30ستمبر 1932، قطعہ نگار اور معروف شاعر ”۔ صہباؔ_اختر صاحب“ کا یومِ ولادت
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )نام اختر_علی_رحمت اور صہباؔ تخلص ہے۔30ستمبر 1932ء کو جموں میں پیدا ہوئے۔ تعلیم وتربیت والدہ کی سرپرستی میں بریلی اور علی گڑھ میں ہوئی۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان چلے گئے۔ نامساعد حالا ت کی وجہ سے وہ مزید تعلیم حاصل نہ کرسکے۔ تھوڑے تھوڑے عرصے انھوں نے کئی جگہ ملازمت کی۔ بعدازاں محکمۂ خوراک میں انسپکٹر ملازم ہوگئے اور ترقی کرکے راشننگ کنٹرولر کے عہدے تک پہنچے۔ صہبااختر کو شعر وسخن کا ذوق اوائل عمر سے تھا۔ ان کا کلام ملک کے مقتدر ادبی رسالوں میں چھپتا تھا۔ ریڈیو سے وابستہ ہونے کے بعد گیت لکھے اور ان گیتوں کی بدولت فلم لائن میں پہنچے۔ سات سال تک روزنامہ ’حریت‘ سے وابستہ رہے۔ روزنامہ ’مشرق‘ میں قطعات بھی لکھتے رہے۔ صہباؔ اختر نے تمام اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی ہے۔ غزلوں کی نسبت نظمیں زیادہ کہی ہیں۔ انھوں نے ملی نغمے اور دوہے بھی لکھے جو بہت مقبول ہوئے۔
19؍فروری 1996ء کو کراچی، پاکستان میں اس دارفانی سے رخصت ہوگئے۔