Daily Roshni News

غیبت کا گناہ اور نیورو سائنس

غیبت کا گناہ اور نیورو سائنس

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)ڈاکٹر فرانسسکا بوکا الدقرہ (Dr. Francesca Bocca Aldaqre) اٹلی سے تعلق رکھنے والی معروف نیورو سائنسدان (Neuroscientist)، ماہر نفسیات، محققہ اور اسلامی اسکالر ہیں، جو جدید دماغی سائنس، نفسیات اور اسلامی علوم کے امتزاج پر اپنی منفرد علمی خدمات کے باعث بین الاقوامی سطح پر پہچانی جاتی ہیں۔ 1987ء میں اٹلی کے شہر پیاتسینزا (Piacenza) میں پیدا ہونے والی ڈاکٹر فرانسسکا نے جرمنی کی معروف Ludwig Maximilian University of Munich سے نیورو کاگنیٹو سائیکالوجی (Neuro-Cognitive Psychology) میں ماسٹرز اور سسٹیمک نیورو سائنس (Systemic Neuroscience) میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ بعد ازاں انہوں نے برطانیہ کے Cambridge Muslim College سے اسلامی نفسیات (Islamic Psychology) میں خصوصی تعلیم حاصل کی، جبکہ شام، امریکہ، برطانیہ، کویت اور بوسنیا میں ممتاز اہلِ علم سے عربی زبان، اسلامیات، فقہ، عقیدہ اور روحانی تربیت کے مختلف مراحل بھی طے کیے۔

ڈاکٹر فرانسسکا پیدائشی مسلمان نہیں تھیں، بلکہ تحقیق اور حق کی جستجو نے انہیں اسلام تک پہنچایا۔ دمشق کے معروف عالم شیخ محمد راتب النابلسی کے دروس اور اسلامی فکر سے متاثر ہو کر انہوں نے اسلام قبول کیا، پھر شام کے ممتاز علمی خاندان آل الدقرہ سے وابستہ ہوئیں اور شیخ علی الدقرہ، شیخ عبدالغنی الدقرہ اور دیگر جید علماء سے اسلامی علوم کی باقاعدہ تحصیل کی۔ اسی نسبت سے ان کے نام کے ساتھ “الدقرہ” کا اضافہ ہوا اور وہ مغربی دنیا میں ان معدودے چند شخصیات میں شمار ہونے لگیں جنہوں نے جدید سائنسی تحقیق اور اسلامی روایت کو یکجا کرنے کی کامیاب کوشش کی۔

اس وقت وہ متعدد بین الاقوامی علمی اداروں سے وابستہ ہیں۔ وہ International Open University میں اسلامی نفسیات اور اسلامیات سے متعلق تدریسی خدمات انجام دے چکی ہیں، اٹلی کے Averroè Institute of Islamic Studies کی ڈائریکٹر رہ چکی ہیں، جبکہ Islamic Institute of Advanced Studies (IISA) کی شریک بانی اور استاد بھی ہیں۔ انہوں نے نیورو سائنس، اسلامی نفسیات، اسلامی الٰہیات اور تعلیم کے موضوعات پر متعدد تحقیقی مقالات اور کتابیں تصنیف کی ہیں۔

اپنی گفتگو میں وہ صرف سائنسی تحقیقات پر اکتفا نہیں کرتیں، بلکہ انہیں اسلامی روحانی تربیت، تزکیۂ نفس اور اخلاقی اصلاح کے ساتھ جوڑ کر پیش کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے لیکچرز میں جدید نیورو سائنس، نفسیات، علمِ بشریات (Anthropology) اور اسلامی تعلیمات ایک دوسرے کی تکمیل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے لیکچرز اور تحریروں کا نمایاں امتیاز یہ ہے کہ وہ جدید نیورو سائنس، نفسیات، علمِ بشریات اور قرآن و سنت کی تعلیمات کو باہم مربوط کرکے انسانی شخصیت، اخلاق، روحانیت اور معاشرتی رویّوں کی ایسی تشریح پیش کرتی ہیں جو نہ صرف علمی اعتبار سے مضبوط ہوتی ہے بلکہ عام قاری کے لیے بھی انتہائی مؤثر اور قابلِ فہم ہوتی ہے۔ ان کے لیکچرز دنیا بھر میں خاص طور پر ان حلقوں میں مقبول ہیں جو جدید سائنسی علوم اور اسلامی فکر کے درمیان ہم آہنگی کو سمجھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

زیرِ نظر مضمون بھی انہی کے ایک فکر انگیز خطاب کا خلاصہ ہے، جس میں انہوں نے غیبت جیسے عام مگر نہایت خطرناک گناہ کو جدید سائنس اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں منفرد انداز سے واضح کیا ہے۔

غیبت اور ارتقائی سائنسدان

شاید آپ سوچیں کہ دنیا میں کوئی بھی غیبت کے حق میں کچھ نہیں کہہ سکتا، لیکن اس ویڈیو کی تیاری کے دوران مجھے ایک مکمل سائنسی تحریر ملی جو اس کی حمایت کی کوشش کرتی ہے۔ ارتقائی ماہرِ نفسیات رابن ڈنبار نے اپنی کتاب میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ انسان کی زبان دراصل غیبت ہی کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ ان کا کہنا ہے کہ بندروں کا گروہ ایک دوسرے کا جسم صاف کر کے باہمی تعلقات مضبوط کرتا تھا، لیکن جب انسانوں کی آبادی بڑھی اور سب کا الگ الگ خیال رکھنا مشکل ہو گیا تو گفتگو کو اس کا ایک آسان بدل بنا لیا گیا۔ ڈنبار کے مطابق انسانوں کی دو تہائی گفتگو دیگر لوگوں کے بارے میں ہوتی ہے اور ان کا نتیجہ یہ تھا کہ زبان کا اصل مقصد ہی غیبت کرنا ہے۔

غیبت اور قرآن

اب اس نظریے کا موازنہ قرآن کے اس بیان سے کیجیے کہ زبان کی شروعات کہاں سے ہوئی۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو سب سے پہلے انہیں تمام اشیاء کے نام سکھائے۔ یوں انسانی تاریخ میں زبان کا پہلا استعمال اپنے رب سے حقائق کا علم حاصل کرنا تھا۔ ان دونوں نظریات کے درمیان کتنا بڑا فرق ہے، ایک طرف زبان کی پیدائش کا مقصد ایک دوسرے کی پیٹھ پیچھے باتیں کرنا بتایا گیا ہے اور دوسری طرف اسے سچائی جاننے کی ایک ربانی نعمت قرار دیا گیا ہے۔

اس موضوع پر علمِ بشریات (Anthropology) کے ماہرین کی تحقیقات نہایت دلچسپ ہیں، جو ظاہر کرتی ہیں کہ غیبت انسان کی فطرت میں شامل نہیں ہے۔ مختلف ثقافتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ معاشرہ جتنا زیادہ غیر لچکدار اور سخت ہوتا جاتا ہے، غیبت اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے، کیونکہ لوگوں کے لیے براہِ راست سچائی جاننا مشکل ہو جاتا ہے۔ چنانچہ غیبت وہاں جنم لیتی ہے جہاں ایک دوسرے کے بارے میں شفاف معلومات کا سلسلہ ٹوٹ جائے۔ اس کے برعکس اسلام نے ہمیشہ ایسے شفاف معاشرے کو فروغ دیا جو چھوٹے اور قابلِ اعتماد اداروں پر قائم ہوں، جہاں لوگ ایک دوسرے کو براہِ راست جانتے ہوں اور افواہوں کے نظام کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ غیبت کو جنم دینے والے ساختہ نظام کو ختم کرنا ہی اسلامی معاشرے کی بنیادی روح ہے۔

غیبت میں اتنی لذت کیوں محسوس ہوتی ہے؟

جب ہم غیبت کرتے ہیں تو دماغ میں حقیقی کیمیائی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ کسی کی ذاتی معلومات کا علم ہونا دماغ میں ڈوپامائن (Dopamine) خارج کرتا ہے، جو کسی بھی لت کے پیچھے موجود ایک کیمیائی مادّہ ہے۔ یہ بالکل اسی طرح بے یقینی کی حالت میں ملتا ہے جیسے کسی جوا کھیلنے والی مشین پر انسان بیٹھا ہو۔ اس کے ساتھ ہی اینڈورفنز (Endorphins) کا اخراج بھی ہوتا ہے، جو جسم کا اپنا درد کش نظام ہے اور یہ وہی احساس فراہم کرتا ہے جو سخت ورزش یا دوڑنے کے بعد حاصل ہوتا ہے۔

اس میں ایک اچھی خبر یہ ہے کہ اگر ہم اس سکون کی تلاش میں ہیں تو یہی کیمیائی تسکین ہم دوڑ کر، ورزش کر کے یا کسی اچھے کام میں ایک دوسرے کا ساتھ دے کر بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ خواہش سچی ہے، لیکن اسے پورا کرنے کے پاکیزہ ذرائع بھی موجود ہیں۔

غیبت کا سائنسی اور روحانی علاج

نیورو سائنس کی تعلیم کے دوران میں نے اللہ تعالیٰ کی اس رحمت پر ہمیشہ غور کیا ہے کہ گناہ کی عادات جتنی بھی تباہ کن ہوں، ان کے اثرات حاصل کرنے کا ایک پاکیزہ اور خوبصورت طریقہ ہمیشہ موجود ہوتا ہے۔ لیکن اگر کیمیا سے ہٹ کر دیکھیں تو غیبت کی اصل وجہ کہیں زیادہ تاریک ہے۔ غیبت ہمیں وہ کام کرنے کا موقع دیتی ہے جو ہمیں ہرگز نہیں کرنا چاہیے، یعنی کسی دوسرے کی تحقیر سے لطف اندوز ہونا۔

نفسیات میں اسے منفی معاشرتی موازنہ (Negative Social Comparison) کہا جاتا ہے۔ جب ہم کسی کی ناکامی یا خرابی کا ذکر کرتے ہیں تو ہمیں ایک خاموش تسلی ملتی ہے کہ شکر ہے میں ایسا نہیں ہوں۔ اس طرح دوسرے کی پستی وہ چبوترہ بن جاتی ہے جس پر کھڑے ہو کر ہم خود کو بڑا محسوس کرتے ہیں۔

اسلام بھی ہمیں اپنے سے نیچے والوں کو دیکھنے کی ہدایت کرتا ہے، لیکن بالکل مختلف مقصد کے لیے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ان لوگوں کو دیکھو جو تم سے کم تر ہیں، تاکہ تم اللہ کی نعمتوں کو حقیر نہ سمجھو۔ جب نظر نیچے جاتی ہے تو دل شکر سے بھر جاتا ہے اور یہی شکر رحمدلی بن کر انسان کو دوسروں کی مدد پر ابھارتا ہے۔ نظر کا رخ ایک ہی ہے، لیکن ایک طریقہ دل کو اللہ سے جوڑتا ہے اور دوسرا طریقہ دوسرے کی تذلیل پر انا کو پھلا دیتا ہے۔

غیبت کے ذریعے ہم اپنے نفس کی ایک بنیادی حقیقت بھی سیکھ سکتے ہیں۔ جب بھی ہم کوئی حرام کام کرتے ہیں تو نفس صرف گناہ کا احساس ہی پیدا نہیں ہونے دیتا، بلکہ ایک ایسا جھوٹا جواز گھڑ لیتا ہے جس سے انسان سکون کے ساتھ گناہ جاری رکھ سکے۔ اسلامی روایت میں اسے نفس کا دھوکا کہا جاتا ہے۔ غیبت کے لیے بھی کئی بہانے تراشے جاتے ہیں، جیسے: میں تو بس دل کا غبار نکال رہا ہوں، یا میں تمہیں خبردار کر رہا ہوں تاکہ تم محتاط رہو۔ یہاں تک کہ چغلی جیسا شدید حرام کام بھی میں تو تمہاری حفاظت کر رہا ہوں کا لباس پہن لیتا ہے۔ اگر غور کریں تو ہم نفس کو اس کی چالاکیوں سمیت پکڑ سکتے ہیں۔ ان خوبصورت بہانوں کو پہچاننا اس لیے ضروری ہے کہ نفس باقی تمام گناہوں کو جائز قرار دینے کے لیے بھی یہی طریقہ استعمال کرتا ہے۔

غیبت کو راستہ دینا انسان کی شخصیت کو بدل دیتا ہے۔ جب بھی ہم دوسروں کا ذکر تحقیر کے ساتھ کرتے ہیں، ہم اپنے اندر بدگمانی کی مشق کرتے ہیں، یہاں تک کہ دوسروں کو عیب جوئی کی نظر سے دیکھنا ہماری عادت بن جاتا ہے۔ اس سے باہمی اعتماد ختم ہو جاتا ہے، کیونکہ سننے والے کے دل میں یہ خیال ضرور آتا ہے کہ جو زبان آج کسی اور کی برائی کر رہی ہے، وہ کل میری برائی بھی کرے گی۔ یوں دوسروں سے اعتماد اٹھنے کے ساتھ ساتھ خود سے بھی اعتماد ختم ہونے لگتا ہے، کیونکہ اگر ہر شخص تنقید کا نشانہ بن سکتا ہے تو ہم بھی مستثنیٰ نہیں ہیں۔

حتیٰ کہ غیبت سے پیدا ہونے والی اپنائیت بھی فرضی ہوتی ہے، جو کسی تیسرے شخص کی قیمت پر حاصل کی جاتی ہے۔

جب ہم اسلامی روحانی روایت کی طرف دیکھتے ہیں تو ایک عجیب بات نظر آتی ہے۔ غیبت کی ممانعت ہر جگہ موجود ہے، لیکن نفس کے مدارج اور روح کی ترقی کے راستے بتانے والی بڑی کتابوں میں اس کا ذکر کم ہی ملتا ہے۔ ان کا فرض یہ ہوتا ہے کہ اس راستے کا مسافر اس بنیادی برائی سے پہلے ہی آگے نکل چکا ہے، گویا غیبت اتنی بنیادی برائی ہے کہ اسے اعلیٰ روحانی سفر کے نقشے میں الگ سے شامل کرنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی گئی۔

تاہم اس سلسلے میں مولانا رومؒ کی مثنوی ایک بہترین استثنا ہے۔ یہ کتاب قرآنِ کریم کی ایک طرح سے سماجی تفسیر ہے، جو یہ دکھاتی ہے کہ اسلامی اقدار عام زندگی میں کس طرح جاری ہوتی ہیں۔ یہ ان مقامات پر بھی روشنی ڈالتی ہے جنہیں بڑی کتابیں چھوڑ دیتی ہیں۔ مثنوی سے ہمیں خود احتسابی کے لیے دو مثالیں ملتی ہیں۔

پہلی مثال میں مولانا رومؒ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے اندر کی چھپی ہوئی برائیاں ہماری زبان کے ذریعے باہر آ جاتی ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے پیاز کی بدبو۔ آپ جتنا بھی قسمیں کھا لیں کہ آپ نے پیاز نہیں کھایا، لیکن آپ کی سانس سچائی ظاہر کر دیتی ہے۔ اسی طرح دل میں چھپا ہوا تکبر اور حرص زبان کے ذریعے باہر نکل آتا ہے، یہاں تک کہ اس بدبو کی وجہ سے ہماری دعائیں بھی رد کر دی جاتی ہیں۔

غیبت دراصل وہی پیاز کی بدبو ہے۔ یہ خود بیماری نہیں بلکہ اندر موجود بیماری کی علامت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم زبردستی منہ بند کر کے غیبت سے نہیں بچ سکتے، جیسے سانس روکنے سے پیاز کی بدبو ختم نہیں ہوتی۔ جب دل پاک ہوتا ہے تو زبان خودبخود پاکیزہ ہو جاتی ہے۔

جب ہم یہ سمجھ لیتے ہیں کہ غیبت ہمیشہ کسی دوسری بیماری کا نتیجہ ہے تو دوسری کہانی سامنے آتی ہے، جو ایک بہرے شخص اور اس کے بیمار پڑوسی کی ہے۔

ایک بہرا شخص اپنے بیمار پڑوسی کی عیادت کے لیے جاتا ہے۔ چونکہ وہ سن نہیں سکتا تھا، اس لیے وہ ذہن میں گفتگو کا ایک خاکہ تیار کر لیتا ہے کہ میں حال پوچھوں گا، وہ کہے گا: میں بہتر ہو رہا ہوں، میں کھانے کا پوچھوں گا، وہ کسی غذا کا نام لے گا، میں طبیب کا پوچھوں گا اور اس کی تعریف کروں گا۔

جب وہ پہنچتا ہے اور اپنا سوچا ہوا جملہ بولتا ہے کہ: “آپ کیسے ہیں؟” تو بیمار پڑوسی آہ بھر کر کہتا ہے: “میں مر رہا ہوں۔” بہرا شخص خوش ہو کر کہتا ہے: “اللہ کا شکر ہے۔” پھر پوچھتا ہے: “کیا کھایا؟” وہ کہتا ہے: “زہر۔” تو بہرا کہتا ہے: “یہ آپ کو شفا دے۔” گفتگو اسی طرح جاری رہتی ہے اور بہرا شخص یہ سوچ کر مطمئن چلا جاتا ہے کہ اس نے عیادت کا حق ادا کر دیا، جبکہ اس نے اپنے ہر جواب سے بیمار کا دل دکھایا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے حقیقت کو سمجھنے کے بجائے اپنے ذہن میں بنے ہوئے تصور کا جواب دیا تھا۔

جب ہم غیبت کرتے ہیں تو ہم بھی اکثر اسی طرح کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ ہم اپنے ذہن میں کسی شخص کا ایک خاکہ بنا لیتے ہیں، اس کی نیت کا خود ہی فیصلہ کر لیتے ہیں اور پھر اس فرضی کردار کو سچ مان کر اس کے بارے میں باتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم صحیح کام کر رہے ہیں، جبکہ اصل نقصان ہماری نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔

یہ بھی ایک وجہ ہے کہ قرآن اور حدیث میں غیبت سے روکنے کے لیے نہایت سخت تشبیہات استعمال کی گئی ہیں۔ قرآنِ مجید میں پوچھا گیا ہے:

“کیا تم میں سے کوئی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟”

اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے معراج کی شب ایسے لوگوں کو دیکھا جو تانبے کے ناخنوں سے اپنے ہی چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: “یہ کون لوگ ہیں؟” تو بتایا گیا: “یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کی غیبت کرتے تھے اور ان کی عزتیں پامال کرتے تھے۔”

یہ منظر کشی اتنی سخت اس لیے کی گئی ہے تاکہ انسان اس گناہ کی دلکشی کے سحر سے باہر نکل سکے۔

لہٰذا اگر ہم خود کو غیبت کرتے ہوئے پائیں تو اصل سوال یہ نہیں ہے کہ زبان کو کیسے روکا جائے، بلکہ سوال یہ ہے کہ وہ پیاز کہاں ہے؟ وہ کون سا تکبر، حسد، خالی پن یا اندرونی زخم ہے جو اس گفتگو کے ذریعے باہر آ رہا ہے؟ اس کی نشاندہی کیجیے، اسے ایمانداری سے قبول کیجیے، اسے اللہ تعالیٰ کے سامنے رکھیے اور اس کا علاج معالج کے ذریعے کیجیے۔

جب آپ اندرونی بیماری کا علاج کر لیں گے تو زبان خودبخود خاموش ہو جائے گی، زبردستی بند کرنے کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس لیے کہ اندر کی بیماری شفا پا چکی ہوگی۔(بشکریہ، علم الیقین، پلیٹ فارم)

Loading