*پاکستان کے لیے ایک قابلِ فخر کامیابی: ویانا میں قائم آئی اے دی اے نے ڈاکٹر تفخر علی اسدی کو 2028-2030 کے لیے آزاد بیرونی آڈیٹر مقرر کیا ہے*۔

*پاکستان کے لیے ایک قابلِ فخر کامیابی: ویانا میں قائم آئی اے دی اے نے ڈاکٹر تفخر علی اسدی کو 2028-2030 کے لیے آزاد بیرونی آڈیٹر مقرر کیا ہے*۔

آسٹریا (ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔رپورٹ۔۔۔ محمد عامر صدیق،ویانا، آسٹریا) ویانا میں قائم انٹرنیشنل اینٹی کرپشن اکیڈمی (آئی اے دی اے) کے بورڈ آف گورنرز نے پاکستان کے ڈپٹی آڈیٹر جنرل، ڈاکٹر تفخر علی اسدی کو 2028 سے 2030 کی مدت کے لیے ‘آزاد بیرونی آڈیٹر’ (Independent External Auditor) مقرر کر دیا گیا ہے۔ یہ تقرری پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت اور شفافیت، احتساب اور گڈ گورننس (اچھے طرزِ حکمرانی) کے عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ڈاکٹر تفخر علی اسدی پاکستان میں مختلف اعلیٰ عہدوں پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ وہ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (بجٹ) کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ تعلیم: ایم فل (انتھروپولوجی/عمرانیات)، قائداعظم یونیورسٹی، اسلام آباد (2019-2021)۔ انہوں نے پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس، اسلام آباد کے افسر کی حیثیت سے بھی اپنے فرائض سرانجام دیے ہیں۔ ان کا شمار پاکستان کے ان انتہائی قابل افسران میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی محنت اور لگن کے ذریعے ہمیشہ ملک کی ترقی کی راہ ہموار کی ہے۔

انٹرنیشنل اینٹی کرپشن اکیڈمی کا انتظام 11 ارکان پر مشتمل ایک بورڈ چلاتا ہے، جن میں سے تمام اپنی انفرادی حیثیت میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ بورڈ آف گورنرز کے نو ارکان کا انتخاب ‘اسمبلی آف پارٹیز’ (Assembly of Parties) کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ، اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسدادِ منشیات و جرائم (UNODC) اور جمہوریہ آسٹریا کو بھی ایک ایک رکن نامزد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ بورڈ میں تمام علاقائی گروہوں کی نمائندگی موجود ہوتی ہے۔

Loading