“میری ہڈیاں کمزور ہوگئیں اور سر بڑھاپے سے سفید ہوگیا” — بڑھاپا جسم کو کیسے بدلتا ہے؟
تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)انسان جب جوانی کی دہلیز پار کر کے بڑھاپے کے دور میں داخل ہوتا ہے تو اس کے جسم پر دو تبدیلیاں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آتی ہیں: جسمانی طاقت کا اکھڑ جانا اور بالوں میں چاندی کا اتر آنا۔ ہر دور، ہر خطے اور ہر تہذیب کے انسان نے عمر کے ڈھلنے کو انہی دو علامتوں سے پہچانا ہے۔
قرآنِ حکیم کی سورۃ مریم میں سیدنا زکریا علیہ السلام نے پیرانہ سالی اور کمزوری کے عالم میں جب وارث کی تمنا لے کر اپنے پروردگار کو پکارا، تو اپنے بڑھاپے کا احوال ایسے کمال اور پردرد انداز میں بیان فرمایا جو فصاحت و بلاغت اور انسانی اناٹومی کا بے مثل شاہکار ہے:
﴿قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا وَلَمْ أَكُن بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا﴾
ترجمہ: “عرض کیا: اے میرے رب! بے شک میری ہڈیاں کمزور ہو چکی ہیں اور سر بڑھاپے کی سفیدی سے بھڑک اٹھا ہے، اور اے میرے پروردگار! میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا۔”
حوالہ: سورۃ مریم، آیت نمبر 4
یہ کلام بنیادی طور پر ایک جلیل القدر پیغمبر کی بارگاہِ الٰہی میں عاجزانہ دعا اور اپنی محتاجی کا اعتراف ہے، کوئی میڈیکل مینوئل نہیں۔ لیکن جدید ایجنگ بیالوجی (Aging Biology) اور مالیکیولر جینیات جب بڑھتی عمر کے ساتھ انسانی ہڈیوں اور بالوں کے اندر ہونے والی خلیاتی توڑ پھوڑ کا مشاہدہ کرتی ہے، تو قرآنی الفاظ تدبر کا ایک روح پرور دروازہ کھول دیتے ہیں۔
1. “وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي” — ہڈیاں اندر سے کمزور کیسے ہوتی ہیں؟
عام انسانی گمان یہ ہوتا ہے کہ ہڈی شاید ایک بے جان، خشک اور پتھر جیسا ڈھانچہ ہے جو ایک بار بن گیا تو ہمیشہ ویسا ہی رہتا ہے۔ جدید آرتھوپیڈکس اور فزیالوجی اس تصور کو مکمل طور پر رد کرتی ہے۔
ہڈی ایک زندہ اور متحرک عضو ہے جو انسان کی پوری زندگی ایک لمحے کے لیے بھی ساکن نہیں رہتا۔ اس میں پرانی ہڈی کے گھلنے اور نئی ہڈی کے بننے کا ایک متوازن عمل مسلسل جاری رہتا ہے جسے سائنسی زبان میں بون ریموڈلنگ (Bone Remodeling) کہا جاتا ہے:
آسٹیو کلاسٹس (Osteoclasts): یہ وہ خلیات ہیں جو پرانی اور بوسیدہ ہڈی کے مادے کو توڑتے اور صاف کرتے ہیں۔
آسٹیو بلاسٹس (Osteoblasts): یہ وہ معمار خلیات ہیں جو نیا کولیجن اور معدنی مادہ بچھا کر نئی ہڈی تیار کرتے ہیں۔
نیشنل انسٹیٹیوٹ آف آرتھرائٹس اینڈ مسکولواسکیلیٹل اینڈ اسکن ڈیزیز (NIAMS) کے مطابق، جوانی کے عروج تک نئی ہڈی بننے کی رفتار زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن عمر کے پچاس سال پار کرتے ہی، بالخصوص ہارمونز کی کمی اور خلیاتی سستی کے باعث، یہ توازن بگڑ جاتا ہے۔ پرانی ہڈی کے گھلنے کی رفتار تیز ہو جاتی ہے اور نئی ہڈی کی تعمیر سست پڑ جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہڈی کا مجموعی حجم (Bone Density) گھٹنے لگتا ہے اور وہ اندر سے کمزور ہو جاتی ہے۔
2. اندرونی اسفنجی جالی — شہد کے چھتے کا بکھرنا
نیشنل انسٹیٹیوٹ آن ایجنگ (NIA) ہڈی کی اندرونی ساخت کو شہد کے چھتے جیسی باریک جالی دار سلاخوں (Trabecular Bone) سے تشبیہ دیتا ہے۔
جب عمر رسیدہ انسان کے جسم میں کیلشیم اور پروٹین کے بانڈز کمزور پڑتے ہیں تو:
ہڈی کی اندرونی باریک سلاخیں گھل کر پتلی ہونے لگتی ہیں۔
ان کے درمیان موجود خالی سوراخ بڑے ہو جاتے ہیں۔
بیرونی سخت خول (Cortical Bone) کاغذ کی طرح باریک ہونے لگتا ہے۔
اس اندرونی کھوکھلے پن کو شدید صورت میں آسٹیوپوروسس (Osteoporosis) کہا جاتا ہے، جس میں ہڈیاں اتنی نازک ہو جاتی ہیں کہ ہلکی سی ٹھوکر یا کھانسی سے بھی ٹوٹ سکتی ہیں۔
قرآنِ پاک نے کتنی گہرائی کے ساتھ لفظ ﴿وَهَنَ﴾ منتخب فرمایا! عربی میں “وَہن” ایسے اندرونی ضعف اور کھوکھلے پن کو کہتے ہیں جس میں بظاہر چیز سلامت نظر آئے مگر اندر سے اس کا سکت اور قوت زائل ہو چکی ہو۔ چونکہ ہڈیاں پورے انسانی ڈھانچے کا بنیادی ستون ہیں، اس لیے ہڈیوں کا وہن دراصل پورے وجود کے سہارے کے ڈھے جانے کا اعلان ہے۔
3. “وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا” — سفیدی کا آگ کی طرح بھڑک اٹھنا
آیت کا دوسرا ٹکڑا بلاغت اور استعارے کا وہ معراج ہے جس پر اہلِ زبان صدقے جاتے ہیں:
﴿وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا﴾
حضرت زکریا علیہ السلام نے یہ نہیں فرمایا کہ میرے بال سفید ہو گئے، بلکہ فرمایا: “میرا سر بڑھاپے کی سفیدی سے بھڑک اٹھا”۔ عربی میں “اشتعال” آگ کے شعلے کے اچانک لپکنے، راکھ کے اندر دبی چنگاری کے تیزی سے پھیل جانے اور سوکھی لکڑیوں کو دیکھتے ہی دیکھتے اپنی لپیٹ میں لے لینے کو کہا جاتا ہے۔
یہ تشبیہ کیسی لاجواب ہے:
جس طرح سیاہ کوئلے یا تاریک جنگل میں آگ لگتی ہے تو سفید شعلے اور چمک سیاہی کو نگلتی چلی جاتی ہے، بالکل اسی طرح انسان کے سر پر سیاہ بالوں کے درمیان سفید چاندی کا ایک شعلہ نمودار ہوتا ہے اور پھر چند ہی برسوں میں پورے سر اور داڑھی کی سیاہی کو راکھ کی سفیدی میں بدل کر رکھ دیتا ہے۔
4. بال سفید کیوں ہوتے ہیں؟ — میلانوسائٹ اسٹیم سیلز کا سائنسی راز
جدید ڈرمیٹولوجی اور نیشنل انسٹیٹیوٹس آف ہیلتھ (NIH) کی تحقیقات نے واضح کیا ہے کہ بال میں سفید رنگ باہر سے نہیں چڑھتا، بلکہ بال کا قدرتی رنگ میلانن (Melanin) نامی پگمنٹ سے بنتا ہے۔
بالوں کی جڑوں (Hair Follicles) کے اندر خلیات کا ایک خاص اسٹاک ہوتا ہے جسے میلانوسائٹ اسٹیم سیلز (Melanocyte Stem Cells – McSCs) کہا جاتا ہے:
جب تک انسان جوان رہتا ہے، یہ اسٹیم سیلز بال کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ متحرک ہو کر میلانوسائٹس بناتے ہیں، جو بال کی نالی میں سیاہ یا بھورا رنگ بھرتے رہتے ہیں۔
جریدے نیچر (Nature) اور NIH کے تحقیقی جائزوں کے مطابق، عمر بڑھنے کے ساتھ یہ اسٹیم سیلز خلیاتی تھکاوٹ کا شکار ہو کر بالوں کی جڑ کے ایک مخصوص خانے میں پھنس جاتے ہیں اور پختہ رنگ ساز خلیات میں تبدیل ہونے کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں۔
جب رنگ کا یہ قدرتی کارخانہ بند ہو جاتا ہے تو اگنے والا نیا بال بغیر رنگ کے، شفاف اور اندر سے ہوا کے خردبینی بلبلوں سے بھرپور ہوتا ہے، جو روشنی کے انعکاس کے باعث انسانی آنکھ کو بالکل سفید یا چاندی کی مانند دکھائی دیتا ہے۔
5. سائنسی و فکری اعتدال
علمی اور قرآنی دیانت کا تقاضا ہے کہ ہم حدود کو ملحوظ رکھیں:
یہ دعویٰ کرنا درست نہیں کہ حضرت زکریا علیہ السلام نے یہاں آسٹیوکلاسٹس یا اسٹیم سیلز کا خلیاتی چارٹ بیان فرمایا تھا۔ وہ اپنے خالق کے سامنے اپنی عمر رسیدہ بے بسی کی تصویر پیش کر رہے تھے۔
اسی طرح ہر سفید بال بڑھاپے کی وجہ سے نہیں ہوتا؛ جینیاتی عوامل، ذہنی دباؤ اور غذائی کمی سے نوجوانی میں بھی بال سفید ہو سکتے ہیں، اور ہڈیوں کی کمزوری کے بھی کئی اسباب ہوتے ہیں۔
مگر حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ جب سائنس نے بڑھاپے کے حیاتیاتی میکانزم کی تہہ کھولی، تو انسانی جسم کے سینکڑوں اعضا میں سے جن دو بنیادی نظاموں نے اندرونی اور بیرونی طور پر عمر کے زوال کو سب سے واضح خلیاتی بنیادوں پر ثابت کیا، وہ یہی ہڈیوں کی بون ماس میں کمی اور بالوں کے روٹس میں پگمنٹ کا خاتمہ تھا۔ قرآنی نگاہ نے چودہ صدیاں قبل انسانی زوال کے انہی دو مراکز پر انگلی رکھی۔
6. دعا کی قبولیت اور الٰہی تسلی
اس دلگداز تمہید کے بعد حضرت زکریا علیہ السلام نے جو کلمات ادا فرمائے، وہ ہر مایوس اور ٹوٹے ہوئے دل کے لیے امید کا ابدی سہارا ہیں:
﴿وَلَمْ أَكُن بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا﴾
یعنی “اے میرے رب! میں تجھ سے مانگ کر کبھی نامراد اور محروم نہیں رہا”۔
پیغام کتنا واضح ہے: ہڈیاں چاہے کتنی ہی کھوکھلی کیوں نہ ہو چکی ہوں، سر پر چاہے بڑھاپے اور ناامیدی کی کتنی ہی سفیدی کیوں نہ چھا چکی ہو، اور مادی اسباب کے دروازے چاہے بالکل بند نظر آتے ہوں—جب انسان اپنے کمزور وجود کو اپنے رب کے لامحدود خزانوں کے سامنے عاجزی سے پیش کر دیتا ہے، تو وہی رب جس نے بے جان دانے سے کونپل نکالی تھی، بوڑھے زکریا علیہ السلام کو یحییٰ علیہ السلام جیسا بیٹا عطا فرما کر مادی قوانین کو پلٹ دیتا ہے۔
حاصلِ کلام
سورۃ مریم کی آیت 4 انسانی اناٹومی کے زوال، بلاغت کے کمال اور ایمانی توکل کا ایک لازوال سنگم ہے۔
ہڈیوں کا اندر سے گھل کر کھوکھلا ہو جانا (وَهَنَ الْعَظْمُ) اور میلانن کی کمی سے بالوں کا آگ کے شعلے کی طرح یکسر سفید ہو جانا (وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا)—یہ دونوں مظاہر خلیاتی بائیولوجی کی وہ اٹل سچائیاں ہیں جن پر جدید طب مہرِ تصدیق ثبت کر رہی ہے۔
قرآنِ پاک نے ان طبعی حقائق کو جس خوبصورتی سے انسانی عاجزی اور رب کے سامنے دعا کی طاقت کا ذریعہ بنایا ہے، وہ اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ وحی کا اصل مقصود انسان کو اپنی بے ثباتی کا احساس دلا کر اس رحیم اور قادرِ مطلق ہستی کے آستانے پر جھکانا ہے جس کے قبضۂ قدرت میں جوانی، بڑھاپا، شفا اور حیات و موت کے تمام سلسلے وابستہ ہیں۔
#قرآن_اور_سائنس #سورۃ_مریم #بڑھاپا #ہڈیوں_کی_کمزوری #سفید_بال #ایجنگ_بیالوجی #تدبر_قرآن #طارق_اقبال_سوہدروی
حوالہ: القرآن الكريم، سورۃ مریم، آیات 1 تا 6
حوالہ: جامع البيان فی تاويل القرآن، امام ابو جعفر محمد بن جریر الطبری، سورۃ مریم
حوالہ: تفسير القرآن العظيم، عماد الدين اسماعيل بن كثير، سورۃ مریم
حوالہ: میڈیکل مینوئل، نیشنل انسٹیٹیوٹ آن ایجنگ (NIA) — آسٹیوپوروسس اور عمر رسیدگی کے ساتھ ہڈیوں کے اندرونی توازن میں بگاڑ
حوالہ: سائنسی رپورٹ، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف آرتھرائٹس (NIAMS) — بون ریموڈلنگ سائیکل: آسٹیوبلاسٹ اور آسٹیوکلاسٹ سرگرمی
حوالہ: جینیاتی ریسرچ مقالہ، نیشنل انسٹیٹیوٹس آف ہیلتھ (NIH Research Matters) — بالوں کے غدود میں میلانوسائٹ اسٹیم سیلز (McSCs) کا زوال اور سفیدی کا پھیلاؤ
![]()

