۔۔۔ نیکوں کی صحبت میں سکون ملتا ہے

نیکوں کی صحبت میں

سکون ملتا ہے :  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ نیکوں کی صحبت میں سکون ملتا ہے )اللہ وہ ذات ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی جس کا کوئی شروع نہیں اور جس کا کوئی آخر نہیں قرآن نے اس کا تعارف خود کرایا ہے اللہ خود فرماتا ہے کہ وہ اللہ ایک ہے وہ بے نیاز ہے نہ اس نے کسی کو جنا ہے اور نہ وہ کسی سے جنا گیا ہے اور اس جیسا کوئی نہیں ہے یہ سورہ اخلاص ہے یہ پورے اسلام کی بنیاد ہے اس ایک سورت میں اللہ نے اپنا تعارف مکمل کر دیا ہے

اللہ وہ ہے جس نے کچھ بھی نہ ہونے سے سب کچھ بنایا آسمان زمین سورج چاند ستارے کہکشائیں سمندر پہاڑ انسان جنات فرشتے۔میں اور تم سارے سب اسی نے بنائے ہیں اللہ کسی چیز کا محتاج نہیں ہے اور ہر چیز اللہ کی محتاج ہے ہم ہر لمحہ اللہ کے محتاج ہیں اور ہماری زندگی اسی کے اختیار میں ہے ہماری سانس بھی اللہ کے حکم سے چل رہی ہے ہمارا دل بھی اس کے حکم سے دھڑک رہا ہے

اب سوال یہ آتا ہے کہ جب اللہ اتنا بڑا ہے تو پھر ہمارے دل میں اس کے بارے میں غلط سوال کیوں آتے ہیں یہ سب کی دلوں میں آتا ہے خود میرے دل میں ایسے سوالات آتے تھے جیسے ملحد لوگ پوچھتے ہیں کہ اگر ہر چیز کو اللہ نے بنایا ہے تو اللہ کو کس نے بنایا ہے یا وہ کہتے ہیں کہ اللہ نظر کیوں نہیں آتا یا وہ کہتے ہیں کہ اگر اللہ ہے تو دنیا میں ظلم کیوں ہے یہ سوال کیوں آتے ہیں

میرے بھائیو یہ سوال نئے نہیں ہیں سیرت النبی پڑھو یہ سوال شیطان شروع سے ڈالتا آ رہا ہے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو سال پہلے فرما دیا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب شیطان تم میں سے کسی کے پاس آ کر کہے گا کہ اس چیز کو کس نے بنایا اس چیز کو کس نے بنایا یہاں تک کہ وہ کہے گا کہ تمہارے رب کو کس نے بنایا تو جب تمہارے دل میں ایسا خیال آئے تو اعوذ باللہ پڑھ کر اس خیال کو چھوڑ دو اور اللہ پر ایمان لے آؤ

اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ دل میں وسوسہ آنا ایمان کے خلاف نہیں ہے وسوسہ صرف ایک خیال ہے شیطان کا کام ہی وسوسہ ڈالنا ہے اور شیطان بیچارہ کیا کرے گا انسان سے ایمان اس وقت جاتا ہے جب وہ اس وسوسے پر پختہ یقین کر لے اور اس کو اپنا عقیدہ بنا لے محض دل میں خیال آنا یا زبان پر سوال کے طور پر آ جانا ہر صورت میں کفر نہیں ہوتا ہمارے دلوں میں یہ سوال آتا ہے اس لیے اگر آپ کے دل میں ایسا سوال آتا ہے اور آپ کو تکلیف ہوتی ہے آپ کو ڈر لگتا ہے کہ یہ کیا سوچ لیا تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ کے دل میں ایمان موجود ہے ٹھیک ہے ایک تشبیہ کے طور پر کہا جاتا ہے کہ چور خالی گھر میں چوری کرنے نہیں آتا وہ وہیں آتا ہے جہاں خزانہ ہوتا ہے یہ صرف سمجھانے کے لیے ایک مثال ہے

اب آتے ہیں ان سوالوں کی طرف جو ملحدین اور ہمارے کچھ اکثر لوگ کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ کو کس نے بنایا اس کا جواب بہت نرم اور بہت عقلی ہے اور اس بحث پر ہمارے ایک عظیم مولانا صاحب نے ایک شخص کو شکست بھی دی تھی اور ہہ چھوٹی موٹی ملحدین کو میں ایک منٹ میں مطمئن کرتا ہوں اکثر سکول میں مجھ سے یہ سوالات ہوتے تھے خاص کر نئی نوجوان جو دین سے دور رہتے ہیں ۔۔دیکھو دنیا کا ایک اصول ہے کہ ہر مخلوق کا ایک خالق ہوتا ہے ٹھیک ہے کرسی ہے تو اس کو بنانے والا بڑھئی ہے عمارت ہے تو اس کا مستری ہے لیکن خالق کے لیے یہ اصول نہیں لگتا خالق ہمیشہ سے ہوتا ہے اگر ہم یہ کہیں کہ اللہ کو بھی کسی نے بنایا ہے تو پھر سوال ہوگا کہ اس کو کس نے بنایا پھر اس کو کس نے بنایا یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا عقل خود کہتی ہے کہ ایک ایسی ذات ہونی چاہیے جو ہمیشہ سے ہو اور جس نے سب کو بنایا ہو اور اس کو کسی نے نہ بنایا ہو اور وہی اللہ ہے قرآن کہتا ہے کہ وہی اول ہے اور وہی آخر ہے

پھر وہ کہتے ہیں کہ اللہ نظر کیوں نہیں آتا اس کا جواب یہ ہے کہ دنیا میں اللہ تعالی کا دیدار اس طرح ممکن نہیں جیسے مخلوقات کو دیکھا جاتا ہے ہماری آنکھیں اس دنیا میں اس کی متحمل نہیں ہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے عرض کی تھی کہ مجھے اپنا دیدار کرا تو اللہ نے فرمایا کہ تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے پہاڑ کی طرف دیکھو جب اللہ نے پہاڑ پر اپنی تجلی فرمائی تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گیا اور موسیٰ علیہ السلام بے ہوش ہو گئے جب پہاڑ اللہ کی تجلی برداشت نہیں کر سکا تو ہماری یہ چھوٹی سی آنکھ کیسے برداشت کرے گی ہم اس دنیا میں ہوا کو بھی نہیں دیکھ سکتے اپنی روح کو بھی نہیں دیکھ سکتے درد کو بھی نہیں دیکھ سکتے تو جو چیزیں ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں وہ بھی ہمیں نظر نہیں آتیں تو جو ان سب کا خالق ہے وہ اس چھوٹی سی آنکھ سے اس دنیا میں کیسے نظر آئے گا اللہ کو دیکھنا جنت کا سب سے بڑا انعام ہوگا وہاں اللہ اپنے نیک بندوں کو اپنا دیدار کرائے گا اور وہ دیدار جنت کی ساری نعمتوں سے بڑا ہوگا انشاء اللہ العزیز اللہ ہم سب کو جنت نصیب کریں

پھر وہ کہتے ہیں کہ کائنات کیا ہے اور دل کہتا ہے کہ کائنات بہت بڑی ہے میرے بھائیو کائنات بہت بڑی ہے سائنس آج کہتی ہے کہ اس کائنات میں بے شمار کہکشائیں ہیں اور ہر کہکشاں میں اربوں ستارے ہیں یہاں ایک بات نوٹ کرو یہ موضوع سے الگ ہے  لیکن نوٹ کرو فیسبوک پر اکثر لوگ پوسٹس کرتے ہیں کہ دس کروڑ پچاس لاکھ بیس لاکھ کہکشائیں ہے یا اتنی ستارے بلکل ہے لیکن اسکو تعداد کی ساتھ مت بتاؤ ٹھیک ہے اگر لکھتے ہو تو بعد میں واللہ اعلم ساتھ لکھو اب بات ہے کہ ہماری زمین اس کائنات میں ایک ذرے کے برابر بھی نہیں ہے لیکن یہ ساری بڑی کائنات اللہ کی ایک مخلوق ہے اللہ تعالی مخلوق اور کائنات کی طرح کسی مکان کا محتاج نہیں ہے قرآن و سنت میں اللہ کے عرش پر استواء کا ذکر ہے جس کی کیفیت ہم نہیں جانتے جیسا اس کی شان کے لائق ہے قرآن کہتا ہے کہ آسمان و زمین اس کی کرسی میں سما جاتے ہیں اور کرسی اللہ کے عرش کے سامنے ایسی ہے جیسے صحرا میں ایک انگوٹھی پڑی ہو تو سوچو اللہ کتنا بڑا ہے اللہ صرف ہمارے دل میں اسکتا ہے باقی اللہ کسی چیز میں نہیں آسکتا ہمارے یہ ظاہری جسم تو دو تین فٹ ہے جو کیڑے مکوڑوں کا خوراک ہوگا اور جسم کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک دن اعلان ہوگا کہ سید جان بن فلاں وفات پا گئے اور دس بجے جنازہ ہوگا یہ ظاہری طور پر ہمارے جسم ہے لیکن

 انسان کے بارے میں اور  سنو انسان صرف پانچ فٹ کا جسم نہیں ہے انسان کے اندر اللہ نے ایک روح ڈالی ہے ایک دل ڈالا ہے ایک عقل ڈالی ہے انسان کا جسم چھوٹا ہے لیکن اللہ نے اس کو بہت صلاحیتیں دی ہیں اسی لیے انسان کبھی کبھی سوچتا ہے کہ میں کون ہوں میں کہاں سے آیا ہوں مجھے یہاں کیوں بھیجا گیا ہے اللہ نے مجھے کس لیئے پیدا کیا ہے یہ سوال جانور نہیں سوچتے یہ صرف انسان سوچتا ہے کیونکہ اللہ نے انسان کو زمین میں آباد کرنے والا بنایا ہے اور قرآن میں آدم علیہ السلام کے بارے میں خلیفہ فی الارض کا ذکر ہے تو انسان بہت قیمتی ہے لیکن اس کی قیمت اس کے جسم سے نہیں کیونکہ جسم کیڑے مکوڑوں کا خوراک ہے اصل اس کے ایمان اور عمل سے ہے

اب یہاں ایک بہت اہم نکتہ ہے کہ جہاں عقل ختم ہو جاتی ہے وہاں سے قرآن و حدیث کی رہنمائی شروع ہوتی ہے ہماری عقل بہت محدود ہے جیسے ایک چھوٹا بچہ یہ نہیں سمجھ سکتا کہ ہوائی جہاز کیسے اڑتا ہے اس کی عقل چھوٹی ہے اسی طرح ہماری عقل بھی اللہ کی ذات کی حقیقت کو پورا نہیں سمجھ سکتی عقل کا کام ہے کہ وہ اللہ کی نشانیوں کو دیکھ کر اللہ کو پہچانے سورج کو دیکھے چاند کو دیکھے اپنے دل کے دھڑکنے کو دیکھے اور کہے کہ اس کا کوئی بنانے والا ہے لیکن عقل کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ اللہ کی ذات کی کیفیت کو گھیر لے جیسے آپ آنکھ سے سنتے نہیں ہیں اور کان سے دیکھتے نہیں ہیں ہر چیز کا ایک دائرہ ہے عقل کا بھی ایک دائرہ ہے

قرآن نے خود کہا ہے کہ اللہ کی مخلوق میں غور کرو اللہ کی ذات کے بارے میں زیادہ گہرائی میں نہ جاؤ کیونکہ تم اس کی حقیقت کو پا نہیں سکو گے ہمارے بزرگ فرماتے تھے کہ عقل اللہ تک پہنچنے کا راستہ دکھاتی ہے اور دل کو ایمان کی طرف لے جاتی ہے اور اصل ہدایت نور ایمان سے ملتی ہے

اور بہت سے سوالوں کے جواب ہمیں اس دنیا میں اپنی آنکھوں سے نہیں ملیں گے ان کا جواب قبر میں ملے گا جنت اور جہنم میں ملے گا جیسے کوئی شخص آپ سے کہے کہ جنت کیسی ہے جہنم کیسی ہے قبر میں کیا ہوتا ہے تو ہم اس کو قرآن و حدیث سے بتائیں گے کیونکہ یہ چیزیں غیب کی ہیں یہ آنکھوں سے نظر نہیں آتیں ان پر ایمان لانا پڑتا ہے جس طرح آپ نے کبھی اپنی عقل کو نہیں دیکھا لیکن آپ مانتے ہیں کہ آپ میں عقل ہے اسی طرح آپ نے اللہ کو نہیں دیکھا لیکن اس کی نشانیاں ہر جگہ ہیں اب

دنیا کا علم دو طرح کا ہے ایک علم وہ ہے جو آنکھوں سے دیکھا جاتا ہے جیسے سائنس اور ایک علم وہ ہے جو وحی سے آتا ہے جیسے قرآن و حدیث سائنس مادی دنیا کے بہت سے مظاہر کی وضاحت کرتی ہے کہ بارش کیسے بنتی ہے بچہ ماں کے پیٹ میں کیسے بنتا ہے جبکہ وحی ہمیں ان غیبی حقائق کے بارے میں بتاتی ہے جن تک تجربہ اور حواس براہ راست نہیں پہنچ سکتے کہ بارش کون برساتا ہے اور اس بچے میں روح کون ڈالتا ہے تو دونوں اپنی جگہ ضروری ہیں لیکن وحی ہمیں وہ بتاتی ہے جو صرف عقل سے معلوم نہیں ہو سکتا یہ تحریر لمبی ہوگئ اس پر آور باتیں بھی ہوگی لیکن

 ایک بات دل میں بٹھا لو اللہ نے ہمیں اس دنیا میں امتحان کے لیے بھیجا ہے یہ دنیا دارالعمل ہے اور آخرت دارالجزاء ہے یہاں ہم اللہ کو دیکھے بغیر اس پر ایمان لائیں گے تو وہاں وہ ہمیں اپنا دیدار کرائے گا اگر یہاں ہر چیز آنکھوں سے نظر آ جاتی تو پھر امتحان ہی کیا تھا امتحان تو یہی ہے کہ نظر کچھ نہ آئے اور دل کہے کہ میرا اللہ موجود ہے

جب بھی دل میں کوئی وسوسہ آئے تو پریشان نہ ہوں اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھیں آمنت باللہ ورسلہ پڑھیں اور اللہ سے کہیں کہ اے اللہ میرے دل کو صاف کر دے اور کسی نیک عالم کے پاس بیٹھ جائیں کیونکہ تنہائی میں شیطان زیادہ وسوسے ڈالتا ہے اور نیک لوگوں کی صحبت میں دل کو سکون ملتا ہے

Loading