Daily Roshni News

مرو کا عسکری قلعہ، سیاہ خضاب اور راکھ کے نیچے سلگتی چنگاریاں (129 ہجری / 747 عیسوی)

مرو کا عسکری قلعہ، سیاہ خضاب اور راکھ کے نیچے سلگتی چنگاریاں (129 ہجری / 747 عیسوی)

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)129 ہجری کی سردیں۔ وسطی ایشیا کے تاریخی شہر مرو (Marw) کے مستحکم قلعے کی فصیل پر ایک 83 سالہ عرب سالار کھڑا تھا۔ اس کا قد دراز، جسم ہڈیوں کا ایک مضبوط ڈھانچہ اور چہرہ خراسان کی دہائیوں پر محیط کٹھن مہمات کے باعث جھلسا ہوا تھا۔ عمر کی اس طوالت کے باوجود، اس نے اپنے بالوں اور گھنی داڑھی پر گہرا سیاہ خضاب لگا رکھا تھا تاکہ اس کے مخالفین، خاص طور پر باغی دھڑے، اس کی عسکری صلاحیت کو کمزور نہ سمجھیں۔ یہ اموی سلطنت کا آخری اور سب سے تجربہ کار خراسانی وائسرائے، نصر بن سیار الکنانی تھا۔

اس وقت قلعے کے باہر، مرو کے مضافاتی دیہاتوں میں ایک غیر معروف شخص، ابو مسلم خراسانی، نے کالے جھنڈے بلند کر دیے تھے اور مقامی کسانوں، موالیوں اور باغی عربوں کو اموی سلطنت کے خلاف مسلح کر رہا تھا۔ نصر بن سیار نے زمینی حقائق کا فوری عسکری تجزیہ کیا۔ اس نے دمشق میں موجود خلیفہ مروان ثانی (مروان الحمار) کو اموی تاریخ کا سب سے مشہور اور سنگین عسکری انتباہ ایک خط (اشعار) کی صورت میں روانہ کیا:

“میں راکھ کے ڈھیر کے نیچے سلگتی ہوئی چنگاریاں دیکھ رہا ہوں، جو جلد ہی ایک ہولناک آگ بن کر بھڑک اٹھیں گی۔ آگ دو لکڑیوں کی رگڑ سے پیدا ہوتی ہے، اور جنگ کا آغاز الفاظ سے ہوتا ہے۔ میں حیران ہوں، اور پوچھتا ہوں… کیا بنو امیہ جاگ رہے ہیں، یا گہری نیند سو چکے ہیں؟”

خلیفہ کی طرف سے کوئی کمک نہیں آئی، کیونکہ دمشق خود خانہ جنگی کا شکار تھا۔ نصر بن سیار کو 80 سال سے زائد کی عمر میں، ایک ٹوٹتی ہوئی سلطنت، منقسم فوج اور تاریخ کے سب سے بڑے منظم انقلاب کا اکیلے اور اپنی شمشیر کے زور پر سامنا کرنا پڑا۔

نصر بن سیار کا تعلق قبیلہ بنو کنانہ (مضری دھڑے) سے تھا۔ وہ کوئی شاہی دربار کا پروردہ بیوروکریٹ نہیں تھا، بلکہ خالصتاً ایک میدانی سالار تھا۔ اس نے اپنی جوانی قتیبہ بن مسلم کے ساتھ خراسان اور ماوراء النہر کی فتوحات میں گزاری تھی۔ اس نے 105 ہجری میں ‘یوم العطش’ (Day of Thirst) اور 113 ہجری میں ‘درے کی جنگ’ (Battle of the Defile) جیسی ہولناک اور خونریز پسپائیوں میں عسکری بقا (Survival) کی جنگ لڑی تھی، جہاں تورگیش (Turgesh) ترکوں نے اموی فوج کو گھیرے میں لے لیا تھا۔

120 ہجری (738 عیسوی) میں، جب خراسان تورگیش ترکوں کے مسلسل حملوں اور اندرونی بغاوتوں کی وجہ سے سلطنت کے ہاتھ سے نکل رہا تھا، تو خلیفہ ہشام بن عبد الملک نے 74 سال کی عمر میں نصر بن سیار کو خراسان کا والی مقرر کیا۔ خلیفہ کو ایک ایسے کمانڈر کی ضرورت تھی جو مقامی جغرافیہ، جنگی حربوں اور قبائلی سیاست کا ماہر ہو۔

گورنری کا چارج سنبھالتے ہی نصر بن سیار نے دو محاذوں پر کام شروع کیا:

عسکری محاذ: اس نے خراسان کی بکھری ہوئی فوج کو منظم کیا اور دریائے سیحون کے پار تورگیش خاقان، ‘کورسول’ (Kursul)، پر فیصلہ کن حملہ کیا۔ نصر کے ہراول دستوں نے تورگیش فوج کو شکست دی، کورسول کو گرفتار کر کے قتل کیا اور ماوراء النہر میں اموی سرحدوں کو دوبارہ مستحکم کیا۔ اس کے ساتھ ہی اس نے 13 سال سے جاری ‘حارث بن سریج’ کی بغاوت کو عسکری دباؤ کے ذریعے پسپا کیا۔

مالیاتی انجینئرنگ (دیوانِ خراج کی اصلاح): نصر نے خراسان کا دورہ کر کے دیکھا کہ ٹیکس کا نظام مکمل طور پر کرپٹ ہو چکا ہے۔ مقامی دہقان (جاگیردار) 80,000 غیر مسلموں سے جزیہ وصول نہیں کر رہے تھے، جبکہ 30,000 نومسلموں (موالی) پر جزیہ مسلط تھا۔ نصر نے 121 ہجری میں ایک انقلابی فرمان جاری کیا: تمام نومسلموں کا جزیہ مکمل طور پر معاف کر دیا گیا اور غیر مسلموں پر اسے سختی سے نافذ کیا گیا۔ اس نے زمین کا ٹیکس (خراج) تمام زمینداروں پر مساوی لاگو کیا۔ اس ایک انتظامی فیصلے نے خراسان میں بغاوت کی بنیادوں کو عارضی طور پر ختم کر دیا۔

125 ہجری میں خلیفہ ہشام بن عبد الملک کے انتقال کے بعد اموی مرکزیت ٹوٹ گئی (جسے تیسرا فتنہ کہا جاتا ہے)۔ اس کا براہ راست اثر خراسان کی فوج پر پڑا، جو دو بڑے قبائلی دھڑوں میں تقسیم ہو گئی:

مضری / قیسی قبیلہ: جس کی قیادت نصر بن سیار کے پاس تھی۔

یمنی قبیلہ: جس کا سربراہ ‘جدیع الکرمانی’ (Juday al-Kirmani) تھا۔

الکرمانی نے نصر کی اطاعت سے انکار کر دیا اور مرو شہر میں یمنی جنگجوؤں کو متحرک کر کے کھلی بغاوت کر دی۔ نصر نے اپنے مضری دستوں کے ساتھ کرمانی کا محاصرہ کیا، اسے گرفتار کر کے مرو کے قلعے میں قید کر دیا، لیکن کرمانی قید خانے کی دیوار میں شگاف ڈال کر فرار ہو گیا اور اس نے دوبارہ 3,000 سے زائد جنگجو جمع کر لیے۔

اسی دوران، حارث بن سریج بھی وسطی ایشیا سے واپس آ گیا اور اس نے کرمانی کے ساتھ مل کر نصر بن سیار کے خلاف عسکری محاذ کھول دیا۔ 128 ہجری میں مرو کے گرد و نواح میں ان دھڑوں کے درمیان شدید خونی جھڑپیں ہوئیں۔ نصر نے اپنی زرہ پوش فوج کے ساتھ حارث بن سریج کو میدان جنگ میں قتل کر دیا، لیکن کرمانی کے یمنی دستوں کی طاقت برقرار رہی۔ اس قبائلی خانہ جنگی نے اموی فوج کی کمر توڑ دی۔

جب نصر بن سیار اور الکرمانی مرو میں ایک دوسرے کا خون بہا رہے تھے، عین اسی وقت (رمضان 129 ہجری)، ‘سفیذنج’ نامی گاؤں میں ابو مسلم خراسانی نے عباسیوں کے سیاہ پرچم لہرا دیے۔

ابو مسلم نے انتہائی شاطرانہ عسکری حکمت عملی اپنائی۔ اس نے ابتدائی طور پر نصر اور کرمانی کی لڑائی میں غیر جانبدار رہنے کا اعلان کیا تاکہ دونوں عرب دھڑے ایک دوسرے کو کاٹ کر کمزور ہو جائیں۔ نصر بن سیار کی عمر اس وقت 83 سال تھی، لیکن اس کا عسکری دماغ بالکل واضح تھا۔ اس نے فوراً بھانپ لیا کہ یہ کالے جھنڈے مقامی بغاوت نہیں، بلکہ عربوں اور اموی سلطنت کے مکمل خاتمے کا منصوبہ ہیں۔

نصر نے کرمانی کو سفارتی پیغام بھیجا: “ہمارے قبائلی اختلافات کو عارضی طور پر ختم کر دو۔ یہ شخص (ابو مسلم) عربوں کو ذبح کرنے آیا ہے۔ اگر ہم متحد نہ ہوئے، تو وہ ہمیں باری باری ختم کر دے گا۔”

کرمانی اس اتحاد کے لیے مان گیا اور نصر کے کیمپ کی طرف روانہ ہوا، لیکن راستے میں حارث بن سریج کے حامیوں (جو اب نصر کے کیمپ میں تھے) نے پرانے انتقام کی بنا پر کرمانی کو قتل کر دیا اور اس کا سر کاٹ کر نیزے پر بلند کر دیا۔

اس قتل نے یمنی قبائل کو مکمل طور پر ابو مسلم کے کیمپ میں دھکیل دیا۔ ابو مسلم نے کرمانی کے بیٹے ‘علی بن کرمانی’ کو اپنے ساتھ ملایا اور ایک بھاری لشکر کے ساتھ مرو شہر کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔

جمادی الاول 130 ہجری میں ابو مسلم اور یمنی دستوں نے مرو کا محاصرہ کر لیا۔ نصر بن سیار کے پاس صرف چند ہزار وفادار مضری جنگجو بچے تھے، جبکہ دمشق سے خلیفہ مروان ثانی کی طرف سے کوئی کمک نہیں آئی تھی۔

نصر بن سیار نے قلعہ بند ہو کر موت کا انتظار کرنے کے بجائے ‘تزویراتی پسپائی’ (Tactical Retreat) کا فیصلہ کیا۔ اس نے رات کے اندھیرے میں اپنے ذاتی محافظوں، کاتبوں اور وفادار سالاروں کے ساتھ مرو کے مغربی دروازے سے خروج کیا، تاکہ نیشاپور پہنچ کر ایک نئی دفاعی لائن (Defensive Line) قائم کر سکے۔ مرو پر عباسیوں کا قبضہ ہو گیا۔

نیشاپور میں نصر نے دوبارہ خراسانی اور عرب قبائل کو جمع کرنے کی کوشش کی، لیکن ابو مسلم نے اپنے سب سے تیز رفتار اور بے رحم کمانڈر، ‘قحطبہ بن شبیب الطائی’ (Qahtaba ibn Shabib)، کو ایک بڑے زرہ پوش لشکر کے ساتھ نصر کے تعاقب میں بھیج دیا۔ قحطبہ کے دستوں نے طوس اور جرجان کے مقام پر نصر کی صفوں پر بھاری چارج کیا، جس کے نتیجے میں نصر کو مزید پیچھے ہٹنا پڑا۔

85 سالہ نصر بن سیار مسلسل گھوڑے کی پیٹھ پر پسپائی کی جنگ لڑ رہا تھا۔ نیشاپور سے وہ قومس (Qumis)، اور وہاں سے رے (Rayy) کی طرف ہٹا۔ رے میں اسے ہمدان کے اموی گورنر کی طرف سے معمولی سی کمک ملی، لیکن قحطبہ کی فوج کی تعداد اور ان کی رفتار کے سامنے یہ کمک ناکافی تھی۔

رے کے قریب نصر کی فوج اور قحطبہ کے ہراول دستوں کے درمیان ایک آخری جھڑپ ہوئی، جس کے بعد نصر کے کئی جرنیل مارے گئے اور اسے رے کا میدان چھوڑنا پڑا۔ سردیوں کا موسم شروع ہو چکا تھا اور نصر کی جسمانی حالت مسلسل سفر، جنگی تناؤ اور ضعیف العمری کی وجہ سے جواب دے رہی تھی۔

اس نے اپنی بچی کھچی فوج کو لے کر ساوہ (Sawa / Saveh) شہر کا رخ کیا۔

ربیع الاول 131 ہجری (نومبر 748 عیسوی) میں، ساوہ کے مقام پر پہنچنے کے بعد یہ بوڑھا اموی سالار شدید بیمار پڑ گیا۔ اس کا جسم، جس پر قتیبہ بن مسلم کے دور سے لے کر تورگیش جنگوں تک درجنوں تلواروں اور تیروں کے نشانات تھے، مزید سفر کا متحمل نہ ہو سکا۔ دمشق سے کمک کے انتظار میں، ساوہ کے ایک سرد خیمے میں 85 سال کی عمر میں نصر بن سیار کا انتقال ہو گیا۔

اس کی موت کے ساتھ ہی اموی سلطنت کی مشرقی سرحد مکمل طور پر گر گئی۔ نصر کی پیش گوئی کے عین مطابق، وہ چنگاریاں ایک ہولناک آگ بن چکی تھیں، جس نے محض دو سال کے اندر (132 ہجری میں) دریائے زاب کے کنارے خلیفہ مروان ثانی کو شکست دے کر پوری اموی سلطنت کو خاکستر کر دیا۔

تاریخی حوالہ جات:

تاریخ الطبری — محمد بن جریر الطبری (Tarikh al-Tabari — Muhammad ibn Jarir al-Tabari)

الکامل فی التاریخ — ابن الاثیر (Al-Kamil fi al-Tarikh — Ibn al-Athir)

انساب الاشراف — احمد بن یحییٰ البلاذری (Ansab al-Ashraf — Al-Baladhuri)

الفتوح — ابن اعثم الکوفی (Kitab al-Futuh — Ibn A’tham al-Kufi)

البداية والنهاية — حافظ ابن کثیر (Al-Bidaya wa’l-Nihaya — Ibn Kathir)

دی عباسی ریولیوشن — ایم اے شعبان (The ‘Abbasid Revolution — M. A. Shaban)

دی عرب کانکوسٹس اِن سینٹرل ایشیا — ایچ اے آر گب (The Arab Conquests in Central Asia — H. A. R. Gibb)

اگر آپ مملوک سلطنت کے عظیم سلطان الاشرف قايتباي کی پوری کہانی اینیمیشن میں دیکھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔ 👇

Sultan Al-Ashraf Qaitbay Animated Documentary:

https://www.facebook.com/reel/1029234539715652

Loading