*مشہور افسانہ نگار…ادیب… صحافی وشاعرہ زاہدہ حنا کا یومِ ولادت….5اکتوبر*
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )زاہدہ حنا 5 اکتوبر 1946ء کو صوبہ بہار کے شہر سہسرام میں پیدا ہوئیں۔
زاہدہ حنا کی شادی اکتوبر 1970ء میں مشہور و معروف شاعر جون ایلیا سے ہوئی، تاہم 1990ء میں دونوں میں علیحدگی ہو گئی۔
زاہدہ حنا کو بچپن سے ہی لکھنے پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ نو سال کی عمر میں انہوں نے کہانیاں اور چھوٹے چھوٹے مضامین لکھنے شروع کر دیئے تھے۔ 1962ء میں ان کا پہلا مضمون ماہنامہ ‘انشا’ کراچی میں شائع ہوا۔ اس کے بعد 1964ء میں ان کی پہلی کہانی ماہنامہ ‘ہم قلم’ کراچی میں شائع ہوئی۔
19 برس کی عمر میں وہ صحافت سے وابستہ ہو گئیں۔ زاہدہ حنا نے کچھ عرصہ بی بی سی اور وائس آف امریکہ کی اردو سروس میں بھی کام کیا۔ انہوں نے پاکستان کی عالمی سروس کے لیے بھی ہفت روزہ پروگرام کیے۔ 1988ء سے 2005ء تک وہ روزنامہ ‘جنگ’ میں کالم لکھتی رہیں۔اسکے بعد وہ روزنامہ ایکسپریس اور روزنامہ پاکستان سے وابستہ ہوئیں۔ زاہدہ حنا کراچی سے شائع ہونے والے ‘عالمی ڈائجسٹ’ اور ‘جاسوسی ڈائجسٹ’ کی مدیر بھی رہ چکی ہیں۔
ان کے متعدد افسانوں کے ترجمے ہندی، گورمکھی، بنگلہ، انگریزی اور مراٹھی زبانوں میں ہو چکے ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد اعزازات سے نوازا گیا جن میں فیض ادبی ایوارڈ، لٹریری پرفارمنس ایوارڈ، ساغر صدیقی ایوارڈ، کے ایم پی ایوارڈ بہترین افسانہ نگار، سندھ اسپیکر ایوارڈ اور بھارت میں ملنے والا سارک ادبی ایوارڈ 2001ء شامل ہیں۔ 2006ء میں اُنہیں حکومت پاکستان کی طرف سے پرائیڈ آف پرفارمنس دینے کا اعلان کیا گیا لیکن انہوں نے ملک میں مشرف کی ملٹری حکومت ہونے کی وجہ سے احتجاجاً یہ اعزاز لینے سے انکار کر دیا۔
زاہدہ حنا کے افسانوی مجموعے ‘قیدی سانس لیتا ہے’، ‘راہ میں اجل ہے’، ‘نہ جنوں رہا نہ پری رہی’، ‘رقص بسمل ہے’ اور ‘تتلیاں ڈھونڈنے والی’ شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے دو ناول ‘درد کا شجر’ اور ‘درد آشوب’ بھی تحریرکیے ہیں۔ انہوں نے ٹیلیویژن کے لیے کئی ڈرامے بھی لکھے ہیں۔ زاہدہ حنا کراچی میں رہائش پذیر ہیں۔
محترمہ کے یوم ولادت پر ان کی ایک غزل احباب کی خدمت میں پیش ہے
*انتخاب و پیشکش….طارق اسلم*
جانتی ہوں کہ وہ خفا بھی نہیں
دل کسی طور مانتا بھی نہیں
کیا وفا و جفا کی بات کریں
درمیاں اب تو کچھ رہا بھی نہیں
درد وہ بھی سہا ہے تیرے لیے
میری قسمت میں جو لکھا بھی نہیں
ہر تمنا سراب بنتی رہی
ان سرابوں کی انتہا بھی نہیں
ہاں چراغاں کی کیفیت تھی کبھی
اب تو پلکوں پہ اک دیا بھی نہیں
دل کو اب تک یقین آ نہ سکا
یوں نہیں ہے کہ وہ ملا بھی نہیں
وقت اتنا گزر چکا ہے حناؔ
جانے والے سے اب گلہ بھی نہیں
![]()






