عورت کی تخلیق کیسے ہوئی؟ قرآن، صحیح حدیث اور مشہور تصورات کی روشنی میں
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )عورت کی تخلیق کا سوال بظاہر ایک سادہ سوال ہے، لیکن اس کے ساتھ انسانی تاریخ، مذہبی تشریحات، خاندانی تصورات اور عورت کی معاشرتی حیثیت کے کئی پہلو جڑے ہوئے ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ عورت مرد کی پسلی سے پیدا ہوئی، کچھ اسے عورت کی فطرت کی علامت سمجھتے ہیں، جبکہ بعض مشہور باتیں ایسی بھی ہیں جن کی مضبوط دینی دلیل تلاش کرنا ضروری ہے۔
اسلامی نقطۂ نظر سے اس موضوع کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے قرآن کی آیات، پھر رسول اللہ ﷺ کی صحیح احادیث، اس کے بعد مفسرین کی آرا اور آخر میں ان باتوں کا جائزہ لینا چاہیے جو وقت کے ساتھ عام ہوگئیں، لیکن جنہیں قرآن و سنت کی قطعی تعلیم سمجھ لینا درست نہیں۔
اصل مقصد محض یہ جاننا نہیں کہ عورت کی تخلیق کیسے ہوئی، بلکہ یہ بھی سمجھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ابتدا، اس کے تعلقات اور اس کی اخلاقی ذمہ داریوں کے بارے میں کیا تعلیم دی ہے۔
۱۔ قرآن کا بنیادی بیان: ایک جان اور اس کا جوڑا
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: *يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً* ترجمہ: اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا، اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں۔ سورۃ النساء، آیت ۱ یہ آیت انسانیت کی ابتدا کے بارے میں بنیادی قرآنی بیان ہے۔ اس میں پہلے ایک جان کا ذکر ہے، پھر اس کے جوڑے کا، اور اس کے بعد نسلِ انسانی کے پھیلاؤ کا بیان آتا ہے۔
جمہور مفسرین نے *نَفْسٍ وَاحِدَةٍ* سے مراد حضرت آدم علیہ السلام اور *زَوْجَهَا* سے مراد حضرت حوا علیہا السلام لی ہے۔ اس تشریح کے مطابق انسانیت کی ابتدا ایک مرد اور اس کی زوجہ سے ہوئی۔ اسی مضمون کی تائید سورۃ الاعراف، آیت ۱۸۹ میں بھی ہوتی ہے، جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے انسانوں کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ وہ اس کے ساتھ سکون حاصل کرے۔ یہاں ایک اہم بات قابلِ توجہ ہے: قرآن تخلیق کے بیان کو انسانی تعلق اور خاندانی زندگی کے ساتھ جوڑتا ہے۔ مرد اور عورت کا رشتہ محض جسمانی تعلق نہیں، بلکہ ازدواجی سکون اور مشترکہ زندگی کا بھی ذریعہ ہے۔
۲۔ کیا حضرت حوا علیہا السلام کو حضرت آدم علیہ السلام کی پسلی سے پیدا کیا گیا؟
اس سوال کا جواب سمجھنے کے لیے قرآن اور حدیث کے بیانات میں فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ قرآن کی مذکورہ آیات میں یہ صراحت نہیں کہ حضرت حوا علیہا السلام کو حضرت آدم علیہ السلام کی کون سی ہڈی یا کس پسلی سے پیدا کیا گیا۔ البتہ صحیح احادیث میں عورت کے پسلی سے پیدا کیے جانے کا ذکر موجود ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: *اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ، فَإِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ۔* ترجمہ: عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وصیت قبول کرو، کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے۔ صحیح البخاری، حدیث ۳۳۳۱؛ صحیح مسلم، حدیث ۱۴۶۸۔
اس حدیث کا مرکزی پیغام عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے تخلیق کے ذکر کو اس ہدایت کے ساتھ بیان کیا کہ عورتوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے۔ بہت سے علماء نے اس حدیث کو حضرت حوا علیہا السلام کی تخلیق سے متعلق سمجھا ہے۔ ان کے نزدیک حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت حوا علیہا السلام کی تخلیق مراد ہے۔ بعض اہلِ علم نے حدیث کے سیاق اور اس کے اخلاقی پیغام پر توجہ دیتے ہوئے پسلی کی مثال کو عورتوں کے ساتھ برتاؤ کی تعلیم کے طور پر بھی بیان کیا ہے۔ یہاں احتیاط ضروری ہے: حدیث کے الفاظ کو نظر انداز کرنا درست نہیں، لیکن اس میں موجود ہر تفصیل کے بارے میں ایسی بات بھی نہیں کہنی چاہیے جو روایت میں بیان ہی نہیں ہوئی۔
۳۔ پسلی سے متعلق حدیث کی تشریح کیا ہے؟
صحیح مسلم کی روایت میں رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کے بارے میں فرمایا کہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے، اور پسلی کا سب سے زیادہ ٹیڑھا حصہ اس کا بالائی حصہ ہے۔ پھر آپ ﷺ نے عورتوں کے ساتھ بھلائی کرنے کی تاکید فرمائی۔ صحیح مسلم، حدیث ۱۴۶۸۔ اس روایت کو سمجھتے ہوئے دو پہلو الگ رکھنا ضروری ہیں۔ پہلا پہلو تخلیق سے متعلق ہے۔ جمہور علماء نے اس روایت کو حضرت حوا علیہا السلام کی تخلیق کے ساتھ مربوط کیا ہے۔ ان کے نزدیک یہ حضرت آدم علیہ السلام سے ان کی تخلیق کی وضاحت کرتی ہے۔ دوسرا پہلو ازدواجی تعلقات سے متعلق ہے۔ حدیث کا سیاق عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید کرتا ہے۔ اس سے یہ تعلیم ملتی ہے کہ ازدواجی زندگی میں دوسرے انسان کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش، سختی اور مسلسل سرزنش تعلق کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ عورت کی ہر بات درست ہے یا کسی بھی غلط رویے پر تنقید نہیں کی جاسکتی۔ اسی طرح مرد کی ہر بات کو بھی محض اس کی جنس کی بنیاد پر درست نہیں کہا جاسکتا۔ دونوں کو حق، انصاف اور اخلاق کی پابندی کرنی ہے۔ حدیث سے عورت کی تحقیر یا اس کی عقل و صلاحیت کو کمتر قرار دینے کا عمومی اصول اخذ کرنا بھی درست نہیں۔ اس میں واضح طور پر عورتوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
۴۔ کیا پسلی کی تعداد، سمت یا جگہ معلوم ہے؟
عام گفتگو میں بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت حوا علیہا السلام کو حضرت آدم علیہ السلام کی بائیں پسلی سے پیدا کیا گیا، یا کسی خاص تعداد میں پسلیاں نکالی گئیں۔ لیکن قرآن کی مذکورہ آیات اور صحیح احادیث کے حوالے سے ان مخصوص تفصیلات کو قطعی طور پر ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ معتبر دینی تحقیق کا تقاضا ہے کہ جہاں نص خاموش ہو وہاں اپنی طرف سے تفصیلات شامل نہ کی جائیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ہر مشہور قصے کو حدیث کا درجہ نہ دیا جائے۔ کسی بات کا پرانی کتاب میں موجود ہونا، عوام میں رائج ہونا یا کسی مقرر کا بیان کردینا اس کی صحت کی ضمانت نہیں۔
اگر کسی روایت میں تخلیق کی مزید تفصیلات بیان ہوں تو اس کی سند، ماخذ اور اہلِ علم کی تحقیق دیکھنا ضروری ہوگا۔ جب تک اس کی حیثیت واضح نہ ہو، اسے یقینی اسلامی عقیدہ بنا کر پیش نہیں کرنا چاہیے۔
۵۔ کیا عورت مرد سے کم تر پیدا کی گئی؟
یہ سوال تخلیق کے موضوع سے آگے بڑھ کر انسانی قدر و منزلت سے تعلق رکھتا ہے۔ قرآن انسانوں کی فضیلت کا معیار محض جنس، خاندان یا جسمانی ساخت کو قرار نہیں دیتا، بلکہ تقویٰ اور اخلاقی ذمہ داری کو اہمیت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: *إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ* ترجمہ: بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے۔ سورۃ الحجرات، آیت ۱۳۔
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ کے نزدیک اصل فضیلت کا معیار تقویٰ ہے۔ کسی انسان کی تخلیقی ابتدا کو اس کی مجموعی اخلاقی حیثیت کا فیصلہ نہیں بنایا جاسکتا۔ قرآن میں مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے ایمان، نیک اعمال، صبر، صدق، عبادت اور اللہ کی اطاعت کا ذکر آتا ہے۔ سورۃ الاحزاب، آیت ۳۵ میں مردوں اور عورتوں کی متعدد اخلاقی و ایمانی صفات الگ الگ بیان کرکے دونوں کے لیے مغفرت اور اجرِ عظیم کا وعدہ کیا گیا ہے۔ یہ بیان اس خیال کی نفی کرتا ہے کہ عورت محض عورت ہونے کی وجہ سے اللہ کی قربت یا نیک اعمال کے اجر سے کم حصے کی مستحق ہے۔
۶۔ کیا عورت کی تخلیق کا مقصد صرف مرد کی خدمت ہے؟
قرآن سورۃ الاعراف، آیت ۱۸۹ میں زوجیت کے بیان کے ساتھ سکون کا ذکر کرتا ہے۔ اس سے ازدواجی تعلق کی ایک بنیادی حکمت سامنے آتی ہے، لیکن قرآن عورت کے وجود کو صرف مرد کی خدمت تک محدود نہیں کرتا۔ عورت بھی اللہ کی بندہ ہے، اس کی اپنی اخلاقی ذمہ داریاں ہیں، وہ نیک اعمال کرسکتی ہے، علم حاصل کرسکتی ہے، حق و باطل میں فرق کرسکتی ہے اور اپنے عمل کے لیے اللہ کے سامنے جواب دہ ہے۔ ازدواجی زندگی میں مرد اور عورت ایک دوسرے کے حقوق ادا کرتے ہیں۔ خاندان میں ذمہ داریوں کی تقسیم، حقوق اور شرعی احکام کے تفصیلی مسائل اپنی جگہ اہم ہیں، مگر کسی عورت کی انسانی قدر کو محض اس کی گھریلو خدمات سے ناپنا درست نہیں۔ اسی طرح عورت کی عزت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اس کے ساتھ ناانصافی نہ کی جائے، اس کی جائز ضروریات کو اہمیت دی جائے اور اختلاف کی صورت میں اس کی بات سنی جائے۔
۷۔ تخلیق کے بارے میں قرآن سے کیا سیکھنا چاہیے؟
عورت کی تخلیق کے موضوع پر غور کرتے ہوئے تین اصول نمایاں ہوتے ہیں۔
*پہلا اصول: وحی کے بیان اور غیر ثابت قصوں میں فرق۔* قرآن اور صحیح حدیث کو بنیادی ماخذ بنایا جائے، جبکہ غیر مستند تفصیلات کو دین کی یقینی تعلیم قرار دینے سے گریز کیا جائے۔
*دوسرا اصول: تخلیق کو تحقیر کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔* پسلی سے متعلق حدیث کو عورت کے خلاف طعنہ یا اس کی شخصیت پر حملے کے لیے استعمال کرنا اس کی حسنِ سلوک کی تاکید کے خلاف ہے۔
*تیسرا اصول: انسانی تعلقات میں رحمت اور انصاف۔* مرد اور عورت کے درمیان اختلاف ہوسکتا ہے، مگر اختلاف کا مطلب توہین، جبر یا حقوق کی پامالی نہیں۔ قرآن و سنت کی رہنمائی انسان کو اپنی خواہش کے بجائے اخلاقی ذمہ داری کے مطابق برتاؤ کرنا سکھاتی ہے۔
نتیجہ
قرآن کے مطابق انسانیت کی ابتدا ایک جان اور اس کے جوڑے سے ہوئی، اور جمہور مفسرین نے اس سے حضرت آدم اور حضرت حوا علیہما السلام مراد لیے ہیں۔ صحیح احادیث میں عورت کی تخلیق کے بارے میں پسلی کا ذکر موجود ہے، جسے بہت سے علماء حضرت حوا علیہا السلام کی تخلیق سے متعلق سمجھتے ہیں۔ تاہم قرآن و حدیث سے ایسی مخصوص تفصیلات ثابت نہیں ہوتیں جن میں پسلی کی سمت، تعداد یا مقام کا تعین کیا جائے۔ اس لیے ان کے بارے میں یقین کے ساتھ دعویٰ کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
اس موضوع کا ایک نہایت اہم اخلاقی پہلو بھی ہے: تخلیق کا بیان عورت کی تحقیر کا جواز نہیں، بلکہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث میں عورتوں کے ساتھ اچھے برتاؤ کی واضح تاکید موجود ہے۔ کسی انسان کی قدر کا فیصلہ اس کی تخلیق کی ترتیب سے نہیں، بلکہ اللہ کی ہدایت کے مطابق اس کے ایمان، تقویٰ اور عمل سے متعلق ہے۔ عورت کی تخلیق کے بارے میں علمی گفتگو اسی وقت متوازن رہتی ہے جب ہم نصوص کا احترام کریں، غیر ثابت باتوں کو حقیقت نہ بنائیں اور دینی تعلیمات کو انسانوں کے حقوق اور اخلاقی ذمہ داریوں سے جدا نہ کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں علم کے ساتھ انصاف، اختلاف میں ادب اور اپنے تمام معاملات میں قرآن و سنت کی صحیح پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔