Daily Roshni News

پاکستان کرغزستان تجارتی معاہدہ!۔۔۔تحریر۔۔۔ ضیاء الحق سرحدی(ستارہ امتیاز)

پاکستان کرغزستان تجارتی معاہدہ!
ضیاء الحق سرحدی(ستارہ امتیاز) پشاور
ziaulhaqsarhadi@gmail.com

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ پاکستان کرغزستان تجارتی معاہدہ!۔۔۔تحریر۔۔۔ ضیاء الحق سرحدی(ستارہ امتیاز) )گزشتہ روزپاکستان اور کرغزستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہو گئے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور کرغزستان کے صدر صادر ژاپاروف نے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کئے ۔ معاہدوں پر دستخط کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کرغزستان کے صدرصادر ژاپاروف نے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان کے تعلقات باہمی احترام اور تاریخی رشتوں میں بندھے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان کے ساتھ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، معیشت اور شعبہ سرمایہ کاری میں تعاون کی گنجائش موجود ہے علاقائی امن، ترقی اور خوش حالی کے لئے پاکستان کرغزستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان تجارت کو 2 ارب ڈالر تک بڑھانا چاہتے ہیں، دونوں ممالک تجارتی حجم بڑھانے کے لئے قوانین کو مزید آسان بنائیں گے، باہمی تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لئے دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔ دونوں ممالک کے طے پانے والے نئے معاہدے دوطرفہ تعاون کو نئی سطح پر لے جائیں گے۔ خشکی میں محصور کرغزستان وسطی ایشیا میں چین کے مغرب اور قازقستان کے جنوب میں واقع ہے۔ اس کا رقبہ ایک لاکھ ننانوے ہزار نو سو اکیاون مربع کلومیٹر ہے جس کا تقریبا نوے فیصد علاقہ پہاڑوں پر مشتمل ہے۔ اس کا دارالحکومت بشکیک ہے جس کا سابقہ نام(آزادی سے پہلے)فرونز تھا، کرغزستان کی سرحدیں چین، ازبکستان، قازقستان اور تاجکستان سے ملتی ہیں جن کی کل لمبائی تین ہزار اکیاون کلومیٹر ہے۔ اس کی آبادی چھپن لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے جس میں75 فیصد مسلمان ہیں اور شرح خواندگی 99 فیصد ہے۔ کرغزستان کی معیشت زیادہ تر سونے کے ذخائر، پن بجلی، کپاس کی برآمد اور سیاحت پر انحصار کرتی ہے، کرغزستان میں پہاڑوں میں بہتے دریاڈیموں کے لئے بہت موزوں ہیں جس کی وجہ سے کرغزستان میں چھوٹے، بڑے ڈیموں سے کل بجلی کا 80 فیصد حصہ حاصل ہوتا ہے، ان ڈیموں میں ذخیرہ ہونے والے پانی سے ملکی زراعت کو بھی کافی فائدہ ہوتا ہے ۔ ملک میں گیس کے معلوم ذخائر تقریباً پانچ بلین کیوبک میٹر اور تیل کے معلوم ذخائر تقریباً چالیس ملین بیرل ہیں۔ سونے کے ذخائر کی اندازہ قیمت ساڑھے پانچ بلین ڈالر ہے ۔ کرغزستان نے آزادی کے بعد خطے کے اہم ممالک سے تعلقات مضبوط کئے ہیں اور اس کے چین، روس، قازقستان، ازبکستان، پاکستان اور خطے کے دوسرے ممالک سے اچھے سفارتی اور تجارتی تعلقات ہیں جن کی وجہ سے کرغزستان خطے کے تمام ممالک سے مل کر ترقی کی نئی منزلیں طے کر رہا ہے۔پاکستان اور کرغزستان میں ازبکستان نے اقتصادی، تجارتی، سائنس، تعلیم، انفارمیشن اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدے اور2 سال میں دوطرفہ تجارتی حجم 20 کروڑ ڈالر تک لے جانے کا عزم انتہائی خوش آئند ہے۔ جیو سٹرٹیجک سے جیو اکنامکس کی جانب جانے والا پاکستان دنیا بھر میں اپنے تجارتی اور معاشی تعلقات کو مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان اور کرغزستان کے ساتھ معاہدوں اور یادداشتوں پر دستخط اسی سمت میں ایک قدم ہے ۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ کرغزستان اور پاکستان کے درمیان ہمیشہ سے مثالی اور دوستانہ تعلقات ہیں اور موجودہ حکومت ان کو مزید مضبوط بنانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ پاکستان اور کرغزستان کے مابین خوشگوار تعلقات کے باوجود دوطرفہ تجارتی حجم ان کی حقیقی صلاحیت سے کم ہے، دونوں ممالک محدود شعبوں میں تجارت کر رہے ہیں جس میں اضافے کے لئے انہیں متنوع شعبوں میں تجارت کے فروغ پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ کرغزستانی قدرتی وسائل سے مالامال ملک ہونے کی وجہ سے پاکستان کو مزید مصنوعات فراہم کر سکتا ہے جبکہ پاکستان سے کرغزستان کو فارماسیوٹیکل، ٹیکسٹائل اور زرعی مصنوعات سمیت بہت سی اشیاء برآمد کی جاسکتی ہیں۔ کرغزستان بھارت سے ماربل در آمد کر رہا ہے جبکہ پاکستانی ماربل ایکسپورٹرزبھی اس مارکیٹ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان دوطرفہ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کا فروغ علاقائی اور عالمی تجارتی انضمام اور روابط میں سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے ۔ پاکستان اور کرغزستان اپنی جیو اکنامک اہمیت کے باعث مختلف خطوں اور عالمی منڈیوں کے درمیان تجارتی روابط کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس ملک کا دارالحکومت بشکیک ہے۔ معاشی اور قدرتی وسائل، پانی سے بجلی کی پیداوار، سونا، دیگر نایاب معدنیات اور زرعی مصنوعات والا ملک ہے لیکن سمندر سے محروم ہونے کے باعث کرغزستان کے لیے بین الاقوامی تجارت اور عالمی منڈیوں تک ارزاں رسائی ہمیشہ ایک کٹھن چیلنج رہی ہے۔ جغرافیائی طور پر پاکستان اور کرغزستان کے درمیان افغانستان کی ایک راہداری حائل ہے جو کہ بعض وجوہات کی بنا پر اس وقت محفوظ نہیں ہے، البتہ چین اور پاکستان کی جانب سے شاہراہ قراقرم اور کاشغر کا بنیادی ڈھانچہ بہترین اور سیکیورٹی کے لحاظ سے محفوظ ہے۔ آج کی دنیا جیو پولیٹکس سے نکل کر جیو اکنامکس کے فریم ورک میں داخل ہو چکی ہے۔ روس اور چین کے ساتھ امریکا بھی وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ اپنے روابط بڑھانے کا خواہاں ہیں۔ ایسے میں پاکستان اور کرغزستان کا تکنیکی اور تجارتی اشتراک اس خطے میں معاشی خود مختاری کا نیا توازن قائم کرتا ہے۔ جب کرغزستان پاکستان کی بندرگاہ گوادر کا استعمال کرتا ہے تو سی پیک کا اصل مقصد عملی شکل اختیار کر لے گی۔ کرغزستان میں سستی بجلی پیدا ہوتی ہے اور یہ بجلی ایک منصوبے کے تحت لائی بھی جا رہی ہے۔ پاکستان، کرغزستان کو ادویات، ٹیکسٹائل مصنوعات اور سرجیکل آلات، چاول اور دیگر اشیا برآمد کر سکتا ہے جب کہ بدلے میں کوئلہ، خام مال، خشک میوہ جات اور دیگر اشیا ء درآمد کی جائیں گی اور وقت کے اعتبار سے سب سے بہترین بات یہ ہوئی ہے کہ پاکستان کی آئی ٹی کمپنیاں اپنے سافٹ ویئر فروخت کر سکتی ہیں، اس طرح دونوں ممالک سروسز سیکٹر کی برآمدات کے ذریعے زرمبادلہ میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ فی الحال پاکستان، کرغزستان کا تجارت 20 کروڑ ڈالر تک پہنچانے کا معاہدہ ہوا ہے۔ ان دونوں ملکوں کے درمیان معاہدہ طے ہوا ہے کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ملکوں کے بینکنگ چینل کو فعال کرنا ہوگا تاکہ تاجروں کو کسی تیسرے ملک پر انحصار نہ کرنا پڑے۔ شاہراہ قراقرم کاخنجراب پاس سردیوں میں بند ہو جاتا ہے اس کا مستقل حل نکالنا بھی ضروری ہے۔ پاکستان، خطے کے ممالک کے لیے ایک ایساپل بن چکا ہے جو وسطی ایشیا کے تمام ممالک کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دے سکتا ہے۔ پاکستان اگر اپنی جیو اکنامک حکمت عملی پر ثابت قدمی سے گامزن رہا تو ان ملکوں کے مال بردارٹرک صرف سامان نہیں بلکہ خوشحالی، ترقی اور تکنیکی انقلاب کی نئی سحر بھی ساتھ لائیں گے، کیوں کہ وسطی ایشیائی ملکوں کے لیے پاکستان کی بحیرہ عرب کی بندرگاہوںکراچی اور گوادر کے ذریعے ایشیا کی بڑی مارکیٹ تک ترجیحی رسائی ملتی ہے۔ قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ معاہدے کے مطابق لاہور اور راوش شہر قرار دیے گئے ہیں۔ فی الحال پاکستان اور کرغزستان کے درمیان دوطرفہ تجارت اپنی حقیقی صلاحیت سے کافی کم ہے۔ کسٹم ٹرانسپورٹ سے متعلق معاہدوں سے غیر تجارتی رکاوٹیں ختم ہوں گی اور دوطرفہ تجارتی حجم میں اضافہ ہو سکے گا۔ ڈیجیٹل اکنا می کو فروغ دے کر پاکستان کی آئی ٹی کمپنیوں کے لیے برآمدات کا راستہ کھلے گا۔ لاجسٹک اور ترسیل کو آسان بنانے سے مال برداری کے اخراجات اور ٹرانزٹ ٹائم میں نمایاں کمی آئے گی، اس معاہدے کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اقتصادی راہداری اور کاشغر سے کرغزستان کے زمینی راستوں کو فعال کرنے میں معاون ثابت ہونے سے پاکستان لاجسٹک ہب کے طور پر پاکستان کا کردار مضبوط ہوگا۔

Loading