے چیز دلانے کے بہانے گھر سے نکالا اور بدترین جنسی و جسمانی تشدد کے بعد مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔
ایزل کا کیس صرف ایک جرم نہیں تھا، بلکہ اس نے پورے پاکستان میں ایک بے چینی کو جنم دیا، جہاں انسانی حقوق کی تنظیموں کو سڑکوں پر آ کر انصاف کی دہائی دینی پڑی۔
ان کیسز کا بغور مطالعہ کریں تو ایک اور خوفناک رجحان ابھر کر سامنے آتا ہے، اور وہ ہے کم عمر بچوں کا خود دوسرے بچوں کے خلاف سنگین جنسی جرائم میں ملوث ہونا۔
ایزل کے قاتل منان کی عمر 17 سال تھی، لکی مروت میں 8 اپریل کو نو سالہ بچی کو چار دیواری میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنانے والے ملزم کی عمر محض 14 سال تھی، گجرات میں 21 جولائی کو مدرسے کے ایک کم عمر طالب علم کے ساتھ زیادتی کرنے والے چاروں طلبہ کی عمریں 13 سے 16 سال کے درمیان تھیں، اور کراچی میں 6 اگست کو بچے کے ریپ اور قتل میں پکڑا جانے والا مشتبہ فرد بھی 17 سال کا نوجوان تھا۔
کرمنالوجی، ڈیولپمنٹل سائیکالوجی اور چائلڈ پروٹیکشن کی جدید تحقیقات کے مطابق، اس کی وجوہات انتہائی پیچیدہ ہیں۔
یہ محض ایک دو واقعات کی بنیاد پر پوری نوجوان نسل کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب بچوں کی تربیت ایک ایسے ماحول میں ہو جہاں گھریلو تشدد عام ہو، تعلیمی اداروں میں اخلاقی تربیت کے بجائے محض رٹے پر زور ہو، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ڈیجیٹل ڈیوائسز کے ذریعے غیر سنسر شدہ، پرتشدد اور جنسی مواد تک ان کی بلا روک ٹوک رسائی ہو، تو ان کی نفسیاتی نشوونما مسخ ہو جاتی ہے۔
یہاں پونوگرافی (Pornography) اور غیر قانونی چائلڈ سیکشول ابیوز مٹیریل (CSEM) کے درمیان فرق کو سمجھنا ناگزیر ہے۔
بالغ افراد کی مرضی پر مبنی فحش مواد اور بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی غیر قانونی مواد کو ایک ہی پلڑے میں نہیں تولا جا سکتا۔
آج کی ڈیجیٹل دنیا، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، انکرپٹڈ کمیونیکیشن (Encrypted Communication)، الگورتھمک ریکمنڈیشن سسٹمز (Algorithmic recommendation systems) اور گمشدہ شناخت (Anonymity) نے بچوں کے تحفظ کے لیے ایسے خطرات پیدا کر دیے ہیں جن کا تصور ایک دہائی قبل بھی محال تھا۔
آن لائن گرومنگ کا عمل، جس میں شکاری ایک طویل عرصے تک بچے کا اعتماد جیت کر اسے استحصال کے لیے تیار کرتا ہے، اب ڈارک ویب (Dark Web) اور ہڈن سروسز (Hidden services) کے ذریعے ایک منظم عالمی انڈسٹری بن چکا ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) نے بھی اس میں ایک نیا، بھیانک باب کھول دیا ہے جہاں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ابیوز مٹیریل حقیقت اور سراب کے درمیان فرق مٹا رہا ہے۔
تاہم، ٹیکنالوجی بذات خود مجرم نہیں؛ یہ محض ایک وسیلہ ہے۔
اصل مسئلہ ان انسانی رویوں، مجرمانہ نیٹ ورکس، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزوری، نگرانی کے فرسودہ نظام اور ادارہ جاتی ناکامیوں کا ہے جو اس ٹیکنالوجی کو ہتھیار بننے دیتے ہیں۔
جب ہم بین الاقوامی سطح پر ایلیٹ نیٹ ورکس یا “ایپسٹین فائلز” (Epstein Files) جیسی اصطلاحات کا ذکر سنتے ہیں، تو ہمیں سازشی نظریات (Conspiracy theories) اور دستاویزی حقائق کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچنی ہوگی۔
جیفری ایپسٹین اور اس جیسے دیگر نیٹ ورکس کا وجود ایک مسلمہ حقیقت ہے جسے ایف بی آئی (FBI) اور انٹرپول جیسی ایجنسیوں نے بے نقاب کیا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ طاقتور حلقوں میں بچوں کی ٹریفکنگ اور استحصال کا ایک عالمی اور منظم نیٹ ورک کام کرتا رہا ہے۔
لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر فائل یا ہر نام، جو بغیر کسی عدالتی ثبوت کے سوشل میڈیا کی زینت بنے، وہ ایک عالمی خفیہ سازش کا حصہ ہو۔
علمی دیانت تقاضا کرتی ہے کہ ہم جرائم کو ٹھوس شواہد، قانونی کارروائیوں اور معتبر تحقیقات کی روشنی میں پرکھیں، نہ کہ سنسنی خیز افواہوں کی بنیاد پر۔
پاکستان میں بچوں کے عدم تحفظ کا نقشہ محض چند واقعات تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک نہ رکنے والا سلسلہ ہے۔
جنوری کی 17 تاریخ کو کراچی میں ایک سیریل چائلڈ ریپسٹ کی گرفتاری جس کا ڈی این اے سات مقدمات سے میچ ہوا، 20 جنوری کو جیکب آباد کے پولیس اسٹیشن میں چھ پولیس اہلکاروں کا ایک کم عمر بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانا، 14 جنوری کو راولپنڈی میں 13 سالہ گھریلو ملازمہ کا مالکان کے تشدد اور زیادتی کے بعد حاملہ ہونا، 28 فروری کو بہاولپور میں پانچ سالہ بچی کو ٹافیاں خریدتے ہوئے اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنانا، 13 مارچ کو بہاولپور ہی میں 12 سالہ لڑکے کو اجتماعی زیادتی کے بعد موت کے گھاٹ اتارنا، 6 اپریل کو لکی مروت میں ایک اور تین سالہ بچی کی زیادتی اور قتل، اور 29 اپریل کو حافظ آباد میں چھ سالہ بچے کو اغوا کر کے زیادتی کی نیت سے لے جانا اور بعد ازاں گلا دبا کر مار دینا۔
مئی کے مہینے میں سمندری کے اندر ایک کم عمر لڑکے کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے ملزمان کا مارا جانا، اور 20 مئی کو کراچی میں دو مدرسہ طلبہ کے جنسی استحصال پر ایک مذہبی پیشوا کو 15، 15 سال قید کی سزا سنایا جانا۔
جون میں سرگودھا میں ایک نوعمر لڑکے کو زیادتی کے بعد محض اس لیے زندہ دفن کرنے کی کوشش کرنا تاکہ وہ بول نہ سکے، سوات میں نوعمر لڑکی کو ہوٹل لے جا کر ریپ کے بعد زہر دینا، لاہور کے مدرسے میں کم عمر طالب علم کا تشدد سے جاں بحق ہونا، اور جولائی کے مہینے میں گوجرانوالہ کے اندر ‘جادو ختم کرنے’ کے نام پر کم عمر بچی کو اس کی اپنی ماں اور بہن بھائیوں کے ہاتھوں آگ لگا دیا جانا۔
یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ گلی، محلہ، دکان، ٹیوشن سینٹر، سکولز، مدرسہ، حتیٰ کہ پولیس اسٹیشن تک، کوئی بھی جگہ بچے کے لیے محفوظ نہیں۔
بہاولپور میں جولائی کے دوران ایک نوعمر لڑکے سے مسلسل اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے کا واقعہ ہو، یا 11 اگست کو گجرات میں پانچ درندوں کی ہوس کا نشانہ بننے کے بعد ایک نوعمر لڑکی کا کلائیوں کی نسیں کاٹ کر خودکشی کر لینا؛ 18 اگست کو شیخوپورہ میں 11 سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش ہو، یا 20 اگست کو کوئٹہ میں اغوا ہونے والے چھ سالہ بچے کی بوری بند لاش کا 23 اگست کو گھر کے باہر سے ملنا، اور 22 اگست کو ٹوبہ ٹیک سنگھ میں نو سالہ بچی کو بندوق کے زور پر اغوا کر کے اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کر دینا۔
یہ محض اخبارات کی سرخیاں نہیں ہیں، بلکہ ایک مرتے ہوئے معاشرے کی آخری ہچکیاں ہیں۔
ان کیسز میں پولیس کے مبینہ مقابلوں (جن میں قصور کے طارق، ہارون آباد کے عثمان، مردان کے جنید، اور بہاولپور، حافظ آباد، اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے مشتبہ ملزمان شامل ہیں) کو عدالتی نظام پر عوام کے عدم اعتماد اور ریاست کی جانب سے فوری ‘انصاف’ کے غیر قانونی شارٹ کٹس کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جو بذات خود ایک مہذب معاشرے کے زوال کی علامت ہے۔
اسی طرح اپریل میں ہیڈ پنجند کے قریب پولیس مقابلے میں دو لڑکوں کی موت اور 10 جون کو مانسہرہ میں کم عمر لڑکے پر تشدد کے کیسز اس ریاستی اور سماجی تشدد کا حصہ ہیں جہاں طاقت کا استعمال کمزور ترین طبقے یعنی بچوں پر بلا خوف و خطر کیا جاتا ہے۔
اور ہمیں کراچی کی سات سالہ ذہنی معذور انیسہ علی کو بھی نہیں بھولنا چاہیے جس کی لاش 8 جنوری کو مچھر کالونی کے قریب سمندر سے ملی، یا راولپنڈی کی وہ 18 ماہ کی بچی جس کی گردن پر تیز دھار آلے سے وار کیا گیا، جولائی میں راولپنڈی کی 13 سالہ گونگی اور بہری بچی کا جنسی استحصال، اور 13 جولائی کو لاہور میں 11 سالہ گھریلو ملازمہ پر مالکان کا وحشیانہ تشدد؛ یہ سب اس امر کی گواہی ہے کہ ہم بحیثیت مجموعی اپنے کمزور ترین افراد کا تحفظ کرنے میں مکمل اور شرمناک حد تک ناکام ہو چکے ہیں۔
لیکن یہ درندگی، یہ قتلِ عام، اور یہ بے حسی محض پاکستان کے گلی کوچوں یا دیہات تک محدود نہیں۔
جب ہم عالمی منظر نامے پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ ایک ادارہ جاتی، ریاستی اور منظم جنگی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
دنیا کے تنازعات، جنگیں اور عسکریت پسندی بچوں کو ایک ایسے جہنم میں دھکیل رہے ہیں جہاں ان کے جسموں کے چیتھڑے اڑانا ایک معمول کی کارروائی بن چکا ہے۔
غزہ (Gaza)، جسے بجا طور پر موجودہ دور میں بچوں کا سب سے بڑا قبرستان کہا جا سکتا ہے، اس ریاستی درندگی کی سب سے نمایاں مثال ہے۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف (UNICEF) کی جون 2026 میں جاری ہونے والی “State of Palestine Humanitarian Situation Report No.48” کے مطابق، اکتوبر 2025 سے لے کر اب تک کے عرصے میں غزہ میں مسلسل سینکڑوں بچوں کی ہلاکتیں رپورٹ ہوتی رہیں۔
اگرچہ جنگ بندی کے اعلانات کیے گئے، لیکن ان کھوکھلے اعلانات کے بعد کے 300 دنوں میں بھی مزید کم از کم 300 بچوں کے مارے جانے کی مصدقہ اطلاعات سامنے آئیں۔
24 اگست 2026 کو ہی خان یونس میں 10 سالہ امل ابو خاطر، جو بمباری سے بچ کر اپنے خاندان کے ہمراہ ایک خیمے میں پناہ گزین تھی، ایک گولی کا نشانہ بن کر جان کی بازی ہار گئی، اور اسی روز بریج کیمپ میں ایک اور حملے میں چار سالہ نامعلوم بچہ مارا گیا۔
لیکن غزہ کا المیہ صرف براہِ راست ہلاکتوں تک محدود نہیں۔
جنگ نے ایک ایسا سٹرکچرل بحران (Structural Crisis) پیدا کر دیا ہے جہاں بچے صرف گولی یا بم سے نہیں مر رہے، بلکہ بھوک، غذائی قلت (Severe acute malnutrition)، صحت کی بنیادی سہولیات کی تباہی، صاف پانی کی عدم دستیابی اور بیماریوں سے مر رہے ہیں۔
یونیسیف کی رپورٹس واضح کرتی ہیں کہ صرف چند ماہ کے دوران تقریباً 19,425 بچوں کو انتہائی شدید غذائی قلت کے باعث علاج کے لیے لایا گیا، جب کہ ہزاروں دیگر بغیر علاج کے موت کا انتظار کر رہے ہیں۔
اور یہ ظلم صرف غزہ تک محدود نہیں، مقبوضہ مغربی کنارے (West Bank) میں بھی 2025 کے آغاز سے لے کر 2026 کے وسط تک درجنوں بچے ریاستی جبر کا نشانہ بنے۔
مشرقِ وسطیٰ کا تنازع 2026 میں غزہ کی سرحدیں عبور کر کے ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو چکا ہے جس نے بچوں کو بے دریغ نگلنا شروع کر دیا ہے۔
یونیسیف کے حیران کن اور لرزہ خیز اعداد و شمار کے مطابق، 28 فروری 2026 سے 10 مارچ 2026 تک، یعنی محض دس دنوں کے مختصر ترین عرصے میں، ایران میں 200، لبنان میں 91، اسرائیل میں 4، اور کویت میں 1 بچہ تنازعات کا نشانہ بن کر ہلاک ہوا، اور مجموعی طور پر ان دس دنوں میں 1,100 سے زائد بچے ہلاک یا زخمی ہوئے۔
اور مارچ کے اختتام تک یہ تعداد مزید ہولناک ہو گئی؛
ایران میں 216 بچوں کی ہلاکت اور 1,767 کا زخمی ہونا، اور لبنان میں 124 اموات اور 413 کا زخمی ہونا اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ جدید جنگی ٹیکنالوجی، ڈرونز اور میزائلز کے اس دور میں اسمارٹ ویپنز (Smart weapons) کا دعویٰ کتنا کھوکھلا ہے، کیونکہ ان کا پہلا اور سب سے آسان شکار ہمیشہ سول آبادی اور بالخصوص بچے ہوتے ہیں۔
افریقہ کی طرف مڑیں تو سوڈان (Sudan) کی صورتحال دنیا کے لیے ایک اور طمانچہ ہے۔
یونیسیف کے مطابق، 2026 کے ابتدائی 90 دنوں (جنوری تا مارچ) کے دوران سوڈان میں کم از کم 160 بچے مارے گئے اور 85 زندگی بھر کے لیے معذور ہو گئے، جن میں سے تقریباً 78 فیصد اموات محض ڈرون حملوں کا نتیجہ تھیں۔
جون کے اختتام تک ہلاک اور زخمی ہونے والے بچوں کی مجموعی تعداد کم از کم 330 ہو چکی تھی، اور جولائی کے صرف ایک ماہ میں نارتھ کورڈوفان کے علاقے میں مزید 23 بچے مارے گئے۔
اگست کے مہینے میں بھی ساؤتھ کورڈوفان میں ایک نسلی اور مسلح تصادم کے دوران کم از کم 27 شہریوں کے خون کی ہولی کھیلی گئی، جن میں چار بچے بھی شامل تھے۔
یہ اعداد و شمار وہ ہیں جو اقوام متحدہ اور دیگر تنظیمیں انتہائی مشکل حالات میں دستاویزی شکل میں لا سکی ہیں، حقیقت اس سے کہیں زیادہ بھیانک ہو سکتی ہے۔
ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (DRC) اور صومالیہ (Somalia) جیسے ممالک میں بھی جنگ اور تنازعات بچوں کو براہ راست گولیاں کھانے سے زیادہ بھوک اور بیماریوں کے ذریعے مار رہے ہیں۔
صومالیہ میں 1.9 ملین بچوں کا غذائی قلت کا شکار ہونا اور فنڈنگ کی کمی کے باعث 200 سے زائد ہیلتھ سینٹرز کا بند ہو جانا خاموش قتلِ عام کی بدترین شکل ہے۔
اسی طرح یورپ کے محاذ پر، یوکرین (Ukraine) کی جنگ میں 2026 میں بھی بچوں کے خون کا بہاؤ نہیں رکا۔
جولائی 2026 کا مہینہ اپریل 2022 کے بعد سے سب سے خونی ثابت ہوا، جس میں 17 بچے مارے گئے اور 166 زخمی ہوئے۔
21 اگست 2026 کو ہی مائیکولائیو (Mykolaiv) میں ایک ڈرون حملے میں تین بچوں کی ہلاکت رپورٹ ہوئی، جب کہ کریوئی ریہہ (Kryvyi Rih) کے شاپنگ سینٹر پر ہونے والے ہولناک حملے میں 23 بچے زخمی ہوئے اور دو لاپتہ ہو گئے۔
ایشیا میں میانمار (Myanmar) کے اندر فروری کے مہینے میں فضائی حملوں میں کم از کم پانچ بچے مارے گئے، اور پاکستان میں 18 فروری کو باجوڑ کے ایک دہشت گرد حملے میں ایک کم عمر بچی جان سے گئی، جب کہ 8 مارچ کو شمالی وزیرستان میں افغانستان سے فائر کیے گئے مارٹر گولے نے ایک اور بچے کی جان لے لی۔
24 مئی کو کوئٹہ میں ہونے والے خودکش دھماکے میں، جس میں 14 افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہوئے، حکومت کے مطابق خواتین کے ساتھ بچے بھی شامل تھے، اور فروری میں سوات میں کچرے کے ڈھیر سے ملنے والے دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے سے عبدالہادی نامی کمسن بچے کی جان گئی جب کہ اس کی بہن مدیحہ زخمی ہوئی۔
یہ بمباری، یہ ڈرونز، یہ بارودی سرنگیں، اور یہ فائرنگ بچوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے۔
یہ ہلاکتیں ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ عالمی قوانین، جنیوا کنونشن اور بچوں کے حقوق کے چارٹرز کیا واقعی کوئی وقعت رکھتے ہیں، یا یہ محض مہذب دنیا کے وہ کاغذی کھلونے ہیں جنہیں بین الاقوامی ادارے سفارتی میزوں پر سجا کر دنیا کو دھوکہ دیتے ہیں؟
اقوام متحدہ کے Children and Armed Conflict میکنزم نے محض 2025 میں دنیا بھر کے جنگی علاقوں میں 6,266 بچوں کے قتل اور 7,958 بچوں کے معذور یا شدید زخمی ہونے (Maiming) کے دستاویزی اور تصدیق شدہ شواہد اکٹھے کیے تھے۔
یہ کل 14,224 سنگین خلاف ورزیاں وہ تھیں جنہیں UN وریفائی کر سکا، جب کہ اصل زمینی حقائق، ملبے تلے دبے اجسام، اور لاپتہ ہو جانے والوں کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔
اب ہم اس تحریر کے مرکزی اور سب سے اہم فکری سوال کی طرف لوٹتے ہیں:
کیا واقعی 2026 تاریخی اعتبار سے بچوں کے لیے ایک غیر معمولی حد تک خطرناک اور جان لیوا سال ہے، یا اس کی کچھ اور وجوہات ہیں؟
یہ سوال جتنا سادہ محسوس ہوتا ہے، اس کا جواب اتنا ہی پیچیدہ ہے۔
اگر ہم سائنسی اور شماریاتی حقائق کی روشنی میں دیکھیں تو اقوام متحدہ کے انٹر ایجنسی گروپ فار چائلڈ مورٹیلیٹی ایسٹیمیشن (UN IGME) کے مطابق، 2023 یا 2024 میں سالانہ تقریباً 4.8 سے 4.9 ملین بچے پانچ سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے وفات پا جاتے تھے۔
یعنی ہر روز اوسطاً 13 ہزار سے زائد بچے اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں، جن کی غالب اکثریت بیماریوں، غذائی قلت، پیدائشی پیچیدگیوں، ملیریا، اور حادثات کا شکار ہوتی ہے۔
اس اعتبار سے دیکھا جائے تو تاریخ میں اس سے بھی خونی اور تاریک ادوار گزرے ہیں جب وبائی امراض، قحط اور عالمی جنگوں نے نسلوں کی نسلیں ختم کر دیں۔
لیکن جو چیز 2026 کو ایک ڈراؤنا خواب اور ایک امتیازی سال بناتی ہے، وہ اموات کی مجموعی تعداد نہیں بلکہ موت کی نوعیت، اس کے محرکات کی ہمہ گیریت، اور ان خطرات کی نوعیت ہے جن کا شکار آج کا بچہ ہو رہا ہے۔
آج کی دنیا بے تحاشا جڑی ہوئی (Hyper-connected) ہے۔
ہمارے پاس ڈیجیٹل ریکارڈ کی بہتات ہے، ہر واردات اور ہر واقعہ سیکنڈوں میں رپورٹ ہو کر ہماری سکرین پر پہنچتا ہے۔
یہ رپورٹنگ یقیناً شعور اور آگاہی میں اضافے کا سبب ہے، جس کی وجہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید جرائم میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے، لیکن یہ محض ‘بہتر رپورٹنگ’ کا نتیجہ نہیں ہے۔
یہ بات معتبر تحقیقات اور کرائم ڈیٹا سے ثابت ہو رہی ہے کہ ڈیجیٹل دنیا، بدلتی ہوئی وارفیئر ٹیکنالوجی اور عالمی نظام کی ناکامی نے بعض خطرات میں واضح اور ماپنے کے قابل (Measurable) اضافہ کیا ہے۔
جنگوں کی شدت اور ہائی ٹیک ہتھیاروں کا شہری آبادیوں پر بے دریغ استعمال، جس کی واضح مثال غزہ اور سوڈان ہیں، اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ عالمی قوانین اپنی موت آپ مر چکے ہیں۔
دوسری جانب ٹیکنالوجی کمپنیوں کی غیر ذمہ داری، سوشل میڈیا کی گمناہی، اور ڈارک نیٹ ورک کے پھیلاؤ نے بچوں کے جنسی استحصال کو ایک مقامی مجرم کے ہاتھ سے نکال کر ایک عالمی منافع بخش انڈسٹری بنا دیا ہے۔
خاندان کا ادارہ معاشی دباؤ کے تحت ٹوٹ رہا ہے، جس کی وجہ سے ہم نے دیکھا کہ والدین ہی اپنے بچوں کے قاتل بن رہے ہیں۔
لہٰذا، جب ہم ان تمام حقائق کو یکجا کرتے ہیں تو یہ نتیجہ اخذ کرنا غلط نہیں ہوگا کہ اگر ہم واقعی اپنے بچوں کو بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں محض اس ایک قاتل کو تلاش کر کے سولی پر لٹکانے کے مطالبے تک محدود نہیں رہنا ہوگا۔
اگرچہ عثمان، طارق یا منان جیسے درندوں کا قلع قمع کرنا انصاف کا بنیادی تقاضا ہے، اور جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو عالمی عدالتوں کے کٹہرے میں لانا وقت کی اہم ضرورت ہے، لیکن یہ کافی نہیں ہے۔
ہمیں اس پورے ماحول، اس پورے سٹرکچر، اور اس پورے ایکو سسٹم کو سمجھنا اور بدلنا ہوگا جس میں ایک بچہ پیدا ہوتے ہی غیر محفوظ ہو جاتا ہے۔
وہ ماحول جہاں غربت اور نفسیاتی دباؤ والدین کے ہاتھوں میں چھری تھما دیتے ہیں، جہاں ریاستی بدانتظامی بچوں کو کھلے مین ہولز اور موت بانٹنے والے ہسپتالوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہے، جہاں ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے الگورتھمز کے منافع کے لیے درندوں کو بچوں تک رسائی دیتی ہیں، اور جہاں دنیا کے طاقتور ترین ممالک اپنے سیاسی مفادات کے لیے آسمان سے بچوں پر آگ برسانے کو حقِ دفاع قرار دیتے ہیں۔
یہ تحریر صرف اموات کی ایک فہرست نہیں، بلکہ عالمی ضمیر کے دروازے پر ایک دستک ہے۔
یہ دستک ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم خوفزدہ ہونے کے بجائے اپنے شعور کو بیدار کریں، کیونکہ اگلا مرحلہ ان اسباب کی مزید گہرائی میں اتر کر ان سوراخوں کو بند کرنے کا ہے جہاں سے موت ہمارے بچوں کی طرف رینگتی چلی آ رہی ہے۔
وہ موت جو ہمارے بچوں کی طرف رینگتی چلی آ رہی ہے، وہ محض بارود کی بو، خنجر کی دھار یا بوسیدہ چھتوں کے ملبے تک محدود نہیں، بلکہ وہ ہمارے گھروں کے اندر، بند کمروں میں، ڈیجیٹل سکرینوں کی نیلی روشنیوں میں بھی مکمل خاموشی کے ساتھ اپنے پنجے گاڑ چکی ہے۔
اس فکری اور معروضی حقیقت کے بعد جب ہم اس امر کا احاطہ کرتے ہیں کہ اس تاریک دلدل سے باہر نکلنے کا راستہ کیا ہے، تو سب سے پہلے ہمیں اپنے نظامِ عدل اور قانونی ڈھانچے کی ان بنیادی خامیوں اور خندقوں کا جائزہ لینا ہوگا جو مجرموں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتی ہیں۔
پاکستان میں بچوں کے تحفظ کے حوالے سے قوانین کی کمی نہیں ہے، بلکہ اصل المیہ ان قوانین کے نفاذ، تفتیشی طریقہ کار کے نقائص، اور قانونی لچک کا وہ گھناؤنا جال ہے جس کا فائدہ اٹھا کر بااثر مجرم قانون کے شکنجے سے صاف بچ نکلتے ہیں۔
ہمارے تعزیراتی قوانین اور فوجداری ضابطے آج بھی برطانوی دورِ حکومت کے ان فرسودہ تصورات پر کھڑے ہیں جو جدید دور کے ڈیجیٹل اور نفسیاتی جرائم کا احاطہ کرنے سے قاصر ہیں۔
جب کوئی بچہ جنسی استحصال یا تشدد کا نشانہ بنتا ہے، تو تفتیش کا ابتدائی مرحلہ ہی اتنی سست روی، پیشہ ورانہ نااہلی اور سائنسی بنیادوں سے عاری ہوتا ہے کہ شواہد خود بخود دم توڑنے لگتے ہیں۔
ضلعی سطح پر جدید فارنزک لیبارٹریز کا فقدان، ڈی این اے کے نمونے محفوظ کرنے کے معیاری طریقوں کی عدم موجودگی، اور پولیس اہلکاروں کی تربیت کا معیار وہ بنیادی قانونی لوپ ہولز ہیں جن کی وجہ سے عدالتوں میں استغاثہ اپنے دعوے ثابت کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے۔
جب تک تفتیش کے نظام کو سائنسی بنیادوں پر استوار نہیں کیا جاتا اور پولیس کو شواہد اکٹھے کرنے کے جدید ترین طریقوں سے لیس نہیں کیا جاتا، اس وقت تک عدالتوں میں مجرموں کو کٹھہرے میں کھڑا کرنا ایک خواب ہی رہے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ، ہمارے عدالتی نظام میں مقدمات کی طوالت اور التوا کی جو روایت ہے، وہ متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کے لیے کسی دوسری سزا سے کم نہیں۔
جب ایک مقدمہ برسوں تک عدالتوں کے چکر کاٹتا ہے، تو گواہان ڈرا دھمکا کر منحصر کر دیے جاتے ہیں، فریقین میں غیر قانونی سمجھوتہ کرا دیا جاتا ہے، اور انصاف کی روح تڑپتی رہتی ہے۔
“زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری ایکٹ” جیسے قوانین کاغذ پر تو انتہائی خوبصورت دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان کے عملی نفاذ کے لیے جن اداروں اور ٹاسک فورسز کی تشکیل کی ضرورت تھی، وہ یا تو سیاسی مداخلت کا شکار ہیں یا پھر فنڈز اور وسائل کی شدید کمی کا رونا رو رہے ہیں۔
بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قائم کیے جانے والے چائلڈ پروٹیکشن بیورو اور فلاحی ادارے اکثر و بیشتر زبانی جمع خرچ یا محدود پائلٹ پروجیکٹس تک محدود رہتے ہیں، جن کی رسائی پسماندہ دیہی علاقوں یا کچی آبادیوں تک بالکل نہیں ہوتی جہاں سب سے زیادہ جرائم جنم لیتے ہیں۔
قانون سازی کے اس عمل میں ایک اور بڑا خلا یہ ہے کہ ہمارے یہاں بچوں کے خلاف جرائم کو عام فوجداری مقدمات کی طرح ڈیل کیا جاتا ہے، جبکہ ان کے لیے خصوصی، تیز رفتار اور خفیہ ٹرائل کورٹس کا قیام عمل میں لایا جانا چاہیے تھا جو بچوں کی نفسیاتی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری فیصلے صادر کر سکیں۔
اس کے علاوہ، جرم کی سنگینی کے باوجود ضمانت کے قوانین میں موجود سقم ملزمان کو قانون کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا موقع دیتے ہیں۔
جب تک فوجداری قوانین میں ترمیم کر کے بچوں کے خلاف جرائم کو ناقابلِ ضمانت اور ناقابلِ سمجھوتہ زمرے میں شامل نہیں کیا جاتا، اور تفتیشی افسران کو ناقص تفتیش پر براہِ راست جوابدہ نہیں ٹھہرایا جاتا، اس وقت تک ریاست اپنے اس بنیادی آئینی فریضے سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتی جو ہر شہری بالخصوص بچے کے جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔
قانونی اور ریاستی سطح پر ان خامیوں کے ساتھ ساتھ ہمیں بین الاقوامی سطح پر رونما ہونے والی ان پیشرفتوں اور ماڈلز کا بھی گہرائی سے مطالعہ کرنا ہوگا جن نے دنیا کے کئی حصوں میں بچوں کے تحفظ کے نظام کو ایک مؤثر شکل دی ہے۔
یورپ اور بالخصوص اسکینڈینیوین ممالک میں رائج “برن ہاس” (Barnahus) ماڈل اس کی ایک روشن مثال ہے، جہاں بچے کو انصاف دلانے کے پورے عمل کو ایک ہی چھت کے نیچے سمیٹ دیا گیا ہے۔
اس ماڈل کے تحت متاثرہ بچے کو بار بار مختلف پولیس اسٹیشنوں، تفتیشی کمروں اور عدالتوں کے چکر نہیں کاٹنے پڑتے، بلکہ ایک ہی محفوظ اور دوستانہ ماحول میں ماہر نفسیات، ڈاکٹر، تفتیشی افسر اور جج قانونی تقاضے پورے کرتے ہیں تاکہ بچے کو ثانوی صدمے (Secondary Trauma) سے بچایا جا سکے۔
اس کے برعکس، ہمارے نظام میں بچے کو بار بار وہی ہولناک کہانی دہرانے پر مجبور کیا جاتا ہے، جو اس کی ذہنی اور نفسیاتی بحالی کے راستے کی سب سے بڑی دیوار بن جاتی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بچوں کے ڈیجیٹل تحفظ کے لیے جو قانون سازی ہو رہی ہے، اس سے بھی ہمیں سیکھنے کی اشد ضرورت ہے۔
یورپی یونین کا “ڈیجیٹل سروسز ایکٹ” اور برطانیہ کا “آن لائن سیفٹی ایکٹ” اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اب ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا کمپنیوں کو اس بات کا پابند بنایا جا رہا ہے کہ وہ اپنے الگورتھمز میں بچوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیں۔
ان قوانین کے تحت بڑی ٹیک کمپنیوں کو اس بات کا قانونی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے کہ اگر ان کے پلیٹ فارمز پر بچوں کا استحصال یا غیر قانونی مواد شیئر ہوتا ہے، تو وہ محض مواد ہٹانے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ انہیں اربوں روپے کے جرمانے اور پبلک اکاؤنٹبلٹی کا سامنا کرنا ہوگا۔
عالمی سطح پر انٹرپول اور یورپی پول (Europol) کے اشتراک سے ڈارک ویب اور خفیہ نیٹ ورکس کے خلاف جو سائبر پٹرولنگ اور انٹیلی جنس شیئرنگ ہو رہی ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ریاستیں سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر تعاون کریں، تو مجرموں کے عالمی گٹھ جوڑ کو توڑا جا سکتا ہے۔
تاہم، ترقی پذیر ممالک اس عالمی ڈیجیٹل تعاون کے دائرہ کار سے باہر کھڑے ہیں، کیونکہ ہمارے پاس نہ تو وہ جدید سائبر کرائم انویسٹی گیشن ٹولز ہیں اور نہ ہی اتنی تکنیکی صلاحیت کہ ہم ان فالس اور انکرپٹڈ نیٹ ورکس کو ٹریس کر سکیں۔
بین الاقوامی سطح پر اقوام متحدہ کے کنونشن آن دی رائٹس آف دی چائلڈ (UNCRC) نے بچوں کے حقوق کے جو عالمی اصول طے کیے ہیں، ترقی یافتہ ممالک نے تو کسی حد تک ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا ہے، لیکن گلوبل ساؤتھ میں یہ کنونشن محض سفارتی دستاویزات کی حد تک تو موجود ہیں مگر زمینی حقائق اس کے یکسر برعکس ہیں۔
ہمیں عالمی سطح پر اس تفریق کو ختم کرنے کے لیے ایک ایسے مشترکہ فریم ورک کی ضرورت ہے جہاں ٹیکنالوجی کی منتقلی، ڈیجیٹل سیکیورٹی کی تربیت، اور مالیاتی معاونت کے ذریعے پسماندہ ممالک کے نظامِ انصاف اور انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے، ورنہ دنیا کا ایک حصہ بچوں کے لیے فلاحی ریاست بنا رہے گا اور دوسرا حصہ ان کے لیے قبرستان بنتا چلا جائے گا۔
ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل گورننس اور مصنوعی ذہانت کے دور میں بچوں کے تحفظ کو درپیش چیلنجز اب روایتی جرائم کی حدود سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔
انٹرنیٹ، سوشل میڈیا ایپلی کیشنز، اور اے آئی ٹولز نے جہاں انسانی زندگی کو آسان بنایا ہے، وہیں انہوں نے مجرموں کے ہاتھ میں ایسے خطرناک ہتھیار تھما دیے ہیں جن کی کاٹ کا ہمارے پاس کوئی مؤثر توڑ موجود نہیں۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے وہ الگورتھم جو انسانی نفسیات اور توجہ کو جکڑے رکھنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں، وہیں بچوں کو نقصان دہ مواد، سائبر بلیڈنگ، اور آن لائن گرومنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
سوشل میڈیا کی بے نامی (Anonymity) اور اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن (End-to-end encryption) نے مجرموں کو قانون کی گرفت سے آزاد کر دیا ہے، کیونکہ وہ ان فالس آئی ڈیز اور خفیہ چیٹ گروپس کے پیچھے چھپ کر بچوں کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں۔
یہاں یہ نکتہ انتہائی اہم ہے کہ ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر ممنوع قرار دینا نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی عقل مندی، لیکن اس کی غیر ذمہ دارانہ اور ریگولیشن کے بغیر موجودگی کو مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
دنیا بھر میں اس وقت اس بات پر بحث جاری ہے کہ کس طرح پرائیویسی کے بنیادی حقوق کی پامالی کیے بغیر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بچوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
بعض ماہرین کلائنٹ سائیڈ اسکیننگ (Client-side scanning) جیسے ساتی ٹولز کی حمایت کرتے ہیں تاکہ ڈیوائسز کے اندر ہی مجرمانہ مواد کی نشاندہی کی جا سکے، جبکہ سول سوسائٹی کے ادارے اسے پرائیویسی پر ڈاکہ قرار دیتے ہیں۔
اس تکنیکی اور اخلاقی کشمکش کے درمیان اصل متاثر ہونے والا فریق بچہ ہے جو ڈیجیٹل دنیا کے جنگل میں تنہا کھڑا ہے۔
اس کا حل یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں ‘بائی ڈیفالٹ’ بچوں کے اکاؤنٹس پر سخت ترین سیکیورٹی اور پرائیویسی پروٹوکول لاگو کریں، عمر کی تصدیق کے معتبر اور جعل سازی سے مبرا نظام (Age-verification mechanisms) متعارف کرائے جائیں، اور الگورتھمک ریکمنڈیشن سسٹمز کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ بچوں کو کسی بھی ایسی تپسیا یا مواد کی طرف نہ لے جائیں جو ان کی عمر کے تقاضوں کے منافی ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ، ریاستوں کو چاہیے کہ وہ سائبر کرائم ونگز کو اتنے وسائل، اختیارات اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس کریں کہ وہ ڈارک ویب کے تاریک کونوں تک پہنچ کر ان نیٹ ورکس کا صفایا کر سکیں جو بچوں کے استحصال کا مواد فروخت کرتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کمپنیاں اب اس مک مکاؤ کی پالیسی پر عمل نہیں کر سکتیں کہ وہ منافع سمیٹیں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سماجی اور اخلاقی ملبے کو معاشرے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں۔
ان تکنیکی اور قانونی اقدامات کے موازی ہمیں اداروں کی اصلاح، کمیونٹی کی سطح پر بیداری، اور سماجی رویوں کی تبدیلی کے لیے ایک فکری انقلاب کی ضرورت ہے۔
جب تک معاشرہ اپنے اندر اس منافقت کو ختم نہیں کرتا جہاں بچوں کے حقوق کی بات تو کی جاتی ہے لیکن گھریلو تشدد، چائلد لیبر اور جسمانی سزا کو “روایتی تربیت” کا نام دے کر جائز سمجھا جاتا ہے، اس وقت تک کوئی بھی قانون مکمل طور پر مؤثر ثابت نہیں ہو سکتا۔
تعلیمی اداروں کا کردار اس حوالے سے سب سے زیادہ کلیدی ہے۔
ہمارے اسکولوں کا نصاب آج بھی صرف رٹے رٹائے مضامین اور فرسودہ معلومات کا مجموعہ ہے، جو بچے کو امتحان پاس کرنا تو سکھاتا ہے لیکن اسے زندگی کے خطرات سے نبرد آزما ہونے کا ہنر نہیں سکھاتا۔
نصاب میں “Good touch and bad touch” ، جسمانی خودمختاری، ڈیجیٹل سیفٹی، اور ذہنی صحت کے اصولوں کو لازمی مضمون کے طور پر شامل کیا جانا چاہیے تاکہ بچہ خود اس قابل ہو سکے کہ وہ کسی بھی مشکوک یا نامناسب رویے کو بروقت اپنے والدین یا اساتذہ کے سامنے بیان کر سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ اور والدین کی تربیت بھی اتنی ہی ضروری ہے کیونکہ زیادہ تر معاملات میں بچے خوف یا شرم کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں، اور جب تک گھریلو اور تعلیمی ماحول میں ایک ایسا کھلا اور اعتماد کا رشتہ قائم نہیں ہوتا جہاں بچہ بلا جھجھک اپنی بات کہہ سکے، اس وقت تک مجرموں کے ہاتھ بندھے رہیں گے۔
صحت کے اداروں، اسپتالوں اور نرسریوں میں فائر سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس، اور آکسیجن انفراسٹرکچر کے وہ خونی نقائص جن کا خمیازہ ہم نے اسلام آباد کے ہسپتال میں نومولود بچوں کی جان دے کر بھگتا ہے، اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ملک بھر کے تمام طبی اداروں کے بنیادی ڈھانچے کا فوری طور پر تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے اور غفلت کے مرتکب عناصر کو کڑی سزا دی جائے۔
بچوں کا تحفظ کسی ایک محکمے، وزارت یا ادارے کی اکیلے کی ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے پولیس، عدلیہ، تعلیمی اداروں، صحت کے حکام، میڈیا اور سول سوسائٹی کو ایک مربوط اور موثر نیٹ ورک کے تحت مل کر کام کرنا ہوگا۔
میڈیا کا کردار اس حوالے سے انتہائی نازک اور ذمہ دارانہ ہونا چاہیے۔
سنسنی خیز سرخیاں بنانے، متاثرہ بچوں کی شناخت ظاہر کرنے، اور جرم کی ہولناک تفصیلات کو بار بار دہرانے سے گریز کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس سے نہ صرف متاثرہ خاندان مزید کرب کا شکار ہوتا ہے بلکہ یہ عمل بعض اوقات ایسے نفسیاتی بیمار افراد کے لیے ‘محرک’ (Trigger) کا کام کرتا ہے جو ایسے ہی جرائم کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
میڈیا کو چاہیے کہ وہ تفتیشی صحافت کے ذریعے اداروں کی کارکردگی کو کٹہرے میں لائے، قانونی اصلاحات کے لیے رائے عامہ ہموار کرے، اور معاشرے میں بچوں کے حقوق کے تئیں ایک بیدار ضمیر پیدا کرے۔
تحریر کے اس آخری موڑ پر جب ہم ان تمام تلخ حقائق، اعداد و شمار، قانونی سقم، جنگی تباہ کاریوں، خاندانی زوال، اور ڈیجیٹل خطرات کا نچوڑ نکالتے ہیں، تو یہ بات سورج کی طرح روشن ہو جاتی ہے کہ بچوں کا تحفظ محض ایک فلاحی یا قانونی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ کسی بھی مہذب معاشرے کے زندہ رہنے یا مرنے کا بنیادی پیمانہ ہے۔
ہم نے دیکھا کہ 2026 کا سال دنیا بھر کے بچوں کے لیے کس قدر دردناک، غیر محفوظ اور خون آلود ثابت ہو رہا ہے۔ ایک طرف جہاں گھریلو انتشار اور معاشی پس منظر نے ماؤں کو اپنے ہی جگر گوشوں کا قاتل بنا دیا، گلی کوچوں میں تیز رفتار گاڑیاں اور کھلے مین ہولز معصوم زندگیاں نگلتے رہے، اور ہسپتالوں کے نگہداشت وارڈز میں زندگی دینے والی آکسیجن موت کے شعلوں میں تبدیل ہو گئی، وہیں دوسری طرف دنیا کے جنگی محاذوں، غزہ سے لے کر سوڈان اور یوکرین تک، نے بچوں کو بارودی سرنگوں اور ڈرون حملوں کی بھینٹ چڑھا دیا۔
اس سب کے درمیان بچوں کے جنسی استحصال اور ڈیجیٹل درندگی نے اس اخلاقی زوال کو بے نقاب کیا جس کے اندر آج کا انسان جی رہا ہے۔
اس گہرے تاریک منظر نامے میں اگر کوئی روشنی کی کرن ہو سکتی ہے، تو وہ ہماری وہ بیدار ہوتی ہوئی اجتماعی بصیرت ہے جو محض رونے پیٹنے یا وقتی احتجاج کرنے کے بجائے اس نظامِ انہدام کی جڑ تک پہنچنے کی جرات پیدا کرتی ہے۔
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ قاتل صرف وہ شخص نہیں ہے جو بندوق چلاتا ہے یا چھری چلاتا ہے، بلکہ وہ پورا سیاسی، معاشی، قانونی اور سماجی ماحول بھی قاتل ہے جو ایک بچے کو اس مقام پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں اس کی معصومیت کو روند ڈالا جاتا ہے۔
اگر ہم واقعی اپنے بچوں کو بچانا چاہتے ہیں، تو ہمیں محض علامات (Symptoms) کا علاج کرنے کے بجائے بیماری کی جڑ (Root cause) پر وار کرنا ہوگا۔
ہمیں اپنے قوانین کو فولادی بنانا ہوگا، تفتیش کو سائنسی سانچے میں ڈھالنا ہوگا، تعلیمی اداروں اور خاندانوں میں مکالمے کے دروازے کھولنے ہوں گے، ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ان کے اخلاقی فرائض کا پابند کرنا ہوگا، اور دنیا کے طاقتور حکمرانوں کو اس بات کا جوابدہ بنانا ہوگا کہ وہ اپنے سیاسی مفادات کے لیے بچوں کے مستقبل کو ایندھن کے طور پر استعمال کرنا بند کریں۔
یہ جنگ کسی ایک فرد، ایک ادارے یا ایک حکومت کی نہیں ہے، بلکہ یہ پوری انسانیت کی بقا کی جنگ ہے۔
اگر ہم آج اس جنگ میں ہار گئے، تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی، اور اکیسویں صدی کا یہ انسان اپنی ہی تاریخ کے سامنے ایک ایسے بے حس اور ظالم کردار کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے اپنے ہی بچوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ لیے تھے۔
لہٰذا، یہ وقت خاموشی کا نہیں، سوال اٹھانے کا ہے؛ یہ وقت مفاہمت کا نہیں، احتساب کا ہے؛ اور یہ وقت غفلت کی چادر تان کر سونے کا نہیں، بلکہ جاگنے، اٹھنے اور اس دنیا کو اپنے بچوں کے لیے ایک بار پھر رہنے کے قابل بنانے کا ہے۔
اس تمام فکری اور تجزیاتی سفر کے بعد، اب آپ کے خیال میں کیا ہمیں سب سے پہلے ڈیجیٹل پالیسیوں کی اصلاح پر زور دینا چاہیے، یا پھر اس خاندانی اور نفسیاتی تربیت کے نظام کو کھوجنا چاہیے جو ہمارے معاشرے میں مجرم اور سنگین حوادث پیدا کر رہا ہے؟
نوٹ: میں بہت کم تحریروں کے نیچے یہ بات لکھتا ہوں کہ اس تحریر کو لازما شیئر کریں، یہ تحریر اس لیے شیئر کرنی چاہیے تاکہ تمام پڑھا لکھا طبقہ اس کو آگے سے آگے پھیلائے اور مقتدرہ تک یہ بات پہنچے، یہ صرف تحریر نہیں بلکہ یہ ہماری آواز ہے، اس کو جتنا آپ بلند کریں گے اتنا ہی آپ کو اور آپ کے بچوں کو فائدہ پہنچائے گی۔
#سنجیدہ_بات
#آزادیات
#بلال #شوکت #آزاد
![]()

