ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )لاجواب شاعر اور دیرینہ دوست جناب شاہد ماکلی کو ان کے نئے شعری مجموعے ” تجاذب” کی اشاعت پر ڈھیروں مبارک باد۔ شاہد ماکلی کا آہنگ اور اسلوب معاصر سخن وراں سے نہایت منفرد اور جداگانہ ہے۔ انھوں نے اپنی شاعری میں جس طرح طبیعیاتی اور غیر طبیعیاتی عوامل کو بھرپور ادبی رچاؤ کے ساتھ منطبق کیا ہے، شاید اردو ادب میں اس کی کوئ دوسری مثال ہی موجود نہ ہو۔ اور یہی بات انھیں نہ صرف اپنے ہم عصراں سے بلکہ متقدمین سے بھی ممتاز بناتی ہے۔ شاہد ماکلی کے تخیل کا انسان محض اس زمین ہی پر موجود نہیں بلکہ کائنات میں موجود تمام سیارگاں پر سانس لیتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاہد ماکلی نے کائنات میں موجود ہر ذرے کے اندر ازخود موجود ایک کائنات کی سیر کی ہے اور اپنی شاعری کے ذریعے دوسرے انسانوں کو اس کی خبر دے رہے ہیں یا پھر ان کائناتوں کی تصاویر بنانے کی کوشش میں مگن ہیں۔ شاہد ماکلی کے ہاں محبت کا تصور بھی عام تصورات سے نہایت مختلف ہے۔ ان کے نزدیک محبت بھی اسی کشش کا نام ہے جو اجرام فلکی کے مابین موجود ہونے کی وجہ سے کائنات کا یہ نظام قائم و دائم ہے۔ عین اسی طرح محبت بھی اسی کشش کے تابع ہے جو احساس اور روح کے نادیدہ تاروں کو بدن کے کھونٹے سے باندھے رکھتی ہے۔ گویا ان کے ہاں محبت بھی کسی بے ترتیبی یا لا ابالی پن کا نہیں بلکہ ایک نظم کا نام ہے۔
شاہد ماکلی کے نزدیک انسانی فکر ایک لافانی چیز ہے لیکن غیر مرئی بالکل نہیں۔ وہ تخیل کی آوارگی کو ایسا براق تصور کرتے ہیں جس کی رفتار روشنی یا کرن سے زیادہ ہے۔ اور اگر یہ براق چاہے تو اپنے سوار کو پلک جھپکنے جتنے وقت میں کائنات کے ایک ایک گوشے سے متعارف کرا سکتا ہے بشرطیکہ سوار اس کی اہلیت رکھتا ہو۔ شاہد ماکلی زمان و مکاں کی ترتیب اور قید سے ماورا ہو کر اس حدود کو پھلانگنا چاہتے ہیں ۔ کہ یہ قید محض جسم کے لیے ممکن ہے، تخیل کے لیے نہیں۔ اور جب جسم خود ہی تخیل میں ڈھل جائے تو پھر کیسی قید وبند۔ یہی وہ فکر ہے جو وحدت الوجود کے فلسفے کو ایک نیا زاویہ عطا کرتی اور فکر کے نت نئے در وا کرتی ہے۔ یعنی محض ایک جست میں فنا کے تمام مدارج کو طے کر لینا گویا شاہد ماکلی نے ممکن بنا دیا ہے۔ ” تجاذب” میں موجود شاعری ایک بڑے کینوس کی تصویر کشی ہے اور میں تمام صاحبان فکر سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ پہلی فرصت میں اس کتاب سے فیض یاب ہوں۔ بلاشبہ مذکورہ کتاب بجائے خود ایک انتخاب ہے تاہم اس انتخاب کا نہایت مختصر حصہ قارئین کی تفنن طبع کے لیے پیش کر رہا ہوں۔