ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ محوری گردش اور طولانی گردش۔۔۔ انتخاب ۔ محمد جاوید عظیمی)حاصل تفکر :زندگی کی جو بھی حالت مظہر بن کر ابھرتی ہے، اس کی پوری ساخت بنیادی طور پر دو رخوں پر قائم ہے:
محوری حرکت:یہ زندگی کا وہ پہلا رخ ہے جسے لاشعور کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد زندگی کے وہ لطیف نقوش ہیں جو زمان میں اپنی خالص حالت میں پہلے سے موجود ہیں۔
طولانی حرکت:یہ زندگی کا دوسرا رخ ہے جسے شعور کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد لاشعور میں موجود لطیف نقوش کا اسپیس (Space) کے پردے پر ٹھوس صورت میں ظاہر ہونا اور کائناتی سفر کو آگے بڑھانا ہے۔
یہ دونوں حرکات کائناتی سطح پر ہر لمحہ کشش و گریز (Attraction and Repulsion) کی صورت میں جاری و ساری رہتی ہیں۔
قرآنِ حکیم کائنات کے اس مربوط نظام کو نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ کے مفہوم سے بیان فرماتا ہے۔
یہ دونوں حرکات ایک دوسرے سے الگ کام نہیں کرتیں، بلکہ باہم مل کر زندگی کے نظام، نسمۂ مفرد (تصور کے درجے) اور نسمۂ مرکب (مادی مظہر کے درجے)، کے ظہور کا بنیادی سبب بنتی ہیں۔
انسان کے باطن میں جاری اطلاعات کے سفر کا یہی تسلسل ظاہری اسپیس میں زندگی کے مظہر بننے کا باعث بنتا ہے۔
کائناتی ارتقاء کے اس عمل میں ایک سمت وہ ہے جہاں زندگی صعود (Ascent) کے ذریعے اپنی اصل مرکزیت کی طرف متوجہ ہوتی ہے،
جبکہ دوسری سمت وہ ہے جہاں زندگی مرکزیت سے دور نزول (Descent) کرتے ہوئے ظاہری وجود کی صورت اختیار کرتی ہے۔
یوں محوری و طولانی حرکت، کشش و گریز، صعود و نزول کائناتی نظام کے باہم مربوط رخ ہیں، جو مل کر کائنات کے تمام مادی و غیر مادی مظاہر کو تشکیل دیتے ہیں۔