Daily Roshni News

پیرانِ پیر غوث الاعظم سیدنا حضرت شیخ عبدالقاد رجیلانی    ۔۔۔تحریر۔۔۔ ضیاء الحق سرحدی(ستارہ امتیاز) پشاور

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔”  پیرانِ پیر غوث الاعظم سیدنا حضرت شیخ عبدالقاد رجیلانی    ۔۔۔تحریر۔۔۔ ضیاء الحق سرحدی(ستارہ امتیاز) پشاور)شیخ الاسلام ، سلطان المشائخ ، محبوب ربانی ، قطب سبحانی ، واعظ لاثانی ، شہباز لامکانی ، غوث لامکانی ، قطب ہمدانی محی الدین والاسلام”  پیرانِ پیر غوث الاعظم سیدنا حضرت شیخ عبدالقاد رجیلانی    ”

                        اِمَداد کُن اِمَدادکُن از بندِغم آزاد کُن

                        دَردین ودنیا شاد کُن یَا غوثِ اعظم دستگیر

      پیرانِ پیر غوث الاعظم سیدنا حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی  بغداد شریف سے خواجہ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری تک اور حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری  سے حضرت بہائوالدین ذکریا ملتانی تک تمام بزرگان دین نے رشد وہدایت کا سلسلہ جاری رکھاقطبِ عالم حضرت خواجہ سید قطب الدین بختیار کاکی  مہر ولی شریف دہلی میں، نور العارفین با با فرید الدین مسعود گنج شکر پاک پتن شریف میں ،حضرت علائوالدین صابر کلیری  کلیر شریف میں اور حضرت نظام الدین اولیاء  محبو ب الہی دہلی شریف نے دہلی میںبھی رشد و ہدایت کا سلسلہ جاری رکھا۔یوں تو شخصیات کو پرکھنے کے دنیا میں کئی پیمانے ہیں ،مگر شہرت عام اور مقبولیت اَنام ایک ایسا پیمانہ ہے جس کے ذریعے گردش ایام اورانقلاب عالم کو سامنے رکھتے ہوئے کسی بھی شخصیت کو با آسانی جانچ سکتے ہیں،علماء ومشائخ ،ادبائوشعرائ،سلاطین وملوک اور اربابِ فنون میں سے کئی لوگ آسمان شہرت کا ستارہ بن کر چمکے اور دنیا پر چھا گئے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ آہستہ آہستہ اُن کی وہ شہرت گھٹتی چلی گئی،البتہ ان میں سے بعض ایسی نام ورہستیاں اور قد آور شخصیتیں ہو گزری ہیں کہ اپنے علم وعمل اور گراں قدر خدمات کی بنا پر لوگوں کے دِلوں میں وقت کے ساتھ ساتھ اُن کی محبت وعقیدت بڑھتی جاتی ہے،اس نکتہ نگاہ سے اگر دیکھا جائے تو صوفیہ ومشائخ کے تمام سلاسل میں سب سے پہلے جس عظیم ہستی پر نگاہ پڑتی ہے وہ قطب الاقطاب ،شیخ شیوخ العالم ،محبوب سبحانی،غوث صمدانی سید عبدالقادر جیلانی کی ذات گرامی ہے ،جن کی عظمت اور عوام وخواص کے دِلوں میں محبت وعقیدت ،نو سوسالہ طویل عرصے کے حوادثات اور انقلاب کے باوجود قائم ودائم

ہے،بلاشبہ یہی وہ عظیم لوگ ہیں جن کی محبت وعظمت کے جھنڈے انسانی قلوب میں گڑے ہوئے ہیں،اور جن کی رفعتوں کے افسانے آفتاب وماہتاب کی زبانوں پر ہیں۔

خدا رحمت کندایں عاشقاں پاک طنیت را

اسم گرامی ”عبدالقادر ،کنیت،ابو محمد اور لقب محی الدین”قرار پایا،زبان خلق سے غوث اعظم ،محبوب سبحانی،قطب ربانی اور پیران پیر،ایسے القابات نذرگزارے ،جو اپنی واقعیت اور حقیقت کی بناء پر دایک طرح کا نام ہوگئے،آپ 470ہجری میں طبر ستان کے نواحی قصبے جیلان میںپیدا ہوئے ،اسی کو گیل اور گیلان بھی کہتے ہیں،بعض محققین کے مطابق جیلان یا گیلان سارے علاقے کا نام تھا، جس میں کئی قصبے شامل ہیں،اِن محققین کے نزدیک آپ کی پیدائش قصبہ ”نیف”میں ہوئی ، نسبی سیادت دونوں طرف سے حاصل تھی، والدِ گرامی کی طرف سے سلسلئہ نسب سیدناامام حسن  تک پہنچتا ہے اور والدہ ماجدہ کی طرف سے سیدنا امام حسین تک ،گویاآپ کا سلسلئہ نسب سلسلتہ الذہب ہے،نسب عالی یوں ہے”محی الدین ابو محمد عبدالقادر بن ابی صالح دوست موسیٰ بن ابی عبداللہ بن یحی الزاہدبن محمد بن داؤد بن موسیٰ الجون بن عبداللہ بن المحض بن الحسن المثنی بن الحسن بن علی بن ابی طالب  ”منقول ہے کہ رمضان المبارک میں دن کے وقت دودھ نہیں پیتے تھے چنانچہ یہ بات عام مشہور ہوگئی کہ سادات کے گھرانے میں ایک ایسا بچہ پیدا ہوا ہے جو رمضان میں دِن کے وقت دودھ نہیں پیتا،ابتداہی سے پیشانی مبارک میں رُشد وہدایت کے آثار ہو پدا تھے،سب سے پہلے قرآن مجید حفظ کیا اور پھر دوسرے اسلامی علوم کی تحصیل میں مشغول ہو گئے،اٹھارہ برس کی مختصر عمر میں وطن مالوف کو خیر باد کہہ کر وقت کے مشہور علمی مرکز بغداد کا رُخ کیا،والدہ ماجدہ نے رخصت ہوتے وقت چالیس دینار کی تھیلی ہاتھ میں تھماتے ہوئے نصیحت کی”راستی وصدق کسی حال میں نہ چھوڑنا ”راستہ میں قافلہ پر ڈاکوؤںنے حملہ کیا،ہر شخص مال چھپانے، جان بچانے کی فکر میں ہوا مگر اس سعادت مند فرزند اور اللہ کے برگزیدہ بندے نے صاف صاف اپنی مالیت بیان کر دی،ڈاکو راست بازی اور دیانت کی اس کرامت پردَنگ رِہ گئے اور تائب ہو کر داخل بیعت ہوئے ،بغداد پہنچ کر اپنے دور کے ناموراور ماہر اساتذہ سے آپ نے علوم وفنون کی تکمیل فرمائی ،بعض روایات کے مطابق مشہور اسلامی یونیورسٹی نظامیہ میں بھی زیر تعلیم رہے،فطری صلاحیت اور علمی ماحول نے سونے پر سہاگے کا کام کیا اور تھوڑے ہی عرصے میں آپ ایک جید عالم دین اور نامور بزرگ کے طور پر معروف ہوگئے۔بغداد ہی میں مسند درس وتدریس اور افتاء پر متمکن ہوئے ،صبح وشام دونوں وقت تفسیر ،حدیث ،مذہب اخلاقیات ،اصول اور نحوکا درس آپ کا معمول تھا،جلد ہی آپ کے علمی تجراور فتوی نویسی کی دھاک بیٹھ گئی،آپ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل  کے مسلک پر فتوی دیتے تھے،بعض حضرات کے خیال میں ابتداء آپ شافعی المسلک تھے،جب کہ آخری عمر میں حنبلی مکتب فکر کی طرف میلان زیادہ ہوگیا تھا۔مسلم برادری کی غالب اکثریت ہر ماہ کی گیارہ تاریخ اور خصوصاً ربیع الثانی (قمری سال کا چوتھا مہینہ)کی دس،گیارہ،بارہ تاریخوں میں آپ کی یاد منائی جاتی ہے، جلسے منعقد کئے جاتے ہیں، محافل سجائی جاتی ہیں، کانفرنسیں منعقد کی جاتی ہیں،دیگیں چڑھتی ہیں،صدقہ و خیرات کیا جاتا ہے ، اوران کی کرامات بیان کی جاتی ہیں ۔ سر زمین پاکستان با الخصوص اس لحاظ سے بڑانصیب و با مراد ہے کہ یہاں اولیائے کرام بزر گانِ دین اور اللہ تبارک تعالی کے مقبول و منظور بندوں کی کمی نہیں ۔ جس رات آپ پیدا ہوئے اسی رات آپ کے والد محترم حضرت ابو صالح  نے حضور اکرم ۖ کو خواب میں دیکھا کہ سرور کونین ۖ اپنے صحابہ کرام اور اولیائے عظام کے ساتھ تشریف لائے ہیں اور فرما رہے ہیں” اے ابو صالح ! تجھے اللہ تعالی نے صالح فرزند عطا فرمایا ہے ،وہ میرے بیٹے کی مانند ہے اور اولیاء میں اس کا مرتبہ بہت بلند ہے ”۔آپ کی پیدائش کی رات ایک اور عجیب و غریب واقعہ پیش آیا معتبر مئورخین نے لکھا ہے کہ اس رات پورے شہر میں جتنے بچے بھی پیدا ہوئے وہ سب کے سب لڑکے تھے پھر وہ تمام لڑکے جوان ہو کر ولایت کی منزل تک پہنچے آپ کی والدہ ماجدہ فرماتی ہیں کہ عبدالقادر رمضان المبارک میں پیداہوئے اور انہوں نے پورے مہینے دن کے وقت دودھ نہیں پیا دوسرے سال گہرے بادل ہونے کی وجہ سے رمضان المبارک کا چاند نظر نہیں آیا اور لوگ شک میں پڑ گئے آخر قرب و جوار کے چند لوگوں نے حضرت شیخ عبدالقادر کی والدہ ماجدہ سے دریافت کیا کہ” سیدہ !کیا تمھیں رویت ہلال کی کوئی خبر ملی ہے ؟ جواب میں سیدہ نے فر ما یا آج میرے عبدالقادر نے خلاف عادت دن کے وقت دودھ نہیں پیا ہے اس لئے میں سمجھتی ہوں کہ آج پہلا روزہ ہے ” کچھ دن بعد معتبر شہادتوں سے اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ دوسرے شہروں میں رمضان کا چاند نظر آگیا تھا پھر یہ بات دور دراز علاقوں میں بھی مشہور ہو گئی کہ سادات عجم میں ایک مبارک بچہ پیدا ہوا ہے جو رمضان میں دن کے وقت دودھ نہیں پیتا۔اہل تذکرہ کے مطابق آپ کی نسبت ارادت براہِ راست سرور عالمۖ سے تھی اور انوار وفیوض کا نزول بھی براہِ راست خواجہ عالم ۖکی طرف سے ہوتا تھا،تاہم ظاہری طور پر آپ نے قاضی ابو سعید مبارک مخرمی سے نسبت قائم کی اور خرقہ خلافت حاصل کیا اِن کے علاوہ شیخ حماد ،شیخ ابو یوسف اور یعقوب ہمدانی   کی صحبت میں بھی رہے،شیخ حماد،شیخ صحبت تھے،آپ کا ظاہری سلسلئہ ارشاداِس طرح ہے: ”آپ نے خرقہ مبارکہ قاضی ابو سعید مبارک مخرمی سے انہوں نے شیخ ابو الحسن علی بن محمد القرشی سے انہوں نے ابوالفرح طرطوسی سے،ا نہوں نے ابوالفضل عبدالواحد تمیمی سے انہوں نے معروف کرخی سے انہوں نے داؤد طائی سے انہوں نے حبیب عجمی سے انہوں نے حسن بصری سے انہوں امیرالمومنین سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے انہوں مرشد کل آقاومولیٰ محمد رسول اللہۖسے حاصل کیا،حضرت سیدنا غوث اعظم  سے پوچھاگیا کہ وہ کون سے چیزہے جسے آنحضورۖ نے بارگاہِ اُلوہیت سے حاصل کیا اور آگے مشائخ آپ سے حاصل کرتے رہے ؟ فرمایا:”علم اور ادب ابوالفتح ہروی کا بیان ہے کہ میں نے پورے چالیس سال حضرت غوث اعظم  کی خدمت میں گزارے،آپ یہ سارا وقت عشاء کے وضو سے فجر کی نماز ادا فرماتے رہے،انہیں مجاہدات اور ریاضتوں کے بعد آپ اس مقام پر فائز ہوگئے جو اِس راہ کا آخری مقام یعنی”درجہ محبوبیت ”ہے۔شیخ عبداللہ جیلانی  کا بیان ہے کہ حضرت شیخ عبدالقادرجیلانی  کے دست مبارک پر پانچ ہزار سے زیادہ یہودی اور عیسائی مسلمان ہوئے اور ایک لاکھ سے زیادہ قزاقوں ، فاسقوں ، بدکاروں اور بد عقیدہ انسانوں نے توبہ کی۔ بلا شبہ اولیاء اللہ عزوجل نبیوںکے وارث اور دین کے پاسدار ہوتے ہیں۔ حضور غوث پاک  نے ایک مرتبہ نبی پاک ۖ کی بارگاہ میں نذرانہ عقیدت پیش کرنے کے لئے فاتحہ خوانی کا اہتمام فر ما یا یہ نیاز اس قدر مقبول ہوئی کہ آپ  نے ہر ماہ کی گیارہ تاریخ کو یہ فاتحہ مقررفر ما دی آہستہ آہستہ یہ عمل آپ کی طرف منسوب ہو گیا اور حضور غوث پاک  کی گیارھویں کہلانے لگا حقیقت

میں گیارھویں شریف کا ختم حضور غوث پاک  کی روح پاک کو ایصال ثواب کا ذریعہ ہے ربیع الثانی میں ہی چونکہ آپ  کا وصال ہوا اور عرس بھی آپ کا اسی ماہ منا یا جاتا ہے لہٰذا اسی نسبت سے یہ

بڑی گیارھویں شریف کہلائی جاتی ہے۔حضرت سیدنا شیخ عبدالقادرجیلانی  نے گیارہ ربیع الثانی 561 ء میں انتقال فر ما یا وصال کے وقت آپ کی عمر مبارک 91 سال تھی بغداد شریف میں آسودہ خاک ہوئے پورے ربیع الثانی کے مبارک مہینے میں ملک کے مختلف شہروں میں گیارہویں شریف کی تقریبات ہوتی ہیں پشاور میں بھی ان با برکت محفلوں کا انعقاد پیر و مرشدی رئیس الفقراء حضرت پیر سید مستان شاہ سر کار حق با باکے صاحبزادے پیر سید عنایت علی شاہ بادشاہ موتیاں والی سرکار سجادہ نشین دربار عالیہ تمبر پورہ شریف پشاور اور حضرت مو لا نا سید محمد امیر شاہ قادری گیلانی المعروف مولوی جی یکہ توت شریف کے طفیل سے بڑے احترام کے ساتھ ہو تا ہے۔حضرت مو لا نا سید محمد امیر شاہ قادری گیلانی المعروف مولوی جی یکہ توت شریف میں ہر ماہ کی گیارہ تاریخ کو فجر کی نماز کے بعد گیارہویں شریف کا ختم ہوتا ہے جبکہ ربیع الاول کے مہینے کی یکم تاریخ سے لے کربارہ تاریخ تک روزانہ یہ ختم ہوتارہتا ہے اور روزانہ صبح و شام بعد از ختم شریف لنگر تقسیم کیا جاتا ہے مولوی جی  کے پردہ فرما جانے کے بعد اب ان کے برخوردار سید محمد نور الحسنین گیلانی المعروف (سلطان آغہ) گدی نشین ہیںان محفلوں میں عقیدت مند گلہائے عقیدت پیش کر کے روحانی کیف و سرور کے ساتھ دنیا و آخرت کی سر بلندی و سر فرازی کی دولت سے ما لا مال ہو کر واپس جاتے ہیں۔

Loading