واعظین کی کثرت، حقیقی علماء کی قلت۔۔تحریر۔۔۔غلام نبی کشافی

         واعظین کی کثرت، حقیقی علماء کی قلت

            جب جہلاء کو پیشوا بنایا جائے گا

غلام نبی کشافی

آنچار صورہ سرینگر

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )تعمیر فکر :میں نے اس مضمون میں ہمارے معاشرے کی ایک ایسی دینی و علمی صورتِ حال کی نشان دہی کرنے کی کوشش کی ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ آج واعظین اور خطباء کی کثرت تو دکھائی دیتی ہے، لیکن حقیقی علم، دینی بصیرت، وسعتِ مطالعہ اور تحقیقی صلاحیت کے حامل علماء کی کمی بھی ایک تلخ حقیقت ہے۔ میں نے اس حوالے سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہم حدیث کی روشنی میں تین بنیادی پہلوؤں پر گفتگو کی ہے، تاکہ ہم محض شہرت، خطابت اور ظاہری وضع قطع سے متاثر ہونے کے بجائے حقیقی علمی مقام اور دینی اہلیت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

                              ____________________________

    جب عالمِ اسلام میں علماء کے وجود اور ان کی علمی و دینی خدمات کا جائزہ لیا جاتا ہے تو چاروں طرف واعظین اور خطباء کی کثرت دکھائی دیتی ہے۔ مگر افسوس کہ ان میں سے بیشتر افراد کی شہرت، عقیدت اور پذیرائی اپنے اپنے حلقوں اور محدود جماعتی و تنظیمی دائروں تک سمٹی ہوئی ہے۔ اس کے باوجود وہ اپنی اس محدود پذیرائی کو پورے جموں و کشمیر میں مقبولیت اور عمومی قبولیت سمجھ بیٹھے ہیں، حالاں کہ زمینی حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

      جمعہ کے خطبات رسمی ، جلسوں میں وعظ خوانی صرف تنظیم اور تنظیمی افراد کی مدح سرائی ہوتی ہے ، لیکن حقیقت میں ان کے بیانات دینی علوم اور بصیرت سے یکسر خالی ، اور ان کے فتوے بغیر تحقیق اور علم کے ہوتے ہیں ۔ اس لئے ایسے لوگ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کر دیتے ہیں ۔ ایسے موقع پر مجھے اکثر یہ حدیث یاد آتی ہے ۔

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ إِنَّ اللَّهَ لاَ يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا ، يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا، اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالاً فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا ‏۔

( البخاری : کتاب العلم . رقم الحدیث 100)

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے :  بیشک اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ بندوں سے چھین لے ، بلکہ علماء کو قبض روح کرکے علم کو اٹھا لے گا ، یہاں تک کہ کوئی عالم باقی نہیں رہے گا اور لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنا لیں گئے، پھر ان سے مسائل پوچھیں گے تو وہ انہیں بغیر علم کے فتوے دیں گے ، جس کی وجہ سے وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے ۔

اس حدیث میں تین باتیں بڑی اہم، بنیادی اور غور طلب ہیں۔

(1) پہلی بات: علماء کی وفات کے ساتھ علم کا اٹھایا جانا۔

إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا، يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا۔

بیشک اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ بندوں سے اسے چھین لے، بلکہ علماء کو وفات دے کر علم کو اٹھائے گا، یہاں تک کہ کوئی عالم باقی نہیں رہے گا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ آخری زمانے میں علماء یکے بعد دیگرے اس دنیا سے رخصت ہوتے رہیں گے، یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب دنیا حقیقی علماء سے خالی ہو جائے گی۔

اگر موجودہ صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے تو عالمِ اسلام میں ایسے حقیقی، صاحبِ علم، صاحبِ بصیرت اور بالغ نظر علماء کی تعداد تشویش ناک حد تک کم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ گزشتہ دو تین دہائیوں کے دوران جس بڑی تعداد میں جید علماء اس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں، ان کے علمی مقام، وسعتِ مطالعہ اور دینی بصیرت کے حامل افراد اب خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ ان کے علمی جانشینوں کی تلاش بھی آسان نہیں رہی۔

(2) دوسری بات: جاہلوں کو دینی پیشوا بنا لیا جانا۔

اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا۔

اور لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنا لیں گے۔

  پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تنبیہ کوئی معمولی نوعیت کی بات نہیں کہ اسے سرسری طور پر نظر انداز کر دیا جائے۔ اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں دینی پیشوائی کن لوگوں کے ہاتھوں میں ہے؟ منبر و محراب پر کون فائز ہیں؟ کیا مساجد کے ذریعے معاشرے کی حقیقی اصلاح، دینی تربیت اور اخلاقی رہنمائی کا فریضہ ادا کیا جا رہا ہے؟

اگر ہم اپنی وادی کے موجودہ واعظین ہی کا جائزہ لیں تو ان میں بھی ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی نظر آتی ہے جو صرف جمعہ کے روز مساجد میں وعظ و نصیحت کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ لوگوں کو پنج وقتہ نماز باجماعت ادا کرنے کی تلقین بھی کرتے ہیں، لیکن خود کو اس پابندی سے مستثنیٰ سمجھتے ہیں۔ دوسروں کو نصیحت کرنے اور خود اس پر عمل کرنے کے درمیان یہ تضاد بھی قابلِ غور ہے۔

 حدیث کا مدعا یہ ہے کہ جب حقیقی اہلِ علم دنیا سے رخصت ہو جائیں گے تو دینی رہنمائی اور پیشوائی ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں چلی جائے گی جو خود علم سے محروم ہوں گے۔ ان کی دینی سمجھ بوجھ محدود ہوگی، وہ شریعت کی تعلیمات سے پوری طرح واقف نہیں ہوں گے اور ان کے اپنے عمل میں بھی مطلوبہ سنجیدگی اور پختگی نہیں ہوگی۔

(3) تیسری اور آخری بات: بے علمی کے ساتھ فتویٰ دینا اور خود بھی گمراہ ہونا، دوسروں کو بھی گمراہ کرنا۔

فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا۔

پھر ان سے مسائل پوچھے جائیں گے تو وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے، چنانچہ وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔

اس جملے پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ جب جاہل لوگ دینی پیشوائی کے منصب پر فائز ہوں گے تو عوام ان سے دینی مسائل دریافت کریں گے اور وہ علم و تحقیق کے بغیر فتوے صادر کریں گے۔ نتیجتاً وہ خود بھی گمراہی میں مبتلا ہوں گے اور دوسروں کے لئے بھی گمراہی کا سبب بنیں گے۔

   آج ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو فتویٰ دینے اور دینی معاملات میں حتمی رائے قائم کرنے کے معاملے میں غیر معمولی عجلت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ان کے ہاں نہ مطالعہ کی گہرائی نظر آتی ہے، نہ تحقیق کا اہتمام اور نہ ہی اپنی علمی حدود کا احساس۔ اس کے باوجود ان کی شہرت، مریدوں اور عقیدت مندوں کی تعداد اور ان کے گرد قائم پروٹوکول کا دائرہ وسیع ہوتا چلا جا رہا ہے۔

   افسوس ناک صورتِ حال یہ ہے کہ عوام کی ایک بڑی تعداد کسی شخص کے علم و تحقیق، دینی بصیرت اور علمی استدلال کو جانچنے کے بجائے اس کی شہرت، ظاہری وضع قطع اور مقبولیت سے متاثر ہو کر اسے دینی رہنما تسلیم کر لیتی ہے۔

    دراصل یہ حدیث محض علم کی اہمیت بیان نہیں کرتی، بلکہ دینی پیشوائی کے حوالے سے ایک سنگین صورتِ حال سے بھی خبردار کرتی ہے۔ اس لیے ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دینی رہنمائی کا حق محض ظاہری وضع قطع، شہرت، خطابت یا عوامی مقبولیت سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے حقیقی علم، دینی بصیرت، مطالعہ، تحقیق، اخلاص اور عمل کی ضرورت ہے۔

  آخر میں عرض ہے کہ میری اس تحریر کا مقصد کسی فرد، جماعت یا تنظیم کو نشانہ بنانا نہیں، بلکہ ایک ایسے علمی و دینی زوال کی طرف توجہ دلانا ہے جس کے اثرات ہمارے معاشرے میں نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ دینی رہنمائی کوئی معمولی ذمہ داری نہیں کہ ہر صاحبِ خطابت اسے اپنا حق سمجھنے لگے۔ اس کے لیے علم، مطالعہ، تحقیق، بصیرت، اخلاص اور قول و عمل میں مطابقت بنیادی شرائط ہیں۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کسی شخص کے گرد عقیدت مندوں کا ہجوم، اس کی شہرت یا اس کی خطابت اس کے حقیقی علمی مقام کا معیار نہیں بن سکتی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم شخصیات کے بجائے علم کو اہمیت دیں، عقیدت کے بجائے تحقیق کا راستہ اختیار کریں اور دینی پیشوائی کے معاملے میں غیر معمولی احتیاط سے کام لیں۔ کیونکہ بے علمی کے ساتھ دینی رہنمائی صرف اپنی ذات کے لیے نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

                                و ما علینا الا البلاغ

                          ______________________________