Daily Roshni News

مسجد میں پیشاب کرنے والے اعرابی کا واقعہ

مسجد میں پیشاب کرنے والے اعرابی کا واقعہ

نبوی حکمت، تربیت اور نرمی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )مدینہ کی مسجد میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم موجود تھے۔ وہ جگہ جہاں نماز پڑھی جاتی تھی۔ جہاں قرآن کی تلاوت ہوتی تھی۔ جہاں اللہ کا ذکر ہوتا تھا۔ اور جہاں رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب کو دین سکھاتے تھے۔ اچانک ایک اعرابی آیا اور مسجد کے ایک کونے میں کھڑے ہوکر پیشاب کرنے لگا۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے روکنے کے لیے آواز دی۔ یہ فطری ردِعمل تھا۔ مسجد کی حرمت تھی۔ نجاست کا معاملہ تھا۔ اور ایک شخص سب کے سامنے ایک سنگین غلطی کر رہا تھا۔ لیکن اسی لمحے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: *«دَعُوهُ»* “اسے چھوڑ دو۔” صحابہ رک گئے۔ وہ شخص اپنا عمل مکمل کرکے ہٹ گیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس جگہ پر پانی بہانے کا حکم دیا۔ اور ایک دوسری روایت میں آپ ﷺ نے صحابہ کو یہ اصول بھی سمجھایا: *«إِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ، وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ»* “تم آسانی پیدا کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو، سختی پیدا کرنے والے بنا کر نہیں۔”

یہ روایت حضرت انس بن مالک اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے اور صحیح بخاری و صحیح مسلم میں موجود ہے۔ **صحیح بخاری، حدیث ۲۱۹، ۲۲۰؛ صحیح مسلم، حدیث ۲۸۴ب، ۲۸۵۔**

ایک غلطی، مگر دو ممکنہ راستے

اس واقعے میں ایک طرف اعرابی کی غلطی تھی۔ دوسری طرف اس غلطی پر لوگوں کا فوری ردِعمل۔ اور تیسری طرف رسول اللہ ﷺ کی حکمت۔ یہاں ایک بنیادی تربیتی اصول سامنے آتا ہے: *غلطی کو روکنا اور غلطی کرنے والے کو توڑ دینا ایک چیز نہیں۔* رسول اللہ ﷺ نے غلطی کو درست کیا، لیکن غلطی کرنے والے انسان کو ذلت کا نشانہ نہیں بنایا۔ آپ ﷺ نے نہ اسے گالیاں دیں۔ نہ اسے سب کے سامنے رسوا کیا۔ نہ اس پر چیخ کر ماحول کو مزید خراب کیا۔ آپ ﷺ نے پہلے یہ دیکھا کہ اس لمحے *کون سا قدم نقصان کم کرے گا اور اصلاح کا امکان زیادہ رکھے گا۔* یہی نبوی حکمت ہے۔

اگر اسے فوراً روک دیا جاتا تو کیا ہوتا؟

غور کیجیے۔ ایک شخص مسجد میں پیشاب کر رہا ہے۔ لوگ اسے روکنے کے لیے اس کی طرف بڑھتے ہیں۔ اگر وہ اچانک حرکت کرتا تو پیشاب مسجد کے مزید حصے میں پھیل سکتا تھا۔ جگہ زیادہ آلودہ ہوسکتی تھی۔ اور ممکن تھا کہ وہ شخص خوف، شرمندگی یا گھبراہٹ میں مزید نقصان پیدا کردیتا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس لمحے *کم نقصان والا راستہ* اختیار کیا۔ اسے مکمل کرنے دیا۔ پھر پانی ڈال کر جگہ پاک کرادی گئی۔ صحیح بخاری کی روایت میں صراحت ہے کہ آپ ﷺ نے ایک ڈول یا برتن پانی بہانے کا حکم دیا۔ یہ صرف نرمی نہیں تھی۔ یہ *صورتِ حال کا درست اندازہ* تھا۔

نرمی کا مطلب غلطی کو درست نہ کرنا نہیں

آج کبھی کبھی نرمی کو غلط معنی میں لیا جاتا ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نرم ہوں گے تو شاید غلطی کو غلط نہ کہیں۔ یہ واقعہ اس تصور کی اصلاح کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں پیشاب کرنے کے عمل کو درست قرار نہیں دیا۔ آپ ﷺ نے مسجد کی پاکیزگی بھی بحال کرائی۔ یعنی: *غلطی بھی درست ہوئی اور انسان بھی محفوظ رہا۔* یہی متوازن تربیت ہے۔ اصلاح کا مقصد صرف یہ نہیں کہ غلطی رک جائے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ *انسان آئندہ وہ غلطی دوبارہ نہ کرے۔*

پھر رسول اللہ ﷺ نے تعلیم کیسے دی؟

جب وہ شخص اپنا عمل مکمل کرچکا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا۔ صحیح مسلم کی روایت میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے اسے سمجھایا: مسجدیں اس مقصد کے لیے نہیں ہیں۔ یہ اللہ کے ذکر، نماز اور قرآن کے لیے ہیں۔ غور کیجیے، رسول اللہ ﷺ نے اسے بنیادی بات سمجھائی۔ اسے صرف یہ نہیں کہا: “تم نے گندگی کردی۔” بلکہ اسے بتایا: *مسجد ہے کس لیے؟* یہ تربیت کا نہایت خوبصورت اصول ہے۔ صرف غلطی بتانے کے بجائے *صحیح طریقہ بھی بتانا*۔

ایک شخص کی لاعلمی کو اس کا کردار نہ بنا دیں

یہ اعرابی شاید مسجد کے آداب سے پوری طرح واقف نہیں تھا۔ وہ مدینہ کا مستقل رہنے والا بھی نہیں تھا۔ ممکن ہے اس کے ذہن میں مسجد کا تصور ہی مختلف ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی ایک غلطی کو دیکھ کر اسے مکمل طور پر “برا آدمی” قرار نہیں دیا۔ یہ ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ کسی انسان سے غلطی ہو تو فوراً اس کی پوری شخصیت کا فیصلہ نہ کریں۔ ایک غلط عمل کا مطلب ہمیشہ یہ نہیں ہوتا کہ انسان ہی خراب ہے۔ کبھی انسان *جاہل ہوتا ہے*۔ کبھی *غافل ہوتا ہے*۔ کبھی *غلط تربیت کا نتیجہ ہوتا ہے*۔ اور کبھی اسے صرف صحیح طریقہ معلوم نہیں ہوتا۔ تربیت کا پہلا قدم یہ سمجھنا ہے کہ سامنے والے کی غلطی کی جڑ کیا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے ہجوم کے جذبات پر تربیت کو ترجیح دی

اس واقعے کا ایک اور پہلو انتہائی اہم ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی غیرتِ دینی اپنی جگہ درست تھی۔ مسجد کی حرمت ان کے دلوں میں تھی۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس لمحے رکنے کا حکم دیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کا جذبہ غلط تھا۔ بلکہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے درست جذبے کو *درست حکمت کے ساتھ جوڑ دیا۔* یہ فرق آج بہت اہم ہے۔ کسی چیز پر غصہ آنا اور اس غصے کو صحیح طریقے سے استعمال کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔ آپ کے پاس حق ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر حق بیان کرنے کا طریقہ غلط ہو تو اصلاح کے بجائے فساد پیدا ہوسکتا ہے۔

“آسانی پیدا کرو” کا مطلب کیا ہے؟

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “تم آسانی پیدا کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو، سختی پیدا کرنے والے بنا کر نہیں۔” اس جملے کو صرف نرم لہجے تک محدود کرنا درست نہیں۔ آسانی کا مطلب یہ بھی ہے کہ دین کو انسان کے لیے *ناقابلِ عمل بوجھ* نہ بنا دیا جائے۔ جو شخص لاعلم ہے اسے علم دیا جائے۔ جو بھٹک گیا ہے اسے راستہ دکھایا جائے۔ جو گناہ میں مبتلا ہے اسے واپسی کا دروازہ دکھایا جائے۔ جو سوال کررہا ہے اسے ذلیل نہ کیا جائے۔ جو غلطی کررہا ہے اسے سمجھایا جائے۔ لیکن اس آسانی کا مطلب یہ بھی نہیں کہ حرام کو حلال کردیا جائے یا حدود مٹا دی جائیں۔ *آسانی شریعت کے اندر ہے، شریعت سے باہر نہیں۔*

ایک عظیم تربیتی فرق

رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کو پہلے **انسان** سمجھا، پھر اس کی **غلطی** دیکھی۔ ہم اکثر الٹا کرتے ہیں۔ ہم پہلے غلطی دیکھتے ہیں۔ پھر انسان کو اسی غلطی کے نام سے پکارنے لگتے ہیں۔ یہ فرق تربیت کے پورے نتیجے کو بدل دیتا ہے۔ اگر استاد شاگرد کو صرف اس کی غلطی بنا دے تو شاگرد شرمندگی میں بند ہوجاتا ہے۔ اگر والد بچے کو اس کی ایک غلطی سے مکمل طور پر برا قرار دے دے تو بچہ اصلاح کے بجائے ضد اختیار کرسکتا ہے۔ اگر معاشرہ کسی گناہ گار کو ہمیشہ کے لیے گناہ گار ہی سمجھ لے تو واپسی کا راستہ تنگ ہوجاتا ہے۔ نبوی طریقہ انسان کو گناہ سے الگ کرتا ہے۔ *غلطی غلط ہے، مگر انسان کی اصلاح ممکن ہے۔*

یہ واقعہ آج کے معاشرے میں کیوں ضروری ہے؟

آج کسی شخص کی غلطی چند لوگوں تک محدود نہیں رہتی۔ ایک جملہ، ایک تصویر، ایک ویڈیو یا ایک غلط حرکت چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ پھر لوگ تحقیق سے پہلے فیصلہ کرتے ہیں۔ فیصلے کے بعد غصہ آتا ہے۔ غصے کے بعد تذلیل شروع ہوتی ہے۔ اور تذلیل کے بعد انسان کے لیے واپس آنے کا راستہ مشکل کردیا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا یہ واقعہ ہمیں ایک بنیادی سوال دیتا ہے: *کیا ہمارا ردِعمل غلطی ختم کر رہا ہے یا صرف انسان کو رسوا کر رہا ہے؟* اگر مقصد اصلاح ہے تو ہمیں نبوی حکمت کی ضرورت ہے۔

ہر غلطی پر ایک ہی ردِعمل نہیں ہوتا

یہ واقعہ ہمیں حالات کے مطابق ردِعمل اختیار کرنا بھی سکھاتا ہے۔ کبھی غلطی کو فوراً روکنا ضروری ہوتا ہے۔ کبھی فوراً روکنے سے نقصان بڑھ سکتا ہے۔ کبھی خاموشی چند لمحوں کے لیے زیادہ مفید ہوتی ہے۔ کبھی سختی ضروری ہوتی ہے۔ کبھی صرف ایک نرم جملہ کافی ہوتا ہے۔ نبوی تربیت کا حسن یہی ہے کہ اس میں ایک ہی نسخہ ہر انسان اور ہر موقع پر نہیں لگایا جاتا۔ *حکمت یہ ہے کہ صحیح وقت پر صحیح طریقہ اختیار کیا جائے۔*

گھر میں یہ واقعہ ہمیں کیا سکھاتا ہے؟

بچے غلطیاں کریں گے۔ یہ ان کی فطرت ہے۔ اگر ہر غلطی پر چیخا جائے گا تو بچہ ممکن ہے آئندہ غلطی نہ بتائے، لیکن ضروری نہیں کہ غلطی کرنا چھوڑ دے۔ کبھی وہ صرف اسے چھپانا سیکھ جائے گا۔ نبوی تربیت ہمیں سکھاتی ہے کہ بچے کی غلطی کو درست کرتے ہوئے اس کے اندر *سچ بولنے کا حوصلہ* بھی باقی رہنا چاہیے۔ اسے یہ احساس ہونا چاہیے: “میں نے غلط کیا ہے، لیکن میں واپس آسکتا ہوں۔” یہ احساس تربیت کی کامیابی ہے۔

استاد اور شاگرد کے لیے سبق

ایک استاد کے سامنے کم علم طالب علم بیٹھا ہے۔ وہ کوئی غلط بات کہتا ہے۔ استاد کے پاس دو راستے ہیں: اسے سب کے سامنے ذلیل کردے۔ یا اس کی غلطی کو علم حاصل کرنے کا موقع بنا دے۔ دوسرا طریقہ وقت لیتا ہے۔ مگر انسان بناتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی تربیت میں یہی خصوصیت نظر آتی ہے۔ آپ ﷺ صرف معلومات منتقل نہیں کرتے تھے۔ آپ ﷺ *انسان بناتے تھے۔*

مسجد کے ادب کا بھی واضح سبق

اس واقعے کو صرف نرمی کی حدیث سمجھنا بھی ادھورا ہوگا۔ اس میں مسجد کے ادب کی سخت اہمیت بھی واضح ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے جگہ کو پاک کروایا۔ اور فرمایا کہ مسجدیں پیشاب اور گندگی کے لیے نہیں بلکہ اللہ کے ذکر، نماز اور قرآن کے لیے ہیں۔ یعنی نبوی طریقہ یہ ہے: *حرمت قائم رہے، مگر اصلاح حکمت کے ساتھ ہو۔* نہ بے جا سختی۔ نہ بے جا نرمی۔ بلکہ حق اور حکمت کا امتزاج۔

اس اعرابی پر نبوی تربیت کا اثر

یہ بھی قابلِ غور ہے کہ روایت کے بعض طرق میں اس شخص کے ردِعمل سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے رویے سے متاثر ہوا۔ سنن کے ایک مشہور طریق میں اس شخص کی دعا کا ذکر ملتا ہے کہ وہ اپنے لیے اور محمد ﷺ کے لیے رحمت کی دعا کرتا ہے اور دوسروں کو اس میں شریک نہیں کرتا؛ تاہم اس اضافی تفصیل کو اصل بخاری و مسلم روایت کے برابر درجہ نہیں دینا چاہیے۔ اصل واقعہ بہرحال اتنا واضح ہے کہ نبی ﷺ کی حکمت نے ایک ممکنہ ہنگامے کو تعلیم کے موقع میں بدل دیا۔

ایک لمحہ ہمیں پورا تربیتی نظام دے گیا

اس واقعے میں بہت زیادہ الفاظ نہیں۔ ایک آدمی۔ ایک غلطی۔ کچھ صحابہ کا فوری ردِعمل۔ رسول اللہ ﷺ کا روک دینا۔ غلطی مکمل ہونے دینا تاکہ نقصان نہ بڑھے۔ جگہ کو پاک کرنا۔ پھر انسان کو سمجھانا۔ اور آخر میں پوری امت کو ایک اصول دے دینا: *آسانی پیدا کرو، سختی نہ پیدا کرو۔* یہ چند واقعاتی لمحات دراصل تربیت کا پورا فلسفہ اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔

آج اگر ہم اس حدیث کو واقعی سمجھ لیں

تو شاید ہمارے گھروں میں چیخ کم ہوجائے۔ مدارس میں تحقیر کم ہوجائے۔ مساجد میں نئے آنے والے لوگوں کے لیے خوف کم ہوجائے۔ نوجوانوں کے ساتھ گفتگو میں طنز کم ہوجائے۔ اور معاشرے میں ہر غلطی پر انسان کو ہمیشہ کے لیے مجرم قرار دینے کا رجحان کم ہوجائے۔ ہم غلطی کو غلط کہیں گے۔ مگر انسان کے لیے واپسی کا دروازہ کھلا رکھیں گے۔ ہم حدود کی حفاظت کریں گے۔ مگر اصلاح کے لیے حکمت استعمال کریں گے۔ ہم دین کی حرمت قائم رکھیں گے۔ مگر دین کو لوگوں کے لیے نفرت کا نام نہیں بننے دیں گے۔

آخری سبق

مسجد میں پیشاب کرنا یقیناً غلط تھا۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس غلطی کے جواب میں ایسا طریقہ اختیار کیا جس سے مسجد بھی پاک ہوگئی، صحابہ بھی تربیت پا گئے، اور ایک جاہل انسان کو دین سمجھنے کا موقع بھی مل گیا۔ یہی نبوی حکمت ہے۔ *غلطی کو روکنا، مگر انسان کو توڑنا نہیں۔* *حق واضح کرنا، مگر تحقیر کے بغیر۔* *حرمت کی حفاظت کرنا، مگر حکمت کے ساتھ۔* *اور جہاں ممکن ہو، سزا سے پہلے اصلاح کا راستہ کھولنا۔* آج ہمیں شاید اس حدیث کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ کیونکہ ہم میں سے بہت سے لوگ غلطی سے زیادہ *غلطی کرنے والے انسان* سے نفرت کرنے لگے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ ہمیں اس واقعے کے ذریعے یاد دلاتے ہیں: کسی کو غلطی سے نکالنے کے لیے ضروری نہیں کہ پہلے اسے ذلیل کیا جائے۔ کبھی ایک نرم رویہ وہ کام کر دیتا ہے جو چیخ، غصہ اور سختی بھی نہیں کر سکتے۔ اور شاید اسی لیے نبوی تربیت صرف یہ نہیں کہتی: “غلطی مت کرو۔” بلکہ وہ یہ بھی سکھاتی ہے: “اگر کوئی غلطی کرے تو اسے واپس لانے کا راستہ جانتے ہو؟”

یہی *نبوی حکمت* ہے۔

اور یہی وہ نرمی ہے جو انسان کو دین سے دور نہیں کرتی بلکہ دین کے قریب لے آتی ہے۔

Loading