Daily Roshni News

غزوہ تبوک  ۔۔۔۔ انتخاب ۔۔۔  چوہدری محمد اصغر

۔۔۔۔۔۔  غزوہ تبوک  ۔۔۔۔۔۔

انتخاب ۔۔۔  چوہدری محمد اصغر

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔۔  غزوہ تبوک  ۔۔۔۔ انتخاب ۔۔۔  چوہدری محمد اصغر)غزوۂ تبوک کا سفر تھا۔ لشکر ایک پرانی وادی میں اترا، لوگوں نے وہاں کے کنوؤں سے پانی بھرا اور آٹا گوندھ لیا۔ تبھی رسول اللہ ﷺ کا حکم آیا: ہانڈیاں الٹ دو، آٹا اونٹوں کو ڈال دو۔

یہ وادیٔ حِجر تھی، قومِ ثمود کا دیار۔ اور یہ حکم ایک ایسی قوم کی یاد دہانی تھا جس کا قصہ محض تاریخ نہیں، ایک تنبیہ ہے۔

ثمود ایک قدیم عرب قبیلہ تھا جو اپنے جدِ امجد ثمود کے نام سے مشہور ہوا۔ امام ابن کثیرؒ اس کا نسب یوں بیان کرتے ہیں: ثمود بن عابر بن ارم بن سام بن نوح۔

یہ قبیلہ عرب عاربہ (یعنی قدیم ترین اصل عرب قبائل) میں شمار ہوتا تھا اور وادیٔ حجر میں آباد تھا، جو حجاز اور تبوک کے درمیان واقع ہے۔

یہ لوگ بت پرست تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہی میں سے ایک شخص، حضرت صالح علیہ السلام، کو ان کی ہدایت کے لیے نبی بنا کر بھیجا۔ آپ نے قوم کو ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی اور بتوں کو چھوڑنے کا کہا۔

کچھ لوگ ایمان لے آئے، مگر اکثریت نے انکار کر دیا۔ اور بات انکار پر نہیں رکی۔ انہوں نے قول اور عمل دونوں سے حضرت صالح علیہ السلام کی مخالفت کی، یہاں تک کہ ان کے قتل کے درپے ہو گئے۔

اللہ تعالیٰ نے ان پر حجت تمام کرنے کے لیے ایک اونٹنی بطور معجزہ ان کے درمیان بھیجی۔ ایک ایسی کھلی نشانی جسے جھٹلانے کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ قرآن کہتا ہے:

ترجمہ: “اور ہم نے ثمود کو اونٹنی دی جو آنکھیں کھول دینے والی نشانی تھی، مگر انہوں نے اس کے ساتھ ظلم کیا۔”

 (سورۃ الاسراء، آیت ۵۹)

ظلم یہ تھا کہ انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا۔ ابن کثیرؒ لکھتے ہیں کہ یہ کام قوم کے رئیس قُدار بن سالف نے کیا تھا۔

رسول اللہ ﷺ نے ایک خطبے میں اس شخص کا ذکر یوں فرمایا:

ترجمہ: “اس (اونٹنی) کے لیے ایک ایسا آدمی اٹھا جو زورآور، سرکش اور اپنے قبیلے میں محفوظ تھا۔”

 (صحیح بخاری، حدیث ۴۹۴۲)

“اپنے قبیلے میں محفوظ” یہی اس قصے کی کنجی ہے۔ ہاتھ ایک شخص کا تھا، مگر اس کے پیچھے پورے قبیلے کی پشت پناہی تھی۔

اسی لیے ابن کثیرؒ کہتے ہیں کہ جرم اگرچہ قدار نے کیا، مگر اس کی سزا پوری قوم نے بھگتی۔ کیونکہ جو قوم اپنے مجرم کی ڈھال بن جائے، وہ اس کے جرم میں شریک ہو جاتی ہے۔

پھر عذاب آیا، اور ثمود کا نام ہمیشہ کے لیے عبرت بن گیا۔ مگر اللہ نے ان لوگوں کو بچا لیا جو حضرت صالح علیہ السلام پر ایمان لائے تھے:

ترجمہ: “اور ہم نے ان لوگوں کو بچا لیا جو ایمان لائے تھے اور تقویٰ اختیار کرتے تھے۔”

 (سورۃ حٰم السجدہ، آیت ۱۸)

قرآن مجید میں ثمود کا ذکر سورۃ الاعراف، ہود، حجر، شعراء، نمل، قمر اور شمس سمیت کئی سورتوں میں بار بار آیا ہے۔ ایک ہی قوم کا بار بار ذکر اس بات کی علامت ہے کہ یہ سبق ایک بار پڑھ کر بھلا دینے کا نہیں۔

اب واپس تبوک کی طرف چلتے ہیں۔

صدیوں بعد جب رسول اللہ ﷺ اسی وادی سے گزرے اور صحابہ نے ثمود کے کنوؤں سے پانی لیا، تو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ وہ پانی بہا دیا جائے، اس سے گوندھا ہوا آٹا اونٹوں کو کھلا دیا جائے، اور اس کنویں سے پانی لیا جائے جس سے حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی پیا کرتی تھی۔

اور آپ ﷺ نے فرمایا:

ترجمہ: “ان عذاب پانے والوں (کی بستیوں) میں داخل نہ ہو، مگر اس حال میں کہ تم رو رہے ہو۔”

 (صحیح بخاری، حدیث ۴۳۳)

یعنی عذاب کی جگہ سیرگاہ نہیں۔ وہاں سے گزرنا پڑے تو دل میں خوف ہو اور آنکھ میں آنسو، تاکہ جو ان پر آیا، وہ ہم پر نہ آئے۔

آج ہمارے معاشرے میں بھی “اپنے قبیلے میں محفوظ” لوگ کم نہیں۔ جرم سب کے سامنے ہوتا ہے، مگر برادری، جماعت یا اثر و رسوخ مجرم کو بچا لیتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اس اکیلے کا معاملہ ہے۔

ثمود کا قصہ بتاتا ہے کہ ایسا نہیں ہوتا۔ طاقتور کے ظلم پر خاموشی اور اس کی حمایت، دونوں شراکت ہیں۔ اور جب انجام آتا ہے تو وہ صرف مجرم کے دروازے پر نہیں رکتا۔

ثمود نے ایک اونٹنی کو مارا تھا، مگر حقیقت میں انہوں نے اپنی آخری مہلت کو مار ڈالا تھا۔

تاریخ کی اگلی کڑی کے لیے پیج فالو کریں۔

ماخذ: البدایہ والنہایہ، امام ابن کثیرؒ، جلد اول (اردو ترجمہ)، صفحات ۱۵۶–۱۵۸

Loading