Daily Roshni News

“میں ستاروں کے مواقع کی قسم کھاتا ہوں” — ہم ستاروں کو وہاں دیکھتے ہیں جہاں وہ ابھی ہیں یا جہاں ماضی میں تھے؟

“میں ستاروں کے مواقع کی قسم کھاتا ہوں” — ہم ستاروں کو وہاں دیکھتے ہیں جہاں وہ ابھی ہیں یا جہاں ماضی میں تھے؟

​تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی

​ہالینڈّ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔​تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی)رات کی تاریکی میں جب ہم آسمان کی طرف دیکھتے ہیں تو ان گنت چمکتے ستارے خاموش نگینوں کی طرح افق پر جڑے نظر آتے ہیں۔ انسانی حواس فوراً یہ گمان کرتے ہیں کہ یہ ستارہ عین اسی لمحے اور اسی جگہ پر موجود ہے جہاں اس کا نوری نقطہ چمک رہا ہے۔

​لیکن جدید فلکی طبیعیات (Astrophysics) اور کونیات نے انسانی بصارت کے اس واہمے کو پاش پاش کر کے ایک حیران کن کائناتی حقیقت بے نقاب کی ہے: ہم رات کو جو آسمان دیکھتے ہیں، وہ کائنات کا “حال” نہیں بلکہ اس کا “ماضی” ہے۔ کائنات کے فاصلے اتنے وسیع ہیں کہ جس ستارے کی چمک آج ہماری آنکھ میں داخل ہو رہی ہے، وہ روشنی وہاں سے چار سال، پانچ سو سال، یا لاکھوں سال پہلے چلی تھی۔

​اسی پس منظر میں جب ہم کلامِ الٰہی پر غور کرتے ہیں، تو قرآنِ مجید کے یہ پرشکوہ کلمات روح کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں:

​﴿فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ ۝ وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ﴾

​ترجمہ: “پس میں ستاروں کے مواقع (گرنے، طلوع و غروب ہونے کے مقامات اور مداروں) کی قسم کھاتا ہوں۔ اور اگر تم جانو تو بے شک یہ بہت ہی بڑی قسم ہے۔”

​حوالہ: سورۃ الواقعہ، آیات 75 تا 76

​قرآن نے خود اس قسم کے متعلق فرمایا: ﴿وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ﴾ یعنی “اگر تمہیں علم ہو تو یہ معمولی نہیں بلکہ ایک عظیم الشان قسم ہے”۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ستاروں کے مقامات اور ان کے مواقع میں وہ کون سی کائناتی حقیقت پنہاں ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے تناظر میں ایک عظیم قسم قرار دیا؟

​1. روشنی کی رفتار کی حد اور نوری سال کا فاصلہ

​کائنات میں کوئی بھی مادی شے روشنی سے زیادہ تیز سفر نہیں کر سکتی۔ فزکس کے مسلمہ قوانین کے مطابق خلا میں روشنی کی رفتار تقریباً 300,000 کلومیٹر فی سیکنڈ ہے۔

​اگرچہ زمینی پیمانوں پر یہ رفتار ناقابلِ تصور حد تک تیز ہے، لیکن کائنات کی وسعتوں کے سامنے یہ ایک سست رفتار  بن جاتی ہے۔ فلکیاتی فاصلوں کو ناپنے کے لیے سائنس دان “نوری سال” (Light-Year) کا پیمانہ استعمال کرتے ہیں، یعنی وہ فاصلہ جو روشنی خلا میں ایک سال کے اندر طے کرتی ہے، جو تقریباً 9.46 کھرب کلومیٹر بنتا ہے۔

​ناسا (NASA) اور فلکیاتی ڈیٹا کے مطابق:

​ہمارے نظامِ شمسی کا قریب ترین ستارہ پروکسیما سینٹوری (Proxima Centauri) ہم سے تقریباً 4.24 نوری سال دور ہے۔ یعنی اس کی جو روشنی آج ہم تک پہنچتی ہے، وہ 4 سال سے زیادہ پرانی ہے۔

​ہماری پڑوسی کہکشاں اینڈرومیڈا (Andromeda Galaxy) ہم سے تقریباً 25 لاکھ نوری سال دور ہے۔ یعنی جب ہم دوربین سے اینڈرومیڈا کو دیکھتے ہیں تو درحقیقت ہم اسے 25 لاکھ سال پہلے کے ماضی میں دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

​جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ (JWST) جن دور دراز کہکشاؤں کو دیکھ رہی ہے، ان کی روشنی کو ہم تک پہنچنے میں 13 ارب سال سے زائد کا وقت لگا ہے۔

​دوربین آسمان کی جتنی گہرائی میں جھانکتی ہے، وہ فاصلے کے ساتھ ساتھ وقت کی اتنی ہی پرانی تاریخ میں سفر کر رہی ہوتی ہے۔

​2. ستاروں کی ذاتی حرکت (Proper Motion) — جہاں ستارہ نظر آتا ہے، وہ وہاں نہیں ہے

​یہاں فلکیات کا دوسرا کمال سامنے آتا ہے۔ ستارے آسمان کی چھت پر کیلوں کی طرح گڑے ہوئے ساکن وجود نہیں ہیں، بلکہ ہر ستارہ کہکشاں کے مرکز کے گرد سینکڑوں کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے محوِ پرواز ہے۔

​یورپی خلائی ایجنسی (ESA) کے گایا مشن (Gaia Space Mission) نے اربوں ستاروں کی خلا میں سہ جہتی حرکات کی پیمائش کی ہے جسے فلکیات میں پراپر موشن (Proper Motion) کہا جاتا ہے:

​جب کسی دور دراز ستارے سے روشنی خارج ہوتی ہے، تو وہ روشنی صدیوں کا سفر طے کر کے زمین کی طرف چل پڑتی ہے۔

​اس دوران وہ ستارہ اپنے مدار پر مسلسل سفر کرتا ہوا اپنے پرانے مقام سے لاکھوں، کروڑوں کلومیٹر آگے نکل چکا ہوتا ہے۔

​لہٰذا، جس وقت وہ روشنی انسان کی آنکھ یا دوربین کے عدسے سے ٹکراتی ہے، وہ ستارے کی موجودہ پوزیشن کی نہیں بلکہ اس کے ماضی کے اس مقام (موقع) کی عکاسی کرتی ہے جہاں وہ روشنی خارج کرتے وقت کھڑا تھا۔

​حقیقت یہ ہے کہ انسان کبھی بھی ستاروں کے مادی وجود کو ان کی حقیقی موجودہ جگہ پر نہیں دیکھ سکتا؛ وہ کائنات میں ہمیشہ صرف اور صرف ستاروں کے “ماضی کے مقامات” (Positions of the Past) کا مشاہدہ کرتا ہے۔

​3. “مَوَاقِعِ النُّجُومِ” کا تفسیری و لسانی حسن

​عربی زبان میں “مواقع” جمع ہے “موقع” کی، جو مادۂ “و ق ع” سے نکلا ہے۔ اس کے لغوی معنی گرنے کی جگہ، ٹھہرنے کے مقام، مدار، منزل، اور وقوع پذیر ہونے کے نقطے کے ہیں۔

​کلاسیکی مفسرین نے اس آیت کی تفسیری وسعت کو کمال بصیرت سے سمیٹا:

​امام ابو جعفر محمد بن جریر الطبری نے قتادہ، مجاہد اور حسن بصری سے نقل کیا کہ “مواقع النجوم” سے مراد ستاروں کے طلوع و غروب ہونے کے مقامات، ان کے گرنے کی جگہیں اور فلک میں ان کے مقررہ مدار ہیں۔

​عماد الدین ابن کثیر نے بھی انہی اقوال کو ترجیح دی اور ساتھ ہی سیدنا عبداللہ بن عباس کا یہ جلیل القدر قول بھی نقل فرمایا کہ نجوم سے مراد قرآنِ کریم کا لوحِ محفوظ سے بیت العزت اور پھر زمین پر مختلف اوقات میں مرحلہ وار نازل ہونا (تنجیماً) بھی ہو سکتا ہے۔

​امام قرطبی نے واضح کیا کہ ستاروں کے یہ مقامات اور ان کی منازل اللہ تعالیٰ کے اس تکوینی نظام کا مظہر ہیں جس میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا۔

​قدیم مفسرین نے اپنے دور کے مشاہدے کے مطابق ستاروں کی فلکی منازل اور طلوع و غروب کے مقامات کو دیکھا۔ لیکن کلامِ الٰہی کا اعجاز دیکھیے کہ اس نے لفظ “النجوم” (ستاروں کی ذات) کی قسم نہیں کھائی، بلکہ ﴿بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ﴾ یعنی “ستاروں کے مقامات” کی قسم کھائی۔ آج جدید سائنس نے جب یہ ثابت کیا کہ انسان آسمان پر ستارے کو نہیں بلکہ اس کے چھوڑے ہوئے پرانے مقامات کو دیکھتا ہے، تو یہ قرآنی صیغہ سائنسی فہم کے سامنے ایک لازوال سچائی بن کر نکھر گیا۔

​4. سائنسی و فکری اعتدال — وائرل مغالطوں کا رد

​اس موضوع پر سنجیدہ علمی دیانت کا دامن تھامنا بے حد ضروری ہے، کیونکہ انٹرنیٹ پر سنسنی خیز مبالغہ آرائی کثرت سے کی جاتی ہے:

​پہلا مغالطہ: سوشل میڈیا پر اکثر لکھا جاتا ہے کہ “آسمان پر نظر آنے والے تمام ستارے مر چکے ہیں اور ختم ہو چکے ہیں”۔ یہ دعویٰ سائنسی طور پر بالکل غلط ہے۔ ننگی آنکھ سے رات کو آسمان پر نظر آنے والے بیشتر ستارے ہماری اپنی کہکشاں (Milky Way) کے چند درجن سے لے کر چند ہزار نوری سال کے دائرے میں واقع ہیں۔ ستاروں کی طبعی عمر کروڑوں اور اربوں سال ہوتی ہے، اس لیے چند سو نوری سال کے فاصلے پر موجود قریبی ستارے آج بھی زندہ اور موجود ہیں۔

​دوسرا مغالطہ: یہ کہنا کہ “قرآن نے لفظ بہ لفظ آئن اسٹائن کا نظریہ اضافیت اور اسپیڈ آف لائٹ کی مساوات بیان کر دی تھی”۔ یہ دعویٰ بھی غیر محتاط ہے۔ قرآنِ پاک کوئی فزکس ٹیکسٹ بک نہیں ہے۔

​صحیح اور معتدل نکتہ یہ ہے کہ قرآنِ حکیم نے انسان کی نگاہ کو ستاروں کے مادی حجم کے بجائے ان کے “مواقع” (فلکی مقامات اور مداروں کے جال) کی طرف مبذول کرایا، اور آگے خود فرما دیا کہ اس قسم کی وسعت اور عظمت کو سمجھنے کے لیے علم کی گہرائی درکار ہے ﴿لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ﴾۔

​5. برنارڈز اسٹار (Barnard’s Star) اور کائناتی حرکیات

​ESA اور زمینی رصد گاہوں کے مطابق، خلا میں ستاروں کی رفتار کو سمجھنے کے لیے “برنارڈز اسٹار” ایک بہترین سائنسی مثال ہے۔

​یہ ستارہ ہر سال آسمان پر تقریباً 10.3 آرک سیکنڈز کی ظاہری رفتار سے سفر کرتا ہے۔ بظاہر یہ فاصلہ روزمرہ نگاہ سے پوشیدہ رہتا ہے، لیکن ہزاروں سال کے پیمانے پر اس مسلسل حرکت کے باعث آسمان پر ستاروں کے وہ جھرمٹ اور برج (Constellations) جنہیں قدیم انسان نے دیکھ کر نام دیے تھے، آہستہ آہستہ اپنی شکلیں بدل رہے ہیں۔ کائنات کا کوئی ایک موقع بھی اپنی جگہ جامد نہیں؛ ہر لمحہ اربوں کھربوں اجرامِ فلکی کا یہ عظیم الشان ریلا اپنے رب کے طے کردہ راستوں پر رواں دواں ہے۔

​حاصلِ کلام

​سورۃ الواقعہ کی آیات 75 اور 76 خالقِ کائنات کے لامحدود علم، وقت کے اسرار اور فلکی طبیعیات کے محیر العقول نظام کی روشن گواہی ہیں۔

​ستاروں کے درمیان اربوں نوری سال کے فاصلے، روشنی کے سفر کی محدود رفتار، اور خلا کے اندر ستاروں کی مسلسل حرکت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ رات کے وقت انسان کے سر پر تنی ہوئی یہ نیلی چھت دراصل زمان و مکان (Spacetime) کا ایک تاریخی عجائب گھر ہے۔ ہم جن روشنیوں کو تکتے ہیں، وہ ستاروں کے حال کی نہیں بلکہ ان کے ماضی کے ان نقوش اور “مواقع” کی تصویر ہیں جو وہ صدیوں پہلے چھوڑ چکے ہیں۔

​قرآنِ پاک کا چودہ سو سال قبل ان مقامات کی طرف متوجہ کر کے اسے ایک لرزہ خیز اور عظیم الشان قسم قرار دینا ﴿وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ﴾ اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ یہ اس قادرِ مطلق کا کلام ہے جس کی نگاہوں کے سامنے کائنات کا آغاز، اس کا حال اور اس کا انجام روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔

​#قرآن_اور_سائنس #سورۃ_الواقعہ #مواقع_النجوم #نوری_سال #فلکیات #ستاروں_کی_حرکت #تدبر_قرآن #طارق_اقبال_سوہدروی

​حوالہ: القرآن الكريم، سورۃ الواقعہ، آیات 75 تا 76

حوالہ: جامع البيان فی تاويل القرآن، امام ابو جعفر محمد بن جریر الطبری، سورۃ الواقعہ

حوالہ: تفسير القرآن العظيم، عماد الدين اسماعيل بن كثير، سورۃ الواقعہ

حوالہ: الجامع لاحكام القرآن، امام ابو عبد اللہ محمد بن احمد القرطبی، سورۃ الواقعہ

حوالہ: سائنسی تجزیہ، ناسا سائنس (NASA Science) — روشنی کے سفر کا وقت، کائناتی فاصلے اور کہکشاؤں کا ماضی

حوالہ: فلکیاتی ڈیٹا، یورپی خلائی ایجنسی (ESA Gaia Mission) — ستاروں کی پراپر موشن، تھری ڈی پوزیشننگ اور کائناتی نقشہ بندی

Loading