Daily Roshni News

پانی کی انوکھی ساخت: اگر برف پانی پر نہ تیرتی تو کیا ہوتا؟۔۔۔​تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی

پانی کی انوکھی ساخت: اگر برف پانی پر نہ تیرتی تو کیا ہوتا؟

​تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی

​ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیو ز انٹرنیشنل ۔۔۔ پانی کی انوکھی ساخت: اگر برف پانی پر نہ تیرتی تو کیا ہوتا؟۔۔۔​تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی)گرمیوں میں جب ہم پانی کے گلاس میں برف ڈالتے ہیں، تو وہ تیر کر اوپر آ جاتی ہے۔ ہم اسے ایک انتہائی معمولی سی بات سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ فزکس کا یہ بظاہر چھوٹا سا اصول دراصل وہ وجہ ہے جس کی بدولت آج ہماری زمین پر زندگی موجود ہے؟

​اگر برف پانی پر تیرنے کے بجائے ڈوب جاتی، تو آج یہ زمین ایک مردہ اور برفیلا سیارہ ہوتی۔ آئیے اس حیرت انگیز سائنسی راز کو تفصیل سے سمجھتے ہیں۔

​پانی کا پراسرار سلوک (The Anomaly of Water)

​فزکس کا ایک عام قانون ہے کہ دنیا کی ہر مائع (Liquid) چیز جب ٹھنڈی ہو کر جمتی ہے تو اس کے مالیکیول قریب آ جاتے ہیں۔ وہ چیز سکڑتی ہے، زیادہ کثیف (Dense) اور بھاری ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر چیزوں کی ٹھوس شکل ان کی مائع شکل میں ڈوب جاتی ہے۔

​لیکن پانی اس کائناتی اصول سے بالکل بغاوت کرتا ہے۔

جب پانی جم کر برف بنتا ہے، تو اس کے مالیکیول (Hydrogen Bonds کی وجہ سے) ایک خاص کرسٹل جیسی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جس سے ان کے درمیان خالی جگہ بڑھ جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پانی جمنے کے بعد سکڑنے کے بجائے تقریباً 9 فیصد پھیل جاتا ہے اور اس کا وزن مائع پانی کے مقابلے میں ہلکا ہو جاتا ہے۔ اسی لیے برف پانی پر تیرنے لگتی ہے۔

​اگر برف پانی میں ڈوب جاتی تو کیا ہوتا؟

​ذرا تصور کریں کہ اگر پانی بھی دنیا کی دیگر چیزوں کی طرح جم کر بھاری ہو جاتا تو کیا ہوتا؟

سردیوں میں جھیلوں، ندیوں اور سمندروں کی اوپری سطح جم کر برف بنتی اور بھاری ہو کر فوراً سمندر کی تہہ میں ڈوب جاتی۔ پھر نیا پانی اوپر آتا، وہ بھی جمتا اور نیچے چلا جاتا۔

​چند ہی سالوں میں دنیا کے تمام سمندر اور جھیلیں نیچے سے لے کر اوپر تک مکمل طور پر جم کر برف کے ٹھوس بلاک بن جاتے۔ گرمیوں کا سورج بھی اتنی گہری برف کو نہ پگھلا پاتا۔ سمندروں کے جمنے سے آبی حیات (Marine life) مکمل طور پر ختم ہو جاتی، پانی کا چکر (Water Cycle) رک جاتا، بادل نہ بنتے، بارشیں ختم ہو جاتیں اور زمین پر زندگی کا وجود ناممکن ہو جاتا۔

​پانی کا 4 ڈگری سینٹی گریڈ کا راز کیا ہے؟

سائنسدانوں کے مطابق پانی بالکل 4 ڈگری سینٹی گریڈ (4°C) پر سب سے زیادہ بھاری ہوتا ہے۔ سردیوں میں جب جھیل کا پانی ٹھنڈا ہو کر 4 ڈگری تک پہنچتا ہے تو وہ تہہ میں بیٹھ جاتا ہے۔ اور جو پانی 0 ڈگری پر پہنچ کر برف بنتا ہے، وہ ہلکا ہو کر سب سے اوپر تیرنے لگتا ہے۔ یہ تیرتی ہوئی برف ایک کمبل (Insulator) کا کام کرتی ہے اور نیچے موجود پانی کو جمنے سے روکتی ہے، جس سے مچھلیاں اور دیگر آبی حیات شدید سردی میں بھی زندہ رہتی ہیں۔

​قرآن ہمیں کیا سکھاتا ہے؟

​پانی کی یہ غیر معمولی اور انوکھی ساخت ہمیں بتاتی ہے کہ اس کائنات کے طبعی قوانین (Laws of Physics) کسی اندھے حادثے کا نتیجہ نہیں ہیں، بلکہ انہیں ایک خاص مقصد کے تحت انتہائی باریک بینی سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے پانی اور زندگی کے اسی گہرے اور بنیادی تعلق کو انتہائی جامع انداز میں بیان فرمایا ہے:

​وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۖ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ ﴿٣٠﴾

“اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی۔ تو کیا وہ ایمان نہیں لاتے؟” (سورۃ الانبیاء: 30)

​یہ آیت ہائیڈروجن بانڈنگ یا پانی کے پھیلاؤ کا کوئی کیمیائی فارمولا بیان نہیں کرتی، بلکہ یہ اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ زندگی کا دارومدار مکمل طور پر پانی پر ہے۔ جدید سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ خالق نے اس پانی کی ساخت میں ایسے حیرت انگیز طبعی قوانین (فزکس) رکھے ہیں جو اس زندگی کو ممکن بناتے اور اسے بچاتے ہیں، جبکہ قرآن ہمیں اس عظیم الشان ڈیزائن کے پیچھے موجود حکمت پر غور (تدبر) کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

​حاصلِ کلام

​گلاس میں تیرتی ہوئی برف کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا دراصل قدرت کی ایک بہت بڑی انجینئرنگ کا شاہکار ہے۔ ایک مومن کے لیے پانی کی یہ انوکھی ساخت اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور اس کی لامحدود حکمت کی ایک شاندار نشانی ہے، جبکہ سائنس ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ خالق نے زندگی کو بچانے کے لیے مالیکیولر سطح پر کیسا حیرت انگیز نظام وضع کر رکھا ہے۔

​#سائنس #فزکس #پانی #کائنات #تحقیق #سائنس_اور_قرآن

​حوالہ جات:

​Journal of Chemical Physics (The anomalous properties of water)

​USGS – Water Science School (Ice, Snow, and Glaciers and the Water Cycle)

​Nature (The structure and dynamics of water)

​سورۃ الانبیاء: 30

Loading