ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تحقیق و تحریر : ہادی صاحب)سوا صدی پہلے پاکستان کے ایک گاؤں میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی سوچ کی اڑان آج کی زی جنریشن سے بھی اونچی تھی جن کی دانش اور افکار سے ہماری قوم نے کوئی استفادہ نہیں کیا اسلئے ھماری سوچ منجمد کر رکھی ہے مکھی پر مکھی مارنے والے علما اور دانشوروں نے۔
“کَیمبَل پُور کے ڈَاکٹر بَرق
بَنی اس-رائیل، اُمَت مُسْلِمَّہ ، Generation ‘Z’
تحقیق و تحریر : ہادی صاحب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
13 مارچ 2026 – اٹک
بابا : اس-رائیل میں یہودیوں کی کل تعداد 73 لاکھ ہے اور دنیا بھر میں ان کی مجموعی تعداد تقریباً 1 کروڑ 58 لاکھ ہے۔ جبکہ ہمارے لاہور شہر کی آبادی ہی تقریباً اس کے برابر ہے۔
اسی طرح اگر مقبوضہ بیت المقدس، شام کی گولان کی پہاڑیاں اور جنگوں میں حاصل کیے گئے دیگر عرب علاقے بھی شامل کر لیے جائیں تو اس-رائیل کا کل رقبہ نقشے پر ہمارے ضلع چاغی سے بھی کم بنتا ہے۔
لیکن ہم Generation Z جب بھی کچھ سرچ کرتے ہیں تو دنیا کی دو ارب اُمَتِ مُسْلِمَّہ کی بجائے بَنی اس-رائیل کی کامیابیاں سامنے آ جاتی ہیں۔
ڈیجیٹل دنیا دیکھیں تو :
انٹرنیٹ کے بانی Bob Kahn ہوں،
گوگلGoogle کے بانی اور سرچ انجن کی بنیادی تکنیک PageRank کے موجد Larry Page ہوں،
گوگل کے شریک بانی Sergey Brin ہوں،
فیس بک Facebook (Meta) کے بانی Mark Zuckerberg ہوں،
واٹس ایپ WhatsAppکے بانی Jan Koum ہوں،
سنیپ چیٹ Snapchat کے بانی Evan Spiegel ہوں
یا Gen Z کے پسندیدہ فلم سازSteven Spielberg ہوں
تو یہ سب بَنی اس-رائیل سے تعلق رکھتے ہیں۔
پھر اگر سائنس اور علم کی دنیا دیکھیں تو:
طبیعیات کے سب سے بااثر سائنسدان Albert Einstein،
ایٹم بم کے خالق J. Robert Oppenheimer،
آڈیو انڈسٹری کے بانی Emile Berliner،
لیزر ٹیکنالوجی کے موجد Arthur Schawlow،
زرعی آبپاشی میں انقلاب لانے والے Drip Irrigation کے موجد Simcha Blass،
کینسر کی کیموتھراپی کے بانی سائنسدان Paul Ehrlich،
کوانٹم مکینکس کے عظیم سائنسدان Richard Feynman اور Niels Bohr،
انسانی نفسیات میں انقلاب لانے والے Sigmund Freud،
انفرادی نفسیات کے بانی Alfred Adler،
ڈی این اے DNA کی دریافت کے حوالے سے مشہور James D. Watson،
فلسفہ اور معاشیات کے مفکر Karl Marx،
ادب کے نابغہ Franz Kafka
اور بلومبرگ کے بانی Michael Bloomberg
یہ سب بھی بَنی اس-رائیل سے ہیں۔
بابا! اگر میں آپ کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مالکان، بینکاروں، ماہرینِ معیشت، خلا بازوں اور سائنس دانوں کے نام گنوانا شروع کر دوں تو یقین کریں، پڑھتے پڑھتے پورا دن نکل جائے گا۔
بس مختصراَ اتنا جان لیجیے کہ بَنی اسرائیل دنیا کی آبادی کا صرف 0.2٪ ہیں لیکن نوبل انعام یافتگان میں ان کا حصہ تقریباً 22٪ ہے۔
بابا! ایک بات بتائیں:
اللہ نے مسلمانوں کو بھی بَنی اس-رائیل کی طرح دو ہاتھ، دو پاؤں اور ایک سر عطا کیا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ بَنی اس-رائیل، نصٓاری، ہنود اور لادین ہر شعبے میں ترقی کر رہے ہیں، نئی ایجادات کر رہے ہیں اور عام انسان کی زندگی آسان بنا رہے ہیں، جبکہ دو ارب مسلمانوں کے باوجود اُمَتِ مُسْلِمَّہ ہر جگہ پسماندگی کا شکار نظر آتی ہے؟
مُنَزَّہ: بیٹی! تقریباً یہی سوال 1918ء میں کَیمبَل پُور کے ایک نوجوان ڈاکٹر غُلام جیلانی برق نے اپنے والد سے کیا تھا۔ اس وقت ان کی عمر آپ کی طرح صرف 17 سال تھی اور وہ اپنے والد کے ساتھ امرتسر گئے ہوئے تھے۔
میں چاہوں تو اکثر والدین کی طرح آپ کو بھی یہ جواب دے سکتا ہوں کہ:
“یہ دنیا فانی ہے، دنیا کی چکاچوند چھوڑ دو، ترقی اور دولت کی دوڑ میں نہ پڑو،، سب کچھ چھوڑ کر جانا ہے انسان کو، یہ دنیا کافروں کی لیکن ابدی جنت تو ہماری نا، صرف ہم نے ہی جنت میں جانا، ہم مسلسل جنگیں ہار رہے تو یہ صرف تقدیر کا لکھا، اصولی طور پر ہم شہید ہو رہے اور مسلسل ہار کر بھی اصل جیت ہماری ہی ہے۔ تم یہ مادیت والی باتیں ترک کر دو، اللہ سے لو لگاؤ اور اولیاء کرام کی تعلیمات پر عمل کرو”۔
لیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ خود ڈاکٹر برق کی کتاب سے ان کے اور ان کے والد کے درمیان ہونے والا مکالمہ پڑھو اور اس میں سے اپنے سوال کا جواب ڈھونڈو۔
مُنَزَّہ بیٹی! اگر آپ ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی زندگی اور ان کے علمی کام کا گہرائی سے جائزہ لیں تو آپ کی اکثر کنفیوژن خود بخود ختم ہو جائے گی۔ ڈاکٹر برق 1901ء میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان مذہبی بھی تھا اور سادات میں شمار ہوتا تھا۔
ڈاکٹر صاحب کا شمار اسلامی دنیا کے ان چند علما میں ہوتا ہے جو مدارس سے نکل کر یونیورسٹیوں تک پہنچے۔ وہ عربی زبان میں گولڈ میڈلسٹ تھے اور انگریزی زبان پر اس قدر دسترس رکھتے تھے کہ انہوں نے اپنا تحقیقی مقالہ انگریزی میں لکھا اور آکسفورڈ اور ہارورڈ یونیورسٹی نے پاکستان بننے سے سات سال قبل یعنی 1940ء میں ان کی ڈاکٹریٹ کی ڈگری کی تصدیق کی۔
وہ پاکستان کے قیام سے پہلے ان معدودے چند علما میں شامل تھے جن کے پاس پی ایچ ڈی کی ڈگری تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی زندگی میں چالیس کے لگ بھگ کتابیں اور سینکڑوں مضامین تحریر کیے۔ ان کتب کا مرکزی نقطہ عمل، محنت، سعی اور تحقیق تھا۔
ڈاکٹر صاحب اہل ایمان کو یہ سمجھانا چاہتے تھے کہ یہ دنیا اسی کی ہے جو محنت کرے گا۔
کھیتوں سے لے کر فیکٹریوں تک،
اسکولوں سے لے کر لیبارٹریوں تک،
قوموں کو دن رات ایک کرنا پڑتا ہے۔
اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا رب ہے۔ یہ بَنی اسرائیل کا بھی اتنا ہی خدا ہے جتنا اُمَت مُسْلِمَّہ اور نصاری کا ہے۔ اللہ محنت کو پسند کرتا ہے اور محنت کرنے والوں کو کبھی مایوس نہیں کرتا۔ چاہے وہ آئن سٹائن ہوں، لوئی پاسچر ہوں، نیوٹن ہوں، مادام کیوری ہوں یا پھر الخوارزمی، بو علی سینا اور امام غزالی۔
مسلمان صرف دعاؤں اور شارٹ کٹ کے چکر سے باہر نکلیں۔
یہ محنت کریں، علم حاصل کریں اور اپنی دنیا آپ پیدا کریں۔
ڈاکٹر صاحب کا خیال تھا کہ تاریخ میں مسلمانوں کی 128 ریاستیں غیر مسلم قوتوں کے ہاتھوں تباہ ہوئیں۔ چنگیز خان‘ ہلاکو خان اور فرڈینینڈ نے مسلمانوں کی ایسی ایسی لائبریریاں جلا کر راکھ بنا دیں جن میں صحابہؓ کے ہاتھوں سے لکھے قرآن مجید اور اماموں کے ہاتھوں سے تحریر احادیث کے نسخے تھے۔
مسجد قرطبہ کو چرچ میں بدل دیا گیا اور بغداد کی عظیم مساجد تک کو پامال کیا گیا۔ موجودہ دور میں افغانستان، شام، عراق اور غا-زہ کا تورا بورا بنا دیا گیا، لیکن مسلمانوں کی مدد کے لیے نہ آندھیاں آئیں، نہ زلزلے اترے اور نہ دشمن کا راستہ روکنے کے لیے سیلاب آئے۔
ہم مسلمان اپنی تمام تر روحانیت کے باوجود نہ ہندوستان کو انگریزوں سے بچا سکے، نہ غرناطہ کو، اور نہ خلافتِ عثمانیہ کو۔
ڈاکٹر برق کا خیال تھا کہ مسلمانوں کو اسلام کا اصل پیغام سمجھنا ہوگا۔ انہیں علم، دفاع اور معیشت تینوں پر توجہ دینی ہوگی۔ انہیں دعا سے پہلے کھیت میں ہل چلانا ہوگا، بیج بونا ہوگا اور کھیت کو پانی دینا ہوگا۔
ورنہ صرف دعا سے فصل نہیں اگ سکتی۔
ڈاکٹر غلام جیلانی برق کا یہ پیغام آج کے مسلمانوں کے لیے اجنبی سا محسوس ہوتا ہے۔ ایک طویل عمل کے ذریعے مسلمانوں کو عملی اسلام سے دور کر دیا گیا اور ہم نے یہ یقین کر لیا کہ اللہ نے دنیا غیر مسلموں کے لیے اور آخرت مسلمانوں کے لیے وقف کر دی ہے۔
چنانچہ ہم نے دفاع، علم، تحقیق، صنعت اور معیشت دوسروں کے حوالے کر دی اور خود دعاؤں، تعویذوں اور وظائف میں الجھ کر رہ گئے۔
بَنی اسرائیل اور نصاریٰ دنیاوی مسائل کا حل تلاش کرتے رہے۔ انہوں نے اینٹی بائیوٹک، گاڑیاں، جہاز، کیڑے مار ادویات اور میزائل بنائے، جبکہ ہم دعاوٗن کے زریعے دشمن کی توپوں میں کیڑے پڑنے کا انتظار کرتے رہے۔
ہمیں کہا گیا:
تم صرف عبادت کرو، وظائف پڑھو اور غیروں کو کام کرنے دو۔
نتیجہ یہ نکلا کہ پورا عالم اسلام دوسروں کا محتاج بن گیا۔ ہم نے اپنی غلامی کو تقدیر سمجھ کر قبول کر لیا اور اپنے زوال کو روحانیت کا نام دے دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سال 1918 سے سال 2026
سوال وہی ہے… صرف زمانہ بدل گیا ہے۔
1918ء میں یہ سوال ایک نوجوان نے اپنے باپ سے کیا تھا۔
2026ء میں یہی سوال Generation Z اپنے بڑوں سے کر رہی ہے۔
ہماری آبادی دو ارب سے زیادہ ہے، ہماری تاریخ عظیم ہے، ہمارے پاس ایمان بھی ہے اور وسائل بھی
لیکن کیا موجودہ جنگ کے تناظر میں ہمارے پاس اس سوال کا کوئی سچا جواب بھی ہے؟
یا ہم آج بھی اسی سوال کے گرد خاموش کھڑے ہیں
جس کا جواب ڈاکٹر برق ایک صدی پہلے تلاش کر رہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گُزارشات
1۔ ڈاکٹر غلام جیلانی برق 26 اکتوبر 1901ء کو بسال، تحصیل پنڈی گھیپ، ضلع کیمبل پور میں ملک محمد قاسم شاہ کے گھر پیدا ہوئے۔ ﻭﺍﻟﺪ ﮔﺎﺅﮞ ﮐﯽ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﺗﮭﮯ۔ بسال اب اٹک کی تحصیل جنڈ کا حصہ ہے اور 1978 میں کیمبل پور کا نام تبدیل کر کے اٹک کر دیا گیا تھا۔
2۔ ڈاکٹر برق صاحب کے دو بھائی مولوی نورالحق علوی اور غلام ربانی عزیز دار العلوم دیوبند سے فارغ التحصیل تھے۔
3۔ ڈاکٹر صاحب نے ابتدائی تعلیم مدارس میں حاصل کی۔ وہ مولوی فاضل، منش فاضل اور ادیب فاضل تھے۔ بعد ازاں، انہوں نے اسلامی اور مغربی علوم دونوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ انہیں نہ صرف قرآن و حدیث پر عبور حاصل تھا بلکہ زبور، تورات اور انجیل کی بھی باقاعدہ تعلیم تھی۔ وہ مغربی فلسفے کے ساتھ ساتھ گوتم بدھ کی تعلیمات پر بھی مکمل دسترس رکھتے تھے۔
4۔ ڈاکٹر برق نے عربی میں گولڈ میڈل اور فارسی میں ایم اے حاصل کیا۔ 1940ء میں امام ابن تیمیہ پر انگریزی میں تحقیقی مقالہ لکھا، جسے آکسفورڈ اور ہارورڈ یونیورسٹی نے تسلیم کیا اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی۔ انہوں نے عملی زندگی کی شروعات تدریس سے کی اور پھر کالج میں پروفیسر بن گئے۔
5۔ ڈاکٹر غلام جیلانی برق نے مختلف موضوعات پر تقریباً چالیس کتابیں اور سینکڑوں مضامین تحریر کیے،جن میں دو اسلام، دو قرآن، ایک اسلام، بھائی بھائی اور میری آخری کتاب خصوصاً قابل ذکر ہیں۔
6۔ کیمبل پور کے ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی محفل میں مولانا مودودی سے لے کر ڈاکٹر باقر‘ شورش کاشمیری‘ پروفیسر اشفاق علی خان‘ جنرل عبدالعلی ملک‘ مولانا زاہد الحسینی‘ پروفیسر ڈاکٹر اجمل‘ ڈاکٹر حمید اللہ‘ پروفیسر سعادت علی خان‘ مولانا عبدالماجد دریا آبادی‘ حفیظ جالندھری‘ طفیل ہوشیار پوری‘ جنرل شیریں دل خان نیازی‘ پروفیسر سعداللہ کلیم‘ صوفی غلام مصطفی تبسم‘ شیخ عبدالحکیم‘ کرنل محمد خان‘ جنرل شوکت‘ جنرل شفیق الرحمن‘ احمد ندیم قاسمی، فتح محمد ملک، منو بھائی اور جسٹس کیانی جیسے علمائ‘ ادباءاور اہل علم بیٹھا کرتے تھے۔
7۔ وہ بنیادی طور پر آج کے Generation Z کی طرح آزاد خیال اور خوش مزاج شخصیت کے مالک تھے۔ وہ age limitation کے قائل نہیں تھے، ہر عمر کے افراد سے ان کی دوستی تھی، کئی بار مزاق میں وہ آج کل کے نوجوانوں کی طرح Red line بھی cross کر جایا کرتے تھے۔
8۔ ان کا پسندیدہ لباس پینٹ شرٹ تھا، اور انہیں باہر شلوار قمیض میں شاذ و نادر ہی دیکھا گیا۔
9۔ وہ تاش کی Flash یا تین پتی کے ماہر تھے اور روزانہ کی چہل قدمی کے بعد کیمبل پور آرمی آفیسر کلب میں آرمی افسران کے ساتھ یہ گیم کھیلتے اور زیادہ تر جیت کر(کچھ کما کر) ہی آتے تھے۔
10۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ماہیے کو ادب میں متعارف کرانے والے چراغ حسن حسرت تھے، لیکن ڈاکٹر برق صاحب نے اس سے پہلے جاندار ماہیے لکھے۔ پنجاب کی قدیم لوک شاعری یعنی ماہیے صدیوں سے گائے جاتے رہے، لیکن ادب میں متعارف کروانے والے وہ پہلے تھے۔
11۔ پاکستان کے معروف ادیب، نقاد اور دانشور فتح محمد ملک اور معروف کالم نگار، ڈرامہ نگار اور صحافی منیر احمد قریشی (منو بھائی) دونوں ڈاکٹر صاحب کے شاگرد تھے۔ منیر احمد قریشی کو منو بھائی اور فتح محمد ملک کو فتُو بھائی کا نام ڈاکٹر برق صاحب نے ہی دیا۔
12۔ ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی تحقیق تھی کہ اقوام عالم کی تباہی کی اصل وجہ صرف اخلاقی انحطاط ہے۔ اخلاقی انحطاط ایک آدم خور ہے، جس کا پیٹ ہزاروں اقوام کا مدفن ہے۔ یونانیوں، کلدانیوں، مصریوں، رومنوں، عباسیوں اور سلجوقیوں کی ہڈیاں اسی گورستان میں ملیں گی۔
13۔ ڈاکٹر صاحب کی اولاد کے بارے میں اگر کوئی جانکاری فراہم کر سکے۔ دو شادی شدہ بیٹیوں کا تذکرہ معلوم۔
14۔ ڈاکٹر غلام جیلانی برق 12 مارچ 1985ء کو اٹک میں وفات پاگئے اور قبرستان عیدگاہ میں آسودۂ خاک ہیں۔
14۔ معلومات فراہم کرنے پر شکریہ جناب مرزا حامد بیگ صاحب (لاہور)، ڈاکٹر عبدالسلام صاحب (راولپنڈی)، شیخ وقار عظیم صدیقی صاحب (اٹک)۔ اور شکریہ جناب چوہدری جاوید صاحب۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )سوا صدی پہلے پاکستان کے ایک گاؤں میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی سوچ کی اڑان آج کی زی جنریشن سے بھی اونچی تھی جن کی دانش اور افکار سے ہماری قوم نے کوئی استفادہ نہیں کیا اسلئے ھماری سوچ منجمد کر رکھی ہے مکھی پر مکھی مارنے والے علما اور دانشوروں نے۔
“کَیمبَل پُور کے ڈَاکٹر بَرق
بَنی اس-رائیل، اُمَت مُسْلِمَّہ ، Generation ‘Z’
تحقیق و تحریر : ہادی صاحب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
13 مارچ 2026 – اٹک
بابا : اس-رائیل میں یہودیوں کی کل تعداد 73 لاکھ ہے اور دنیا بھر میں ان کی مجموعی تعداد تقریباً 1 کروڑ 58 لاکھ ہے۔ جبکہ ہمارے لاہور شہر کی آبادی ہی تقریباً اس کے برابر ہے۔
اسی طرح اگر مقبوضہ بیت المقدس، شام کی گولان کی پہاڑیاں اور جنگوں میں حاصل کیے گئے دیگر عرب علاقے بھی شامل کر لیے جائیں تو اس-رائیل کا کل رقبہ نقشے پر ہمارے ضلع چاغی سے بھی کم بنتا ہے۔
لیکن ہم Generation Z جب بھی کچھ سرچ کرتے ہیں تو دنیا کی دو ارب اُمَتِ مُسْلِمَّہ کی بجائے بَنی اس-رائیل کی کامیابیاں سامنے آ جاتی ہیں۔
ڈیجیٹل دنیا دیکھیں تو :
انٹرنیٹ کے بانی Bob Kahn ہوں،
گوگلGoogle کے بانی اور سرچ انجن کی بنیادی تکنیک PageRank کے موجد Larry Page ہوں،
گوگل کے شریک بانی Sergey Brin ہوں،
فیس بک Facebook (Meta) کے بانی Mark Zuckerberg ہوں،
واٹس ایپ WhatsAppکے بانی Jan Koum ہوں،
سنیپ چیٹ Snapchat کے بانی Evan Spiegel ہوں
یا Gen Z کے پسندیدہ فلم سازSteven Spielberg ہوں
تو یہ سب بَنی اس-رائیل سے تعلق رکھتے ہیں۔
پھر اگر سائنس اور علم کی دنیا دیکھیں تو:
طبیعیات کے سب سے بااثر سائنسدان Albert Einstein،
ایٹم بم کے خالق J. Robert Oppenheimer،
آڈیو انڈسٹری کے بانی Emile Berliner،
لیزر ٹیکنالوجی کے موجد Arthur Schawlow،
زرعی آبپاشی میں انقلاب لانے والے Drip Irrigation کے موجد Simcha Blass،
کینسر کی کیموتھراپی کے بانی سائنسدان Paul Ehrlich،
کوانٹم مکینکس کے عظیم سائنسدان Richard Feynman اور Niels Bohr،
انسانی نفسیات میں انقلاب لانے والے Sigmund Freud،
انفرادی نفسیات کے بانی Alfred Adler،
ڈی این اے DNA کی دریافت کے حوالے سے مشہور James D. Watson،
فلسفہ اور معاشیات کے مفکر Karl Marx،
ادب کے نابغہ Franz Kafka
اور بلومبرگ کے بانی Michael Bloomberg
یہ سب بھی بَنی اس-رائیل سے ہیں۔
بابا! اگر میں آپ کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مالکان، بینکاروں، ماہرینِ معیشت، خلا بازوں اور سائنس دانوں کے نام گنوانا شروع کر دوں تو یقین کریں، پڑھتے پڑھتے پورا دن نکل جائے گا۔
بس مختصراَ اتنا جان لیجیے کہ بَنی اسرائیل دنیا کی آبادی کا صرف 0.2٪ ہیں لیکن نوبل انعام یافتگان میں ان کا حصہ تقریباً 22٪ ہے۔
بابا! ایک بات بتائیں:
اللہ نے مسلمانوں کو بھی بَنی اس-رائیل کی طرح دو ہاتھ، دو پاؤں اور ایک سر عطا کیا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ بَنی اس-رائیل، نصٓاری، ہنود اور لادین ہر شعبے میں ترقی کر رہے ہیں، نئی ایجادات کر رہے ہیں اور عام انسان کی زندگی آسان بنا رہے ہیں، جبکہ دو ارب مسلمانوں کے باوجود اُمَتِ مُسْلِمَّہ ہر جگہ پسماندگی کا شکار نظر آتی ہے؟
مُنَزَّہ: بیٹی! تقریباً یہی سوال 1918ء میں کَیمبَل پُور کے ایک نوجوان ڈاکٹر غُلام جیلانی برق نے اپنے والد سے کیا تھا۔ اس وقت ان کی عمر آپ کی طرح صرف 17 سال تھی اور وہ اپنے والد کے ساتھ امرتسر گئے ہوئے تھے۔
میں چاہوں تو اکثر والدین کی طرح آپ کو بھی یہ جواب دے سکتا ہوں کہ:
“یہ دنیا فانی ہے، دنیا کی چکاچوند چھوڑ دو، ترقی اور دولت کی دوڑ میں نہ پڑو،، سب کچھ چھوڑ کر جانا ہے انسان کو، یہ دنیا کافروں کی لیکن ابدی جنت تو ہماری نا، صرف ہم نے ہی جنت میں جانا، ہم مسلسل جنگیں ہار رہے تو یہ صرف تقدیر کا لکھا، اصولی طور پر ہم شہید ہو رہے اور مسلسل ہار کر بھی اصل جیت ہماری ہی ہے۔ تم یہ مادیت والی باتیں ترک کر دو، اللہ سے لو لگاؤ اور اولیاء کرام کی تعلیمات پر عمل کرو”۔
لیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ خود ڈاکٹر برق کی کتاب سے ان کے اور ان کے والد کے درمیان ہونے والا مکالمہ پڑھو اور اس میں سے اپنے سوال کا جواب ڈھونڈو۔
مُنَزَّہ بیٹی! اگر آپ ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی زندگی اور ان کے علمی کام کا گہرائی سے جائزہ لیں تو آپ کی اکثر کنفیوژن خود بخود ختم ہو جائے گی۔ ڈاکٹر برق 1901ء میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان مذہبی بھی تھا اور سادات میں شمار ہوتا تھا۔
ڈاکٹر صاحب کا شمار اسلامی دنیا کے ان چند علما میں ہوتا ہے جو مدارس سے نکل کر یونیورسٹیوں تک پہنچے۔ وہ عربی زبان میں گولڈ میڈلسٹ تھے اور انگریزی زبان پر اس قدر دسترس رکھتے تھے کہ انہوں نے اپنا تحقیقی مقالہ انگریزی میں لکھا اور آکسفورڈ اور ہارورڈ یونیورسٹی نے پاکستان بننے سے سات سال قبل یعنی 1940ء میں ان کی ڈاکٹریٹ کی ڈگری کی تصدیق کی۔
وہ پاکستان کے قیام سے پہلے ان معدودے چند علما میں شامل تھے جن کے پاس پی ایچ ڈی کی ڈگری تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی زندگی میں چالیس کے لگ بھگ کتابیں اور سینکڑوں مضامین تحریر کیے۔ ان کتب کا مرکزی نقطہ عمل، محنت، سعی اور تحقیق تھا۔
ڈاکٹر صاحب اہل ایمان کو یہ سمجھانا چاہتے تھے کہ یہ دنیا اسی کی ہے جو محنت کرے گا۔
کھیتوں سے لے کر فیکٹریوں تک،
اسکولوں سے لے کر لیبارٹریوں تک،
قوموں کو دن رات ایک کرنا پڑتا ہے۔
اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا رب ہے۔ یہ بَنی اسرائیل کا بھی اتنا ہی خدا ہے جتنا اُمَت مُسْلِمَّہ اور نصاری کا ہے۔ اللہ محنت کو پسند کرتا ہے اور محنت کرنے والوں کو کبھی مایوس نہیں کرتا۔ چاہے وہ آئن سٹائن ہوں، لوئی پاسچر ہوں، نیوٹن ہوں، مادام کیوری ہوں یا پھر الخوارزمی، بو علی سینا اور امام غزالی۔
مسلمان صرف دعاؤں اور شارٹ کٹ کے چکر سے باہر نکلیں۔
یہ محنت کریں، علم حاصل کریں اور اپنی دنیا آپ پیدا کریں۔
ڈاکٹر صاحب کا خیال تھا کہ تاریخ میں مسلمانوں کی 128 ریاستیں غیر مسلم قوتوں کے ہاتھوں تباہ ہوئیں۔ چنگیز خان‘ ہلاکو خان اور فرڈینینڈ نے مسلمانوں کی ایسی ایسی لائبریریاں جلا کر راکھ بنا دیں جن میں صحابہؓ کے ہاتھوں سے لکھے قرآن مجید اور اماموں کے ہاتھوں سے تحریر احادیث کے نسخے تھے۔
مسجد قرطبہ کو چرچ میں بدل دیا گیا اور بغداد کی عظیم مساجد تک کو پامال کیا گیا۔ موجودہ دور میں افغانستان، شام، عراق اور غا-زہ کا تورا بورا بنا دیا گیا، لیکن مسلمانوں کی مدد کے لیے نہ آندھیاں آئیں، نہ زلزلے اترے اور نہ دشمن کا راستہ روکنے کے لیے سیلاب آئے۔
ہم مسلمان اپنی تمام تر روحانیت کے باوجود نہ ہندوستان کو انگریزوں سے بچا سکے، نہ غرناطہ کو، اور نہ خلافتِ عثمانیہ کو۔
ڈاکٹر برق کا خیال تھا کہ مسلمانوں کو اسلام کا اصل پیغام سمجھنا ہوگا۔ انہیں علم، دفاع اور معیشت تینوں پر توجہ دینی ہوگی۔ انہیں دعا سے پہلے کھیت میں ہل چلانا ہوگا، بیج بونا ہوگا اور کھیت کو پانی دینا ہوگا۔
ورنہ صرف دعا سے فصل نہیں اگ سکتی۔
ڈاکٹر غلام جیلانی برق کا یہ پیغام آج کے مسلمانوں کے لیے اجنبی سا محسوس ہوتا ہے۔ ایک طویل عمل کے ذریعے مسلمانوں کو عملی اسلام سے دور کر دیا گیا اور ہم نے یہ یقین کر لیا کہ اللہ نے دنیا غیر مسلموں کے لیے اور آخرت مسلمانوں کے لیے وقف کر دی ہے۔
چنانچہ ہم نے دفاع، علم، تحقیق، صنعت اور معیشت دوسروں کے حوالے کر دی اور خود دعاؤں، تعویذوں اور وظائف میں الجھ کر رہ گئے۔
بَنی اسرائیل اور نصاریٰ دنیاوی مسائل کا حل تلاش کرتے رہے۔ انہوں نے اینٹی بائیوٹک، گاڑیاں، جہاز، کیڑے مار ادویات اور میزائل بنائے، جبکہ ہم دعاوٗن کے زریعے دشمن کی توپوں میں کیڑے پڑنے کا انتظار کرتے رہے۔
ہمیں کہا گیا:
تم صرف عبادت کرو، وظائف پڑھو اور غیروں کو کام کرنے دو۔
نتیجہ یہ نکلا کہ پورا عالم اسلام دوسروں کا محتاج بن گیا۔ ہم نے اپنی غلامی کو تقدیر سمجھ کر قبول کر لیا اور اپنے زوال کو روحانیت کا نام دے دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سال 1918 سے سال 2026
سوال وہی ہے… صرف زمانہ بدل گیا ہے۔
1918ء میں یہ سوال ایک نوجوان نے اپنے باپ سے کیا تھا۔
2026ء میں یہی سوال Generation Z اپنے بڑوں سے کر رہی ہے۔
ہماری آبادی دو ارب سے زیادہ ہے، ہماری تاریخ عظیم ہے، ہمارے پاس ایمان بھی ہے اور وسائل بھی
لیکن کیا موجودہ جنگ کے تناظر میں ہمارے پاس اس سوال کا کوئی سچا جواب بھی ہے؟
یا ہم آج بھی اسی سوال کے گرد خاموش کھڑے ہیں
جس کا جواب ڈاکٹر برق ایک صدی پہلے تلاش کر رہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گُزارشات
1۔ ڈاکٹر غلام جیلانی برق 26 اکتوبر 1901ء کو بسال، تحصیل پنڈی گھیپ، ضلع کیمبل پور میں ملک محمد قاسم شاہ کے گھر پیدا ہوئے۔ ﻭﺍﻟﺪ ﮔﺎﺅﮞ ﮐﯽ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﺗﮭﮯ۔ بسال اب اٹک کی تحصیل جنڈ کا حصہ ہے اور 1978 میں کیمبل پور کا نام تبدیل کر کے اٹک کر دیا گیا تھا۔
2۔ ڈاکٹر برق صاحب کے دو بھائی مولوی نورالحق علوی اور غلام ربانی عزیز دار العلوم دیوبند سے فارغ التحصیل تھے۔
3۔ ڈاکٹر صاحب نے ابتدائی تعلیم مدارس میں حاصل کی۔ وہ مولوی فاضل، منش فاضل اور ادیب فاضل تھے۔ بعد ازاں، انہوں نے اسلامی اور مغربی علوم دونوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ انہیں نہ صرف قرآن و حدیث پر عبور حاصل تھا بلکہ زبور، تورات اور انجیل کی بھی باقاعدہ تعلیم تھی۔ وہ مغربی فلسفے کے ساتھ ساتھ گوتم بدھ کی تعلیمات پر بھی مکمل دسترس رکھتے تھے۔
4۔ ڈاکٹر برق نے عربی میں گولڈ میڈل اور فارسی میں ایم اے حاصل کیا۔ 1940ء میں امام ابن تیمیہ پر انگریزی میں تحقیقی مقالہ لکھا، جسے آکسفورڈ اور ہارورڈ یونیورسٹی نے تسلیم کیا اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی۔ انہوں نے عملی زندگی کی شروعات تدریس سے کی اور پھر کالج میں پروفیسر بن گئے۔
5۔ ڈاکٹر غلام جیلانی برق نے مختلف موضوعات پر تقریباً چالیس کتابیں اور سینکڑوں مضامین تحریر کیے،جن میں دو اسلام، دو قرآن، ایک اسلام، بھائی بھائی اور میری آخری کتاب خصوصاً قابل ذکر ہیں۔
6۔ کیمبل پور کے ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی محفل میں مولانا مودودی سے لے کر ڈاکٹر باقر‘ شورش کاشمیری‘ پروفیسر اشفاق علی خان‘ جنرل عبدالعلی ملک‘ مولانا زاہد الحسینی‘ پروفیسر ڈاکٹر اجمل‘ ڈاکٹر حمید اللہ‘ پروفیسر سعادت علی خان‘ مولانا عبدالماجد دریا آبادی‘ حفیظ جالندھری‘ طفیل ہوشیار پوری‘ جنرل شیریں دل خان نیازی‘ پروفیسر سعداللہ کلیم‘ صوفی غلام مصطفی تبسم‘ شیخ عبدالحکیم‘ کرنل محمد خان‘ جنرل شوکت‘ جنرل شفیق الرحمن‘ احمد ندیم قاسمی، فتح محمد ملک، منو بھائی اور جسٹس کیانی جیسے علمائ‘ ادباءاور اہل علم بیٹھا کرتے تھے۔
7۔ وہ بنیادی طور پر آج کے Generation Z کی طرح آزاد خیال اور خوش مزاج شخصیت کے مالک تھے۔ وہ age limitation کے قائل نہیں تھے، ہر عمر کے افراد سے ان کی دوستی تھی، کئی بار مزاق میں وہ آج کل کے نوجوانوں کی طرح Red line بھی cross کر جایا کرتے تھے۔
8۔ ان کا پسندیدہ لباس پینٹ شرٹ تھا، اور انہیں باہر شلوار قمیض میں شاذ و نادر ہی دیکھا گیا۔
9۔ وہ تاش کی Flash یا تین پتی کے ماہر تھے اور روزانہ کی چہل قدمی کے بعد کیمبل پور آرمی آفیسر کلب میں آرمی افسران کے ساتھ یہ گیم کھیلتے اور زیادہ تر جیت کر(کچھ کما کر) ہی آتے تھے۔
10۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ماہیے کو ادب میں متعارف کرانے والے چراغ حسن حسرت تھے، لیکن ڈاکٹر برق صاحب نے اس سے پہلے جاندار ماہیے لکھے۔ پنجاب کی قدیم لوک شاعری یعنی ماہیے صدیوں سے گائے جاتے رہے، لیکن ادب میں متعارف کروانے والے وہ پہلے تھے۔
11۔ پاکستان کے معروف ادیب، نقاد اور دانشور فتح محمد ملک اور معروف کالم نگار، ڈرامہ نگار اور صحافی منیر احمد قریشی (منو بھائی) دونوں ڈاکٹر صاحب کے شاگرد تھے۔ منیر احمد قریشی کو منو بھائی اور فتح محمد ملک کو فتُو بھائی کا نام ڈاکٹر برق صاحب نے ہی دیا۔
12۔ ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی تحقیق تھی کہ اقوام عالم کی تباہی کی اصل وجہ صرف اخلاقی انحطاط ہے۔ اخلاقی انحطاط ایک آدم خور ہے، جس کا پیٹ ہزاروں اقوام کا مدفن ہے۔ یونانیوں، کلدانیوں، مصریوں، رومنوں، عباسیوں اور سلجوقیوں کی ہڈیاں اسی گورستان میں ملیں گی۔
13۔ ڈاکٹر صاحب کی اولاد کے بارے میں اگر کوئی جانکاری فراہم کر سکے۔ دو شادی شدہ بیٹیوں کا تذکرہ معلوم۔
14۔ ڈاکٹر غلام جیلانی برق 12 مارچ 1985ء کو اٹک میں وفات پاگئے اور قبرستان عیدگاہ میں آسودۂ خاک ہیں۔
14۔ معلومات فراہم کرنے پر شکریہ جناب مرزا حامد بیگ صاحب (لاہور)، ڈاکٹر عبدالسلام صاحب (راولپنڈی)، شیخ وقار عظیم صدیقی صاحب (اٹک)۔ اور شکریہ جناب چوہدری جاوید صاحب۔
“کَیمبَل پُور کے ڈَاکٹر بَرق
بَنی اس-رائیل، اُمَت مُسْلِمَّہ ، Generation ‘Z’
تحقیق و تحریر : ہادی صاحب
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تحقیق و تحریر : ہادی صاحب)سوا صدی پہلے پاکستان کے ایک گاؤں میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی سوچ کی اڑان آج کی زی جنریشن سے بھی اونچی تھی جن کی دانش اور افکار سے ہماری قوم نے کوئی استفادہ نہیں کیا اسلئے ھماری سوچ منجمد کر رکھی ہے مکھی پر مکھی مارنے والے علما اور دانشوروں نے۔
“کَیمبَل پُور کے ڈَاکٹر بَرق
بَنی اس-رائیل، اُمَت مُسْلِمَّہ ، Generation ‘Z’
تحقیق و تحریر : ہادی صاحب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
13 مارچ 2026 – اٹک
بابا : اس-رائیل میں یہودیوں کی کل تعداد 73 لاکھ ہے اور دنیا بھر میں ان کی مجموعی تعداد تقریباً 1 کروڑ 58 لاکھ ہے۔ جبکہ ہمارے لاہور شہر کی آبادی ہی تقریباً اس کے برابر ہے۔
اسی طرح اگر مقبوضہ بیت المقدس، شام کی گولان کی پہاڑیاں اور جنگوں میں حاصل کیے گئے دیگر عرب علاقے بھی شامل کر لیے جائیں تو اس-رائیل کا کل رقبہ نقشے پر ہمارے ضلع چاغی سے بھی کم بنتا ہے۔
لیکن ہم Generation Z جب بھی کچھ سرچ کرتے ہیں تو دنیا کی دو ارب اُمَتِ مُسْلِمَّہ کی بجائے بَنی اس-رائیل کی کامیابیاں سامنے آ جاتی ہیں۔
ڈیجیٹل دنیا دیکھیں تو :
انٹرنیٹ کے بانی Bob Kahn ہوں،
گوگلGoogle کے بانی اور سرچ انجن کی بنیادی تکنیک PageRank کے موجد Larry Page ہوں،
گوگل کے شریک بانی Sergey Brin ہوں،
فیس بک Facebook (Meta) کے بانی Mark Zuckerberg ہوں،
واٹس ایپ WhatsAppکے بانی Jan Koum ہوں،
سنیپ چیٹ Snapchat کے بانی Evan Spiegel ہوں
یا Gen Z کے پسندیدہ فلم سازSteven Spielberg ہوں
تو یہ سب بَنی اس-رائیل سے تعلق رکھتے ہیں۔
پھر اگر سائنس اور علم کی دنیا دیکھیں تو:
طبیعیات کے سب سے بااثر سائنسدان Albert Einstein،
ایٹم بم کے خالق J. Robert Oppenheimer،
آڈیو انڈسٹری کے بانی Emile Berliner،
لیزر ٹیکنالوجی کے موجد Arthur Schawlow،
زرعی آبپاشی میں انقلاب لانے والے Drip Irrigation کے موجد Simcha Blass،
کینسر کی کیموتھراپی کے بانی سائنسدان Paul Ehrlich،
کوانٹم مکینکس کے عظیم سائنسدان Richard Feynman اور Niels Bohr،
انسانی نفسیات میں انقلاب لانے والے Sigmund Freud،
انفرادی نفسیات کے بانی Alfred Adler،
ڈی این اے DNA کی دریافت کے حوالے سے مشہور James D. Watson،
فلسفہ اور معاشیات کے مفکر Karl Marx،
ادب کے نابغہ Franz Kafka
اور بلومبرگ کے بانی Michael Bloomberg
یہ سب بھی بَنی اس-رائیل سے ہیں۔
بابا! اگر میں آپ کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مالکان، بینکاروں، ماہرینِ معیشت، خلا بازوں اور سائنس دانوں کے نام گنوانا شروع کر دوں تو یقین کریں، پڑھتے پڑھتے پورا دن نکل جائے گا۔
بس مختصراَ اتنا جان لیجیے کہ بَنی اسرائیل دنیا کی آبادی کا صرف 0.2٪ ہیں لیکن نوبل انعام یافتگان میں ان کا حصہ تقریباً 22٪ ہے۔
بابا! ایک بات بتائیں:
اللہ نے مسلمانوں کو بھی بَنی اس-رائیل کی طرح دو ہاتھ، دو پاؤں اور ایک سر عطا کیا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ بَنی اس-رائیل، نصٓاری، ہنود اور لادین ہر شعبے میں ترقی کر رہے ہیں، نئی ایجادات کر رہے ہیں اور عام انسان کی زندگی آسان بنا رہے ہیں، جبکہ دو ارب مسلمانوں کے باوجود اُمَتِ مُسْلِمَّہ ہر جگہ پسماندگی کا شکار نظر آتی ہے؟
مُنَزَّہ: بیٹی! تقریباً یہی سوال 1918ء میں کَیمبَل پُور کے ایک نوجوان ڈاکٹر غُلام جیلانی برق نے اپنے والد سے کیا تھا۔ اس وقت ان کی عمر آپ کی طرح صرف 17 سال تھی اور وہ اپنے والد کے ساتھ امرتسر گئے ہوئے تھے۔
میں چاہوں تو اکثر والدین کی طرح آپ کو بھی یہ جواب دے سکتا ہوں کہ:
“یہ دنیا فانی ہے، دنیا کی چکاچوند چھوڑ دو، ترقی اور دولت کی دوڑ میں نہ پڑو،، سب کچھ چھوڑ کر جانا ہے انسان کو، یہ دنیا کافروں کی لیکن ابدی جنت تو ہماری نا، صرف ہم نے ہی جنت میں جانا، ہم مسلسل جنگیں ہار رہے تو یہ صرف تقدیر کا لکھا، اصولی طور پر ہم شہید ہو رہے اور مسلسل ہار کر بھی اصل جیت ہماری ہی ہے۔ تم یہ مادیت والی باتیں ترک کر دو، اللہ سے لو لگاؤ اور اولیاء کرام کی تعلیمات پر عمل کرو”۔
لیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ خود ڈاکٹر برق کی کتاب سے ان کے اور ان کے والد کے درمیان ہونے والا مکالمہ پڑھو اور اس میں سے اپنے سوال کا جواب ڈھونڈو۔
مُنَزَّہ بیٹی! اگر آپ ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی زندگی اور ان کے علمی کام کا گہرائی سے جائزہ لیں تو آپ کی اکثر کنفیوژن خود بخود ختم ہو جائے گی۔ ڈاکٹر برق 1901ء میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان مذہبی بھی تھا اور سادات میں شمار ہوتا تھا۔
ڈاکٹر صاحب کا شمار اسلامی دنیا کے ان چند علما میں ہوتا ہے جو مدارس سے نکل کر یونیورسٹیوں تک پہنچے۔ وہ عربی زبان میں گولڈ میڈلسٹ تھے اور انگریزی زبان پر اس قدر دسترس رکھتے تھے کہ انہوں نے اپنا تحقیقی مقالہ انگریزی میں لکھا اور آکسفورڈ اور ہارورڈ یونیورسٹی نے پاکستان بننے سے سات سال قبل یعنی 1940ء میں ان کی ڈاکٹریٹ کی ڈگری کی تصدیق کی۔
وہ پاکستان کے قیام سے پہلے ان معدودے چند علما میں شامل تھے جن کے پاس پی ایچ ڈی کی ڈگری تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی زندگی میں چالیس کے لگ بھگ کتابیں اور سینکڑوں مضامین تحریر کیے۔ ان کتب کا مرکزی نقطہ عمل، محنت، سعی اور تحقیق تھا۔
ڈاکٹر صاحب اہل ایمان کو یہ سمجھانا چاہتے تھے کہ یہ دنیا اسی کی ہے جو محنت کرے گا۔
کھیتوں سے لے کر فیکٹریوں تک،
اسکولوں سے لے کر لیبارٹریوں تک،
قوموں کو دن رات ایک کرنا پڑتا ہے۔
اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا رب ہے۔ یہ بَنی اسرائیل کا بھی اتنا ہی خدا ہے جتنا اُمَت مُسْلِمَّہ اور نصاری کا ہے۔ اللہ محنت کو پسند کرتا ہے اور محنت کرنے والوں کو کبھی مایوس نہیں کرتا۔ چاہے وہ آئن سٹائن ہوں، لوئی پاسچر ہوں، نیوٹن ہوں، مادام کیوری ہوں یا پھر الخوارزمی، بو علی سینا اور امام غزالی۔
مسلمان صرف دعاؤں اور شارٹ کٹ کے چکر سے باہر نکلیں۔
یہ محنت کریں، علم حاصل کریں اور اپنی دنیا آپ پیدا کریں۔
ڈاکٹر صاحب کا خیال تھا کہ تاریخ میں مسلمانوں کی 128 ریاستیں غیر مسلم قوتوں کے ہاتھوں تباہ ہوئیں۔ چنگیز خان‘ ہلاکو خان اور فرڈینینڈ نے مسلمانوں کی ایسی ایسی لائبریریاں جلا کر راکھ بنا دیں جن میں صحابہؓ کے ہاتھوں سے لکھے قرآن مجید اور اماموں کے ہاتھوں سے تحریر احادیث کے نسخے تھے۔
مسجد قرطبہ کو چرچ میں بدل دیا گیا اور بغداد کی عظیم مساجد تک کو پامال کیا گیا۔ موجودہ دور میں افغانستان، شام، عراق اور غا-زہ کا تورا بورا بنا دیا گیا، لیکن مسلمانوں کی مدد کے لیے نہ آندھیاں آئیں، نہ زلزلے اترے اور نہ دشمن کا راستہ روکنے کے لیے سیلاب آئے۔
ہم مسلمان اپنی تمام تر روحانیت کے باوجود نہ ہندوستان کو انگریزوں سے بچا سکے، نہ غرناطہ کو، اور نہ خلافتِ عثمانیہ کو۔
ڈاکٹر برق کا خیال تھا کہ مسلمانوں کو اسلام کا اصل پیغام سمجھنا ہوگا۔ انہیں علم، دفاع اور معیشت تینوں پر توجہ دینی ہوگی۔ انہیں دعا سے پہلے کھیت میں ہل چلانا ہوگا، بیج بونا ہوگا اور کھیت کو پانی دینا ہوگا۔
ورنہ صرف دعا سے فصل نہیں اگ سکتی۔
ڈاکٹر غلام جیلانی برق کا یہ پیغام آج کے مسلمانوں کے لیے اجنبی سا محسوس ہوتا ہے۔ ایک طویل عمل کے ذریعے مسلمانوں کو عملی اسلام سے دور کر دیا گیا اور ہم نے یہ یقین کر لیا کہ اللہ نے دنیا غیر مسلموں کے لیے اور آخرت مسلمانوں کے لیے وقف کر دی ہے۔
چنانچہ ہم نے دفاع، علم، تحقیق، صنعت اور معیشت دوسروں کے حوالے کر دی اور خود دعاؤں، تعویذوں اور وظائف میں الجھ کر رہ گئے۔
بَنی اسرائیل اور نصاریٰ دنیاوی مسائل کا حل تلاش کرتے رہے۔ انہوں نے اینٹی بائیوٹک، گاڑیاں، جہاز، کیڑے مار ادویات اور میزائل بنائے، جبکہ ہم دعاوٗن کے زریعے دشمن کی توپوں میں کیڑے پڑنے کا انتظار کرتے رہے۔
ہمیں کہا گیا:
تم صرف عبادت کرو، وظائف پڑھو اور غیروں کو کام کرنے دو۔
نتیجہ یہ نکلا کہ پورا عالم اسلام دوسروں کا محتاج بن گیا۔ ہم نے اپنی غلامی کو تقدیر سمجھ کر قبول کر لیا اور اپنے زوال کو روحانیت کا نام دے دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سال 1918 سے سال 2026
سوال وہی ہے… صرف زمانہ بدل گیا ہے۔
1918ء میں یہ سوال ایک نوجوان نے اپنے باپ سے کیا تھا۔
2026ء میں یہی سوال Generation Z اپنے بڑوں سے کر رہی ہے۔
ہماری آبادی دو ارب سے زیادہ ہے، ہماری تاریخ عظیم ہے، ہمارے پاس ایمان بھی ہے اور وسائل بھی
لیکن کیا موجودہ جنگ کے تناظر میں ہمارے پاس اس سوال کا کوئی سچا جواب بھی ہے؟
یا ہم آج بھی اسی سوال کے گرد خاموش کھڑے ہیں
جس کا جواب ڈاکٹر برق ایک صدی پہلے تلاش کر رہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گُزارشات
1۔ ڈاکٹر غلام جیلانی برق 26 اکتوبر 1901ء کو بسال، تحصیل پنڈی گھیپ، ضلع کیمبل پور میں ملک محمد قاسم شاہ کے گھر پیدا ہوئے۔ ﻭﺍﻟﺪ ﮔﺎﺅﮞ ﮐﯽ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﺗﮭﮯ۔ بسال اب اٹک کی تحصیل جنڈ کا حصہ ہے اور 1978 میں کیمبل پور کا نام تبدیل کر کے اٹک کر دیا گیا تھا۔
2۔ ڈاکٹر برق صاحب کے دو بھائی مولوی نورالحق علوی اور غلام ربانی عزیز دار العلوم دیوبند سے فارغ التحصیل تھے۔
3۔ ڈاکٹر صاحب نے ابتدائی تعلیم مدارس میں حاصل کی۔ وہ مولوی فاضل، منش فاضل اور ادیب فاضل تھے۔ بعد ازاں، انہوں نے اسلامی اور مغربی علوم دونوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ انہیں نہ صرف قرآن و حدیث پر عبور حاصل تھا بلکہ زبور، تورات اور انجیل کی بھی باقاعدہ تعلیم تھی۔ وہ مغربی فلسفے کے ساتھ ساتھ گوتم بدھ کی تعلیمات پر بھی مکمل دسترس رکھتے تھے۔
4۔ ڈاکٹر برق نے عربی میں گولڈ میڈل اور فارسی میں ایم اے حاصل کیا۔ 1940ء میں امام ابن تیمیہ پر انگریزی میں تحقیقی مقالہ لکھا، جسے آکسفورڈ اور ہارورڈ یونیورسٹی نے تسلیم کیا اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی۔ انہوں نے عملی زندگی کی شروعات تدریس سے کی اور پھر کالج میں پروفیسر بن گئے۔
5۔ ڈاکٹر غلام جیلانی برق نے مختلف موضوعات پر تقریباً چالیس کتابیں اور سینکڑوں مضامین تحریر کیے،جن میں دو اسلام، دو قرآن، ایک اسلام، بھائی بھائی اور میری آخری کتاب خصوصاً قابل ذکر ہیں۔
6۔ کیمبل پور کے ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی محفل میں مولانا مودودی سے لے کر ڈاکٹر باقر‘ شورش کاشمیری‘ پروفیسر اشفاق علی خان‘ جنرل عبدالعلی ملک‘ مولانا زاہد الحسینی‘ پروفیسر ڈاکٹر اجمل‘ ڈاکٹر حمید اللہ‘ پروفیسر سعادت علی خان‘ مولانا عبدالماجد دریا آبادی‘ حفیظ جالندھری‘ طفیل ہوشیار پوری‘ جنرل شیریں دل خان نیازی‘ پروفیسر سعداللہ کلیم‘ صوفی غلام مصطفی تبسم‘ شیخ عبدالحکیم‘ کرنل محمد خان‘ جنرل شوکت‘ جنرل شفیق الرحمن‘ احمد ندیم قاسمی، فتح محمد ملک، منو بھائی اور جسٹس کیانی جیسے علمائ‘ ادباءاور اہل علم بیٹھا کرتے تھے۔
7۔ وہ بنیادی طور پر آج کے Generation Z کی طرح آزاد خیال اور خوش مزاج شخصیت کے مالک تھے۔ وہ age limitation کے قائل نہیں تھے، ہر عمر کے افراد سے ان کی دوستی تھی، کئی بار مزاق میں وہ آج کل کے نوجوانوں کی طرح Red line بھی cross کر جایا کرتے تھے۔
8۔ ان کا پسندیدہ لباس پینٹ شرٹ تھا، اور انہیں باہر شلوار قمیض میں شاذ و نادر ہی دیکھا گیا۔
9۔ وہ تاش کی Flash یا تین پتی کے ماہر تھے اور روزانہ کی چہل قدمی کے بعد کیمبل پور آرمی آفیسر کلب میں آرمی افسران کے ساتھ یہ گیم کھیلتے اور زیادہ تر جیت کر(کچھ کما کر) ہی آتے تھے۔
10۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ماہیے کو ادب میں متعارف کرانے والے چراغ حسن حسرت تھے، لیکن ڈاکٹر برق صاحب نے اس سے پہلے جاندار ماہیے لکھے۔ پنجاب کی قدیم لوک شاعری یعنی ماہیے صدیوں سے گائے جاتے رہے، لیکن ادب میں متعارف کروانے والے وہ پہلے تھے۔
11۔ پاکستان کے معروف ادیب، نقاد اور دانشور فتح محمد ملک اور معروف کالم نگار، ڈرامہ نگار اور صحافی منیر احمد قریشی (منو بھائی) دونوں ڈاکٹر صاحب کے شاگرد تھے۔ منیر احمد قریشی کو منو بھائی اور فتح محمد ملک کو فتُو بھائی کا نام ڈاکٹر برق صاحب نے ہی دیا۔
12۔ ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی تحقیق تھی کہ اقوام عالم کی تباہی کی اصل وجہ صرف اخلاقی انحطاط ہے۔ اخلاقی انحطاط ایک آدم خور ہے، جس کا پیٹ ہزاروں اقوام کا مدفن ہے۔ یونانیوں، کلدانیوں، مصریوں، رومنوں، عباسیوں اور سلجوقیوں کی ہڈیاں اسی گورستان میں ملیں گی۔
13۔ ڈاکٹر صاحب کی اولاد کے بارے میں اگر کوئی جانکاری فراہم کر سکے۔ دو شادی شدہ بیٹیوں کا تذکرہ معلوم۔
14۔ ڈاکٹر غلام جیلانی برق 12 مارچ 1985ء کو اٹک میں وفات پاگئے اور قبرستان عیدگاہ میں آسودۂ خاک ہیں۔
14۔ معلومات فراہم کرنے پر شکریہ جناب مرزا حامد بیگ صاحب (لاہور)، ڈاکٹر عبدالسلام صاحب (راولپنڈی)، شیخ وقار عظیم صدیقی صاحب (اٹک)۔ اور شکریہ جناب چوہدری جاوید صاحب۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )سوا صدی پہلے پاکستان کے ایک گاؤں میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی سوچ کی اڑان آج کی زی جنریشن سے بھی اونچی تھی جن کی دانش اور افکار سے ہماری قوم نے کوئی استفادہ نہیں کیا اسلئے ھماری سوچ منجمد کر رکھی ہے مکھی پر مکھی مارنے والے علما اور دانشوروں نے۔
“کَیمبَل پُور کے ڈَاکٹر بَرق
بَنی اس-رائیل، اُمَت مُسْلِمَّہ ، Generation ‘Z’
تحقیق و تحریر : ہادی صاحب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
13 مارچ 2026 – اٹک
بابا : اس-رائیل میں یہودیوں کی کل تعداد 73 لاکھ ہے اور دنیا بھر میں ان کی مجموعی تعداد تقریباً 1 کروڑ 58 لاکھ ہے۔ جبکہ ہمارے لاہور شہر کی آبادی ہی تقریباً اس کے برابر ہے۔
اسی طرح اگر مقبوضہ بیت المقدس، شام کی گولان کی پہاڑیاں اور جنگوں میں حاصل کیے گئے دیگر عرب علاقے بھی شامل کر لیے جائیں تو اس-رائیل کا کل رقبہ نقشے پر ہمارے ضلع چاغی سے بھی کم بنتا ہے۔
لیکن ہم Generation Z جب بھی کچھ سرچ کرتے ہیں تو دنیا کی دو ارب اُمَتِ مُسْلِمَّہ کی بجائے بَنی اس-رائیل کی کامیابیاں سامنے آ جاتی ہیں۔
ڈیجیٹل دنیا دیکھیں تو :
انٹرنیٹ کے بانی Bob Kahn ہوں،
گوگلGoogle کے بانی اور سرچ انجن کی بنیادی تکنیک PageRank کے موجد Larry Page ہوں،
گوگل کے شریک بانی Sergey Brin ہوں،
فیس بک Facebook (Meta) کے بانی Mark Zuckerberg ہوں،
واٹس ایپ WhatsAppکے بانی Jan Koum ہوں،
سنیپ چیٹ Snapchat کے بانی Evan Spiegel ہوں
یا Gen Z کے پسندیدہ فلم سازSteven Spielberg ہوں
تو یہ سب بَنی اس-رائیل سے تعلق رکھتے ہیں۔
پھر اگر سائنس اور علم کی دنیا دیکھیں تو:
طبیعیات کے سب سے بااثر سائنسدان Albert Einstein،
ایٹم بم کے خالق J. Robert Oppenheimer،
آڈیو انڈسٹری کے بانی Emile Berliner،
لیزر ٹیکنالوجی کے موجد Arthur Schawlow،
زرعی آبپاشی میں انقلاب لانے والے Drip Irrigation کے موجد Simcha Blass،
کینسر کی کیموتھراپی کے بانی سائنسدان Paul Ehrlich،
کوانٹم مکینکس کے عظیم سائنسدان Richard Feynman اور Niels Bohr،
انسانی نفسیات میں انقلاب لانے والے Sigmund Freud،
انفرادی نفسیات کے بانی Alfred Adler،
ڈی این اے DNA کی دریافت کے حوالے سے مشہور James D. Watson،
فلسفہ اور معاشیات کے مفکر Karl Marx،
ادب کے نابغہ Franz Kafka
اور بلومبرگ کے بانی Michael Bloomberg
یہ سب بھی بَنی اس-رائیل سے ہیں۔
بابا! اگر میں آپ کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مالکان، بینکاروں، ماہرینِ معیشت، خلا بازوں اور سائنس دانوں کے نام گنوانا شروع کر دوں تو یقین کریں، پڑھتے پڑھتے پورا دن نکل جائے گا۔
بس مختصراَ اتنا جان لیجیے کہ بَنی اسرائیل دنیا کی آبادی کا صرف 0.2٪ ہیں لیکن نوبل انعام یافتگان میں ان کا حصہ تقریباً 22٪ ہے۔
بابا! ایک بات بتائیں:
اللہ نے مسلمانوں کو بھی بَنی اس-رائیل کی طرح دو ہاتھ، دو پاؤں اور ایک سر عطا کیا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ بَنی اس-رائیل، نصٓاری، ہنود اور لادین ہر شعبے میں ترقی کر رہے ہیں، نئی ایجادات کر رہے ہیں اور عام انسان کی زندگی آسان بنا رہے ہیں، جبکہ دو ارب مسلمانوں کے باوجود اُمَتِ مُسْلِمَّہ ہر جگہ پسماندگی کا شکار نظر آتی ہے؟
مُنَزَّہ: بیٹی! تقریباً یہی سوال 1918ء میں کَیمبَل پُور کے ایک نوجوان ڈاکٹر غُلام جیلانی برق نے اپنے والد سے کیا تھا۔ اس وقت ان کی عمر آپ کی طرح صرف 17 سال تھی اور وہ اپنے والد کے ساتھ امرتسر گئے ہوئے تھے۔
میں چاہوں تو اکثر والدین کی طرح آپ کو بھی یہ جواب دے سکتا ہوں کہ:
“یہ دنیا فانی ہے، دنیا کی چکاچوند چھوڑ دو، ترقی اور دولت کی دوڑ میں نہ پڑو،، سب کچھ چھوڑ کر جانا ہے انسان کو، یہ دنیا کافروں کی لیکن ابدی جنت تو ہماری نا، صرف ہم نے ہی جنت میں جانا، ہم مسلسل جنگیں ہار رہے تو یہ صرف تقدیر کا لکھا، اصولی طور پر ہم شہید ہو رہے اور مسلسل ہار کر بھی اصل جیت ہماری ہی ہے۔ تم یہ مادیت والی باتیں ترک کر دو، اللہ سے لو لگاؤ اور اولیاء کرام کی تعلیمات پر عمل کرو”۔
لیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ خود ڈاکٹر برق کی کتاب سے ان کے اور ان کے والد کے درمیان ہونے والا مکالمہ پڑھو اور اس میں سے اپنے سوال کا جواب ڈھونڈو۔
مُنَزَّہ بیٹی! اگر آپ ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی زندگی اور ان کے علمی کام کا گہرائی سے جائزہ لیں تو آپ کی اکثر کنفیوژن خود بخود ختم ہو جائے گی۔ ڈاکٹر برق 1901ء میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان مذہبی بھی تھا اور سادات میں شمار ہوتا تھا۔
ڈاکٹر صاحب کا شمار اسلامی دنیا کے ان چند علما میں ہوتا ہے جو مدارس سے نکل کر یونیورسٹیوں تک پہنچے۔ وہ عربی زبان میں گولڈ میڈلسٹ تھے اور انگریزی زبان پر اس قدر دسترس رکھتے تھے کہ انہوں نے اپنا تحقیقی مقالہ انگریزی میں لکھا اور آکسفورڈ اور ہارورڈ یونیورسٹی نے پاکستان بننے سے سات سال قبل یعنی 1940ء میں ان کی ڈاکٹریٹ کی ڈگری کی تصدیق کی۔
وہ پاکستان کے قیام سے پہلے ان معدودے چند علما میں شامل تھے جن کے پاس پی ایچ ڈی کی ڈگری تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی زندگی میں چالیس کے لگ بھگ کتابیں اور سینکڑوں مضامین تحریر کیے۔ ان کتب کا مرکزی نقطہ عمل، محنت، سعی اور تحقیق تھا۔
ڈاکٹر صاحب اہل ایمان کو یہ سمجھانا چاہتے تھے کہ یہ دنیا اسی کی ہے جو محنت کرے گا۔
کھیتوں سے لے کر فیکٹریوں تک،
اسکولوں سے لے کر لیبارٹریوں تک،
قوموں کو دن رات ایک کرنا پڑتا ہے۔
اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا رب ہے۔ یہ بَنی اسرائیل کا بھی اتنا ہی خدا ہے جتنا اُمَت مُسْلِمَّہ اور نصاری کا ہے۔ اللہ محنت کو پسند کرتا ہے اور محنت کرنے والوں کو کبھی مایوس نہیں کرتا۔ چاہے وہ آئن سٹائن ہوں، لوئی پاسچر ہوں، نیوٹن ہوں، مادام کیوری ہوں یا پھر الخوارزمی، بو علی سینا اور امام غزالی۔
مسلمان صرف دعاؤں اور شارٹ کٹ کے چکر سے باہر نکلیں۔
یہ محنت کریں، علم حاصل کریں اور اپنی دنیا آپ پیدا کریں۔
ڈاکٹر صاحب کا خیال تھا کہ تاریخ میں مسلمانوں کی 128 ریاستیں غیر مسلم قوتوں کے ہاتھوں تباہ ہوئیں۔ چنگیز خان‘ ہلاکو خان اور فرڈینینڈ نے مسلمانوں کی ایسی ایسی لائبریریاں جلا کر راکھ بنا دیں جن میں صحابہؓ کے ہاتھوں سے لکھے قرآن مجید اور اماموں کے ہاتھوں سے تحریر احادیث کے نسخے تھے۔
مسجد قرطبہ کو چرچ میں بدل دیا گیا اور بغداد کی عظیم مساجد تک کو پامال کیا گیا۔ موجودہ دور میں افغانستان، شام، عراق اور غا-زہ کا تورا بورا بنا دیا گیا، لیکن مسلمانوں کی مدد کے لیے نہ آندھیاں آئیں، نہ زلزلے اترے اور نہ دشمن کا راستہ روکنے کے لیے سیلاب آئے۔
ہم مسلمان اپنی تمام تر روحانیت کے باوجود نہ ہندوستان کو انگریزوں سے بچا سکے، نہ غرناطہ کو، اور نہ خلافتِ عثمانیہ کو۔
ڈاکٹر برق کا خیال تھا کہ مسلمانوں کو اسلام کا اصل پیغام سمجھنا ہوگا۔ انہیں علم، دفاع اور معیشت تینوں پر توجہ دینی ہوگی۔ انہیں دعا سے پہلے کھیت میں ہل چلانا ہوگا، بیج بونا ہوگا اور کھیت کو پانی دینا ہوگا۔
ورنہ صرف دعا سے فصل نہیں اگ سکتی۔
ڈاکٹر غلام جیلانی برق کا یہ پیغام آج کے مسلمانوں کے لیے اجنبی سا محسوس ہوتا ہے۔ ایک طویل عمل کے ذریعے مسلمانوں کو عملی اسلام سے دور کر دیا گیا اور ہم نے یہ یقین کر لیا کہ اللہ نے دنیا غیر مسلموں کے لیے اور آخرت مسلمانوں کے لیے وقف کر دی ہے۔
چنانچہ ہم نے دفاع، علم، تحقیق، صنعت اور معیشت دوسروں کے حوالے کر دی اور خود دعاؤں، تعویذوں اور وظائف میں الجھ کر رہ گئے۔
بَنی اسرائیل اور نصاریٰ دنیاوی مسائل کا حل تلاش کرتے رہے۔ انہوں نے اینٹی بائیوٹک، گاڑیاں، جہاز، کیڑے مار ادویات اور میزائل بنائے، جبکہ ہم دعاوٗن کے زریعے دشمن کی توپوں میں کیڑے پڑنے کا انتظار کرتے رہے۔
ہمیں کہا گیا:
تم صرف عبادت کرو، وظائف پڑھو اور غیروں کو کام کرنے دو۔
نتیجہ یہ نکلا کہ پورا عالم اسلام دوسروں کا محتاج بن گیا۔ ہم نے اپنی غلامی کو تقدیر سمجھ کر قبول کر لیا اور اپنے زوال کو روحانیت کا نام دے دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سال 1918 سے سال 2026
سوال وہی ہے… صرف زمانہ بدل گیا ہے۔
1918ء میں یہ سوال ایک نوجوان نے اپنے باپ سے کیا تھا۔
2026ء میں یہی سوال Generation Z اپنے بڑوں سے کر رہی ہے۔
ہماری آبادی دو ارب سے زیادہ ہے، ہماری تاریخ عظیم ہے، ہمارے پاس ایمان بھی ہے اور وسائل بھی
لیکن کیا موجودہ جنگ کے تناظر میں ہمارے پاس اس سوال کا کوئی سچا جواب بھی ہے؟
یا ہم آج بھی اسی سوال کے گرد خاموش کھڑے ہیں
جس کا جواب ڈاکٹر برق ایک صدی پہلے تلاش کر رہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گُزارشات
1۔ ڈاکٹر غلام جیلانی برق 26 اکتوبر 1901ء کو بسال، تحصیل پنڈی گھیپ، ضلع کیمبل پور میں ملک محمد قاسم شاہ کے گھر پیدا ہوئے۔ ﻭﺍﻟﺪ ﮔﺎﺅﮞ ﮐﯽ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﺗﮭﮯ۔ بسال اب اٹک کی تحصیل جنڈ کا حصہ ہے اور 1978 میں کیمبل پور کا نام تبدیل کر کے اٹک کر دیا گیا تھا۔
2۔ ڈاکٹر برق صاحب کے دو بھائی مولوی نورالحق علوی اور غلام ربانی عزیز دار العلوم دیوبند سے فارغ التحصیل تھے۔
3۔ ڈاکٹر صاحب نے ابتدائی تعلیم مدارس میں حاصل کی۔ وہ مولوی فاضل، منش فاضل اور ادیب فاضل تھے۔ بعد ازاں، انہوں نے اسلامی اور مغربی علوم دونوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ انہیں نہ صرف قرآن و حدیث پر عبور حاصل تھا بلکہ زبور، تورات اور انجیل کی بھی باقاعدہ تعلیم تھی۔ وہ مغربی فلسفے کے ساتھ ساتھ گوتم بدھ کی تعلیمات پر بھی مکمل دسترس رکھتے تھے۔
4۔ ڈاکٹر برق نے عربی میں گولڈ میڈل اور فارسی میں ایم اے حاصل کیا۔ 1940ء میں امام ابن تیمیہ پر انگریزی میں تحقیقی مقالہ لکھا، جسے آکسفورڈ اور ہارورڈ یونیورسٹی نے تسلیم کیا اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی۔ انہوں نے عملی زندگی کی شروعات تدریس سے کی اور پھر کالج میں پروفیسر بن گئے۔
5۔ ڈاکٹر غلام جیلانی برق نے مختلف موضوعات پر تقریباً چالیس کتابیں اور سینکڑوں مضامین تحریر کیے،جن میں دو اسلام، دو قرآن، ایک اسلام، بھائی بھائی اور میری آخری کتاب خصوصاً قابل ذکر ہیں۔
6۔ کیمبل پور کے ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی محفل میں مولانا مودودی سے لے کر ڈاکٹر باقر‘ شورش کاشمیری‘ پروفیسر اشفاق علی خان‘ جنرل عبدالعلی ملک‘ مولانا زاہد الحسینی‘ پروفیسر ڈاکٹر اجمل‘ ڈاکٹر حمید اللہ‘ پروفیسر سعادت علی خان‘ مولانا عبدالماجد دریا آبادی‘ حفیظ جالندھری‘ طفیل ہوشیار پوری‘ جنرل شیریں دل خان نیازی‘ پروفیسر سعداللہ کلیم‘ صوفی غلام مصطفی تبسم‘ شیخ عبدالحکیم‘ کرنل محمد خان‘ جنرل شوکت‘ جنرل شفیق الرحمن‘ احمد ندیم قاسمی، فتح محمد ملک، منو بھائی اور جسٹس کیانی جیسے علمائ‘ ادباءاور اہل علم بیٹھا کرتے تھے۔
7۔ وہ بنیادی طور پر آج کے Generation Z کی طرح آزاد خیال اور خوش مزاج شخصیت کے مالک تھے۔ وہ age limitation کے قائل نہیں تھے، ہر عمر کے افراد سے ان کی دوستی تھی، کئی بار مزاق میں وہ آج کل کے نوجوانوں کی طرح Red line بھی cross کر جایا کرتے تھے۔
8۔ ان کا پسندیدہ لباس پینٹ شرٹ تھا، اور انہیں باہر شلوار قمیض میں شاذ و نادر ہی دیکھا گیا۔
9۔ وہ تاش کی Flash یا تین پتی کے ماہر تھے اور روزانہ کی چہل قدمی کے بعد کیمبل پور آرمی آفیسر کلب میں آرمی افسران کے ساتھ یہ گیم کھیلتے اور زیادہ تر جیت کر(کچھ کما کر) ہی آتے تھے۔
10۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ماہیے کو ادب میں متعارف کرانے والے چراغ حسن حسرت تھے، لیکن ڈاکٹر برق صاحب نے اس سے پہلے جاندار ماہیے لکھے۔ پنجاب کی قدیم لوک شاعری یعنی ماہیے صدیوں سے گائے جاتے رہے، لیکن ادب میں متعارف کروانے والے وہ پہلے تھے۔
11۔ پاکستان کے معروف ادیب، نقاد اور دانشور فتح محمد ملک اور معروف کالم نگار، ڈرامہ نگار اور صحافی منیر احمد قریشی (منو بھائی) دونوں ڈاکٹر صاحب کے شاگرد تھے۔ منیر احمد قریشی کو منو بھائی اور فتح محمد ملک کو فتُو بھائی کا نام ڈاکٹر برق صاحب نے ہی دیا۔
12۔ ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی تحقیق تھی کہ اقوام عالم کی تباہی کی اصل وجہ صرف اخلاقی انحطاط ہے۔ اخلاقی انحطاط ایک آدم خور ہے، جس کا پیٹ ہزاروں اقوام کا مدفن ہے۔ یونانیوں، کلدانیوں، مصریوں، رومنوں، عباسیوں اور سلجوقیوں کی ہڈیاں اسی گورستان میں ملیں گی۔
13۔ ڈاکٹر صاحب کی اولاد کے بارے میں اگر کوئی جانکاری فراہم کر سکے۔ دو شادی شدہ بیٹیوں کا تذکرہ معلوم۔
14۔ ڈاکٹر غلام جیلانی برق 12 مارچ 1985ء کو اٹک میں وفات پاگئے اور قبرستان عیدگاہ میں آسودۂ خاک ہیں۔
14۔ معلومات فراہم کرنے پر شکریہ جناب مرزا حامد بیگ صاحب (لاہور)، ڈاکٹر عبدالسلام صاحب (راولپنڈی)، شیخ وقار عظیم صدیقی صاحب (اٹک)۔ اور شکریہ جناب چوہدری جاوید صاحب۔