کتاب ۔۔۔۔ اللہ کے محبوب
خواجہ شمس الدین عظیمی ؒ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ کتاب ۔۔۔۔ اللہ کے محبوب۔۔۔ خواجہ شمس الدین عظیمی ؒ)قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ ہم نے سیدنا حضور علیہ الصلٰواۃ والسلام کے ذکر کو بلند کیا ہے جس ذات پاک کے ذکر کو خود اللہ تعالٰی بلند فرما دیں اس ہستی کے متعلق کسی کا کچھ کہنا عقیدت تو ہو سکتی ہے لیکن اس سے آپ ﷺکی سیرت کا احاطہ نہیں ہو سکتا۔
آج کے مادی دور میں نہایت محبت ،عقیدت اور احترام سے لوگوں کا سیرت طیبہ کی محافل میں شریک ہونا اس بات کی شہادت ہے کہ اللہ تعالٰی نے رسول اللہﷺ کو نہایت بلند درجات عطا فرمائے ہیں اور ہماری دلوں میں سیدنا حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی محبت جاگزیں ہے۔
ہر دور میں علماء،فضلا، دانشوروں اور عقیدت مندوں نے حضور پاک ﷺ کی سیرت طیبہ کے مختلف گوشوں کی پردہ کشائ کی ہے۔ صحابہ کرامؓ ، تابعین ، تبعہ تابعین ، اولیاء اللّٰہ ، علماء کرام ، مفسرین کرام ، محدثین اور مفکرین ہر زمانے میں انسانی شعور کے ارتقاء کے مطابق کچھ نہ کچھ کہتے رہتے ہیں۔ لیکن چودہ سو سال میں بھی سیرت طیبہ کے کسی پہلو کا احاطہ نہیں ہو سکا۔ سیدنا حضور علیہ الصلٰواۃ والسلام کی حیات مبارکہ یا سیرت طیبہ پر صدیوں سے بے شمار کتابیں تحریر کی جا رہی ہے اور خصوصی بات یہ ہے کہ جس کتاب کو بھی دیکا جائے اس میں ایک نئی کشش ، چاشنی اور گداز ملتا ہے۔حضور پاک ﷺ کی سیرت طیبہ میں مکہ سے مدینہ اور مدینہ سے مکہ کی زندگی کے حالات و واقعات کے بے شمار پہلو شامل ہیں۔ حضور پاک ﷺ کی سیرت پر لکھی گئی لاکھوں کتابوں میں آپ ﷺ کے اخلاق ، کردار اور سپہ سالاری وغیرہ کے پہلو اُجاگر کیئے گئیں ہیں۔ عرض ہے کہ حضور پاک ﷺ کی حیات مبارکہ کا کوئی گوشہ ایسا نہیں رہا جو نوع انسانی یا امت مسلمہ کے سامنے نہ آیا ہو۔اس سلسلے میں مجھے بھی شوق ہوا تو میں نے اللہ تعالٰی کے حضور دعا کی اور سیدنا حضور علیہ الصلٰواۃ والسلام کے دربار کی طرف توجہ کر کے اظہار تمنا کی!
یا رسولاللہﷺ !میں کسی قابل تو نھیں ھوں لیکن میرا دل چاھتا ھے کہ سیرت پاک ﷺ پر کوئ ایسی کتاب لکھی جاۓجس میں روحانی گوشے اجاگر کۓ جائیں ۔
الحمد اللہ! رسول اللہﷺ نے مسکرا کر اس گزارش کو شرف قبو لیت بخشا ۔
کتاب اللہ کے محبوب
خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب مدظلہ العالی
![]()

