ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کیا آپ جانتے ہیں کہ سلطنتِ عثمانیہ کی ایک شہزادی نے بچپن میں اپنی والدہ کو کھو دیا، لیکن بعد میں شاہی خاندان کی بااثر خواتین میں شمار ہونے لگیں؟
ان کا نام جمیلہ سلطان تھا۔ وہ 17 اگست 1843ء کو استنبول میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد سلطان عبدالمجید اوّل اور والدہ دُزدی دل خاتون تھیں۔ صرف دو برس کی عمر میں والدہ کے انتقال کے بعد ان کی پرورش پرستُو سلطان نے کی، جہاں وہ اپنے سوتیلے بھائی، مستقبل کے سلطان عبدالحمید دوم، کے ساتھ بڑی ہوئیں۔
1858ء میں جمیلہ سلطان کی شادی محمود جلال الدین پاشا سے ہوئی۔ ان کے کئی بچے تھے، اور وہ شاہی خاندان کی تقریبات اور درباری زندگی میں نمایاں مقام رکھتی تھیں۔ بعد میں ان کے شوہر کو جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا، جس سے ان کی زندگی میں مشکلات کا ایک نیا دور شروع ہوا۔
جمیلہ سلطان نے اپنی زندگی کے آخری برس نسبتاً خاموشی سے گزارے۔ 26 فروری 1915ء کو استنبول میں ان کا انتقال ہوا، اور انہیں اپنے والد سلطان عبدالمجید اوّل کے مقبرے میں دفن کیا گیا۔
ان کی زندگی عثمانی تاریخ کے بدلتے ہوئے دور کی عکاسی کرتی ہے، جب شاہی خاندان کی خواتین کو خاندانی ذمہ داریوں، سیاسی تبدیلیوں اور ذاتی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔